رمضان کی آمد،، شہروں، قصبوں میں گداگر متحرک، کون ڈھونگی..کون مستحق؟.. عوام پریشان!
21 May 2018 (23:28) 2018-05-21

عبدالستار چودھری

رمضان کا مقدس مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ مسلمان اس بابرکت مہینے میں روزے رکھ رہے ہیں ، صدقہ و خیرات کر رہے ہیں۔ حکومت اور مخیر حضرات طعام خانوں کا بندوبست کیے ہوئے ہیں۔ مساجدمیں افطاری اور مزارات پر مختلف قسم کے کھانوں اور دودھ کی سبیلیں لگائی جا رہی ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ٹھیکیدار گداگروں کے گروہ.... لاکھوں کی تعداد میں.... بچوں، بوڑھوں، جوانوں، عورتوںکو جو معذوراور اندھی ہیں، کو لے کرلاہور، فیصل آباد، گجرات، جہلم، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، کراچی (پاکستان کے پانچ سو بڑے شہروں اور تحصیلوں میں پہنچ چکے ہیں۔ ٹھیکیداروں نے اپنے منشیوں کے ذریعے ان کو اڈے دے دیئے ہیں)۔ معذوروں نے (جن میں نصف مصنوعی معذور ہوتے ہیں) اپنا کام شروع کر دیا ہے۔

افسوس کہ مفت میں پیٹ بھرنے کے لےے ٹھنڈے مشروبات اور لذیذ دودھ، پھل، مٹھائیاں اور سکہ رائج الوقت نوٹ مل جاتے ہیں۔ان کی گداگری کا دائرہ وسیع ہوتا چلاجارہا ہے۔ بغیر محنت مزدوری کے مفت میں ملتی رقم اور آسائشیں گداگری کے کسب کو وسیع کررہی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک چین، جاپان، ایران، انڈونیشیا، ملائیشیا، انگلینڈ کے ممالک میں بسنے والے مسلمان مانگتے نظر نہیں آئیں گے۔ ان ممالک میں ایسے قوانین موجود ہیں کہ مسلم اور غیرمسلم سب کے لےے فلاح، تعلیم، صحت ،انصاف اورعدل کے قوانین موجود ہیں۔ ان قوانین کی روشنی میں سب یکساں ہیں توگداگری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

میں اس وقت عمرکے اسّی سال گزار رہا ہوں۔ دُنیاکی سب سے بڑی ہجرت بھی دیکھی۔ مہاجر بھی بنے، غربت بھی دیکھی، اچھے دن بھی دیکھے۔جن نظریات کے تحت مسلمانوں نے گھربار، جائیدادیں، عزتیں تباہ کروائیں کہ پاکستان میں مذہب اسلام اورقرآن میں دیئے گئے قوانین کے تحت ہر انسان کو اس کا حق، سہولیات اور انصاف ملے گا، سب کچھ خواب بن کر رہ گیا۔ پاکستان کی بنیادیں رکھنے والے جلد ہی اس دُنیا سے رُخصت ہوگئے اور بقیہ اقتدارکی ہوس میں دست وگریبان ہوگئے اور اس لڑائی اور ہوس اقتدار نے نظریہ کونظراندازکردیا اور لوٹ مار، رشوت، بدعنوانی نے جڑ پکڑلی اور24 سال بعد ہی ایک بازوکٹ گیا۔ باقی ماندہ میں جو لوگ ”گدی نشین“اللہ تعالیٰ نے ان کو ملک کی خدمت کرنے اور عوام کو بنیادی سہولتیں دینے کا موقع دیا مگر انہوں نے عوام کی خدمت کے بجائے ملک کے وسائل کو اپنی اور اپنی اولاد پرخرچ کیا۔ اس ملک میں غربت بڑھتی گئی اورگداگری کے رنگ سامنے آنے لگے۔

ایک دلچسپ حقیقت

منگلا ڈیم کا افتتاح فیلڈمارشل ایوب خان نے کیا تھا تو انہوں نے اپنی تقریرکا آغاز لفظ ”منگ لا“ سے کیاکہ ہم ترقی پذیر ممالک جو اپنے منصوبوں کے لےے ترقی یافتہ ممالک سے قرض کی بھیک مانگتے ہیں، اس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ گداگر اپنے لےے ہاتھ پھیلاتا ہے اور حکومتیں ملک کی خاطرکشکول پکڑتی ہیں ، جس ڈیم کا آج میں افتتاح کررہا ہوں، اسے بھی کشکول کے ذریعے اورکچھ قرض کے ذریعے مکمل کیا گیا ہے۔

