وزیر اعظم بننے کا دعویٰ۔۔۔خلائی مخلوق کا ذکر
21 May 2018 2018-05-21

آخر اس کو اتنا یقین اور گمان کیوں ہے کہ وہ ہی ہیں چراغ آخری شب ، کپتان کو اتنا یقین کیوں ہے کہ انتخاب کے بعد ان کی ہی حکومت ہو گی اور وہی اقتدار اعلیٰ پر بیٹھیں گے۔ اورہر حال اور ہر صورت میں الیکشن جیتیں گے۔ ابھی تو الیکشن کمیشن کا شیڈول بھی جاری نہیں ہوا ، کروڑ نوکریاں دیں گے، وزیر اعظم ہاؤسنگ سکیم کے تحت 50 لاکھ گھر بنائیں گے۔ شاہ محمود قریشی نے صوبہ جنوبی پنجاب بنانے کی بات نہیں کی بلکہ عملی اقدامات کا کہہ دیا ہے۔ اور جنوبی پنجاب کو خود مختار کرنے کی بات کر دی ہے۔یہ تو محض 1970 ء کے کھوکھلے نعروں کی طرح دعوے ہیں۔ جن کو پورا کرنے کے لیے عمر خضر کی ضرورت ہے۔ حکمران اور وزیر اعظم بننے کے لیے ایک خراج کی ضرورت ہے۔ وہ کپتان ہیں دور دور تک نظر نہیں آ رہا ،ان کی کرکٹ اور ساری نجی زندگی تنازعات میں گزری ہے۔ جس شخص نے اپنی پارٹی کو اپنی ذات کے اخبار میں ہی لکھا ہے۔ اور جو خود کو نا گزیرسمجھتا ہو کیسے کامیاب ہو سکتا ہے۔ کارکردگی دیکھیں تو تعمیر پاکستان کے لیے سوائے ایک ارب درخت لگانے کے کچھ نہیں۔ جو پورے پانچ سال جلسے جلوس اور دھرنے کی سیاست کرتا رہا ہے۔ کیا وہ سمجھتا ہے کہ اگر اسے اقتدار مل بھی گیا وہ سکون سے رہ سکیں گے۔ ایسا ہو بھی نہیں سکتا ان کو ایک ایسی اپوزیشن کا سامنا ہو گا جو مہم جوئی کا کپتان سے زیادہ تجربہ رکھتی ہے۔ جس نے بے نظیر بھٹو جیسی حکومت کو دو مرتبہ اقتدار کی مدت پوری نہیں کرنے دی وہ کپتان کو کیسے کرنے دے گی۔ دوسری جانب کپتان جب خود نمائی اور خواہشوں کی محفل سجا کر وزیر اعظم کا 100 دن کا پروگرام پیش کر رہے تھے تو ایسے وقت میں خیبر پختونخوا کو حکومت کا ایک ایسی رپورٹ میں آئینہ دکھایا جا رہا تھا جس میں خیبر پختونخوا کی کارکردگی کو جنوبی پنجاب سے نیچے بتایاجا رہا تھا۔ اقوام متحدہ نے پاکستان میں سماجی ترقی کی رپورٹ ایسے وقت میں جاری کی جب انتخاب میں تقریباً دو ماہ ہی باقی رہ گئے ہیں۔ کپتان کی تقریر کے دعوے رپورٹ کے مندرجات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ 2011 ء سے 2015 ء تک کے جاری سروے کے مطابق انسانی وسائل کی ترقی میں پنجاب سب سے آگے بتایا گیا۔ سندھ کا دوسرا اور وکٹری سٹینڈپر کے پی کے تیسرے نمبر پر کھڑا ہے، رپورٹ کے مطابق خاطر خواہ ترقی کرنے والے چھ صوبوں سے پنجاب کے چار اضلاع شامل ہیں۔ مگر اس میں کے پی کے کا ایک بھی ضلع شامل نہیں ہے۔ پنجاب میں 83 فی صد عوام کو صحت کی سہولتیں اطمینان بخش طریقے سے مل رہی ہیں، محکمہ تعلیم میں پنجاب کپتان کے دعووں کے بر عکس پنجاب آگے ہے۔ خادم اعلیٰ کا یہ دعویٰ اب بجا اور درست ہے کہ پشاور اور کراچی کو لاہور بنائیں گے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کی رپورٹ سے سب سے زیادہ خوش مسلم لیگ ن کے پی کے صدر امیر مقام نظر آتے ہیں۔ پنجاب کی تعلیم اور صحت کے بارے میں ہم با با رحمت پر یقین کریں یا اقوام متحدہ کی رپورٹ پر۔ بابا رحمت کے نزدیک پنجاب میں تعلیم اور صحت کا بیڑا ہی غرق ہو گیا ہے۔ اہم سوال ہے ان ریمارکس سے پنجاب کی حکمران جماعت کو بڑا دھچکا لگا تھا۔ ان ساری چیزوں کو عوام سیاست کے نقطہ نظر سے ہی دیکھ رہے ہیں۔ جو کچھ سیاسی منظر نامے پر ہو رہا ہے یہ اس کھیل کا حصہ ہے جو خدائی مخلوق کے کردار سے تعلق رکھتا ہے۔ بنانے اور اکھاڑنے کی ماضی کی کہانی آج کے عہد میں ہضم ہونے والی نہیں ہے۔ اسد عمر جب

