کہیں طے پارہاہے شہرکا مسماررہنا؟
21 May 2018 2018-05-21

چاہئے تویہ کہ میاں محمدنوازشریف کا سلسلہ شوق طویل ہو، بساط سیاست پر اصول اورنظریے کے پھول اگیں مگرموصوف کے ناخن سینہ خراش ہوئے جاتے ہیں۔سینہ خراشی نے رفتارپکڑی تو بہت جلد الطاف حسین والے انجام تک پہنچائے جاسکتے ہیں،یہ تیرنیم کش تھا ،سلسلہ تیرپرستم تک جائے گا ، پھرچاہے چراغوں میں روشنی رہے نہ رہے! بزرگان صحافت وسیاست مذہب اورریاست سے متعلق احتیاط پرزوردیتے آئے ہیں، مگراب کے ، کارزارسیاست وصحافت میں صوراسرافیل پھونکے جارہے ہیں۔سرل المیداڈان لیکس کا بھی بنیادی کردارتھے اور اب ممبئی حملوں سے متعلق میاں صاحب کا بیان بھی سرل المیدانے شائع کیا ہے، تواسے زبان وقلم کا ہیضہ توہرگزقرارنہیں دیا جا سکتایہ ایک سوچا سمجھا اورتول کربولااورلکھاگیا بیان ہے۔شہبازشریف اس سے چاہے جتنی جلیبیاں بنائیں، نوازشریف اپنے بیان پراٹل ہیں۔شہبازشریف اینڈکمپنی نہیں سمجھ پارہے میاں نوازشریف جب سے نظریاتی ہوئے ہیں وہ زبان حال سے کہہ رہے ہیں "تیزرکھنا سرہرخارکو اے دشت جنوں،، شایدآجائے کوئی آبلہ پا میرے بعد" ۔میاں صاحب نے صحراکی سمت درکھول لیاہے، جہاں وہ گہے برخاک اورگہے برخاررقصاں رہیں گے، لیڈرزکیلئے خطرپسندطبیعت کا مالک ہونا ضروری ہوتا ہے، کامیابی بقدررسک ملتی ہے۔

میاں نوازشریف کے سرمیں بھارت سے مصالحت کا سوداایساسمایاہے کہ اعلان لاہور پھرجلاوطنی کے بعدوطن واپسی سے لیکراب تک اس سے سرموانحراف نظرنہیں آتا۔الیکشن مہم ہو، دھرنوں کا بحران یاپھرکلبھوشن یادیوکی گرفتاری میاں صاحب نے بھارت سے متعلق خاموشی اختیارکی۔تاہم اپنی تقریب حلف برداری میں مودی کو دعوت سے لے کرمودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کا فیصلہ، یاپھرجاتی امراء میں مودی کاآپہنچناہویا مری میں بھارتی بزنس مین جنڈال سے ملاقات کا احوال!ایک طاقتورمحافظ بریگیڈکی موجودگی میں یہ خطرات مول لینے کی وہ فہرست ہے جسے شایدبھٹوصاحب جیسا طاقتوروزیراعظم بھی اختیارنہ کرسکتاتھا۔اس جرأت کی ایک وجہ پنجابی ہونا اوردوسرایہ ادراک کہ "چوگ "دینے والے ہاتھ" روگ" نہیں دیتے۔پھرکاکڑ، جہانگیرکرامت سے کا میاب معرکہ آزمائی اورسپریم کورٹ پرچڑھائی کااعتمادبھی بہت عمل دخل کا حامل ہے۔مشرف سے کشمکش مہنگی پڑی تو کیا آخر مشرف کو بھی تو دیس نکالادے کر سرخرو ہوئے۔بہرحال بھارت کی بابت میاں صاحب" محافظ بریگیڈ"کا اعتماد کھوچکے ہیں۔میاں صاحب انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پربھارت دوستی چاہتے ہیں جواتنا سادہ مسئلہ ہے کہ سرحدکے دونوں پارآلوگوشت کھائے جانے کی بدولت حل ہوہی جانا چاہئے ۔ محافظ سمجھتے ہیں کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ خطے میں بھارت کی اجارہ داری چاہتی ہے ، گوان کا مقصودچین کو محدودکرناہے تاہم اتنا مضبوط بھارت پاکستان کے وجودکیلئے خطرہ ہے۔زبانی جمع خرچ کے تحت عالمی دباؤ قبول بھی کیا جاتا رہا، مذاکرات بھی ہوتے رہے، مگرسترہزارنفوس کی قربانیوں کے باوجود " ڈومور" کی گردان سنائی جاتی رہی تو بالآخر جب ضمیرلالہ مئے لال سے ہوالبریز، اشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑدی پرہیز۔پھرببانگ دہل کہہ دیا گیا کہ ’’اب دنیا ڈومورکرے‘‘۔ اس نعرہ مستانہ کے بعدخارجہ پالیسی کا رخ شمال مغرب کو پھیردیا گیا۔چین اور روس آج گوادرمیں ہیں جن کیخلاف انکل سام نے سردجنگ کا اعلان کررکھا ہے۔برطانیہ اورفرانس محوتماشائے لب بام ہیں ۔

