آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بُلاوا
21 مئی 2018 2018-05-21

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ ایک کی بجائے دو کیوں اور ہر وقت ایسا کیوں ہے کہ دیکھنے والے کی آنکھ کو آپ ایک نظر آتے ہیں مگر ہر وقت سوتے جاگتے، کھاتے پیتے ہر عمل کرتے ہوئے آپ دو ہوتے ہیں۔ ایک اُس وجود میں جو آپ کو عطا ہوا اور ایک وہ جو آپ سے ہر وقت جدا ہے مگر آپ کا ہے۔آپ کہیں بھی کسی کے بھی پاس ہیں مگر آپ کی سوچ خیال، گمان اور دھیان کہیں اور ہے اور یہ ہر وقت ہے، نیند میں خواب کی صورت اپنے بستر کی بجائے کہیں کے کہیں گھو م رہے ہوتے ہیں۔ یہ دوسرا جو آپ کے وجود سے جدا ہے۔ یہ جس کے بغیر آپ کی حقیقی شخصیت مکمل نہیں ہو پاتی۔یہ وجود سے جو جدا ہے یہ کبھی آپ کی خود کلامی ہے ، کبھی آپکا چشمِ تصور ہے ، اور کبھی یہ باطن کہلاتا ہے ، یہ اس قدر اہم ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو پھر آپ فاتر العقل ہیں۔ یہ دوسرا جو وجود میں رہتا بھی ہے اور وجود کا حصہ بھی نہیں ہوتا یہ روح ہے جو آپ سے خود کلامی بھی کرتی ہے چشمِ تصور کی طاقت ہے ، آپ اگر قید بھی ہیں تو آزادی کے مناظر دکھاتی ہے اور اگر آزاد ہیں تو قید کی اطلاع بھی کرتی ہے۔
یہ جو دو ہیں میری ذات ہمیشہ ہمیشہ ان کے درمیان سفر کرتی رہی ہے، جہاں بھی چاہے کہیں دور ، کبھی تنہا ، کبھی کہیں ، کبھی سب سے جُدا پھرتی رہتی ہے ،کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کسی کے پاس بھی ہیں اور اُسی سے اُداس بھی اور کبھی کسی کے پاس ہیں اور اسی سے بیزار بھی۔۔۔
یہ روح و وجود کی جدائی میری ہر لمحہ ہر آن جدا رہی ہے البتہ ابھی تک دو مواقع ایسے آئے ہیں جن میں یہ ایک ہوئی میری روح میرے وجود سے الگ نہ ہوئی وجود میں موجود رہی۔ یہ سرشاری مجھے دو دفعہ عمرہ کی سعادت میں چند لمحات میں نصیب ہوئی اور اگر میں کہوں وہاں بھی ایسا مکمل طور پر نہ ہو سکا تو یہ ہی سچ ہو گا کیونکہ وقت کی قید سے نکل کر یہ وجود مقام سے نکل کر اس ماحول میں داخل ہوگیا جسے بیتے صدیاں گزرگئیں ، کچھ ایسے مقام بھی آتے کہ روح پر دائمی پرواز کا یقین ہونے لگا ہو ۔
میرے والدین نے میرے وجود کی پرورش ہی نہیں میری روح کی پرورش بھی کی ۔ نہیں بتا سکتا کہ میں نے ہوش پہلے سنبھالا تھا یا آقا کریمؐ کی دید کا شوق پہلے پالاتھا۔ نوے کی دہائی کے آخر میں اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ عمرہ کا قصد کیا، اُن کی صحت کی وجہ سے مؤخر ہوا کہ اُن کا اپنے خالق کی طرف وصال ہو گیا پھر مجھے اُن کے خیال سے ہمت نہ ہوئی جیسے میں اپنے خالق سے کہہ رہا ہوں کہ اُن کے ساتھ موقع نہیں دیا،یہ بلاوے کی بات ہے ، جب وقت مقرر ہو، پہلی بار تو ایسا ہوا کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ شہباز احمد سندھو، حاجی شہباز احمد سندھو میرے دوست تھے میرے پاس آئے ساتھ اُن کے چھوٹے سے قد کے مولوی صاحب جن کا نام نیاز قادری تھا۔ آقا کے غلاموں کے جذبات سے کھیلنے پر اُن کو ملکہ حاصل تھا انہوں نے بتایا کہ اُن پر جھوٹا مقدمہ درج ہوا ہے اور ایک بہت با اثر آدمی ہے افضل کاروان والا وہ بھی حج عمرے کروانے کا کاروبار کرتا ہے کیونکہ ہمارے وطن میں سسٹم جاندار نہیں ہے لوگ سفارش سے کام کرواتے ہیں۔ میں نے بات سنی وہ ایس پی میرے بھانجے اور اعظم بھائی کے داماد عمر اکرام کا کلاس فیلو تھا۔ میں اُن کے ساتھ گیا اللہ بہتر جانے کون سچا تھا یا کون جھوٹا ایس پی نے جواں سال عمر اکرام جو اب جنت مکین ہیں کے کہنے پر مقدمہ خارج کر دیا۔ نیاز قادری کہنے لگا کہ میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیں میں نے اُس سے کہا کہ عمرے کے لیے آسانی کر دینا، وہ اگلے دن پاسپورٹ لینے آ گیا اور اس نے مکمل پیکج کے پیسے مجھے بتائے ، جو میں نے اللہ کی رحمت سے اسی وقت ادا کئے۔ گویا یہ سفارش اور داد رسی پتا نہیں حق پر تھی یا نہیں سرکار کی طرف سے بلاوے کا سبب بنی
