آنحضورؐ کی سفرِ معراج سے واپسی!
21 مارچ 2020 2020-03-21

سفر معراج آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ ہی کا نہیں پوری انسانی تاریخ کا منفرد اور عظیم ترین واقعہ ہے۔ قرآن وحدیث اور سیرت وتاریخ میں اس واقعہ کی تفصیلات ملتی ہیں جو انتہائی ایمان افروز ہیں۔ مورخ ابن سعد نے قصہ معراج کا قدرے مختصر تذکرہ کیا ہے، جو طبقات کی جلد اول کے صفحہ ۲۱۳ سے لے کر۲۱۵ تک ہے۔ ابن سعد نے لکھا ہے کہ معراج کی رات آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پا کر آپؐ کے عزیزواقارب پریشان ہوگئے۔ حضرت عباسؓ آپ کی تلاش میں نکلے۔ وادیٔ ذی طویٰ میں انھوں نے بلند آواز سے کہا: یا محمدؐ، یامحمدؐ۔ آپؐ نے جواب دیا: لبیک۔ انھوںنے پوچھا: آپؐ رات کہاں تھے؟ آپؐ نے جواب میں فرمایا: بیت المقدس۔ انھوں نے پوچھا: آپ خیریت سے رہے؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں! مجھے اس سفر میں خیر ہی خیر ملا۔

اس رات آپؐ حضرت ام ہانی بنت ابی طالب کے گھر پر سوئے تھے۔ صبح نماز فجر ادا کرنے کے بعد آپؐ نے حضرت ام ہانی کو پورا واقعہ بتایا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: میں باہر جاکر تمام لوگوں کو اس واقعہ کے بارے میں بتاتا ہوں۔ ام ہانی کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: آپؐ ایسا نہ کریں، لوگ آپ کی تکذیب کریں گے اور آپ کو اذیت پہنچائیں گے۔ آپ نے فرمایا: خدا کی قسم! میں ضرور ان کو یہ واقعہ سناؤں گا۔ آپؐ نے جب لوگوں کو یہ واقعہ سنایا تو سب کو تعجب ہوا اور کفار نے مذاق اڑایا اور کہا کہ یہ سب بناوٹ ہے، ہم نے ایسی بات اس سے پہلے کبھی نہیں سنی۔ (طبقات ابن سعد، ج۱، ص۲۱۴-۲۱۵)

آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے موقع پر جبریلؑ سے کہا: اے جبریلؑ! میری قوم اس واقعہ کو سن کر میری تصدیق نہیں کرے گی۔ جبریلؑ نے جواب دیا کہ اور کوئی تصدیق کرے یا نہ کرے، ابوبکرؓ تو لازماً تصدیق کریں گے۔ جب آپؐ نے لوگوں کو واقعہ سنایا تو انھوں نے کئی سوال کیے، حتّٰی کہ یہ بھی پوچھا کہ مسجداقصیٰ کے کتنے دروازے ہیں۔ آپؐ فرماتے ہیں کہ میں نے دروازے دیکھے تو تھے، مگر گنے نہیں تھے۔ اللہ نے اس وقت مسجد اقصیٰ میری آنکھوں کے سامنے حاضر کردی اور میں نے ایک ایک دروازہ گن کر تعداد بتائی اور ان کی پوری تفصیلات بیان کردیں۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:

وَإِذْ قُلْنَا لَکَ إِنَّ رَبَّکَ أَحَاطَ بِالنَّاسِ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤیَا الَّتِیْٓ اَرَیْنَاکَ إِلاَّ فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوْنََۃَ فِی القُرْآنِ وَنُخَوِّفُہُمْ فَمَا یَزِیْدُہُمْ إِلاَّ طُغْیَانًا کَبِیْرًا$ (بنی اسرائیل۱۷:۶۰)

یاد کرو اے نبیؐ، ہم نے تم سے کہہ دیا تھا کہ تیرے رب نے ان لوگوں کو گھیر رکھا ہے۔ اور یہ جوکچھ ابھی ہم نے تمھیں دکھایا ہے، اس کو اور اس درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے، ہم نے ان لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا۔ ہم انھیں تنبیہ پر تنبیہ کیے جارہے ہیں، مگر ہر تنبیہ ان کی سرکشی میں اضافہ کیے جاتی ہے۔ (طبقات ابن سعد، ج۱، ص۲۱۵، سیرۃ ابن ہشام، القسم الاول، ص۳۹۹)

