خوف کے مارے کانپتے کانپتے مرجائیں گے…
21 مارچ 2020 2020-03-21

دھواں جو کچھ گھروں سے اٹھ رہا ہے

نہ پورے شہر پہ چھا جائے تو کہنا

جاویداخترنے یہ شعر نہ جانے کس پیرائے میں کہے ہوں گے ،لیکن اَن دیکھے دشمن سے جاری لڑائی میں حسب حال محسوس ہوتے ہیں۔دنیامیں کروناکاعفریت موت بن کر سروں پر ناچ رہاہے۔انسانیت ایک ایسی جنگ لڑنے میں مصروف ہے جس میں دشمن سامنے بھی ہے اور نظروں سے اجھل بھی،وہ کب وار کرجائے کوئی نہیں جانتا۔چپکے سے ایسازہرانسانی جسم میں اترجاتاہے جس کاتریا ق بھی ممکن نہیں۔یوں کہئے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی ہم خود کودشمن کے رحم وکرم پرچھوڑنے پر مجبور ہیں۔چین کے شہرووہان سے شروع ہونیوالی جنگ تقریباپوری دنیاکولپیٹ میں لے چکی ہے۔دنیانے شروع میں چین کوموردالزام ٹھہراتے ہوئے اس جنگ میں تنہاچھوڑ دیا۔لیکن بہادرچینی قوم صدر شی جنگ پنگ کی قیادت میں اس کے خلاف صف آراہوگئی،،پھر سب نے دیکھاکہ چینی قوم نے اپنے ہمت ،حوصلے اور عزم سے کروناوائرس کیخلاف پہلامعرکہ جیت لیاہے ۔اب وہ دوسرے محاذوں پراس کے مقابلے کی تیاریاں کررہی ہے۔

چین سے پسپائی کے بعدکروناوائرس نے یورپ کواپنانیامرکزبنالیاہے اوریہ سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا۔ اس وقت اٹلی ،اسپن ،فرانس ،برطانیہ سمیت پورا یورپ کرونا کے نرغے میں ہے۔ روز بروز کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد اور ہلاکتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کروناکے متاثرین میں عام و خاص سب شامل ہیں، جوصورتحال بنتی جارہی ہے اس سے کسی بڑے انسانی المیے کے جنم لینے کاخطرہ ہے،،،یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے اسے عالمی وبااورانسانیت کا دشمن قرار دے دیاہے۔ خوف کایہ عالم ہے کہ ملک ملک، شہر شہر ویرانیوں کے ڈیرے ہیں۔جس کی عکاسی محمودشام نے کچھ یوں ہے…

عجب درد ہے جس کی دواہے تنہائی

بقائے شہرہے اب شہر کے اجڑنے میں

کروناکے مقابلے میں سپرپاوورامریکہ بھی خائف ہے۔،اٹلی ،سپین اور فرانس سمیت کئی ملکوں نے لاک ڈاؤن کردیاہے،،،جس کی وجہ سے ان ملکوں میں ہیجان آمیزفلمی مناظر دیکھنے کوملے،،، سٹورزمیں سامان کی خریداریکے دوران چھینا جھپتی اور ماردھاڑکے مناظربھی سب نے دیکھے ،کسی نے کیاخوب کہاہے کہ یہ لڑائیاں کھانے پینے کی اشیاکیلئے نہیں ،بلکہ موت کاخوف ہے جس کے باعث لوگ باہم دست وگریباں ہیں ،کیوں کہ انسان دنیاکے ہرآفت سے لڑسکتاہے لیکن موت کے خوف سے لڑائی اور فرارکسی طورممکن نہیں ہے۔یہ موت کاخوف ہی ہے کہ امریکا سمیت کئی ملکوں نے اپنی سرحدیں بند کردی ہیں،مختلف ملکوں کے درمیان فضائی رابطے بھی معطل ہوکررہ گئے ہیں۔کیاہی اچھاہوتایہ سب ممالک شروع میں چین کوتنہاچھوڑنے،اس کی بے بسی کامذاق اڑنے اوراسے طعنے دینے کی بجائے اس کے ساتھ مل کرکام کرتے۔اس لئے تمام تدبیریں "اب کیاہوت جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت "کے مصداق ہیں۔