قارئین کرام! گداگری کے حوالے سے چند حقائق جو میں نے چالیس سالہ صحافتی زندگی کے دوران دیکھے، نذرکر رہا ہوں ۔

گداگری ایک لعنت ہے، اسے ہر دور اور ہر زمانہ میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایک پنجابی کہاوت ہے:

منگن گیا سو مر گیا، منگن مُول نہ جانا

سُوکھی پھیکی کھا، شکر خدا کا کر اور سو جا

خداکے پیارے حبیب خاتم النبّین حضرت محمد نے ایک سائل کو ایک کلہاڑی اورایک رسی خریدکر دی تھی تاکہ وہ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اپنے اور اپنے خاندان کے لےے روزگار مہیا کرے۔ آپ نے اس شخص کو یہ بھی نصیحت فرمائی کہ بھیک نہ مانگنا، یہ نہایت ہی بُری عادت ہے لیکن موجودہ دور میں پیغمبراسلام کی باتیں انسانیت بھول گئی، نہ کوئی کسی کے حالات سے سروکار رکھتا ہے نہ کوئی ایسا ہے کہ وہ کلہاڑی اور رسّی دے اور یہ بھی کہے کہ بھیک مت مانگو۔ محنت کرو، محنت میں برکت اور عظمت ہے۔

اب پاکستان میں گداگری کو ایک فن کے طور پر اپنا لیا گیا ہے کیونکہ اس فن کی کمائی سے بعض گداگروں کی ویگنیں چل رہی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے مکان بناکرکرائے پر دیئے گئے ہیں اور بعض بظاہرگداگر سود، منشیات فروشی اور بُردہ فروشی کے گھناﺅنے کاروبار بھی چلا رہے ہیں۔ مخبر،اور ڈاکہ زنی جیسے جرائم میں بھی ملوث ہیں۔ قانون کے شکنجے میں بھی آتے ہیں مگرکمزور قانون کی وجہ سے جلد رہائی پاکر پھر اپنے مشن میں مشغول ہو جاتے ہیں۔

