دشمن نہ کرے دوست نے جو کام کیا ہے
21 مئی 2018 2018-05-21

ہمارے دوست محمد اقبال احمد بہت ذہین اور مدلل گفتگو کرتے ہیں۔ وہ اپنے نکتہ نظر کو واضح کرنے کے لیے اپنی گفتگو میں تماثیل کا استعمال بھی خاصا کرتے ہیں۔ انکی شخصیت میں سٹریٹ وزڈم (Street wisdom ) کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اس لیے ان کی تماثیل بھی روزمرہ زندگی سے ہوتی ہیں۔آج کل میاں نواز شریف کا سرل المیڈا ( Cyral almeida) صحافی ’’ ڈان ‘‘ اخبار کو دیا گیا انٹرویو ہر جگہ زیر بحث رہتا ہے ۔ میاں نواز شریف کے اس انٹرویو سے بالواسطہ طور پر اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ 11 ؍ 26 کو ہندوستان کے شہر ممبئی پر حملہ آور دہشت گردوں کو پاکستانی فوج کی آشیرباد حاصل تھی۔ظاہر ہے یہی دعویٰ ہندوستان کا تھا۔پاکستانیوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ میاں نواز شریف نے اپنے ملک کی فوج کو بلکہ ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے ۔ اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے اقبال نے ایک قریب المرگ عورت کی کہانی سنائی۔ کہنے لگے ایک عورت شدید بیمار ہوگئی۔ خاوند نے اسے ہسپتال داخل کرادیا۔ ڈاکٹرز نے کہا اسے گھر لے جائیں اس کے گردے فیل ہو گئے ہیں، اس کے بچنے کے کوئی چانسز نہیں ہیں۔ ارد گرد اور پورے خاندان میں اس کے لا علاج ہونے کی پریشان کن خبر پھیل گئی ۔ لوگ اس کی بیمار پرسی کے لیے آنا شروع ہوگئے۔لیکن حیران کن بات یہ ہوئی کہ وہ خاتون اپنی بیمارپرسی کے لیے آنے والے لوگوں کو اپنی بیماری ’’ ایڈز ‘‘ بتاتی تھیں۔ خاوند نے حیران ہوکر بیوی سے پوچھا کہ آپ کو کیا ہوگیا ہے ، آپ لوگوں کو گردوں کے فیل ہونے کی بجائے اپنی بیماری ’’ ایڈز ‘‘ بتائے جا رہی ہیں۔
کہنے لگی میں پاگل نہیں ہوں میں یہ سب کچھ سوچ سمجھ کر کر رہی ہوں۔ میں نے تو مر ہی جانا ہے ، لیکن میں آپ کا بندوبست کر رہی ہوں۔ دیکھونگی میرے مرنے کے بعد آپ سے کون شادی کرتی ہے ۔اقبال کہنے لگے کہ میاں نواز شریف اب اس قریب المرگ عورت والا رول ادا کر رہے ہیں۔میاں نواز شریف احتساب عدالت میں اپنی غیرملکی جائیدادوں کو خریدنے کے ذرائع اور منی ٹریل ( money trail) پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوئے ہیں۔ انہیں عدالتوں سے سز ائیں ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ انہیں اپنی سیاسی موت بھی نظر آرہی ہے ۔وہ جاتے جاتے اپنے ملک کی فوج کا جتنا ممکن ہو سکے نقصان کرنا چاہتے ہیں۔اپنے موجودہ انڑویو کے ذریعے انھوں نے اس ملک کی فوج کے image کونا قابل تلافی نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے ۔ آپ کو یا د ہوگا کہ ابھی حال ہی میں انھوں نے احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران دھمکی دی تھی کہ ’’ سدھر جاؤ ‘‘ میرے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہیں اپنے ملک کی فوج پر اتنا غصہ کیوں ہے ۔ اگر آپ میاں صاحب کی تقریباً تین دہائیوں پر مشتمل حکمرانی پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ وہ بنیادی طور پر ایک مطلق العنان قسم کے شہنشاہ ہیں۔جمہوریت کا نام تو وہ دنیا کو دھوکا دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔انھوں نے اپنی حکمرانی کے دور میں اس ملک کے تمام اداروں کو اپنا غلام بنا کر رکھا۔ان کا طریقہ واردات وہی تھا اور ہے جوہر مطلق ا لعنان شہنشاہ کاہوتا ہے ۔ہرملکی ادارے میں انھوں نے اپنے وفادار غلاموں کی ایک کھیپ تیا ر کی ہوئی ہے جن کے پیش نظر اپنے شہنشاہ کی منفعت رہتی ہے ۔ انہیں ملکی مفاد یا عوامی فلاح سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔عوام ایک لاچار وبے بس غلاموں کا ریوڑ بن چکی ہے ۔ ہر طرف مختلف اقسام کے مافیاز نے کنٹرول سنبھال رکھا ہے جن کی خواہش کے برعکس کوئی آدمی سوچ بھی نہیں سکتا۔ آپ اس ملک کی پارلیمنٹ پر نظر ڈال لیں جو کسی جمہوری ملک میں سب سے سپریم ادارہ سمجھا جاتا ہے ۔ پارلیمنٹ میں پارٹی قائدین کی مطلق العنانی قائم ہے ۔ آپ نے ابھی حال ہی میں دیکھا ہوگا کہ ایک پارٹی قائد کی خواہش کے لیے پارلیمنٹ نے ایک ایسے شخص کو پارٹی سربراہ بنانے کے لیے قانون میں ترمیم کر ڈالی جسے اس ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے صادق و امین نہ ہونے کی بنا پر نا اہل قرار دے دیا تھا۔ میاں صاحب بنیادی طور پر ایک کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ کاروباری خاندانوں کی یہ فطرت ثانیہ بن جاتی ہے کہ وہ investment بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں۔ میاں صاحب نے اپنے دور حکمرانی میں سب سے زیادہ investment ان دو اداروں پر کی ہے ۔ ایک فوج اور دوسری عدلیہ۔ اس لیے آج بھی ان دونوں اداروں میں میاں نواز شریف کے آدمیوں کی کافی تعداد موجود ہے ۔ ایک محرم راز دروں خانہ تو ہنس ہنس کر کہہ رہے تھے کہ آج اگر آپ میاں نواز شریف اور محترم ثاقب نثار کے درمیان اعلیٰ عدالتوں کو ایک حلقہ بنا کر الیکشن کرادیں تو میاں صاحب محترم ثاقب نثار کی ضمانت ضبط کرا دیں گے۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں exceptions are always there ،بالکل صحیح ہے ۔ سپریم کورٹ میں وہ لوگ اوپر آ گئے جو صرف اور صرف آئین اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں۔ آپ نے زندگی میں دیکھا ہوگا کہ بعض اوقات سب تدبیریں الٹی پڑ جاتی ہیں ، یہی کچھ میاں نواز شریف کے ساتھ ہونے لگا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میاں صاحب کے خلاف آئے، جس کی انہیں توقع نہیں تھی ۔انہوں نے برملا کہنا شروع کر دیا کہ وہ ان فیصلوں کونہیں مانتے ۔لیکن موجودہ حالات مختلف تھے ۔ اس ملک کی فوج نے واضح کردیا کہ اگر عدالت نے فوج کوئی حکم آئین کے تحت دیا تو فوج اس کی تعمیل کرے گی۔ ظاہر ہے یہ ایک واضح پیغام تھاجو میاں صاحب کو بہت ناگوار گزرا۔
پوری قوم اس حقیقت کو جانتی ہے کہ میاں صاحب کو اس ملک کی فوجی لیڈرشپ نے ہی ملکی سیاست میں پروان چڑھایا تھا۔ اس بات کو بھی چھوڑ دیں، صرف یہ دیکھ لیں کہ اس قوم نے انہیں تین دفعہ اپنا وزیراعظم بنایا۔کیایہی صلہ میاں صاحب نے قوم کو دینا تھاکہ جب ملک اور اس کی فوج چاروں طرف سے دشمنوں میں گھری ہوئی ہے تو میاں صاحب پاکستان کے ازلی دشمن کے الزامات کی گواہی خود دینا شروع کر دیں۔آپ کو یا د ہو گا کہ انھوں نے احتساب عدالت کے سامنے اسٹیبلشمنٹ کو دھمکاتے ہوئے یہ بھی کہا تھاکہ اب میری واپسی کا راستہ یہ خود ہی نکالیں گے، لیکن میاں صاحب کا یہ آخری داؤ بھی ناکام گیا۔ اس ملک کا ہر ذی فہم جانتا ہے کہ پاکستانی قوم دو چیزوں کے متعلق بہت حساس ہے ۔ ایک مذہب اور دوسرا پاکستان کے وجود کے متعلق سازشیں کرتا ہوا پڑوسی ملک ہندوستان۔میاں صاحب نے اس قوم کے ازلی دشمن کے ساتھ کھڑے ہو کر پوری قوم کے دل توڑ دئیے۔میاں صاحب کو اس قوم نے لیڈر بنایا تھا لیکن انھوں نے اپنی شخصیت کا بھانڈہ خود ہی پھوڑ دیا ۔ان کی پارٹی کے لوگ پریشان ہوکر ان کی پارٹی کو چھوڑ چھوڑ کر جا رہے ہیں اور جو کئی مجبوریوں کے باعث پارٹی چھوڑ کر کہیں اور جا نہیں سکتے وہ پریشان
حال ہیں کہ آنے والے الیکشن میں وہ عوام کا سامنا کیسے کریں گے۔کئی لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اپنے خلاف احتساب عدالت کے فیصلوں سے پہلے وہ اسٹیبلشمنٹ کو بر انگیختہ کرکے اپنے خلاف کوئی ایکشن چاہتے ہیں۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ کی موجوودہ لیڈرشپ ان کی اس حکمت عملی کو بخوبی جانتی ہے اور نہایت حوصلے سے ان کو اپنے منطقی انجام کی طرف جانے دے رہی ہے ۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ اس ملک میں افراد طاقتور ہیں اور ادارے کمزور، جس کے نتیجہ میں ملک کمزور ہوتا جا رہا ہے ۔ اس ملک کے اداروں کے لوگ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر افراد کو مضبوط کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں ادارے کمزور ہو جاتے ہیں۔اب کسے نظر نہیں آتا کہ یہ ملک اور اس کی فوج مشکل حالات میں سے گزر رہے ہیں ۔انٹر نیشنل اسٹیبلشمنٹ اور پڑوسی ملک ہندوستان تو اب اس ملک کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی باتیں کرتے ہیں ، لیکن ان مایوسیوں میں امید افزاء یہ بات ہے کہ موجودہ دور میں اہم اداروں کی لیڈر شپ کی ترجیح قوم اور ملک کا مفاد ہے ناں کہ چند شخصیات کا مفاد ۔اسی لیے پوری قوم جناب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور اپنی فوج کے پیچھے کھڑی ہوگئی ہے ۔ اس موقع پرچیئرمین نیب جسٹس (ریٹائرد) جاوید اقبال کی دلیری اور استقامت کی تعریف نہ کرنا بھی اخلاقی بخل کے متراد ف ہوگا۔


ای پیپر