روزے کے اہم مسائل ۔۔۔
21 May 2018 (22:53) 2018-05-21

حافظ محمد زاہد:توحیدورسالت کی شہادت کے بعد نماز، روزہ، زکوٰة اور حج اسلام کے عناصر ِاربعہ ہیں اور پھر ان چار چیزوں میں سے بھی نماز اور روزہ کی زیادہ اہمیت ہے، اس لیے کہ یہ ہر مسلمان پر فرض ہیں، جب کہ زکوٰة صاحب ِنصاب پر اور حج صاحب ِاستطاعت پرفرض ہے۔ جملہ عبادات میں سے روزہ وہ واحد عبادت ہے جس کے بارے میں احادیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: ترجمہ ” روزہ میرے لیے ہے اورمیں ہی اس کا بدلہ دوں گا“۔ اس کے علاوہ روزہ داروں کے لیے جنت کا ایک دروازہ ”ریان“ مخصوص ہے، جس میں سے صرف روزہ دار ہی داخل ہو ں گے، اُن کے علاوہ کوئی اور اس دروازہ سے داخل نہیں ہوگا، ان کے علاوہ روزے کے فضائل سے کتبِ احادیث بھری پڑی ہیں، لیکن ا ن کو طوالت کی وجہ سے بیان نہیں کیا جارہا۔

ذیل میں روزے سے متعلق مسائل کو بیان کیا جارہا ہے، تاکہ اتنی فضائل والی عبادت کو مکمل آداب اور مسائل کی رعایت رکھتے ہوئے ادا کیا جائے اور اس کے جملہ فضائل کا حق دار بنا جائے …اس خطہ میں چوں کہ دو مکتبہ فکر، احناف اور اہل حدیث نمایاں ہیں، اس لیے ان مسائل میں ان دونوں کی آراءکو ملحوظ ِخاطر رکھا گیا ہے اور اختلافی مسائل میں اولاًاحناف اور ثانیاً(بالفاظ: ”بعض کے نزدیک“)اہلِ حدیث مکتبہ فکرکا نقطہ نظر بیان کیا گیا ہے، یہاں یہ بھی ملحوظ رہے کہ ان 100مسائل میں سے 90 مسائل متفق علیہ ہیں۔

روزہ کی نیت سے متعلق مسائل

٭ رمضان المبارک کے روزے کی نیت صبح صادق طلوع ہونے سے پہلے کرلینا بہتر ہے۔

٭ اگر صبح صادق طلوع ہونے کے بعد روزہ رکھنے کا ارادہ کیا، اس حال میں کہ صبح صادق سے کچھ کھایا پیا نہیں تھا تو روزہ کی نیت صحیح ہے۔

٭کچھ نہ کھانے کی صو رت میں بھی ”نصف النہار شرعی“تک نیت کی جاسکتی ہے، اس کے بعد نہیں، نصف النہار شرعی کا مطلب ہے:صبح صادق سے غروب ِآفتاب تک پورا دن ہے اور اس کا نصف ”نصف النہار شرعی“ ہے، اس وقت تک انسان روزہ کی نیت کرسکتا ہے۔

٭ نیت زبان سے ادا کرنا ضروری نہیں ہے، بس دل میں ارادہ کرلینا ہی کافی ہے۔

٭ نفلی روزے کی نیت رمضان کے روزے کی طرح نصف النہار شرعی تک کی جاسکتی ہے۔

٭ رمضان کے قضا روزوں کی نیت صبح صادق سے پہلے پہلے ہی ہو سکتی ہے،ا س کے بعد رمضان کے قضا روزے کی نیت کرنا درست نہیں ہے۔

٭ اگر کسی نے رات کو سوتے وقت روزہ (رمضان کا ہو یا نفل یا قضا کا)کی نیت کی تو صبح صادق تک اُسے اس نیت کو بدلنے کا اختیار ہے کہ وہ روزہ نہ رکھنے کی نیت کرلے، لیکن اگر صبح صادق طلوع ہوگئی تو اب اس کا روزہ شروع ہوگیا، اب اگر وہ کچھ کھاتا ہے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا اور رمضان کے روزہ کی صورت میں اس پرکفارہ اورقضا، جب کہ نفل روزہ کی صورت میں صرف قضا لازم ہوگی۔