بعض علاقوں میں باقاعدہ تربیت گداگری کے اڈے کھلے ہوئے ہیں جس میں گداگری کے طریقے سکھائے جاتے ہیں جس میں مختلف آوازیں، حرکتیں، آہ وزاری، گریہ زاری، ظلم، یتیمی، لُٹ جانا، بھوک، معذوری اور مریض کے لےے دوائیوں کا حصول، ایسے مختلف طریقے سکھائے جاتے ہیں۔ اُستاد چند دنوں میں یہ سارے گُر سکھاکر جب اطمینان کر لیتا ہے کہ اب شاگرد اپنے فن میں ماہر ہوگیا ہے تو اپنے ایک پُرانے شاگردکی سربراہی میں بچوں، عورتوں، مردوں کو مصنوعی معذور بناکر مختلف جگہوں پر بھیج دیتا ہے اور جب وہ کامیاب فنکاری کرتے ہیں تو انہیں آزادکردیا جاتا ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں مختلف نوعیت کے چھوٹے بڑے گداگروں کی تعداد ایک کروڑکے لگ بھگ ہے۔ لاہور میں قریباً پانچ چھ لاکھ گداگر موجود ہیں، سب سے زیادہ تعداد مزارات کے نزدیک ہے یا جمعہ اور مذہبی تہواروں کے دن مساجد کے باہر ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ لاہورکے پُرانے علاقوں اکبری، لوہاری، بھاٹی، شادباغ، موچی، مصری شاہ جیسے علاقوں میں گداگری کے تربیت کے اڈے ہیں۔ پیشہ ور گداگروں کے مانگنے کے ڈھنگ بھی نرالے ہوتے ہیں۔ ایک دن ایک فیشن ایبل نوجوان میرے دفتر میں آیا اورکمرے سے باہرکسی سے میرا نام پوچھا اورکمرے سے باہر بیٹھے نوجوان سے میرا نام لے کرکہاکہ ایک ضروری کام کے سلسلے میں ان سے ملنا ہے۔ میرا نام اس نے بڑے احترام سے لیا تھا، باہر بیٹھے کارکن ساتھی نے اسے اندر بھیج دیا۔ مجھے سلام کیا اور ساتھ ہی رونا شروع کردیا۔میں نے اسے دلاسہ دیا۔ باہرکے نوجوان کو اندر بلایا کہ اس شخص کو بغیر اجازت آپ نے اندرکیوں بھیجا، اس نے بتایا کہ جناب میں غلطی کی معافی چاہتا ہوں۔ دراصل یہ فیشن ایبل انگریزی سپیکنگ نے اس اعتماد سے آپ کا نام لیا، میں سمجھ بیٹھاکہ آنے والا شاید آپ کا دوست ہو۔ یہ سُنا اور میں آنے والے صاحب سے مخاطب ہوا کہ فرمایئے جناب! اس نوجوان نے یہ سنسنی خیزکہانی بیان کرنا شروع کی کہ میں حافظ آباد کا رہنے والا ہوں اور آج صبح پبلک سروس کمیشن نزد شملہ پہاڑی انٹرویوکے لےے بلایا گیا تھا، لاہور میں شملہ پہاڑی کی طرف آنے والی بس میں سوار ہوا، جگہ نہ ہونے کی وجہ سے کھڑا ہونا پڑا، جب کرایہ دینے لگا تو جیب کٹ چکی تھی اور میں پریشان ہوگیا۔ صبح سے بھوکا ہوں اور واپسی کا کرایہ بھی نہیں ہے، اس نے ایسی گریہ زاری کی کہ میں نے کھانے اورکرایہ کے لےے اسے مناسب رقم دے دی اور اس نے شکریہ ادا کیا اورکمرے سے نکل گیا۔ تیسرے دن شام کو میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے اس نوجوان کو اور دو تین دوستوں کے ساتھ لکشمی چوک کے ایک مشہور ہوٹل میں مرغ مسلم کھاتے اورخوش گپیاں کرتے دیکھا ۔ میں نے بھی اتفاق سے اپنے دوست کے ساتھ اسی ہوٹل میں کھانا کھایا۔ میں نے غور سے اس کو پہچانا اوراس کی نظریں میرے ساتھ چار ہوئیں تو وہ جلدی سے اُٹھا اورغائب ہوگیا اور پھر ساتھی بھی اُٹھے اورکاﺅنٹرکی طرف چلے گئے۔

اس دلچسپ واقعہ نے مجھے سوچنے پر مجبورکردیا اور میں نے اس معاشرتی مسئلے کا باقاعدہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا چونکہ دفتری ذمہ داریوں کے تحت مجھے ملک کے تمام بڑے شہروں میں جانے کا اتفاق ہوا اور مختلف نوعیت کے گداگروں سے واسطہ پڑا۔ میں نے دلچسپ اورحیرت انگیز معلومات اکٹھی کیں، قارئین کی دلچسپی کے لےے پیش کر رہا ہوں۔

موبائل گداگر

آپ نے بسوں میں ضرور سفرکیا ہوگا، عموماً آپ کو دو قسم کے گداگر دیکھنے کا اتفاق ہوا ہوگا، ان میں ایک قسم بچوں (لڑکیاں اور لڑکے) کی ہوتی ہے۔ پنجاب میں یہ کمسن گداگر پنجابی میں ان الفاظ کے ساتھ ہمدردی کا لبادہ اوڑھ کر آپ کو متوجہ کریں گے۔

سُن لو یتیماں دی فریاد، بچیاں والیو!

اس مصرعہ میں اور ہمدردی کے الفاظ بھی شامل کر کے بار بار دُہرا کر آپ کو متوجہ کریں گے اور آخر میں غربت، بھوک، یتیمی یا ماں باپ کی بیماری یا معذوری کا رونا رو کر ایک ایک مسافرکے سامنے جائیں گے، اگر آپ سوئے ہوئے ہیں توکندھا ہلائیں گے اور خیرات طلب کریں گے۔ بعض اوقات ان بچوں کے ساتھ جعلی نابینا حضرات یا کرایہ پر حاصل کےے گئے بہت ہی بوڑھے جو لنگڑے بنائے گئے ہوں گے وہ بھی ہاتھ پھیلائیں گے۔

