مقبوضہ کشمیر میں مودی کا ’’قاتل‘‘ کے نعروں سے استقبال
21 مئی 2018 2018-05-21

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ کے موقع پر مقبوضہ کشمیر بھر میں احتجاجی ہڑتال سے کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا۔ عوام نے اپنے گھروں کی چھتوں اور دوسری جگہوں پراحتجاج کے طورپر سیاہ پرچم لہرا ئے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے دورے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے سرینگر کے تاریخی لال چوک کی طرف مارچ کو بھارتی فورسز نے طاقت کا استعمال کر کے روک دیا جبکہ لال چوک سیل کر دیا گیا تھا۔ مارچ اوراحتجاج کی اپیل سیدعلی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق اور محمدیاسین ملک پرمشتمل مشترکہ حریت قیادت نے کی تھی۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ جموں وکشمیر کے پیش نظر وادی میں تمام مواصلاتی کمپنیوں بشمول بی ایس این ایل کی موبائیل انٹرنیٹ سروسز معطل کردی گئیں، ریل سروس بھی معطل رہی۔اس موقع پر ریاست بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ رہی جبکہ سرینگرمیں پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے‘ جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر کے لوگوں اور گاڑیوں کی تلاشیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مقبوضہ وادی ’’ قاتل قاتل مودی قاتل ‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھی۔ طلباء کو احتجاجی مظاہروں اور لالچوک کی طرف مارچ سے روکنے کے لیے تعلیمی ادارے بھی بند رکھنے کااعلان کیا گیا۔
مشترکہ قیادت کی اپیل پر کئی جگہوں سے لوگوں نے لال چوک کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تاہم بھارتی فوج نے روک دیا۔ سری نگر شہر کے نوہٹہ اوراننت ناگ علاقے میں نوجوانوں اور پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کے دوران ایک پولیس افسر سمیت 6 افراد زخمی ہوئے۔جامع مسجد اور اس کے نواحی علاقوں میں ،نوجوانوں پر مشتمل ایک گروپ نے حریت کانفرنس ع کے سربراہ میر واعظ کی قیادت میں پیش قدمی کرنے کی کوشش کی،تاہم فورسز اہلکاروں نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔میر واعظ کو گرفتار کر کے نگین پولیس سٹیشن میں بند کر دیا گیا۔ فورسز نے ٹیر گیس کے گولے داغے اور پیلٹ کا استعمال کیا۔ سری نگر کے صفا کدل میں نماز فجر کی ادائیگی کے فورا بعد نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نعرے بازی کرتے ہوئے مساجد سے سڑکوں پر نکل آئی۔ تاہم وہاں سحر کے وقت سے ہی تعینات فورسز اہلکاروں نے احتجاجی نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ احتجاجیوں نے سیکورٹی فورسز پر پتھرا کیا جس کے بعد فورسز کی جانب سے آنسو گیس کے گولے داغے گئے۔
علی گیلانی، یاسین ملک سمیت دیگر حریت رہنماؤں کو گھروں میں نظربند کر دیا گیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے چیرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کشمیر میں اس حقیقت کا ادراک کریں کہ جموں کشمیر کے عوام نے کبھی بھی بھارت کے جبری قبضے کو قبول نہیں کیا ہے اور آج بھی ہم اس جبری قبضے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور جب تک نہ ہم کو اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیا جاتا ہم اپنی جدوجہد کو جاری وساری رکھیں گے۔
حریت قیادت نے ایک بیان میں کہا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے مقبوضہ علاقے کے مجوزہ دورے کا مقصد عالمی برادری کو یہ جھوٹا تاثر دینا ہے کہ کشمیری عوام بھارت کے ساتھ خوش ہیں حالانکہ بھارت نے مقبوضہ علاقے کو جہنم زار بنارکھا ہے۔متحدہ جہاد کونسل نے کہا ہے کہ سیزفائر کا اعلان واقعی خوش آئند ہوتا اگر اس میں بھارت کی نیک نیتی اور سنجیدگی نظر آتی۔ سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاستی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نئی دہلی اور اسلام آباد کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنی ناکامیوں کو تسلیم کریں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مقبوضہ کشمیر کے دوروزہ دورے پر لداخ کے لیہہ علاقے میں پہنچے۔ لیہ ہوائی اڈے پر ان کا ستقبال مقبوضہ کشمیر کے گورنر این این ووہرا اور وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کیا۔وزیراعظم نریندر مودی نے زوجیلا سرنگ کا کام شروع ہونے کے موقع پر ایک تختی کی نقاب کشائی بھی کی۔14 کلو میٹر طویل زوجیلا سرنگ،بھارت کی سب سے طویل سرنگ ہوگی۔ اس موقع پر بھارتی وزیراعظم نے تعمیراتی منصوبوں کے لیے25 ہزار کروڑ کی خصوصی گرانٹ کا بھی اعلان کیا۔ مودی نے لیہہ کو بھارت سے جوڑنے والی آل ویدر روڑ کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔
بھارتی وزیراعظم مودی نے ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹ کا بھی افتتاح کر دیا ہے۔ شمالی ضلع کپواڑہ میں بھارتی فوجی کارروائی میں شہید ہونے والوں کی تعداد 4 ہو گئی ہے۔بھارتی قابض فوج نے کشمیر میں بھارتی حکومت کی جنگ بندی توڑ دی ہے اورشمالی ضلع کپواڑہ کے ویلگام را محال علاقہ کو محاصرے میں لے کر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں3 نوجوان شہید ہو گئے۔ ہفتے کو ایک اور نوجوان شہید ہوگیا۔ سرینگر کے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کیا گیا۔ سری نگر، جموں، لیہہ میں تعمیراتی منصوبوں کا افتتاح کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا مودی کے گمراہ نوجوانوں کی طرف سے پھینکا جانے والا ہر پتھر جموں اور کشمیر میں بدامنی پھیلا رہا ہے۔ غیرملکی طاقتیں ریاست میں رول ادا کر رہی ہیں اور وہ وادی میں ترقی نہیں چاہتیں۔ ہر مسئلہ کا صرف ایک ہی حل ہے اور وہ ڈویلپمنٹ، ڈویلپمنٹ، ڈویلپمنٹ ہے۔


ای پیپر