٭ سحری کھائے بغیر بھی روزہ کی نیت کی جاسکتی ہے، البتہ سحری کھانا مستحب اور برکت کا باعث ہے۔

سحری سے متعلق مسائل

٭ سحری کھانا مستحب ہے اور احادیث میں اس کی بہت فضیلت وارد ہوئی ہے،حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم نے فرمایا:”سحری کھایاکرو، کیوں کہ سحری کھانے میں برکت ہے۔“(متفق علیہ)

٭ سحری کھانے کا وقت صبح صادق طلوع ہونے تک ہے۔صبح صادق طلوع ہوتے ہی سحری کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔

٭ بعض لوگ رات کو ہی سحری کھا کر سو جاتے ہیں ،ایسا کرنا پسندیدہ نہیں ہے، اس لیے کہ نبی اکرم نے سحری دیر سے کھانے کو خیرکا باعث قراردیا ہے۔

٭ آج کل اخبارات اورمساجد میں صبح صادق طلوع ہونے کا ٹائم ٹیبل موجود ہوتا ہے، اُس کے حساب سے سحری کھانا بندکردینا چاہیے۔

٭ اذان اور سائرن بجنے کے شروع ہونے تک کھاتے پیتے رہنا آج کل کے جدید دور میں مناسب بھی نہیں ہے، اس لیے کہ ہرگھر میں گھڑی موجود ہے اورصبح صادق کے طلوع ہونے کا علم بھی ہے۔

٭ بعض لوگ تواذان ختم ہونے تک کھاتے رہتے ہیں، جو سراسرغلط ہے، اس لیے کہ اذان کی ابتدا صبح صادق کے طلوع ہونے پر ہوتی ہے، جب کہ سحری کا وقت صبح صادق کے طلوع ہوتے ہی ختم ہوجاتا ہے۔

٭ حالت ِجنابت میں سحری کھا لینا اور روزہ رکھ لینا جائز ہے، لیکن جتنی جلدی ممکن ہو انسان کو پاکی حاصل کرلینی چاہیے، اس لیے کہ زیادہ دیرناپاک رہنا بھی گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔

افطار سے متعلق مسائل

٭نبی اکرم کے فرمان کے مطابق سورج غروب ہوتے ہی روزہ افطارکرلینا چاہیے، افطار میں تاخیرکرنے کو نبی اکرم نے خیرکے منافی اوردین کے غلبے کے خلاف قراردیا ہے۔

٭ روزہ افطارکرنے کی مسنون دعا یہ ہے:ترجمہ” اے اللہ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے دیے ہوئے رزق پرافطار کیا۔“(ابوداو¿د)

٭ تازہ کھجور سے روزہ افطارکرنا مستحب ومسنون ہے، اگرکھجور میسر نہ ہو تو پانی سے روزہ افطارکرنا چاہیے، اس لیے کہ نبی اکرم کا بھی یہی معمول تھا۔

٭افطارکا وقت دُعاکی قبولیت کا وقت ہوتا ہے، اس لیے افطار سے چند منٹ پہلے سے ہی خشوع وخضوع کے ساتھ دُعاکا اہتمام کرنا چاہیے۔

٭ اگرکسی نے سورج غروب ہونے کی غلط فہمی پر روزہ افطارکر لیا تو اس کا روزہ نہیں ہوا اوراس پر اس روزہ کی قضا لازم ہے، البتہ اس پر روزہ توڑنے کا کفارہ لازم نہیں آئے گا، بعض کے نزدیک روزہ نہیں ٹوٹے گا، اس لیے کہ ایسا غلط فہمی کی بنا پر ہوا ہے۔

٭ سحری اورافطار میں اس جگہ کا اعتبار ہوگا جہاں انسان اُس وقت موجود ہے، مثلاً : اگر کوئی سعودی عرب سے روزہ رکھ کرلاہور آتا ہے تو وہ افطاری لاہورکے وقت کے مطابق کرے گا۔