ہمارے جملہ مسائل کا مرکزبھارت ہے۔ایک انتہا وہ ہے جس پرمیاں صاحب اڑے ہوئے ہیں کہ بھارت کے معاشی حصاردیں میں شامل ہونا ناگزیرہے، دوسری انتہاوہ ہے جس پرمحافظین ڈٹے ہوئے ہیں کہ بھارت پاکستان کا ازلی اورابدی دشمن ہے، بھارت سے دوستی کا مطلب اپنے وجودکی نفی ہے۔ بین الاقوامی تھانیداربھارت کو واہگہ سے بذریعہ افغانستان وسط ایشیاء تک رسائی دینا چاہتے ہیں۔وہ واہگہ تاکابل بین الاقوامی تجارتی شاہراہ کا قیام چاہتے ہیں تاکہ بھارت کے ذریعے چین اورروس کی پیش بندی کی جاسکے۔میاں صاحب اگرچہ سی پیک کے معماراول ہیں، مگرکچھ مبصرین کی رائے میں بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی صف میں کھڑے ہیں۔ مغربی استعمار، بھارت اوران کا حلیف میڈیاسیفما وغیرہ عرصہ درازسے اس بیانئے پرعمل پیراہیں کہ اقبال بھارت کے اندرآزادریاست کا مطالبہ کررہے تھے، سوائے آخری آٹھ سال کے قائداعظم کی پوری زندگی متحدہ بھارت کے گردگھومتی تھی۔پاکستان کا قیام برطانوی سامراج کی سازش تھی، پاکستان بھارت کے درمیان ریڈکلف لائن کی اہمیت دیواربرلن سے زیادہ نہیں ہے۔عہدجدید میں مذہب کے نام پرریاست کا قیام چہ معنی دارد؟ ہمارے ادبی اورصحافتی افق پرشروع دن سے بائیں بازوکا قبضہ تھااورآج تک ان کا بیانیہ مذہب کی ہرعلامت کی تضحیک ہے۔عملیت پسند نوازشریف جب کبھی مذہبی ہواکرتے تھے تو ان پر امیرالمومنین بننے کی پھبتیاں کسی جاتی تھیں، مگرجب سے وہ مرغ بادنما ہوتے ہوئے نظریاتی لبرل ہوئے ہیں ، پرویزرشید اور نجم سیٹھی کا جادوسرچڑھ کربولنے لگا ہے اورکبھی ضیا الحق کے مشن کی تکمیل کا دم بھرنے والے میاں صاحب کچھ سیکولرہوئے ہیں تو بایاں بازوبھی ان کا خیرمقدم کرنے لگا ہے،ممتازقادریکی پھانسی نے نوازشریف کی سیکولرشناخت کو چارچاندلگائے ہیں تو مسئلہ ختم نبوت پران کی پارٹی پالیسی نے انہیں مغرب میں پسندیدہ بنایا ہے۔ہاں کٹردایاں بازوان کے حلقہ ارادت سے سرک گیاہے۔مگراس سے کہیں زیادہ سیکولرلبرل ووٹ میاں صاحب کا ہم نوا ہواہے۔سندھ، بلوچستان اور پختونخواہ کا وہ طبقہ جومذہب کے نام پرتقسیم ہند کا مخالف تھامیاں صاحب کی پروبھارت سیاست پرفریفتہ نظرآرہا ہے، ایسے میں میاں صاحب اورمحافظ بریگیڈکا دوانتہاؤں پراڑناملک وملت دونوں کیلئے پرخطرہے۔