قارئین کرام! بسوں کے اندر مانگنے والے چھوٹے بڑے قریباً ساٹھ فیصد جعلی ہوتے ہیں اور یہ گداگر رائج الوقت سکہ نہیں کاغذکا نوٹ بے شک دس روپے کا ہو، قبول کرتے ہیں۔

بسوں میں آپ کو پڑھے لکھے ڈگریاں ہاتھ میں لےے یقینا وہ اَن پڑھ اور جعلی کاغذات لفافوں میں رکھتے ہیں لیکن ان کی تربیت بی اے ڈگری ہولڈرکی ہوتی ہے اس لےے سننے والے متاثر ہو جاتے ہیں۔ ایسے ان پڑھ سکہ بندگراگر لفافہ ہلاکر مسافروں سے ملتجی ہوتے ہیں کہ صاحبو! میں بی اے کا سٹوڈنٹ تھا، ٹیم کا بہترین کھلاڑی تھا، شومئی قسمت! ایک دن میچ کھیلتے ہوئے ہاکی میرے سر پر ایسی لگی کہ میری بینائی بھی ساتھ لے گئی، میرے چھوٹے چھوٹے چھ بہن بھائی ہیں۔ چند سال پہلے میرے والد صاحب انتقال کرگئے۔ والدہ سلائی کڑھائی کاکام کرتی ہے۔ غموں کی وجہ سے کمزور اور زیادہ دیر بیٹھ نہیں سکتی۔ خدا کے لےے مددکرتے جایئے۔

قارئین کے لےے انکشاف

اتفاق سے میں ایک دن بس کا سفرکررہا تھا، اس بس میں ایسا ہی مصنوعی اور پڑھا لکھا معذور نابینا بھیک مانگ رہا تھا، میرے نزدیک آیا تو میں نے حسب توفیق خیرات دینا چاہی اور مذاقاً ہاتھ ایسا رکھا کہ میں خود دیتا مگر میں نے ہاتھ روکے رکھا۔ فقیرچند لمحے میرے ہاتھ کی طرف دیکھتا رہا، بالآخراس نے ازخود ہاتھ میرے ہاتھ کی طرف بڑھایا اور نوٹ پکڑنا چاہا اور ساتھ ہی چپکے سے بولا ”باﺅجی مذاق نہ کرو اور پیسے لے لیے“۔ میں اس کی حرکات وسکنات دیکھ کر حیران رہ گیا اور جس بس سٹاپ پر اُترنے لگا میں بھی ساتھ ہی اُترگیا اور اسے اپنے پاس بلایا۔ہم ایک طرف بنچ پر بیٹھ گئے اور میں نے اسے کہا کہ میں مسلمان ہوں، اس نے کہا کہ میں بھی مسلمان ہوں۔ میں نے کہا کہ تم اَن پڑھ ہو اور نقلی نابینا ہو، آخر مانگنے کی اصل وجہ اور ڈھونگ رچانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اس نے مجھ سے وعدہ لیاکہ میں اسے کوئی نقصان نہیں پہنچاﺅں گا اور نہ کسی کے حوالے کروں گا؟ میں نے اسے ہر طرح کا یقین دلایا تو وہ گویا ہوا۔ میں پانچ جماعت پاس ہوں، والدین بوڑھے ہیں، ایک بھائی کرایہ کا رکشہ چلاتا ہے۔ کرائے کا مکان ہے۔ میں بھی کرایہ کا رکشہ چلاتا ہوں۔ دو بہنیں جو بیوہ ہیں ان کے پانچ بچے ہیں وہ دونوں میٹرک پاس اورڈرائیونگ جانتی ہیں۔