٭ ہوائی جہاز میں سفرکرتے ہوئے افطارکا وقت تب ہوگا جب وہاں موجود لوگوں کو سورج غروب ہوتا نظر آئے۔ زمین والے وقت کے مطابق وہ افطار نہیں کر سکتے، اس لیے کہ اتنی بلندی پر ہونے کے باعث سورج اُن کے سامنے طلوع نظرآرہا ہوتا ہے۔

٭ جان بوجھ کرکھا پی لینے سے روزہ ٹوٹ جائے گا،اس صورت میں کفارہ اور قضا دونوں لازم ہیں۔

٭ دانتوں میں گوشت یاکھانے کا کوئی حصہ رہ گیا اور روزہ کی حالت میں انسان نے نگل لیا تو اگر وہ چنے کے دانے کے برابر ہے تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا لازم ہوگی اور اگر چنے کے دانے سے کم ہے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

٭ وضوکرتے وقت یانہاتے وقت اگر غلطی سے پانی حلق میں چلا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا، اس صورت میں صرف قضا لازم ہے،اسی بنا پر انسان کو چاہیے کہ روزہ کی حالت میں فرض غسل کرتے وقت بھی نہ تو غرارہ کرے اور نہ بہت زیادہ ناک میں پانی ڈالے، کیوں کہ اس سے روزہ ٹوٹ جانے کا قوی اندیشہ ہوتاہے۔

٭ روزے کی حالت میں اگر بارش کے پانی کا قطرہ حلق سے نیچے چلا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا، اگر یہ فعل جان بوجھ کرکیا تو کفارہ اور قضا دونوں لازم ہوں گے اور اگرغلطی سے ایسا ہوا تو صرف قضا ہوگی۔

٭ اگرکسی نے زبردستی کچھ کھلا دیا تو روزہ ٹوٹ جائے گااور صرف قضا لازم ہوگی کفارہ نہیں،البتہ کھلانے والا گنہگار ہوگا۔

٭ دانتوں یا مسوڑوں سے خون نکل کر حلق میں چلاجائے تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا لازم ہوگی۔

٭ روزہ کی حالت میں بیوی سے ہم بستری کرنے سے بھی روزہ ٹوٹ جائے گا اوراس صورت میں کفارہ اور قضا دونوں لازم ہوں گے۔

٭ اگر ہم بستری نہیں کی صرف بوسہ لیااور اِنزال ہوگیا تو اس صورت میں روزہ فاسد ہوجائے گا اور قضا لازم ہوگی۔

٭ اگرکسی مرد نے ہاتھوں سے انزال کرلیا تو اس صورت میں صرف قضا لازم ہوگی، بعض کے نزدیک چوں کہ ایسا جان بوجھ کرکیاگیا ہے اس لیے کفارہ بھی لازم ہوگا۔

٭ اسی طرح اگرکسی شخص نے عورت کو شہوت سے دیکھا یا چھوا اور انزال ہوگیا تو اس صورت میں بھی صرف قضا لازم ہوگی۔

٭ اگر کسی نے قصداً منہ بھر کر قے(اُلٹی)کی تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا، یا پھر اگر خودبخود قے آئی اور پھر اُس نے جان بوجھ کر اندر نگل لی تو اس سے بھی روزہ ٹوٹ جائے گا۔

٭ روزہ کی حالت میں سگریٹ یا حقہ پینے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اگر یہ کام جان بوجھ کرکیا ہے تو قضا اورکفارہ دونوں لازم ہوں گے، ورنہ صرف قضا لازم ہوگی۔

٭ اگرکوئی شخص سحری کے وقت پان یا چھالیہ منہ میں ڈال کر سوگیا اورسحری کا وقت ختم ہونے کے بعد اس کی آنکھ کھلی تو اس کا روزہ نہیں ہوا، اس پر قضا لازم ہے۔

٭ اگرکسی کی نکسیر پھوٹ گئی اور خون حلق میں چلا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور اگرخون حلق میں نہیں گیا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

٭ روزہ کی حالت میں سانس کی بیماری کی وجہ سے inhaler استعمال کرنے سے روزہ ٹوٹ جائے گاا ور صرف قضا لازم ہوگی۔