رضی الدین رضی نے موف کے خوف کی کیفیت کوکچھ یوں بیان کیاہے…

خوف کے مارے کانپتے کانپتے مرجائیں گے

اس جنگل میں بھاگتے بھاگتے مرجائیں گے

پہلے موت کے خوف نے سب کی نیندیں چھینیں

لیکن اب ہم جاگتے جاگتے مرجائیں گے

اللہ کے ہاں مشرک اورانسانی معاشرے میں نااہل شخص سے بڑامجرم کوئی نہیں ،،،اللہ رحمان ورحیم ہے وہ انسان کاہرگناہ معاف کرنے پر قادرہے لیکن شرک اس کے ہاں ناقابل معافی جرم ہے،،،اسی طرح معاشرے میں نااہلی کی بھی کوئی معافی نہیں۔ کیاہی عجب ہے کہ شرک انفرادی فعل ہے اوراس کی سزاصرف اس کارتکاب کرنیوالے کوہی ملے گی،،،،لیکن ایسا شخص جوقوم کوسبزباغ دکھاتاہے لیکن وقت آنے پرنااہل ثابت ہوتاہے،،،اس کی نااہلی کی سزاپورے معاشرے کوبھگتناپڑتی ہے،،،اس سے نااہل شخص کے جرم کی سنگینی کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔

اس دنیاکوکروناکے جس چیلنج کاسامناہے ،،،اس کی بڑی وجہ صاحبان اقتدارکی نااہلی ہے ،،جس کی سزااب پوری دنیابھگت رہی ہے۔ہاورڈیونیوسٹی کے پروفیسر مارک لپ سٹچ سمجھتے ہیں کہ دنیانے بہت دیرکردی ہے۔ان کے خیال میں اب کروناکوروکناناممکن نہیں تومشکل ضرورہوچکاہے۔سارس وائر س کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے پروفیسر مارک لپ سٹچ نے کہاسارس صرف ان افرادسے دوسروں میں منتقل ہوتاتھاجن میں اس بیماری کی علامات ظاہر ہوچکی ہوتی تھیں ،لیکن کروناکامعاملہ کچھ مختلف ہے،اس میں وہ افرادبھی کروناکے پھیلاؤ کاذریعہ بن رہے ہیں جن میں اس کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ چین کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے مارک لپ سٹیچ نے کہاکہ اس سے کروناوائرس کے مزید پھیلاؤ سے روکنے میں مددملی۔1918کیــ" سپینش فلو"کی مثال دیتے ہوئے پروفیسر لپ سٹچ کاکہناتھاامریکی شہر فلاڈلفیانے فلوکی شہرمیں آمدکے دوہفتے بعد سخت اقدامات اٹھائے جبکہ سینٹ لوئیس نے دوسرے دن ہی عوامی مقامات پر لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی لگا دی۔ یہی وجہ تھی کہ سینٹ لوئیس میں ہلاکتوں کی تعداد فلاڈلفیا سے آٹھ گناکم تھی۔