ضیاءالحق کا زمانہ تھا، عشرزکوٰة کا نظام شروع ہوا۔ اس کے بعد بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع ہوا۔ جنرل مشرف، میاں نوازشریف کے زمانہ میں ایسے رفاعی پروگرام بنائے گئے۔ میرے والدین نے سابقہ دوراور موجودہ ادوار ہم نے دیکھے۔ پاکستان پیپلزپارٹی، چوہدری شجاعت، میاں نواز شریف اور سب حکومتوں نے اپنے جیالوں، متوالوں، شیر اور شیرنیوں کو ہی نوازا۔ امداد ہوں، بغیرسود قرضے ہو، سستی روٹی سکیم ہو، بھٹو دور میں بھی سستی روٹی کے نام پر جیالوں کو نوازا گیا تھا۔اس سے پہلے بقول والد صاحب ایوب خاں کے دور میں گھوڑی پال سکیم کے نام پر زمینیں الاٹ کی گئی تھیں۔ پرویزالٰہی صاحب کے دور میں پڑھا لکھا پنجاب کے نام پر بچوں کوکھانا اور فروٹ دیا گیا اور خوب مذاق بنا کہ سیب ایک اور ٹکڑے چھ۔ کیلا ایک اور اس کے تین ٹکڑے۔ دوپرنوخوش، ایک پلیٹ میں سالن اور چار سٹوڈنٹ اس کے اردگرد ایک روٹی کے چار ٹکڑے، یہی مذاق ہر دور میں ہوا۔ گداگر کے رُوپ میں پاکستان کی تاریخ میرے سامنے دُہرائی جارہی تھی۔ میں رویا جب اس لڑکے نے یہ بتایا کہ ہم سب چٹائیوں پر سوئے ہیں، ہمارے نصیب میں چارپائی نہیں، میری بہنیں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں، چونکہ ہم جیالے ہیں نہ متوالے۔ ہمیں جیالوں نے بھی ٹھکرایا، ہمیں متوالوں نے بھی رُلایا تو مجھے بتائیں کہ پیٹ کی آگ بجھانے کے لےے یہ گداگری کا رُوپ اختیار نہ کروں توکیا کروں۔ کیا میں چور ڈاکو بن جاﺅں ؟ مجھ میں مزید سننے کی سکت نہ رہی۔ میری جیب میں کچھ رقم تھی، میں نے کرایہ بچا کر باقی اس کو دے دی اور اس کو خدا حافظ کہا۔ سوچتا رہا کہ اے انسان! تجھے دُنیا کی دولت نے گرویدہ بنا لیا ہے، شایدکفن اور دوگز زمین بھی نہ ملے مگر کون سوچتا ہے؟

بابوگداگر

آپ یہ پڑھ کر حیران ہوں گے کہ بابو اورگداگر! ناممکن ہے کہ بابو بھی ہو اور بھیک بھی مانگے؟ کیسے ممکن ہے؟ ہاں یہ ممکن ہے؟ کبھی آپ ریل کے ذریعہ برانچ لائنوں یعنی لاہور سے شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، جڑانوالہ یا فیصل آباد سے شورکوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، لاہور سے وزیرآباد، نارووال یا ستیانہ روڈ اور اس طرح مختلف لائنوں پر سفر کریں جن پر میں نے سفر کیا ہے۔ مجھے بابوگداگروں سے واسطہ پڑا۔ آپ بھی تجربہ کر سکتے ہیں جو سفیدپوش ہوں گے اور ایسی ایسی درد ناک کہانیاں سنائیں گے اور اگرانہیں بیٹھنے کو جگہ مل جائے تو ساتھ بیٹھ کر اپنے لٹنے کی کہانی، والد یا والدہ کی شدید بیماری۔ والدین کا نہ ہونا اور بہنوں کی شادیاں ایسی ذمہ داریاں سامنے رکھیں گے کہ میں بیروزگار ہوں یا تنخواہ انتہائی کم ہونے کی وجہ سے آپ کا تعاون درکار ہے اور اتنی رونی صورت اور افسردگی کے ساتھ داستان درد سنائیں گے کہ آپ کوکچھ نہ کچھ دینا ہی پڑے گا۔