جن چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا

٭اگرکسی نے روزہ کی حالت میں بھول کرکھا پی لیا تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا،البتہ اگر کھاتے کھاتے یاد آجائے تو فوراً کھانا پینا چھوڑ دے اور اگر چیز منہ میں ہو تو اُسے بھی تھوک دے۔

٭ اگر کسی نے روزہ کے دوران کوئی چیزچکھ کر تھوک دی تو اس سے روزہ پرکوئی فرق نہیں پڑتا، البتہ بلاعذر ایسا کرنا مکروہ ہے۔

٭ روزہ کی حالت میں تھوک نگلنے سے بھی روزہ پر فرق نہیں پڑتا، البتہ جان بوجھ کرتھوک کوجمع کرکے نگلنا مکروہ ہے۔

٭ روزہ کی حالت میں گرد وغباریا دھواں حلق میں چلاجائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ البتہ اگر ان چیزوں کو جان بوجھ کر حلق سے نیچے اُتاراگیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔

٭ روزہ کی حالت میں مسواک (چاہے خشک ہویاتر)کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

٭ روزہ کی حالت میں اگر غسل کرتے ہوئے کان میں خود بخود پانی چلا گیا تو روزہ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، اس لیے کہ یہ اختیار سے باہر ہے۔

٭ روزے کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ اور ٹوتھ پاو¿ڈرکا استعمال مکروہ ہے،البتہ کسی عذر کی بناپر ہو تو اس کی گنجائش ہے، وہ بھی اس صورت میں جب کہ اس کا ذائقہ حلق میں محسوس نہ ہو۔

٭ روزہ کی حالت میں خود سے قے(اُلٹی)آجانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

٭ روزہ کی حالت میں دانتوں سے خون نکلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، بشرطیکہ خون حلق میں نہ جائے، اگر خون حلق میں چلاگیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔

٭ روزہ کی حالت میںآ نکھ میں سرمہ یا کاجل لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

٭ روزہ کی حالت میں سر یا پورے جسم پر تیل لگانے اور مالش کرنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔

٭ روزہ کی حالت میں بیوی سے معانقہ کرنے یا بوسہ لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، بشرطیکہ انسان کو اپنے نفس پرکنٹرول ہو۔

٭ روزہ کی حالت میں اگر احتلام ہوجا ئے تو اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔

٭ انجکشن لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا،چاہے انجکشن گوشت میں لگایا جائے یا رگ میں، البتہ بغیرکسی مجبوری کے روزہ کی حالت میں طاقت کا انجکشن لگانا مکروہ ہے۔

٭گلوکوزکی بوتل (drip)لگانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا، البتہ بغیرکسی مجبوری کے ایساکرنا مکروہ ہے۔

٭ روزہ کی حالت میں جسم کے کسی حصے سے،کسی بھی مقدار میں خون نکلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

٭ روزہ کی حالت میں کسی کو خون دینے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔

٭ روزہ کی حالت میں دانت نکلوانے سے روزہ پرکوئی فرق نہیں پڑتا، بشرطیکہ خون حلق میں نہ جائے۔

٭ روزہ کی حالت میں مرگی کا دورہ پڑنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔

٭ روزہ کی حالت میں آنکھ میں دوائی ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، لیکن جدید میڈیکل سائنس کی تحقیق کے مطابق آنکھ میں ڈالی گئی سیال دوائی کا ذائقہ چوں کہ حلق میں محسوس ہوتا ہے، اس لیے احتیاط کے پیش نظر روزے کی حالت میں (بغیرکسی مجبوری کے)آنکھ میں دوائی ڈالنے سے پرہیزکرنا چاہیے۔

٭ روزہ کی حالت میں کان یا ناک میں دوائی یا تیل ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔

٭ روزہ کی حالت میں منہ میں بلا عذردوائی لگانا مکروہ ہے اور اگرکسی نے منہ میں دوائی لگائی اور وہ حلق میں چلی گئی تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا، بعض کے نزدیک روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

