تعصب ،علاقائیت اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر
21 مئی 2018 2018-05-21

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جڑوں کو جہاں فرقہ واریت ،دہشت گردی ،بدامنی ،کرپشن ،ڈکٹیٹر شپ نے تباہ کیا وہاں کلمہ کے نام پر وجود میں آنے والے اس ملک کو لسانیت ،علاقائیت اور تعصب نے ہلا کر رکھ دیا ہے ۔سب سے پہلے کراچی میں مہاجرقومی موومنٹ ،بعدازاں پنجابی ،پختون اتحاد ،سرحد میں پختون عوامی پارٹی وجود میں آئی۔ اب آپ کو شہروں میں قومیت اور علاقائیت کے نام پر سیاسی اور طلباء تنظیمیں نظر آئیں گی ۔بلوچ اتحاد ،خٹک ویلفیئر ایسوسی ایشن ،راجپوت ،محسود ،وزیر ،سدوزئی ،گنڈہ پور ،سرائیکی،بلوچی ،مروت،اعوان غرض قوم اور زبانوں کے نام پر ہم نے اپنی الگ پہچان بنانی شروع کردی ہے ۔ہم نے آج لسانیت اور قومیت کی بنیاد پر حق دار کا حق مار کر اپنوں کو نوازنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے ۔حالانکہ ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اگر کسی نے لسانیت کی بنیاد پر ناجائز طور پر کسی کی طرفداری یا حمایت کی تو ایسا شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جبکہ ہمارے پیارے نبی ؐ نے اپنے آخری خطبہ میں فرمایا کہ ’’کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر ،عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں‘‘
لیکن آج مذہبی جماعتوں کے سربراہان بھی لسانیت اور علاقائیت کے زہر میں رچے بسے ہوئے ہیں ۔ان کا دامن بھی اس گناہ عظیم سے پاک نہیں ۔جب سے ایم کیو ایم کے نام سے تنظیم بنی کراچی میں جتنا قتل عام ہوا وہ اس مکروہ فعل کی واضح مثال ہے ۔پختونوں کے نام پر سیاست کرنے والی جماعت اے این پی سخت تعصب اور قومیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صوبہ میں موجود نان پشتوبولنے والے علاقوں جن میں ہزارہ اور ڈیرہ اسماعیل خان قابل ذکر ہیں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کررہی ہے ۔پی پی پی والے ہروقت سندھ کارڈ اور مسلم لیگ والے پنجاب کارڈ کو استعمال کرنے کے درپے ہوتے ہیں ۔خیبر پختون خوا میں پشتو بولنے والے صاحبان تمام نان پشتوبولنے والوں کو ’’داپنجابیان دا‘‘کہہ کر پکارتے ہیں ۔اسی طرح تقسیم پاکستان کے بعد آنے والے مسلمانون کو جو ہندوستان سے اپنا گھر بار ،املاک چھوڑ کر آئے تاحال مہاجر کہہ کر پکارا جاتا ہے ۔ان کی اولاد جن کی پیدائش یہاں پر ہوئی انہیں بھی مہاجرکہہ کر پکارا جاتا ہے ۔اگر ہم زبان ،رنگ ونسل اور علاقائیت کی بنیاد پر وجود میں آنے والی سیاسی جماعتوں کی کارکردگی دیکھیں تو انہوں نے عوام کو قتل وغارت ،ڈرون حملوں ،بدامنی ،بھتہ خوری ،کرپشن ،دہشت گردی اور بے روزگاری کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ایک موقع پر حضورؐ کے زمانے میں انصار اور مہاجر اکٹھے تھے دونوں میں بحث ہورہی تھی انصار کہہ رہے تھے کہ کہاں ہیں میرے انصار بھائی ۔اسی طرح مہاجرین کہنے لگے کہ کہاں ہیں ہمارے مہاجرین بھائی ۔قریب تھا کہ دونوں میں جھگڑا شروع ہوجاتا ،بات حضور اکرم ؐ تک پہنچی ۔آپ ؐ نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہ تمہارے اندرابھی تک زمانہ جاہلیت کی باتیں کلمہ طیبہ پڑھنے کے بعد بھی موجود ہیں ۔ہمارا حال بھی تقریباًیکساں ہے۔ ہم نے کلمہ کی بنیاد پر یہ ملک حاصل کیا لیکن اللہ تعالی کی حاکمیت اور حضور ؐکی زندگی پر عمل کرنے کی بجائے ہم قوموں ،نسلوں اور زبانوں کی بنیاد پر تقسیم ہوگئے۔
