پاک سٹرٹیجک تنصیبات کی محافظ پاک افواج
21 May 2018 2018-05-21

20 ویں صدی کے7ویں عشرے کے وسط میں پاکستان کے پہلے منتخب جمہوری وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت کے جوہری ہتھیار سازی کے خوفناک اور ہولناک پروگرام کی جملہ تفصیلات اور جزئیات کا بغور مطالعہ، جائزہ اور معائنہ کرنے کے بعد پاکستان کو ایک جوہری ملک بنانے کے پروگرام اور منصوبے کے عزم کا آغاز کیا۔ یہاں اس امر کی نشاندہی بھی انتہائی ضروری ہے کہ اس موقع پر پاکستان کے جوہری توانائی کمیشن سے وابستہ عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام(قادیانی) نے عوامی امنگوں کے ترجمان اور مملکتِ خداداد کو ناقابل تسخیر بنانے والے اس پروگرام اور منصوبے کی محض اپنے مخصوص مذہبی تعصب کی بنیاد پر مخالفت کی۔ ڈاکٹر عبدالسلام اور عشرت رحمانی کی مخالفت کے باوجود ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رفاقت کی بدولت ذوالفقار علی بھٹو معروضی حالات کا بنظر غائر جائزہ لینے کے بعد اس عزم صمیم کا اظہارکرنے کے قابل ہوئے ’’پاکستانی عوام گھاس کھا لیں گے لیکن پاکستان کو جوہری مملکت بنانے کے منصوبے سے ایک سینٹی میٹر پس قدمی گوارا نہیں کریں گے‘‘ یہ پروگرام مختلف سابقہ حکومتوں کے ادوار میں بتدریج آگے بڑھتا رہا۔ یہ اسی پروگرام کی دہشت تھی جس نے جنگی جنونی بھارت کو 1970ء کے بعد سے تادم تحریر پاکستان کے خلاف کسی قسم کی عسکری مہم جوئی سے باز رکھا۔ اس حقیقت سے دنیا کا کوئی بھی باشعور شہری صرف نظر نہیں کر سکتا کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک امن دوست ملک ہے۔ وہ جنوب مشرقی ایشیا کے اس خطے کو امن اور بقا ئے باہمی کی مثالی جنت بنانے کے لیے لا تعداد عملی ایثارانہ اقدامات کر چکا ہے۔ یہ بھارت ہی ہے جس نے خطے میں اسلحے کی دوڑ کا آغاز کیا۔ یہ ایک بڑا سچ ہے کہ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد1974ء میں بھارت ایٹمی دھماکے نہ کرتا تو زخموں سے چور اور نڈھال پاکستان اس قسم کے مہنگے اور جہازی سائز منصوبے کی نیو ہی نہ ڈالتا۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کی دفاعی ضروریات محض روایتی ہتھیاروں سے پوری نہیں کی جاسکتیں۔ اس دور میں جبکہ بھارت نے جنوب مشرقی ایشیا میں اسلحی بالادستی کے وکٹری سٹینڈ پر کھڑے ہونے کے لیے خطرناک اور مہلک ترین اسلحے کی اندھا دھند دوڑ شروع کر رکھی ہے، پاکستان کے لیے بھی ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں اور سٹریٹجک تنصیبات کے دفاع اور تحفظ کے لیے اپنی ایٹمی صلاحیت میں اضافہ کرتا رہے۔ حتف، شاہین، غوری، غزنوی، ابدالی، نصر، بابر اور ابابیل میزائلوں کی تیاری کی یہ سیریز اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ وطن عزیز میں جوہر قابل کی کمی نہیں۔ اس ضمن میں اے کیو خان لیبارٹری اور اس کے بانی کی خدمات سے کسی طور بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ ریکارڈ گواہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے نیو کلیائی دفاعی حصار کو محفوظ تر بنانے کے لیے ایسی معرکتہ الآرا خدمات انجام دی ہیں جو آنے والے کئی عشروں تک ایٹمی سائنسدانوں اور ماہرین کے لیے مشعل راہ کا کردار ادا کریں گی۔ واضح رہے کہ شاہین میزائل ایسے میزائل کی تیاری کے لیے دنیا بھر کے ماہر ترین ایٹمی سائنسدان ڈیڑھ لاکھ ڈالر کے اخراجات کا تخمینہ بتاتے رہے جبکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کے سینئر ساتھیوں نے یہی میزائل صرف اور صرف 25ہزار ڈالر میں تیار کر کے دیا اور یوں ایک غریب اور پسماندہ ملک کی کنگال معیشت ناروا بوجھ تلے دبنے سے بچ گئی۔

پاکستان جوہری ہتھیار سازی، میزائل سازی اور لیزر ٹیکنالوجی کی ترقی میں جوں جوں آگے بڑھے گا، وطن عزیز کے شہریوں کی نگاہوں میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قدر و منزلت میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ وطن عزیر کی تاریخ کے بے لاگ تجزیہ نگار اس زمینی حقیقت سے کسی بھی طور آنکھ نہیں چرا سکتے کہ 1971ء میں سقوط مشرقی پاکستان کے المیہ کے بعد توسیع پسند، اکھنڈ بھارت کے پرچارک اور خطہ میں رام راج کے علمبردار جنگی جنونی بھارتی حکمران ’’مستقبل قریب‘‘ میں دو قومی نظریہ کو بحیرہ عرب میں غرقاب کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ یہ کریڈٹ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شخصیت اور ان کی ٹیم ہی کو جاتا ہے کہ انہوں نے 70کی دہائی میں پاکستان میں ایٹمی پروگرام کی داغ بیل ڈال کر بھارت کے توسیع پسندانہ جنگی جنون کے بے قابو اور ساحل شکن سیلاب کے آگے مضبوط بند باندھا۔ حتف بیلسٹک میزائل کی تیاری ہو یا آنے والے دنوں میں پاکستان غیر روایتی دو رمار اثرات رکھنے والے دیگر ہتھیار تیار کرے، ان کی ڈیزائننگ، انفراسٹرکچر، میکانزم اور تکنیکی تیاری میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ندرت کار تخلیقی ذہن کی جدتوں کا کلیدی ہاتھ مدتوں کار فرما رہے گا۔ پوری قوم کو اپنے سائنسدانوں اور انجینئروں پر فخر ہے۔