نواز شریف کو غدار کہتا ہے تو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے منظر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں۔اسد عمر کے والد یحییٰ خان کے ان چار جرنیلوں میں شامل تھے جنہوں نے جمہوریت کو نہیں مانا۔ حمود الرحمن رپورٹ کے جو حصے شائع ہو چکے ہیں یا جو صیغہ راز میں ہیں جب سپریم کورٹ یحییٰ خان کو غاصب قرار دے چکی تو ان کے ساتھی بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ ماضی تو خاصاکر بناک ہے۔جو لوگ سمجھتے ہیں نواز شریف کی گدی پر بٹھانے کے لیے خلائی مخلوق عمران خان کو 40 نشستیں لے کر دے گی اس مخلوق نے 65ء ،1990ء اور2002 ء میں اپنے جوہر دکھائے۔ بھٹو کا ہٹایا جانا بھی اس کا حصہ تھا۔ 1977 ء کے آغاز سے ہی جرنیلوں کے ساتھ بھٹو کی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ ان ملاقاتوں کا ذکر جنرل فیض علی چشتی نے بھی اپنی کتاب میں کیا ہے۔ فیض علی چشتی کے مطابق ’’ پی این اے کی تحریک کے دوران بھٹو سے بے شمار ملاقاتیں ہوئیں، اس دوران کھلے الفاظ میں ان سے گزارش کرتا رہا کہ وہ دوبارہ انتخاب کرائیں ورنہ فوج بحیثیت ادارہ اقتدار پر قبضہ کرے گی۔ کیونکہ 1977ء کے انتخاب میں دھاندلی سے معاملہ شروع ہوا تھا ضیاء الحق کو اس وقت چاہیے تھا کہ وہ بھٹو سے مطالبہ کرتے کہ انتخاب صاف اور شفاف ہونے چاہییں۔بھٹو کی دھاندلی ضیاء الحق سمیت سب دیکھتے رہے۔ راؤ عبدالرشید بھی اپنی کتاب میں دھاندلی کی گواہی دیتے ہیں۔ بھٹو نے سرکاری مشینری کو استعمال کیا۔ سندھ میں تو بڑی تعداد میں بلا مقابلہ انتخاب ہو گیا۔ جان محمد عباسی کے اغوا کا سکینڈل بنا اور خوب بنا۔ بھٹو بلا مقابلہ کامیاب ہوئے تو چاروں صوبوں کے چیف منسٹر بھی بلا مقابلہ ہو گئے۔ پھر بھٹو نے عوامی تحریک کو کچلنے کے لیے ضیاء الحق پر اعتماد کیا جو غلط تھا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا جیسے آج خاقان عباسی کہتے ہیں کہ چیئرمین نیب کو نامزد کرنا میری غلطی تھی بھٹو بھی ایسے ہی کہا کرتے تھے۔ جمہوریت کا سارا کھیل اس وقت کے کور کمانڈر کراچی جنرل ارباب جہاں زیب سناتے ہیں جو خراب ہیں ۔ آپ فیصلہ کریں اور تصفیہ کرلیں‘‘ ابھی گفتگو ہو رہی تھی کہ جنرل ٹکا خان نے کہا کہ ملک کی خاطر اگر تیس چالیس ہزار آدمی مار دیے جائیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا اس پر میں نے کہا جنرل ٹکا خان تم خاموش رہو تمہارا فوج سے تعلق نہیں ہے۔ تم ہم کو مشورے دینے والے کون ہو، تم بھٹو کے مشیر ہو فوج کے نہیں۔ لیکن وزیر صحت شیخ رشید کہنے لگے کہ چین میں ثقافتی انقلاب کے دوران دس لاکھ آدمیوں کو ماردیا گیا تھا اور پھر سب ٹھیک ہو گیا تھا۔ اب آپ پر فرض عائد ہوتا ہے یہ آپ کا تاریخی کارنامہ ہو گا۔ ملک ترقی کرے گا۔ ان کا اتنا کہنا تھا کہ جنرل اقبال نے گرج کر کہا۔

you bloody go and kill,

we will not kill people

اس کے بعد پورا اجلاس ہنگامے کی نذر ہو گیا۔ بھٹو نے کہا کہ مجھے ایک سال کا وقت دے دو میں ایک سال میں الیکشن کرادوں گا ورنہ پوری دنیا میں میری پوزیشن خراب ہو جائے گی۔ لیکن جرنیلوں نے کہا ہم ارباب کی تجویز کی تائید کرتے ہیں کہ تین ماہ میں الیکشن کر ادیں ۔ خیرجو کچھ بھی ہوا یہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔ اس کے بعد پھر انتخاب میں دھاندلی ہوئی۔ 1988ء میں اقتدار ملنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کرلی تھی بے نظیر بھٹو نے فوج کو تمغہ جمہوریت دیا مگر بے نظیر بھٹو آرمی چیف اسلم بیگ کو پسند نہیں کرتی تھیں۔ 1990ء کا انتخاب ہوا انتخاب میں دھاندلی ہوئی۔

