خشنودی الٰہی
21 May 2019 2019-05-21

روز محشر جب ہمیں یہ معلوم پڑے گا کہ دیہائیوں سے رکھے ہوئے روزے اور نمازیں ہماری بخشش کا ذریعہ نہیں بن پارہیں بلکہ الٹا تمام عبادتیں منہ پر مار دی گئی ہیں یہ خیال ہی کسی مسلمان کے جسم پر کپکپی طاری کرنے کے لیے کافی ہے۔آئیے ماہ رمضان کے اس بابرکت مہینے میں کچھ ایسے اعمال کا جائزہ لیں جس کے بوجھ کا اندازہ ہم زندہ رہتے ہوئے نہیں لگا پارہے۔

کینہ کی حقیقت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کینہ اصل میں غصے کا نتیجہ ہوتا ہے اس کا مطلب ہے کہ انتقام لینے کیلئے خون کا جوش مارنا غصہ کہلاتا ہے ، اب بعض اوقات تو آدمی انتقام لے لیتا ہے ، یہ اس صورت میں ہے جبکہ دوسرا آدمی کمزور ہو، اور اگر دوسرا آدمی طاقتور ہو اور انسان اس سے انتقام نہ لے سکتا ہو تو وہ اس جوش اور نفرت کو اپنے سینے میں چھپا لیتا ہے اور اندر ہی اندر انتقام لینے کی تدبیریں سوچتا رہتا ہے ، اس کے دل میں اس شخص کیلئے دائمی نفرت اور دشمنی پیدا ہو جاتی ہے، انسان کی اسی کیفیت کو کینہ کہا جاتا ہے، چونکہ یہ کیفیت ایک مسلمان کے شایانِ شان نہیں، اس لیے نبی کی تعلیمات میں اس کی سخت مذمت ملتی ہے اور ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ مومن کینہ پرور نہیں ہوتا۔ کبیرہ گناہوں میں سے ایک گناہ غیبت بھی ہے ، اس گناہ کی قباحت اور شناعت قرآن و حدیث کی تعلیمات سے روزِ روشن کی طرح واضح ہے ، چنانچہ قرآنِ کریم نے اپنے بلیغ انداز میں غیبت کی ممانعت کرتے ہوئے غیبت کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تعبیر کیا ہے، ظاہر ہے کہ جسے کوئی شخص بھی پسند نہیں کرتا ، بلکہ اگر کسی شخص کے متعلق پتہ چل جائے کہ یہ سنگدل م±ردوں کا گوشت کھا جاتا ہے تو اس پر ایک طوفان بپا ہو جاتا ہے، چنانچہ ہمارے اس زمانے میں میڈیا پر یہ خبر نشر ہوئی کہ کچھ سنگدل اور ظالم لوگ رات کے وقت قبرستان جا کر وہاں سے تازہ لاش نکال لیتے ہیں اور گھر میں لا کر اس کی بوٹیاں مختلف حصوں میں تقسیم کر کے فریز کر لیتے ہیں اور جب دل چاہتا ہے اس میں سے گوشت نکال کر پکاتے اور کھاتے ہیں، اس خبر کے نشر ہوتے ہی ایک طوفان ہر طرف بپا ہو گیااور یقینا یہ انتہائی سنگ دلی اور شقاوت کا نمونہ ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ غیبت پر اس طرح ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کیا جاتا؟ کیا وجہ ہے کہ کسی مردے کا گوشت کھانے کو گناہ سمجھا جاتا ہے لیکن غیبت کرنے اور سننے کو کوئی بھی گناہ نہیں سمجھتا؟بظاہر جو بات سمجھ میں آتی ہے، وہ یہ ہے کہ معاشرے میں غیبت کا رجحان اتنا زیادہ بڑھ چکا ہے کہ اب اسے کوئی برائی سمجھتا ہی نہیں ہے، کوئی محفل اور مجلس اس کے بغیر سجتی اور جمتی ہی نہیں ہے ، بلکہ اس کے بغیر تو محافل و مجالس سونی سونی نظر آتی ہیں، لوگوں کو وہاں بیٹھ کر اکتاہٹ ہونے لگتی ہے اور وہ جلد از جلد وہاں سے ا±ٹھ جانا ہی بہتر سمجھتے ہیں، اس کے برعکس جن مجالس کی زینت ہی غیبت ہو، گھنٹوں باتیں کرنے کے بعد بھی لوگ اس میں تھکاوٹ یا اکتاہٹ محسوس نہیں کرتے، اور بدقسمتی سے اس میں صرف عوام ہی مبتلا نہیں ہیں، اچھے خاصے پڑھے لکھے اہل علم بھی اس گناہِ بے لذت کے بغیر اپنی محافل کو ادھورا سمجھتے ہیں، زبان کے چٹخارے کیلئے انہیں بھی لوگوں کی دھجیاں بکھیرنا اور ان کی عزت پامال کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے، بلکہ غیبت کا شوق اور ذوق رکھنے والوں کی مجلس میں اگر کوئی ایسا آدمی چلا جائے جو اپنے آپ کو دوسروں کی غیبت سے بچانے کی کوشش کرتا ہو تو وہ اسے ”بے ذوق“ اور” بورکن شخصیت “کا تمغہ عطا فرما دیتے ہیں، حالانکہ یہ کوئی ایسا گناہ نہیں ہے جسے چھوڑنا انسان کی طاقت سے خارج ہو، اگر انسان ہمت اور پختہ عزم کر لے تو چند دن کے عمل سے وہ اس خصلت پر قابو پا سکتا ہے۔

ایک اورمذموم گناہ جو حسد ہے ، اس بات پر دلیل دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ جب لوگ اجتماعی زندگی گذار رہے ہوتے ہیں تو انہیں ایک دوسرے کی خوبیوں اور خامیوں، کامیابیوں اور ناکامیوں کا علم ہوتا رہتا ہے ، ایسے موقع پر انسان کے ذہن میں کسی دوسرے کی خوبی یا کامیابی اور ترقی کو دیکھ کر حسد کا جذبہ بیدار ہو جانا صرف ممکن ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کا غالب گمان بھی ہوتا ہے کہ وہ حسد میں مبتلا ہو گیا ہو، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک بات طے شدہ ہے کہ اس جذبے کا بیدار ہونا انسان کے اخلاق اور کردار کا ایک منفی تاثر پیدا کرتا ہے، کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ حسد ایک منفی جذبہ ہے، اور دوسروں کی خوبیوں، کامیابیوں اور ترقی کی منزلوں کو دیکھ کر خوش ہونا اور اس کا اعتراف کرنا ایک مثبت رویہ ہے، اسلام اس منفی جذبے کی اصلاح اور مثبت رویے کی آبیاری کرنا چاہتا ہے، وہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی ترقی کو دیکھ کر جلنے اور کڑھنے کی بجائے اس کی صلاحیت کا اعتراف کر لیں، اس سے معاشرے میں مسابقت کا صحت مندانہ پہلو سامنے آئے گا اور معاشرہ کسی اندرونی بے چینی کا شکار نہ ہو گا۔

پرودگار سے دعا ہے صبر، شکر، بھوک، پیاس کے مہینے میں ہمیں ان برائیوں سے نجات حاصل ہو ورنہ رمضان المبارک کا یہ مہینہ اعمال کی کتاب میں فاقہ کشی تو کہلائے گا لیکن اس میں اللہ کی خوشنودی شامل نہیں ہوگی۔ ابھی زندہ ہیں تو فکر کرلیں یہ نہ ہو یہ عبادت بھی منہ پر مار دی جائے۔


ای پیپر