’’الیکٹ ایبلز‘‘ ؛تکلیف کیوں ؟
21 May 2018 2018-05-21

ن لیگ سے مزید بیس سے پچیس ارکان اسمبلی تحریک انصاف میں شامل ہوں گے۔تحریک انصاف میں دیگر جماعتوں سے شامل ہونے والے الیکٹ ایبلز کی تعداد سو ہوچکی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف کو 2018ء کے انتخابات میں نفسیاتی برتری حاصل ہوچکی ہے۔ ابھی میاں نواز شریف کی مبینہ کرپشن کافیصلہ آنا باقی ہے اور اگر فیصلہ نواز شریف کے خلاف ہوا تو دیکھتے ہیں کہ آیا نوا شریف ملک میں رہ کر سزائیں کاٹتے ہیں یا پھر اپنی باقی ماندہ پارٹی اور ووٹرز کو ایک بار پھر صرف ایک عدد دلاسہ دے کر جلاوطنی اختیار کرتے ہیں۔ نواز شریف اور ہمنوا واویلا مچا رہے ہیں کہ عمران خان لوٹے اکٹھے کررہا ہے تو پہلے تو نواز شریف کی سیاست کی ابتدا پر نظر ڈالیں۔ موصوف نے سب سے پہلے جمعیت علما

پاکستان سے ٹکٹ کی درخواست کی مگر مولانا احمد شاہ نورانی صدیقی نے نواز شریف کو ٹکٹ دینے کی مخالفت کی اور ان کی چھٹی کروا دی۔ نواز شریف کی غلام مصطفی کھر کے لیے دیوانگی کچھ ماند پڑ چکی تھی چونکہ وہاں بھی دال نہ گلی تھی تو میاں صاحب نے اصغر خان کی تحریک استقلال میں شمولیت اختیار کی پھر ضیا کا مارشل لاء آیا تو اصغر خان کو چھوڑ کر منظور نظر کیمپ یعنی جونیجو صاحب کی مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی اور پھر روایتی احسان فراموشی اور کمال چاپلوسی سے ضیاء الحق کے دربار سے انکی چھٹی کروا دی۔ اور خود ایک اور مسلم لیگ کی بنیاد ڈالی جس نے نواز شریف اور ان کے بچوں کو سینکڑوں اربوں ڈالر کا مالک بنایا اور ترقی پذیر پاکستان کو ایسی مقروض ریاست جو اپنی غریب عوام کو سر پر چھت تو دور کی بات سستی روٹی کا ایک ٹکڑا نہیں دے سکتی۔ الیکٹ ایبلز پر شور وغل مچاکر سیخ پا ہونے والے نون لیگی رہنماؤں اور کارکنوں سے دست بستہ التماس ہے کہ جناب یہ وہی کامیاب سیاستدان ہیں جنہیں ق لیگ سے بڑے تپاک سے ن لیگ میں لایا گیا تھا جبکہ ان میں سے کچھ تو ایسے بھی ہیں جو نواز شریف کو مشرف دور میں چھوڑ کر ق لیگ میں چلے گئے تھے گویا ہمارے ملک میں سیاست کو بے رحم دغا باز کھیل بنانے والے معماروں میں نواز شریف اور ان کی نون لیگ ہمیشہ سرفہرست رہے ہیں۔ یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ اس سنہری دور میں میاں نواز شریف ملکی اسٹیبلشمنٹ کے دست راست تھے جنرل جیلانی سے لے کر ضیاء الحق تک چھوٹے بڑے تمام دربار ان کے لیے محترم تھے اور یہی وجہ ہے کہ موصوف ایک ڈکٹیٹر کی کینگرو کابینہ کا حصہ بھی رہے اور بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب بھی بنے۔

لگے ہاتھ ذرا بات ہوجائے ان الیکٹ ایبلز کے طرز سیاست کی کہ آخر کیوں تحریک انصاف ان بدنام مگر کامیاب سیاسی مہروں کو بڑے تپاک سے شامل کر رہی ہے ؟؟ وجہ بڑی سادہ اور سیدھی ہے۔ یہ سو ڈیڑھ سو گھر پاکستان پر حکومت کر رہے ہیں اس کی وجہ بے شعور عوام ہوں یا کچھ اور حکومت اسی جماعت کی بنتی ہے جسے ان با اثر گھرانوں کی آشیرباد حاصل ہو۔ مگر ایک انتہائی دلچسپ بات یہ ہے کہ ان الیکٹ ایبلز میں سے اکثرنئی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے سے پہلے ہمیشہ دو باتوں کا خیال کرتے ہیں پہلی یہ کہ جس جماعت میں وہ جارہے ہیں وہ حلقے میں انہیں انتخاب جیتنے میں مددگار ثابت ہوگی؟ بصورت دیگر کیا اگر موجودہ جماعت سے ہاتھ نہ چھڑایا تو علاقے میں قائم ان کے آباو اجداد کے زمانے سے قائم علاقائی سیاسی اثر ورسوخ ختم ہوسکتا ہے ؟۔ اب چونکہ علاقے کے لوگوں کی بحالی کا کام تو زیادہ کیا نہیں ہوتا لہٰذا جس پارٹی کی فضا بنتی نظر آئی اس کے ہو لیے اور پھر جب اس پارٹی پر زوال آنے کے دن آئے تو اپنی دکان بڑھا لی۔ رہی بات عمران خان کے نئے نظام نئے چہرے کے نعرے کی تو اس میں "تبدیلی آگئی ہے"۔ ملک میں تبدیلی لانے کا یہ واحد راستہ ہے کہ بے شعور عوام کو شعور دلانے کے لیے کسی بھی طرح حکومت بنائی جائے تبدیلی اس کے بغیر ناممکن ہے ۔