عورتوں کے مخصوص مسائل

٭ حیض ونفاس کے دنوں میں عورت کے لیے روزہ رکھنا جائزنہیں ہے، البتہ ان روزوں کی قضا فرض ہے۔

٭ اگر کسی عورت کو روزہ کے دوران حیض شروع ہوجائے تو اس کا روزہ ختم ہوجاتا ہے اور اس کی قضا اس پر لازم ہے۔

٭ حاملہ عورت کو روزہ رکھنے کی وجہ سے اپنی یا اپنے بچے کی جان کا خطرہ ہو تو وہ روزہ چھوڑ سکتی ہے، لیکن بعد میں ان روزوں کی قضالازم ہے۔

٭ اسی طرح اگردودھ پلانے والی عورت کا روزہ رکھنے کی وجہ سے دودھ کم ہوجاتا ہے اور بچے کا پیٹ نہیں بھرتا تو وہ روزہ چھوڑ سکتی ہے، لیکن بعد میں قضا لازم ہے۔

٭ اگر عورت مندرجہ بالاکسی عذرکی بنا پرروزہ نہیں رکھتی تب بھی اُس کے لیے مستحب ہے کہ وہ روزہ دارکی طرح رہے اورکسی کے سامنے کھانے پینے سے پرہیزکرے۔

٭ اگر عورت کو سالن چکھنے کی ضرورت پیش آئے تو وہ ایسا کرسکتی ہے، لیکن ایسا کرنا کسی مجبوری کی بنا پرجائز ہے اور بغیرکسی مجبوری کے ایساکرنا مکروہ ہے، نیز صرف سالن چکھ سکتی ہے اگر سالن یا اس کا ذائقہ حلق میں چلاگیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔

٭ اسی طرح مجبوری میں عورت اپنے بچے کوکھانے کی کوئی چیزچباکر دے سکتی ہے، لیکن اگر اس نے اتنا چبایا کہ اس چیزکا ذائقہ حلق میں محسوس ہوا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔

٭ عورت اگر نفل روزہ رکھنا چاہتی ہے تو وہ اپنے خاوند سے اجازت لے اور اگر وہ بغیر اجازت کے نفل روزہ رکھتی ہے اور اس کا خاوند اعتراض کرتا ہے تواس کو چاہیے کہ اس نفلی روزہ کو توڑ دے اور بعد میں اس کی اجازت سے قضا کرے، رمضان کے روزے چوں کہ فرض ہیں، اس لیے ان میں اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔

شیخ فانی سے متعلق مسائل

٭… شیخ فانی ایک فقہی اصطلاح ہے، جو ایسے بوڑھے مرد یا بوڑھی عورت کے لیے استعمال ہوتی ہے جو عمرکے ایسے حصے میں پہنچ گئے ہوں کہ روز بروزان کی کمزوری میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہو، ایسا شخص جب روزہ رکھنے سے عاجز ہو، یعنی نہ اب رکھ سکتا ہے، نہ آئندہ اس میں اتنی طاقت آنے کی امید ہے کہ وہ روزہ رکھ سکے، تواسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اور ہر روزے کے بدلے فدیہ دینے کا حکم ہے۔

٭ اگرکوئی شیخ فانی گرمیوں میں گرمی کی شدت کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا ، مگر سردیوں میں روزہ رکھنے کی قدرت رکھتا ہے تو وہ ماہِ رمضان کے روزے افطارکرے اور ان روزوں کی سردیوں میں قضاکرے، اس صورت میں ر وزوں کا فدیہ قابلِ قبول نہیں ہوگا۔

٭ اگرکوئی شیخ فانی روزے کی طاقت نہیں رکھتا تھا اور اس نے اپنے روزوں کا فدیہ ادا کر دیا،کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس کی طاقت بحال ہوگئی تو اب اس کا فدیہ صدقہ شمار ہوگا اور وہ اپنے قضا شدہ روزوں کی قضا کرے گا۔

٭ شیخ فانی کسی غریب مسکین کو رقم دے کر اس سے اپنے روزے نہیں رکھوا سکتا ، اس لیے کہ روزہ، نمازکی طرح ایک بدنی عبادت ہے اور بدنی عبادت میں کوئی کسی کی نیابت نہیں کر سکتا۔