اگر کوئی افتاداچانک نمودار ہوتواس سے بچاؤ ممکن نہیں ہوتا، لیکن اگرآپ کے آس پاس خطرہ منڈلا رہا ہو تو پھر پیش بندی اقدامات کرناآپ پر فرض ہوتا،، ایسانہ کرناصاحب اختیار کی نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ بدقسمتی سے کرونا کا عفریت وطن عزیزمیں صرف داخل نہیں ہوا بلکہ حکومت کی نااہلی کی وجہ ملک میں چہار سو پھیلنا شروع ہو گیا ہے۔ پاکستان میں کروناوائرس کیسے پھیلااب یہ کوئی راز نہیں رہا، یہ حقیقت اب آشکار ہو چکی ہے کہ تفتان میں وفاقی حکومت کی جانب سے قائم کیا گیا قرنطینہ سنٹرملک میں اس موذی وائرس کے پھیلاؤکی بڑی وجہ بنا۔۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال اور ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شہوانی نے بھی وفاق کوچارج شیٹ کیاہے۔جس سے بہت سے سوالات نے جنم لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تفتان میں قرنطینہ سنٹرقائم کیا گیا یا وائرس کی نرسری ؟جب پاکستان ہاؤس میں صرف تین سو لوگوں کی گنجائش تھی تووزیراعلیٰ بلوچستان کے مشورے کو نظراندازکرتے ہوئے اتنی بڑی تعدادمیں زائرین کو وہاں کیوں ٹھہرایاگیا؟جب وزیراعلی جام کمال نے سرحدیں بندکرنے کومشورہ دیاتواسے کیوں نہ مانا گیا؟ اس بھی بڑھ سوال یہ ہے کہ کیاایران سے آنے والے زائرین کی سکریننگ ہوئی؟اگراس سوال کاجواب ہاں میں ہو تویہ پوری قوم کیلئے مزیدخطرے کی بات ہے، کیوں کہ وفاقی حکومت دعویٰ کررہی ہے کہ وہ اب تک نولاکھ فرادکی سکریننگ کرچکی ہے،توپھرتفتان کی مثال کے بعد ہمیں وزیراعظم کے مشورے کے برخلاف گھبرانا پڑے گا۔

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن ہوں ،امریکاکے صدر ٹرمپ ، فرانس کے صدر میکرون کینیڈاکے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو یا دیگر ملکوں کے سربراہان سب کروناکیخلاف لڑائی میں فرنٹ لائن پرنظرآتے ہیں،لیکن ہمارے کپتان اِن دی لائن آف ٹویٹ میں مورچہ زن رہے۔ کپتان کے وسیم اکرم پلس بھی ٹویٹ پرہی سرگرم تھے،،،جب تنقید بڑی تو دونوں ٹویٹرکامحاذچھوڑکر ڈی جی خان قرنطینہ گئے ،،،لیکن وہاں سے نااہلی کی داستانیں سامنے آرہی ہیں ۔۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکی کوئی خبر ہی نہیں ہے۔ لیکن وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ میدان میں ڈٹ کرکھڑے ہیں۔ان کی کارکردگی کی ستائش عالمی ادارہ صحت نے بھی کی ہے۔ وفاق ہو یا پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتیں سب وزیراعلیٰ سندھ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔قوم وزیراعلیٰ سندھ کواس بحران میں امیدکی کرن سمجھتی ہے،،، اور شہبازشریف کویادکررہی ہے۔اس سے ثابت ہواکہ بلاشبہ جنگ سپاہی لڑتے ہیں لیکن کامیابی اس وقت تک نہیں ملتی جب تک قیادت بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑی نہ ہوا۔

اس حکومت کی نااہلی سترہ ماہ کے مختصر عرصہ میں مختلف بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحتیوں سے عیاں ہوجاتی ہے،جس حکومت کے دورمیں پولیووائرس جواپنی آخری سانسیں لے رہاتھاایک بارپھرسے ہماری آنیوالی نسلوں کے مستقل سے کھیلنے لگاہے،،اس سے یہ امیدکرناکہ وہ کروناوائرس کے اتنے بڑے چیلنج سے نبردآزماہوسکتی ہے، احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں پیغام دیاکہ جاگتے رہناہم پہ نہ رہنا ،،،جس سے قوم کا حوصلہ بڑھنے کی جائے وہ مایوسیوں کے اندھیروں میں ڈوب گئی ہے۔ اگرحکومت نے اپنی نااہلی سے جان نہ چھڑائی تواس قوم کواس کی بھاری قیمت چکاناپڑے گی۔حکمرانوں کی نااہلیوں کے باعث کسی المیے نے جنم لیاتوپھر وہ نوشتہ دیوار ابھی اسے پڑھ لیں۔۔۔۔

ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے

تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا


ای پیپر