کاروباری گداگر

ایسے گداگروں میں زیادہ تر نوجوان معذور مرد اور نوجوان عورتیں ہوتی ہیں۔ ان دونوں کے ساتھ بچے بھی ہوتے ہیں جو دفتروں کے چکر لگاتے نظرآئیں گے، عموماً یہ لوگ سٹیشنری کی چیزیں مثلاً بال پوائنٹ پنسلیں، عام پنسلیں، کنگھے یا پلاسٹک کی دیگر اشیاءآپ کو قیمتاً پیش کریں گے۔ اگر آپ نہ خریدنا چاہیں تو اپنی مجبوریوں کا رونا روئیں گے۔ سٹیشنری کے علاوہ وہ آپ کوکسی ڈاکٹر یا ہسپتال کا نسخہ پیش کریں گے۔ مرد کا نام نسخے میں ہوگا تو وہ کسی باپ، بھائی، خاوند یا بیٹے کا نام لیں گے، اگر عورت کے نام کا نسخہ ہوگا تو پھر ماں، بہن، بیٹی، بیوی کا نام لے کرآپ سے دوائیاں لے کر دینے کی یا روپوں کی بھیک مانگیں گے، ایسے آنے والے مرد خوش لباس، خوش گفتار اور نفیس اُردو انگریزی میں آپ سے مددکی درخواست کریں گے، بعض پڑھے لکھے فقیر اپنے ساتھ کرائے کی عورتیں اور بچے بھی ساتھ لاتے ہیں اورآپ سے کرایہ طلب کریں گے کہ ہم فلاں شہرکے فلاں گاﺅں سے لاہور میں کسی مزار پر فاتحہ خوانی یا کسی مرگ پر آئے تھے اور مزار پر فاتحہ خوانی یا میت کے جنازہ پر جیب کٹ گئی۔ ہم فقیرتونہیں اور اپنے سٹائل پرگداگری پر لعنت بھیجیں گے، صرف اپنی مجبوری کو سامنے لائیں گے اور یہ کہیں گے کہ میرے بیوی بچے بھی ساتھ ہی آئے ہیں اور باہر بیٹھے ہیں۔ اپنی کہانی سنانے کے بعد دفترکے کمرے میں بیٹھے ہوئے سب حضرات کے پاس جائیں گے اور ہاتھ پھیلائے جائیں گے۔

مراسلاتی گداگر

ایک قسم گداگروں کی ایسی بھی ہے جو اخبارات میں ایڈیٹرکے نام مراسلات لکھتے ہیں کہ میں بیوہ ہوں، چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ میں خود بھی معذور ہوں۔کسی نے ایک کمرہ رہائش کے لےے دیا ہوا ہے۔ اہل علاقہ صدقہ وخیرات دیتے ہیں۔گزارہ مشکل ہے، سوائے اللہ کی ذات کے میں مخیرحضرات سے ملتمس ہوں کہ میری مددکریں یا میں تپ دق کے موذی مرض میں مبتلا ہوں۔ اس مرض نے میرا چھوٹا سا مکان بھی فروخت کروا دیا۔ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، میری مددکریں۔ فلاں فلاں بذریعہ فلاں۔ ایسے دل سوز مراسلات پڑھ کر بھی مخیرحضرات امدادکے لےے پہنچ جاتے ہیں اور پڑھے لکھے یا منجھے ہوئے گداگر ہمیشہ معرفت کا ایڈریس لکھتے ہیں۔ اگرآپ خود یا اپنے کسی آدمی کے ذریعے رقم بھیجیں گے تو مراسلہ بھیجنے والاکبھی آپ کے سامنے نہیں آئے گا، بتایا جائے گا کہ وہ دوائی لینے گیا ہے یا فلاں شخصیت کے ہاں برائے امداد گیا ہے۔

اڈوں کے گداگر

عموماً آپ کو بسوں، ویگنوں کے اڈوں پر بھی گداگر اپنے جوہر دکھاتے ملیں گے۔ یہ لوگ ایسے مسافروں کے پاس جاتے ہیں جن کے ساتھ خواتین یا عمررسیدہ لوگ ہوں اور چہرے مہرے اور لباس سے صاحب حیثیت نظرآتے ہوں کہ یہ دل موہ لینے والی اُونچی آواز میں دُعائیں دیں گے کہ آپ کا سفر بخیر ہو۔ آپ کے بیوی بچے یا ساتھ خواتین، بوڑھے والدین یا ساتھی سب خیریت سے منزل مقصود تک پہنچیں۔ اللہ تمہیں حج کرائے، اس غریب کو بھی کچھ دیتے جائیں۔

گاڑیوں کے شیشے صاف کرنے والے گداگر

اگرآپ کار والے ہیں تو شہر میں جس لال بتی کی وجہ سے گاڑی رُکی تو اچانک آپ کی کارکے شیشے صاف ہونا شروع ہو جائیں گے۔ آپ کے کہنے تک وہ اپنا کام دکھا چکے ہوتے ہیں اور اپنا ہاتھ پھیلا چکے ہوتے ہیں، مجبوراً آپ کوکچھ نہ کچھ دینا پڑجائے گا۔