مریض سے متعلق مسائل

٭اگرمریض کو روزہ رکھنے کی وجہ سے موت یا عضوکے ضائع ہونے کا خدشہ ہو تو وہ روزہ چھوڑ سکتا ہے اور صحت حاصل ہو جانے کے بعد ان روزوں کی قضاکرے گا۔

٭ اگر اُسے یقین ہوجائے کہ اب وہ اس بیماری سے صحت یاب نہیں ہوسکتا تو وہ اپنے قضا شدہ روزوں کا فدیہ ادا کرے گا۔

٭ فدیہ ادا کرنے کے بعد اگر وہ صحت یاب ہو جاتا ہے تو اس کا فدیہ صدقہ شمار ہوگا اور اسے ان روزوں کی قضاکرنا ہوگی۔

٭ اگر وہ صحت یاب ہونے کی اُمید پر فدیہ ادا نہیں کرتا اور وفات پاجاتا ہے تواس کے ورثا کو چاہیے کہ اس کے مال میں سے فدیہ ادا کریں۔

مسافر سے متعلق مسائل

٭ مسافرکے لیے روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے،علمائے کرام کے مطابق سفر میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت مشقت پر محمول ہے،اس لیے کہ احادیث میں مذکور ہے کہ نبی اکرم کبھی سفر میں روزہ رکھتے تھے اورکبھی چھوڑدیتے تھے۔

٭ وجودہ زمانے میں جب بے شمار سفری سہولتیں میسر ہیں اور سفر میں کوئی مشقت پیش نہیں آتی تو بلاوجہ سفرکو عذر بنا کر روزہ چھوڑ دینا مناسب نہیں ہے۔

٭ اگر سفرکی وجہ سے کوئی روزہ چھوٹ گیا تو اس کی قضا لازم ہے۔

روزے کا فدیہ

٭ ایک روزے کا فدیہ صدقہ فطرکے برابر ہے، یعنی پونے دوکلوگندم یا اُس کی قیمت کسی غریب کو دے دے یا کسی مسکین کو دو وقت کاکھانا کھلا دے۔

٭ فدیہ صرف اُس صورت میں دیا جا سکتا ہے جب یہ یقین ہوجائے کہ روزہ رکھنے کی نہ اب طاقت ہے اور نہ آئندہ طاقت بحال ہونے کی کوئی اُمید ہے۔

٭ انسان کے ذمے اگر قضا روزے ہوں تو اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے ورثا کو اُن روزں کا فدیہ اداکرنے کی وصیت کرے۔

٭ گرانسان وصیت نہیں کرتا تواس کے روزوں کا فدیہ اس کے ورثا خود سے بھی اداکر سکتے ہیں اورمیت کی طرف سے روزوں کا فدیہ اداکرنا میت کے حقوق میں سے ایک حق بھی ہے۔

روزے کا کفارہ

٭کفارہ صرف رمضان کا روزہ توڑنے پرلازم آتا ہے، نفل یا قضا روزہ توڑنے کاکوئی کفارہ نہیں ہوتا، البتہ قضا لازم ہوتی ہے۔

٭ روزے کاکفارہ یہ ہے کہ دوماہ کے لگاتار روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائے یا ہرمسکین کو صدقہ فطرکے مقدارغلہ یا اس کی قیمت دے۔

٭ اگر میاں بیوی نے روزہ کی حالت میں صحبت کی تو دونوں پرالگ الگ کفارہ لازم ہوگا۔

٭ ایک رمضان کے اگرکئی روزے توڑنے کا کفارہ لازم ہوا تو ایک کفارہ ادا کرنے (یعنی دوماہ کے روزے رکھنے یا ساٹھ مسکینوں کو صدقہ فطرکی مقدار غلہ دینے)سے اُن سب روزوں کی طرف سے کفارہ ادا ہو جائے گا۔