دوسری بار عمرہ پر جانے کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کرتا ہوں کہ جامعہ اشرفیہ کے مفتی جناب عبدالخالق صاحب سے میں نے ایک دن حضرت مولانا محمد موسیٰ روحانی بازیؒ کے بارے میں پوچھا۔ حضرت صاحب کی جو کرامات مفتی صاحب نے سنائیں میں اُن سے بہت متاثر ہوا اور مفتی صاحب کی ہدایت پر اُن کی قبر پر چلا گیا۔ اور مفتی صاحب کو فون کیا کہ مجھے قبروں پر بات کرنے کا سلیقہ نہیں۔ مفتی صاحب نے کہا کہ آپ نے انہیں سلام کیا ہے آپ ان سے یعنی ان کی روح کو مخاطب کر کے کہئے کہ میرے لیے دعا کریں اور اللہ رب العزت سے ان کی وساطت سے اپنی دعا مانگ سکتے ہیں۔ اس کے بعد میں نے اپنی دو حاجات اللہ سے مانگیں اور منت بھی مانگی کہ میرے رب بہتری کر دے لیکن صاف بات ہے کہ میں اپنے اندر سے یعنی میری روح ترپ گئی کہ کہیں آقا کریم ؐ جن کا صدقہ تم ساری زندگی کھاتے رہے،جن کے پاؤں کی مٹی کا واسطہ دیتے رہے اور اب ان کی ناقہ قصواء کے پاؤں کی مٹی کے صدقے مانگتے پھرتے ہو اگر ایسی بات ہو گئی کہ میرے منگتے آج کیا ضرورت تھی جو ادھر کا رخ کیا۔ میں نے مفتی صاحب سے اپنی روحانی کیفیت کی بات کی تو انہوں نے کہا کہ آپ مولانا محمد موسیٰ روحانی بازیؒ کی مرقد پر عاشق رسول ہونے کے ناتے سے گئے ہیں۔بہرحال جیسے میری روح نے میری راہنمائی کی آقا کریمؐ کی بارگاہ میں اپنی قبولیت کی دعا کی ، ندامت اور اپنی ذات کی ملامت کا اظہار کیا۔ میرے ایک دوست اور محکمہ کے ساتھی جناب قبلہ مقصود بٹ صاحب جو اللہ کے منادی ہیں تبلیغی جماعت سے منسلک ہیں ، میں اپنے مغلپورہ ڈرائی پورٹ والے دفتر 2016ء میں معمول کے مطابق کمپیوٹر پر بیٹھا دفتری کام کر رہا تھا کہ میرے فون پر میسج آیا’’آصف بٹ صاحب آپ کو رسولؐ اللہ بلا رہے ہیں‘‘ میں نے دیکھا میسج تو مقصود بٹ صاحب کی طرف سے ہے۔ میں نے فوراً مقصود بٹ صاحب کو فون کیا کہ یہ آپ نے مسیج مجھے کیا ہے کہنے لگے ہاں یہ آپ کے لیے میسج ہے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کدھر ہیں وہ بولے کہ میں مسجد میں ہوں۔ وہ دراصل 10 گیارہ بجے مسجد میں اپنی عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔ یہ مسجد مجھے بھی بہت عزیز ہے اس مسجد میں روحانیت کے حوالے سے مجھے عطا ہوئی ۔ میں فوراً کمپیوٹر آف کر کے مسجد چلا گیا۔ قبلہ بٹ صاحب آبدیدہ تھے میں نے کہا یہ کیا میسج ہے؟کہنے لگے کہ آقا ؐ نے کہا ہے اس کو میرے پاس بھیجو۔میں نے اپنے سوال کو دُہرایا تو بٹ صاحب نے دو مرتبہ تصدیق کی کہ آپ کے لئے آقا ؐ کا یہی پیغام ہے میں نے کہا کہ قبلہ ابھی گھر کی تکمیل، بیٹی کی شادی وغیرہ کا سلسلہ ہے ، خیر پھر استخارہ سے راہنمائی لی اور وقت مقرر کیا کہ سرکار کی ولادت 9 ربیع الاول کی خوشی کا کیک روضہ رسولؐ پر کاٹوں گا اور Happy Birth Day کہوں گا اور 12 ربیع الاول کو جناب سیدہ فاطمۃ الزہرہ ، حضرت علی، حصرت حسن، حضرت حسین اور اہل بیت سلام اللہ علیہان کے ساتھ اور صحابہ اجمعین رضوان اللہ علیہم کے غم میں شرکت کروں گا۔ یہ نومبر 2017ء میں عمرہ کی سعادت کی بات ہے۔ میں نے زندگی میں جو بھی مانگا ہے ، سرکار کے پاؤں کی مٹی کا صدقہ مانگاہے، اب میں آقا ؐ کی ناقہ قصوأ کے پاؤں کی مٹی کا صدقہ مانگتا ہوں۔


ای پیپر