ٹسوے بہانے والی گداگر

ایسی عورتیں ایکٹنگ کے ذریعے آپ کو جیب کی طرف ہاتھ لے جانے پر مجبورکردیں گے۔ ایسی عورتوں میں ایکسرے پکڑے یا اُونچی آواز میں گود میں لےے بچے کی رونے کی آواز آپ کو متوجہ کرے گی کہ میرے بچے نے صبح سے نہ دودھ پیا، نہ کچھ کھانے کو ملا، اور اچانک ایسا کرتب دکھائے گی کہ آپ کو معلوم بھی نہ ہو اور بچہ زور سے چیخنا شروع کر دے گا۔ آپ چونکہ کاروائے سفید پوش اور صاحب حیثیت ہیں اپنا بھرم بھی رکھنا ہے، کچھ نہ کچھ دینا پڑے گا البتہ وہ ڈرائیوروں کی طرف کم ہی آتی ہیں۔

ٹھمکہ مارگداگر

زمانہ بدلا، حالات بدلے۔ ایک وقت تھا کہ شادی بیاہ، بچوں کی پیدائش (بالخصوص بیٹے کی پیدائش) پر خواجہ سراءڈھولکیوں کے ساتھ تالیاں مارتے،گانا گاتے مذکورہ گھروں کے دروازوں پر آدھمکتے تھے اورگھرکے افرادکے علاوہ ہمسائے بھی ویلیں دیتے تھے چونکہ دیہاتوں، شہروں میں معاشرہ پیار محبت، غمی، خوشی میں برابرکا شریک ہوتا تھا اس لےے زیادہ تر دیہاتوں میں یہ خوشی غمی، شادیوں میں پیسے، گُڑشکر خواجہ سراﺅں اور گڑوی والیوں پر نچھاورکےے جاتے تھے اور ویلیں جیبوں سے نکالنے میں یہ مہارت رکھتے تھے اور خوب کمائیاں کرتے تھے۔اب اپنے پیٹ کی خاطر یہ حضرات سڑکوں پر آگئے اور ٹھمکہ کے ساتھ ہی ”دے جا سخیا راہ خدا“ ہاتھ پھیلاکر دیہاڑی کمانے پر مجبور ہوگئے اور بہ امرمجبوری نوکریاں تلاش کررہے ہیں۔ سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں، پیٹ کی آگ ٹھنڈی کرنے کے لےے کررہے ہیں۔ ٹھمکہ گروپ صرف پوش علاقوں میں لال بتیوں کے ساتھ لگا تالیاں بجاتا نظر آئے گا۔

گوشت صدقہ کریں اور بلائیں ٹل جائیں گی!

گھر میں پریشانی، بیماری، لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے انسان پریشان ہو جاتا ہے تو بزرگ دیہاتوں میں یا شہروں میں رہائش پذیر ایسے پریشان لوگوں کو بکرے کی سری یا گوشت صدقہ کرنے کوکہتے ہیں یا کالابکراکسی یتیم خانے کو دینے کے لےے کہتے ہیں۔ بعض اہل ثروت کالے بکرے یتیم خانے یا مدرسوں میں بھجوا دیتے ہیں، یہاں لاوارث بچوں کو ان کاگوشت کھلایا جاتا ہے۔ جو بکرا خریدنے کی سکت نہیں رکھتے وہ گائے یا بکرے کی اوجڑی، تلی، پھیپھڑے جیسا سستا گوشت خریدکر چوراہوں یا مکانوں کی چھتوں پر ڈال دیتے ہیں۔ راوی کے طویل دوپُل (شاہدرہ پُل اور سگیاں پُل) کے علاوہ اندرون لاہور، بی آربی نہر سے لے کر ٹھوکرنیازبیگ تک دورویہ صبح کے وقت بچے، بوڑھے، جوان، عورتیں، بچیاں ہاتھوں میں پلاسٹک کے لفافوں میں ایسا گوشت لےے کھڑے ہوتے ہیں۔ صدقہ گوشت کرنے والے ان کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور ان کو پیسے دے کر گوشت خرید لیتے ہیں اور یہ گوشت دریا بُردکر دیا جاتا ہے اور نہرکنارے کھڑے لوگوں سے گوشت حاصل کرکے جانوروں کو ڈال دیا جاتا ہے مگر ایسا بہت کم کرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ ان کو پیسے پکڑا دیتے ہیں کہ گوشت صدقہ کر دینا اور وہ یہ کہہ کر اپنا سفر جاری رکھتے ہیں جبکہ یہ حضرات پیسے جیب میں ڈال لیتے اور دوسرے صدقہ اُتارنے والے کا انتظارکرتے ہیں، اس طرح یا ایک آدھ کلوگوشت کا لفافہ شام تک محفوظ رہتا ہے اور دو دو دن چل جاتا ہے، ایسے پیسوں سے اپنی جیب بھرتے رہتے ہیں۔