جب آپ نے لوگوں کو واقعہ سنایا تواس وقت حضرت ابوبکرصدیقؓ مجمع میں موجود نہیں تھے۔ ابوجہل اور دیگر معاندینِ اسلام فوراً حضرت ابوبکرؓ کے پاس پہنچے اور کہا: ابوبکر! تمھارے صاحب نے آج ایک عجیب بات بیان کی ہے۔ پھر انھیں پورا واقعہ سنایا اور کہا کیا یہ ممکن ہوسکتا ہے؟ انھوں نے جواب میں فرمایا: اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے یہ بات کہی ہے تواس کے سچ ہونے میں کوئی شک وشبہ ہی نہیں۔ اسی موقع پر آپ کا لقب صِدِّیق رکھا گیا۔ صدیق صفتِ مبالغہ ہے یعنی سب سے زیادہ صدقِ مقال اور سچا۔ ابن ہشام مزید بیان کرتے

ہیں کہ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے بیت المقدس کو دیکھا ہوا تھا۔ انھوں نے بھی پوچھا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ بیت المقدس کے بارے میں کچھ تفصیل بتائیں کیونکہ میں نے اسے دیکھا ہوا ہے۔ اس موقع پر بھی بیت المقدس آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کردیا گیا اور آپ نے پوری تفصیل بیان فرمادی، جسے سن کر حضرت ابوبکر صدیقؓ بہت زیادہ مسرور ہوئے۔ (سیرۃ ابن ہشام، القسم الاول، ص۳۹۹)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ بھی بتایا کہ میں راستے میں فلاں مقام پر پہنچا تو وہاں فلاں قبیلے کے ایک قافلے کو دیکھا۔ان کے اونٹ براق کو دیکھ کر بدکے اور منتشر ہوگئے۔ ایک اونٹ ان میں سے گم ہوگیا۔ یہ لوگ اپنے گم شدہ اونٹ کو تلاش کررہے تھے۔ میں نے انھیں آواز دے کر بتایا کہ ان کا اونٹ فلاں جانب ہے۔ انھوں نے اس اونٹ کو وہیں پہاڑی کے نیچے پالیا۔ یہ واقعہ شام کی طرف جاتے ہوئے پیش آیا۔ آپؐ نے مزید فرمایا واپسی پر جب میں مقام ضجنان پر پہنچا تو فلاں قبیلے کا ایک قافلہ یہاں مقیم تھا۔ میں نے ان لوگوں کے ایک برتن سے پانی بھی پیا اور پھر اسے اسی طرح ڈھانپ دیا۔ یہ لوگ سوئے ہوئے تھے۔ ان کی علامت یہ ہے کہ بیضا کے مقام پر کوہِ تنعیم سے اتر تے ہوئے ان کا ایک اونٹ جو آگے آگے چل رہا تھا وہ بھورے، سیاہی مائل رنگ کا تھا۔ اس اونٹ کے اوپر دو تھیلے لادے گئے تھے۔ ایک کا رنگ سیاہ تھا اور دوسرے کے مختلف مخلوط رنگ تھے۔

جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ سب باتیں بتائیں تو کفار اس انتظار میں تھے کہ قافلے واپس آئیں تو ان سے پوچھیں۔ چنانچہ قافلے واپس آئے تو جو کچھ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا اہل قافلہ نے مکمل طور پر اس کی تصدیق کی۔ اونٹوں کے بدکنے اور گم ہونے سے لے کر قافلہ والوں کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا کہ ان کے برتن میں پانی تھا جس میں سے رات کو کسی نے پانی پی لیا تھا۔ بیضا کا قافلہ تو جلد ہی مکہ میں وارد ہوگیا، جبکہ دوسرا قافلہ کچھ دنوں کے بعد آیا۔ ہر دو قافلوں کے لوگوں نے آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کی حرف بحرف تصدیق کی۔ (سیرۃ ابن ہشام، القسم الاول، ص۴۰۲)