مئی 1998ء میں بھارت نے پوکھران کے مقام پر دوبارہ ایٹمی دھماکے کئے۔ یہ دھماکے پاکستان کی سلامتی کے لیے یقیناً خطرے کی ایک گھنٹی تھے۔ پوری قوم نے اربابِ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے اس ایٹمی دہشت گردانہ اقدام کا منہ توڑ جواب دے۔ با مرِ مجبوری پاکستان کو بھی یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ جوہری اسلحہ سازی کے میدان میں کسی بھی طور بھارت سے پیچھے نہیں ہے، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم کی زیر نگرانی 6ایٹمی دھماکے کئے۔ اس ااقدام سے پاکستانی عوام کا مورال بلند ہوا۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان مخالف لابیاں مغربی ممالک اور امریکی ریاستوں میں پاکستان کے خلاف منفی اور لائق نفریں پراپیگنڈہ مہم میں جت گئیں۔ بعض ممالک نے رد عمل کے طور پر پاکستان پر بعض پابندیاں بھی عائد کیں۔ ان پابندیوں کے باوجود پاکستانی عوام صبر و استقلال اور عزم و ہمت کے ساتھ اپنے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے اور جاری رکھنے کے لیے حکومتی اقدامات کی غیر مشروط تائید و حمایت کرتے رہے۔ کسی دور میں سی ٹی بی ٹی، این پی ٹی اور ایف ایم سی ٹی کے معاہدوں پر دستخط کرنے کے حوالے سے بھی امریکہ، جاپان اور مغربی ممالک کی جانب سے پاکستان پر دباؤ ڈالا جاتا رہا حکومت پاکستان اس تمام پریشر اور دباؤ کا انتہائی دانائی، حکمت اور دانشمندی کے ساتھ سامنا کرتی رہی۔ جانبدار عالمی طاقت اور بھارت نواز مغربی ممالک پاکستان کے خلاف یکطرفہ معاشی پابندیوں کے نفاذ کے لیے مختلف عالمی پلیٹ فارموں پر کوشاں اور سلسلہ جنباں رہے جبکہ بھارت کے حوالے سے ان کا رویہ تضاد اور جانب داریت کا عکاس رہا۔

پاکستان واضح کر چکا ہے کہ پاکستان کی کم سے کم قابل اعتماد ڈیٹرنس برقرار رکھنے کی پالیسی اس کی قومی سکیورٹی پالیسی میں اہم ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہر پاکستانی حکومت کا عزم صمیم رہا ہے کہ سٹریٹیجک فیلڈ میں برتری ہرطرح سے برقرار رکھی جائے گی اورنیو کلیئر ڈیٹرنس کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری وسائل فراہم کئے جائیں گے، پاکستان کم سے کم دفاعی صلاحیت قائم رکھے گا، دفاعی ضروریات ہمیشہ اولین ترجیح رہیں گی اور سٹر ٹیجک پروگرام جسے ملک بھر میں وسیع حمایت حاصل ہے اسے مضبوط تر بنایا جائے گا، امتیازی سلوک برداشت نہیں کریں گے اور سلامتی و توانائی کی ضروریات تمام ذرائع سے پوری کی جائیں گی، اللہ کے فضل سے پاکستان اب تک کم سے کم دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے اور پاکستان کی یہ صلاحیت خطے میں امن کی ضامن ہے۔ پاکستان کا جوہری پروگرام ہر پاکستانی کو اپنی شہ رگ سے زیادہ عزیز ہے۔ اس کے لیے یہ امر باعث طمانیت ہے کہ اس پروگرام کی حفاظت افواج پاکستان کے دلیر اور دلاور افسران اور نوجوان کر رہے ہیں۔

افواج پاکستان کے افسروں اور جوانوں کے خلاف کرزہ سرائی کرنے والے کسی بھی شخص کو وہ پاکستان کا خیر خواہ نہیں سمجھتے۔ افواج پاکستان ہیں تو پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہے یعنی ریاست پاکستان محفوظ ہے۔ وہ سیاسی عناصر جو عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے افواج پاکستان کی کردار کشی کر رہے ہیں اور اپنے بیانات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان ممبئی حملوں ایسے واقعات میں ملوث ہے۔ وہ اپنے خیر خواہ ہیں، اور نہ ہی پاکستان کے عوام کے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ افواج پاکستان سے بے پناہ محبت کرنے والے اور ریاست پاکستان کے لیے قربانی دینے والے ادارے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں جو بھی اس ادارے کے خلاف یاژ اژ خائی کرے گا، عوام کی نگاہوں میں عزت کے قابل نہیں رہے گا۔


ای پیپر