حقیقت دوانتہاؤں کے درمیان ہوا کرتی ہے، دقت نظرسے اسے پایا جاسکتا ہے۔ خطبہ الہ آبادکا نچوڑیہ تھاکہ ایک آزادمسلم ریاست کا قیام اسلام اوربھارت دونوں کے مفادمیں ہوگااس سے اسلام پرعرب استعماریت کی مہرکا خاتمہ ہوگاہندوستان کو عالمی طاقت کے توازن سے استحکام ملے گا۔اقبال کا کہنا یہ تھا کہ ہرچنداسلام شورائیت کا پیکرہے اس کے باطن میں جمہوریت ہے عہدنبوی و خلافت راشدہ کا دوراس کی عملی تصویرہے، مگراس کے بعدجب ملوکیت آئی تواقتصادی اورجمہوری تنظیم کے قرآنی رہنما اصول پس پشت ڈال کرملوک نے زمانہ جاہلیت کی طرف مراجعت کی اورقرآن واسوہ رسولؐ کے وہ رہنما اصول شرمندہ تعبیرنہ ہوسکے۔آج مسلم برصغیراس عہدجدید میں ایک الگ خودمختارریاست کے قیام سے قرآن کے سماجی، سیاسی اورمعاشی رہنما اصولوں کو بروئے کارلاکرجمہوری عمل سے دنیا کے سامنے اسلام کی صحیح تصویرپیش کرنے کے قابل ہوگا جوصدیوں پرمحیط عرب شہنشاہیت سے مسخ ہوچکی ہے۔گویا یہ ہندومسلم مخاصمت سے بڑھ کرقرآنی معاشرت کے قیام کی دھن تھی، ایک ایسی معاشرت جہاں دلت بادشاہ کی بیٹی سے شادی کرسکتاہو، ایک ایسی معاشرت جہاں حرف قل العفوکو شرمندہ تعبیرکیا جاسکے، ایک ایسا معاشرہ جس کی بنا لا قیصرو لاکسریٰ ہو، ایک ایسی دھرتی جہاں الارض للہ کا بانگ اسرافیل پھونکا جا سکے، ایک ایسی ریاست کا قیام جہاں کسان کسی قبرکا اگلا ہوا مردہ نہ دکھائی دے، ایسی معاشرت جہاں مزدورکسی فیکٹری کے دھوئیں سے بڑھ کرکوئی چیزہو جو اسی دولت کا غلام نہ بنے جسے وہ خودپیداکررہا ہے۔منیرنیازی نے کیا :خوب کہا تھا ’’پاکستان کی بنیادہندودشمنی نہیں تھی،یہ تو ہم ایک ایسا شہربسانا چاہتے تھے جس کی خوشبو برصغیر بھر میں محسوس ہو،ہندودشمنی کا جو بیج بویا تھا اس کی نکاسی نہیں ہو سکی تو اب یہ ہم ایک دوسرے پرخرچ کررہے ہیں‘‘۔میاں صاحب اور محافظ بریگیڈاگراقبالؒ اورجناحؒ کے وژن کو قدرمشترک سمجھ کربھارت سے معاملات بڑھائیں گے تو یہ جو " کہیں طے پارہاہے شہرکا مسماررہنا " شرمندۂ تعبیرنہیں ہوسکے گا۔


ای پیپر