سپریم کورٹ کے فیصلے سے میرا شفاف ٹرائل کا حق متاثر ہوا : نواز شریف
21 مئی 2018 (14:08) 2018-05-21

اسلام آباد: احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف نے بیان قلمبند کراتے ہوئے سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق فیصلے اور جے آئی ٹی کو نامناسب اور غیر ضروری قرار د یتے ہوئے کہا کہ سپر یم کورٹ کے فیصلے سے میرا شفاف ٹرائل کا حق متاثر ہوا ، سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو اختیارات دیے کہ قانونی درخواستوں کو نمٹایا جاسکے، ایسے اختیارات غیرمناسب اور غیر متعلقہ تھے،جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم دس پر مشتمل خود ساختہ رپورٹ غیر متعلقہ تھی، یہ ناقابل قبول شہادت ہے، سپریم کورٹ نے یہ نہیں کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کو بطور شواہد ریفرنس کا حصہ بنایا جائے، جے آئی ٹی کی طرف سے لکھے گئے ایم ایل ایز عدالت میں پیش نہیں کیے گئے اس لیے ان کی بنیاد پر فیصلہ نہ دیا جائے، ایم آئی اور آئی ایس آئی افسران کا جے آئی ٹی کا حصہ بننا غیر مناسب تھا ۔


اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران نواز شریف روسٹرم پر آئے اور انہوں نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے دیئے گئے سوالات کے جوابات پڑھ کر سنائے سماعت کے ابتدا میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے پہلے سوال میں اپنے عوامی عہدوں کی تفصیلات پڑھ کر سنائیں۔ نواز شریف نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ میری عمر 68 سال ہے، میں وزیراعلی پنجاب اور وزیراعظم پاکستان رہ چکا ہوں۔


نوازشریف نے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل سے متعلق جواب دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر جے آئی ٹی تشکیل دی گئی لیکن مجھے جے آئی ٹی کے ممبران پر اعتراض تھا اور یہ اعتراض پہلے بھی ریکارڈ کرایا جب کہ آئین کا آرٹیکل 10 اے مجھے یہ حق دیتا ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ جے آئی ٹی ممبران کی سیاسی جماعتوں سے وابستگی ظاہر ہے جس کے ممبران میں بلال رسول سابق گورنر پنجاب میاں اظہر کے بھانجے ہیں جو(ن)لیگ کی حکومت کے خلاف تنقیدی بیانات دے چکے ہیں۔ بلال رسول کی اہلیہ تحریک انصاف کی سرگرم کارکن بھی ہیں۔


نواز شریف نے کہا کہ جے آئی ٹی ممبر عامر عزیز بھی جانبدار ہیں جو سرکاری ملازم ہوتے ہوئے سیاسی جماعت سے وابستگی رکھتے ہیں جب کہ وہ پرویز مشرف دور میں میرے اور فیملی کے خلاف نیب ریفرنس نمبر 5 کی تحقیقات میں شامل رہے۔جے آئی ٹی کے ایک اور رکن عرفان منگی کی تعیناتی کا کیس سپریم کورٹ میں ابھی تک زیر التوا ہے جنہیں جے آئی ٹی میں شامل کر دیا گیا۔ ایم آئی اور آئی ایس آئی افسران کا جے آئی ٹی کا حصہ بننا غیر مناسب تھا، موجودہ سول ملٹری تعلقات میں تنا ئو کے اثرات جے آئی ٹی رپورٹ پر پڑے۔


ای پیپر