میاں نواز شریف کرپٹ ہیں اور عمران خان پر کرپشن کا کوئی چارج نہیں ہے۔ اس کا جائزہ لیں۔ نواز شریف پر پانامہ پیپرز میں جو الزام لگے اس حوالے سے وہ ایک واحد ثبوت تک بھی سپریم کورٹ میں پیش نہ کرسکے یہاں تک کہ پارلیمنٹ میں بیان کچھ اور دیا اور سپریم کورٹ میں کچھ اور۔ اس کے بعد سپریم کورٹ سے نااہل ہوئے تو مجھے کیوں نکالا اور میرے اثاثے آمدنی سے زائد ہیں تو تمہیں اس سے کیا جیسے نعرے لگاتے سڑکوں پر آئے تا کہ بھولے عوام کو شک ہو کہ میاں صاحب سے شاید زیادتی ہورہی ہے۔ جب نیب میں جاری ٹرائل کے فیصلے کے دن قریب آئے تو بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی مدد حاصل کرنے کے لیے بمبئی حملوں والا بیان داغ دیا کہ "ایک سو پچاس معصوم بھارتی شہریوں کو مارنے کے لیے ہمیں دہشت گرد بھارت جانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے تھی مجھے جواب دو"۔ بھارتی اور مغربی میڈیا کے ہیرو نواز شریف کے بچے اور جائیدادیں ملک سے باہر ہیں جو کہ آمدن سے زائد ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں اس کا ان الیکٹ ایبلز کے پاس عوام کو دینے کے لیے کوئی جواب نہیں۔اب اس بیان کے بعد ن لیگ کا مشاورتی اجلاس ہوا۔ ن لیگی لیڈر قیادت پر برس پڑے کہ انہیں حلقوں میں جانے میں دشواری ہو رہی ہے جس پر شہباز شریف نے وعدہ کیا کہ نواز شریف کا رویہ نرم پڑ جائے گا اس پر ختم نبوتؐ کے حوالے سے نواز حکومت نے جو پنگا لیا تھا لیگی ممبران نے اسے یاد دلایا جو پہلے ہی ن لیگی رہنماوں کی عوامی رابطہ مہم میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے اس پر سعد رفیق کی چند دیگر اہم شخصیات سے لڑ کر مشاورتی اجلاس چھوڑنا ثابت کر رہا ہے کہ ن لیگ پر نفسیاتی دباؤ بدرجہا بڑھ چکا ہے اور ہارے ہوئے لشکر کے ساتھیوں کی طرح اب نواز شریف کا گریبان جماعت کے اندر سے پکڑا جا رہا ہے

غلام بھاگتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر

محل پے ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے

دوسری طرف عمران خان پر کرپشن کا کوئی چارج نہیں بلکہ کچھ مقدمات کو نپٹاتے ہوئے سپریم کورٹ انہیں صادق اور امین قرار دے چکی ہے۔ پھر سپریم کورٹ پر نواز شریف جس قدر انگلیاں اٹھائیں دشنام طرازی کریں اور سزا سے بچنے کی جو بھی تدبیریں کر لیں کم از کم یہ الیکٹ ایبلز تو واپس آنے سے رہے اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ بلوچستان کی نئی نویلی پارٹی چیئرمین سینیٹ جس کا حصہ ہیں وہ بھی تحریک انصاف میں ضم ہونے کے قریب ہے گویا وزیر اعظم تو بہت چھوٹی چیز ہے عمران خان ملکی سیاست میں سب سے کامیاب ترین لیڈر بن کر ابھر رہے ہیں جن کی ہر ضرب مخالفین پر کاری اور ایک ایک پر بھاری پڑ رہی ہے۔ اگر تحریک انصاف جیتی جس کے قوی امکانات ہیں تو حکومت بنانے کے بعد عمران خان کیا کرپاتے ہیں پہلے سو دن کے چھ نکات اور باقی گیارہ نکات کا کیابنتا ہے اس سب پر رائے زنی ہوگی اور خوب ہوگی مگر اس وقت کی حقیقت یہ ہے کہ شہباز شریف کی محنت نواز شریف کی کرپشن بچاؤ مہم کھا گئی اور تحریک انصاف الیکٹ ایبلز میں چھا گئی ہے۔


ای پیپر