جنرل جہانزیب ارباب 1977ء کے مارشل لاء نافذ کرنے والے جرنیلوں میں وہ سب سے پہلے ریٹائر ہوئے ۔ صوبہ سرحد کے سابق وزیر اعلیٰ ارباب جہانگیر اور ان کے بڑے بھائی ارباب نیاز محمد جو ضیاء الحق کے مارشل لاء میں وفاقی وزیر بنے۔ ارباب جہانگیر پیپلز پارٹی کے ایم این اے ہی نہیں بلکہ ارباب جہانزیب کے بھانجے بھی تھے۔ جنرل جہانزیب ارباب اپنے انٹرویو میں 1977 کے بحران کے بارے میں بتاتے ہیں ’’ہم نے مسٹر بھٹو کو تین ماہ کا وقت دیا تھا کہ ملک میں انتخابات کرا دیں یہ 30 جون 1977 کا ذکر ہے۔ فوج کے چیف، تمام کور کمانڈر، چیف آف جنرل سٹاف وغیرہ کو ایوان وزیر اعظم طلب کیا جہاں کابینہ موجود تھی ۔ سندھ اور سرحدکے وزیر اعلیٰ بھی موجود تھے۔ دوران گفتگو بھٹو نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’جنرل ارباب کراچی میں صورت حال بہتر نہیں ہے۔ میں نے انہیں جواب دیا ، ہم کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن حالات پلٹ گئے۔ 1990ء کا انتخاب بینظیر نے پی ڈی اے کے پلیٹ فارم سے لڑا تھا۔ دھاندلی کے ثبوت تھے مگر اس پر وائٹ پیپر ایک سال بعد جاری کیا گیا۔ 24 ستمبر 1991ء کو پی ڈی اے کے جنرل سیکرٹری خورشید محمود قصوری نے اسلام آباد کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں وہ دستاویزات جاری کر دیں جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ 1990ء کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی۔ بینظیر بھٹو جی ایچ کیو اور کبھی آئی ایس آئی پر الزام لگاتی رہیں یہاں تک کہ بینظیر بھٹو نے کئی بار قومی اسمبلی کو ہی بوگس قرار دے دیا۔ انگریزی زبان میں شائع ہونے والا وائٹ پیپر 484صفحات پر مشتمل تھا۔ انتخاب ہوں اس میں دھاندلی کا الزام نہ لگے، جو وائٹ پیپر پیپلزپارٹی نے شائع کیا تھا اس سے قبل پارٹی کے خلاف بھی ایک وائٹ پیپر شائع ہو چکا تھا۔ ضیاء الحق کے حکم پر اس وقت شائع کرنے کا فیصلہ کیا گیا جب انتخابات ملتوی ہو چکے تھے۔ اپوزیشن جماعتیں احتساب پہلے اور انتخاب بعد میں کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ اس حمایت کو ضیاء الحق نے اپنے لیے غنیمت جانا اور انہیں احتساب کے مطالبے کے بعد اپنی خواہشوں آزروں کو پورا کرنے کا موقع ملا۔ بھٹو سے یہ غلطی ہوئی تھی کہ اس نے فوج اور خاص طور پر آئی ایس آئی کو اپنا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ۔مزرا اسلم بیگ نے بھی ایف آئی اے کو اپنے بیان ریکارڈ کرایا ہے جس میں انہوں نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ 1975ء میں بھٹو نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے سیاسی ذمہ داری آئی ایس آئی کو سونپ دی تھی۔ اور یہ سیاسی ذمہ داری کسی عدالت میں چیلنج نہیں کی گئی تھی ۔ 1990ء سے 94ء تک آئی ایس آئی کے ڈی جی جنرل درانی تھے انہوں نے الیکشن کو کیوں چرایا پھر بینظیر کے ساتھی کیسے بنے۔ انہیں آرمی چیف نے کیوں ہٹایا اور بینظیر بھٹو نے انہیں جرمنی میں سفیر کیوں لگایا۔ یہ سارا کھیل ایک سیاست دان اور اپنے سب سے بڑے مخالف نوا زشریف کو پھنسانے کے لیے کھیلا گیا تھا۔ مگر ایف آئی اے کے سامنے مرزا اسلم بیگ اور جنرل درانی انکاری ہو گئے ہیں کہ انہوں نے سیاست دانوں میں رقم تقسیم کی ہے۔ مگر خدائی مخلوق کا ذکر آج بھی بڑے زور شور سے ہو رہا ہے۔ آج بھی وہی کچھ ہے۔

کسی کا حکم ہے ساری ہوائیں

ہمیشہ چلنے سے پہلے بتائیں ان کی سمت کیا ہے

کدھر جا رہی ہیں

ہواؤں کو بتانا یہ بھی ہو گا چلیں گی تو رفتار کیا ہو گی

کہ آندھی کی اجازت اب نہیں ہے


ای پیپر