دَولے شاہ کے چوہے اور بناوٹی تاجرگداگر

ایسے گداگروں کی تعداداب بہت کم ہوگئی ہے۔ بناوٹی معذور جن میں ایک گروہ نابینا حضرات کا ہے کہ ان میں نصف نابینا، نصف بناوٹی نابینا، یہ سُریلی آواز میں یک زبان ہوکر عجیب راگ الاپتے ہیں اور مخیرحضرات کو متوجہ کرتے ہیں۔ ایک گروہ ایسا جس میں چھوٹے چھوٹے سروں، لمبا سبزچغہ پہنے نیم پاگل جوگجرات کے حضرت دَولہ شاہ کے چوہے کہلاتے ہیں، وہ چپکے سے پیچھے سے آپ کی قمیض پکڑلیں گے اور ساتھ کھڑا ٹھیکیدار التجاکرے گا کہ فقیر ہے، بھوکا ہے، آپ سے کچھ مانگ رہا ہے، اللہ کے نام پر اسے کچھ دے دو۔ صاحبِ ثروت شخص اگر فقیرکو پیسے دے گا یا درخواستگزار کو، دونوں صورتوں میں رقم درخواستگزارکے ہی ہاتھ آئے گی۔ تیسرا گروہ ایسا کہ ایک صحت مند شخص ایک معذور عورت یا مرد کرائے پر لے گا اورکرائے پر ہتھ ریڑھی حاصل کر کے معذورکو بٹھائے گا اور اپنے مشن پر چل نکلے گا اور اہل ثروت سے امداد حاصل کرتا جائے گا مگر ایسے معذوروں اور دَولے شاہ کے چوہوں کی تعداد کم نظر آنے لگی ہے۔ معلومات حاصل کرنے پر پتہ چلا کہ ان معذوروں کو سادہ روٹی اور فی کس دس بیس روپیہ دیتا تھا جبکہ مہنگائی بہت زیادہ ہے جہاں تک کمائی کا تعلق ہے جس طرح مہنگائی بڑھ گئی ہے بےروزگاری بھی بڑھ رہی ہے، یوں سخاوت اورصدقہ خیرات بڑھ رہی ہے، لوگ پہلے سے زیادہ خیرات کررہے ہیں۔

حکومت، حکومتی ادارے، اہل ثروت حضرات گداگری کوکم کرنے کی انتہائی کوشش کررہے ہیں مگر یہ فقیر چھپ جاتے ہیں۔ اخبارات میں آتا ہے، بعض گداگر اپنی کمائی خاص وقتوں کے لےے اکٹھی کرتے رہتے ہیں۔ بعض کی ویگنیں، رکشے کرائے پر چل رہے ہیں، بعض نے پراپرٹی خرید رکھی ہے۔ شادی بیاہ کے موقع پر اپنے علاقوں میں جاکر اپنی امیری ظاہرکرتے ہیں۔ پچھلے دنوں اخبار میں آیا کہ ایک فقیر جو شہر میں مصنوعی نابینا رہا، اپنی بیٹی کی شادی پر دُلہا کوگاڑی دی اور چاندی میں تولاگیا۔ ملک میں جب بھی کرنسی کی تبدیلی ہوئی ان گداگروں نے تھیلیوں میں بھرے نوٹ کھول کر نئے نوٹ حاصل کےے۔ 1995ءمیں داتادربارکے پاس ایک فقیر سردی سے مرگیا، اس کی جیب سے سونا نکلا۔


ای پیپر