امام ابن کثیر نے ۲۵ صحابہ کرامؓ کے اسمائے گرامی لکھنے کے بعد فرمایا کہ ان سب سے تفصیلاً واقعۂ معراج روایت ہوا ہے۔ اس لیے فَحَدِیْثُ الْاِسْرَائِ اَجمع علیہ المسلمون واعرض عنہ الزنادقۃ والملحدون۔ واقعہ اسراء کی حدیث پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔ صرف ملحد وزندیق لوگوں نے اس کو نہیں مانا۔ امام ابن کثیرؒنے اپنی تفسیر میں آیت مذکورہ کی تفسیر اور احادیث متعلقہ کی تفصیل بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ حق بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفرِ اسراء بیداری میں پیش آیا، خواب میں نہیں۔ مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تک یہ سفر براق پر ہوا۔ جب دروازۂ بیت المقدس پر پہنچے تو براق کو دروازے کے قریب باندھ دیا اور آپ مسجد بیت المقدس میں داخل ہوئے اور اس کے قبلہ کی طرف تحیۃ المسجد کی دو رکعتیں ادا فرمائیں۔ اس کے بعد ایک زینہ لایا گیا جس میں نیچے سے اوپر جانے کے درجے بنے ہوئے تھے۔ اس زینے کے ذریعے آپ پہلے آسمان پر تشریف لے گئے۔ اس کے بعد باقی آسمانوں پر تشریف لے گئے۔ ( اس زینہ کی حقیقت تو اللہ تعالیٰ کو ہی معلوم ہے کہ کیا اور کیسا تھا۔ آج کل بھی زینہ کی بہت سی قسمیں دنیا میں رائج ہیں۔ ایسے زینے بھی ہیں جو لفٹ کی صورت میں بجلی کے ذریعے چلتے ہیں۔ اس معجزانہ زینہ کے متعلق کسی شک وشبے میں پڑنے کا کوئی مقام نہیں)۔

ہر آسمان میں وہاں کے فرشتوں نے آپ کا استقبال کیا اور ہر آسمان میں انبیاء علیہم السلام سے ملاقات ہوئی۔ جن کا مقام کسی معین آسمان میں ہے۔ مثلاً چھٹے آسمان میں حضرت موسیٰؑ اور ساتویں میں حضرت خلیل اللہ ابراہیمؑ سے ملاقات ہوئی۔ پھر آپ ان تمام انبیاء کے مقامات سے بھی آگے تشریف لے گئے اور ایک ایسے میدان میں پہنچے جہاں قلم سے تقدیر لکھنے کی آواز سنائی دے رہی تھی اور آپ نے سدرۃ المنتہیٰ کو دیکھا، جس پر اللہ جل شانہٗ کے حکم سے سونے کے پروانے اور مختلف رنگ کے پروانے گررہے تھے اور جس کو اللہ کے فرشتوں نے گھیرا ہوا تھا۔ اسی جگہ حضرت جبریل امین کو آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اصلی شکل میں دیکھا جن کے چھ سو بازو تھے اور وہیں پر ایک رفرف سبزرنگ کا دیکھا جس نے افق کو گھیرا ہوا تھا۔

آپ نے بیت المعمور کو بھی دیکھا جس کے پاس بانیٔ کعبہ حضرت ابراہیمؑ دیوار سے کمر لگائے بیٹھے ہوئے تھے۔ اس بیت المعمور میں روزانہ سترہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جن کی دوبارہ داخل ہونے کی باری قیامت تک نہیں آتی اور آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے جنت اور دوزخ کا بچشم خود معائنہ فرمایا۔ اس وقت آپ کی امت پر پچاس نمازوں کے فرض ہونے کا حکم ملا، پھر تخفیف کرکے پانچ کردی گئیں۔ اس سے تمام عبادات کے اندر نماز کی خاص اہمیت اور فضیلت ثابت ہوتی ہے۔سفر معراج میں اللہ نے اپنے محبوب کو پانچ نمازوں کا تحفہ دیا۔ آج دیکھنا یہ ہے کہ امت اس تحفے کے ساتھ کیا سلوک کررہی ہے۔ اگر سب لوگ نماز پڑھنے لگیں تو مساجد میں جگہ نہ ملے، مگر صورت حال یہ ہے کہ

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے

یعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہے


ای پیپر