٭ اگر دورمضان کے روزوں کا کفارہ لازم ہوا ہے تو وہ الگ الگ دینے سے ہی ادا ہوگا۔

روزہ کے متفرق مسائل

٭اگرکوئی شخص رمضان کے شروع میں کسی عرب ملک میں تھا جہاں پاکستان سے ایک دن پہلے روزہ شروع ہوا اور پھر وہ پاکستان آگیا تو اب مذکورہ شخص پاکستان کے حساب سے عید کرے گا، چاہے اس کے 31 روزے ہو جائیں، زائد روزے نفلی شمار ہوں گے۔

٭ سال بھر میں پانچ دن روزہ رکھنا ممنوع ہے: عید الفطر، عیدالاضحی اورایام تشریق ( یعنی 11‘ 12اور13 ذوالحجہ )۔

٭ ماہِ شعبان کے آخری دن (29یا30)یعنی ماہِ رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت احادیث میں آئی ہے،البتہ اگرکسی شخص کاکوئی معمول ہوتو وہ اس دن روزہ رکھ سکتا ہے، مثلاً :ایک شخص ہر جمعہ کا روزہ رکھتا ہے اور اس دفعہ 29 شعبان کو جمعہ آجائے تو وہ روزہ رکھ سکتا ہے۔

٭ سال بھر میں چند دن ایسے ہیں جن میں نفل روزہ رکھنا بہت اجروثواب کا باعث ہے، مثلاً :ماہِ شوال کے چھ روزے، نو اوردس یا دس اورگیارہ محرم کا روزہ، غیر حاجی کے لیے 9 ذوالحجہ (یوم عرفہ) کا روزہ، ہر ماہ ایام بیض (یعنی ہر اسلامی مہینہ کی13‘14اور15 تاریخ) کے روزے۔

٭ اگر کوئی شخص مندرجہ بالا دنوں میں رمضان کی قضاکاروزہ رکھنا چاہے تو وہ بھی رکھ سکتا ہے، اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ جب قضا روزے ذمے ہوں تو ان کو رکھنا نفل روزہ سے زیادہ ضروری ہے۔

٭ اگر کسی نے روزہ رکھنے کی نذر مانی تو اس کا اد اکرنا واجب ہے۔اگر انسان ادا نہیں کرتا تو یہ اُس کے ذمے رہے گا، اس پر لازم ہے کہ وہ مرتے وقت اس روزہ کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت کرے۔

٭ اگرکوئی شخص رمضان میں نذر یا نفل کے روزے کی نیت کر کے روزہ رکھے تو وہ نذراور نفل کا نہیں، بلکہ رمضان کا روزہ ہی شمار ہوگا اورنذر اور نفل کا روزہ بعد میں رکھنا پڑے گا۔

٭ نبی اکرم نے فرمایا: اگرکسی نے رمضان کا روزہ بغیرکسی عذر یا بیماری کے چھوڑا تو پھر ساری عمر بھی روزہ رکھے تو اُس روزہ کے ثواب کو نہیں پہنچ سکتا، یعنی قضا کرنے سے فرض تو ادا ہوجائے گا، مگر فضائل حاصل نہیں ہوں گے۔

٭ اگرکوئی شخص روزہ رکھتا ہے، مگر نماز نہیں پڑھتا یا گناہوں سے نہیں بچتا تو اس کے ذمے سے فرض تو ادا ہوجائے گا، مگر جو روزہ کے جملہ فضائل ہیں، اُن کا مستحق نہیں ہوگا۔

٭ امتحانات کی وجہ سے رمضان کا روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ یہ کوئی شرعی عذر نہیں ہے، اگرکوئی ایسا کرتا ہے توگھاٹے کا سودا کرتا ہے۔

٭ روزے دارکا روزہ افطارکرانا بڑی فضیلت کا باعث ہے، احادیث میں مذکور ہے کہ روزہ افطارکرانے والے کو بھی روزہ دار جتنا ثواب ملے گا اور روزہ دارکے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

٭ جمعة الوداع(ماہِ رمضان کے آخری جمعہ)کا روزہ بھی رمضان کے باقی روزوں کی طرح ہے، اسے عمربھرکے روزوں کی قضا کے قائم مقام سمجھنا جاہلانہ تصور ہے۔


ای پیپر