آج مملکت پاکستان کو جتنی ہم آہنگی ،مذہبی رواداری ،اتحاد ،یگانگت ،بھائی چارہ اور اخوت کی ضرورت ہے اتنی شاید کبھی نہ ہو ۔آج ہمارے دشمن ہمارے ہمدردوں کے بھیس میں ملک میں دندناتے پھررہے ہیں۔ ان کے میزبان ہمارے ہی حکمران ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف مال بناؤ مہم ہے۔آخر ہم نے ہی تو انہیں اپنا حکمران بنایا ،جیسی روح ویسے فرشتے ۔بدقسمتی سے ہمارے ملک کو آج لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازش میں ہمارے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ غیر بھی برابر کے شریک ہیں ۔وہ Dived&Rule کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہمارا نام ونشان مٹانے پر تلے ہوئے ہیں لیکن ہمیں کب عقل آئے گی؟ آخر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لسانیت ،قومیت ،علاقائیت سے بچنے کا طریقہ کیا ہے۔ اس کا واحد حل اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرنے اور پیارے نبی ؐ کے اسوۃ حسنہ پر عمل پیرا ہونے میں ہے ۔ہمارے نبی ؐنے ہمیں مساوات ،صلہ رحمی ،عفو ودرگزر،اخلاقیات ،بھائی چارہ ،اخوت ،محبت اور امن کا درس دیا ہے ۔آپ ؐنے جب انصاف کی بات آئی تو کافر اور مسلمان کی تمیز نہ کی ۔جبکہ صلح رحمی کے وقت تو بڑے بڑے دشمن کو بھی معاف کیا ۔قیامت تک آنے والی انسانیت کو امن کا درس دیا ۔وہ یہودی کا جنازہ دیکھ کر افسردہ ہوجاتے تھے کہ کاش اگر یہ کلمہ پڑھ لیتا اور ایمان لے آتا تو جہنم کی آگ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بچ جاتا ۔آج ہمارے پچانوے فیصد لوگ نمازی ہیں لیکن سودی کاروبار کررہے ہیں۔ اپنی خواتین کو جائیداد میں سے حصہ نہیں دیتے ۔دوسرے مال مارنے کے درپے رہتے ہیں ۔زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ،حج فرض ہے وہ ادا نہیں کرتے ۔شرک وبدعت جیسے ناقابل معافی گناہوں میں مصروف ہیں لیکن ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں ہے ۔جب تک مسلمان
کلمہ کی دعوت کو لے کر دنیا بھر میں اجتماعی طور پر پھرتے رہے وہ لسانیت ،قومیت اور مذکورہ گناہوں سے بچے رہے۔ ان کا دین بھی پھیلتا رہا لیکن جب سے ہم نے اجتماعی طور پر امر بالمعروف ونہی عن المنکر جیسے اہم فریضہ کو نہ صرف چھوڑا بلکہ ہم اس کو کوئی کام ہی نہیں سمجھتے ۔ہم دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ا گر ہم نے لسانیت اور قومیت کے ناسورسے نکلنا ہے تو اس کا واحد عمل امر بالمعروف ونہی عن المنکر ہے ۔امام شافعی نے کیا خوب کہا ہے کہ سورۃ العصر ہی اگر صرف نازل ہوتی توہ بھی قرآن پاک کے مکمل مفہوم کو بتانے کے لئے کافی تھی جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ زمانہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تمام لوگ خسارہ میں ہیں مگر وہ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور لوگوں کو نیکیوں کی تلقین کرتے رہے صبر کے ساتھ ۔آج کیونکہ ہمارے اندر سے یہ کام نکلا توہما ایمان کمزور ہوا ،ہم خسارے میں پڑ گئے بعدازاں ہم لسانیت اور قومیت جیسے مکروہ فعل میں پڑ کر دنیا وآخرت سے نہ صرف غافل ہوئے بلکہ ہم نے اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے اس ملک کی جڑوں کو بھی کھوکھلا کردیا ۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نوری ہے نہ ناری


ای پیپر