کرونا…خبریں اچھی بھی ہوتی ہیں
21 مارچ 2020 2020-03-21

سنسنی خیز اور دہشت پھیلانے اور بھگدڑ مچانے والی خبروں کے اس دور میں خبریں اچھی بھی ہوتی ہیں مگر ہم ان پر توجہ کئے بغیر گزر جاتے ہیں ہمارا اجتماعی نفسیاتی خوف ہمیں منفی خبروں کی طرف زیادہ راغب کرتا ہے یہ ایک انسانی کمزوری ہے جو ہماری فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔

ہمیں یہ نظر آرہاہے کہ کرونا وائرس لاعلاج ہے اور اس سے دنیا بھر کی معیشت کو کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچ رہاہے مگر ہمیں یہ نظر نہیں آتا کہ چین کے علاقے ووہان جہاں سے اس وائرس کی ابتداء ہوئی تھی اسے اب کروناسے پاک قرار دے کر ماہرین صحت وہاں سے روانہ ہوچکے ہیں۔ اسی طرح ہمیں تفتان بارڈر پر قرنطینہ انتظامات کے نقائص تو نظر آتے ہیں مگر سندھ اور پنجاب میں اس وقت صوبائی حکومتیں جو جنگی بنیادوں پر اقدامات کررہی ہیںوہ ہماری توجہ سے اوجھل ہیں۔ اسی طرح ہمیں اتنا پتہ ہے کہ اس آفت سے ہزاروں افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں لیکن ہمیں یہ نہیں پتہ کے دنیا بھر کے طبی ریسرچ لیبارٹریوں میں اس پر دن رات تحقیق ہورہی ہے کہ اس وائرس کی کوئی ویکسین تیار کی جاسکے۔

تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ امریکہ میں Moderna نام کی فارماسیوٹیکل کمپنی نے mRNA-1273 کے نام سے ایک ویکسین تیار کی جسے دوائیوں کی منظوری دینے والے امریکی سرکاری ادارے فوڈاپنڈڈرگ ایڈمنسٹر یشن FDA))نے انسانوں پر اس کے کلینیکل ٹیسٹ کرنے کی منظوری دے دی ہے پہلے مرحلے پر یہ ویکسین صحتمند انسانوں پر استعمال ہوگی تاکہ اس کے مضر اثرات کا پتہ لگایا جاسکے۔نیویارک ٹائمز کی خبر کے مطابق امریکی سرکاری ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشن ڈیزیزنے مذکورہ ٹرائیل کے آغاز کا اعلان کیاہے جو کہ ایک ریکارڈ مدت میں شروع کر دیا گیا ہے۔ ادارے کے ترجمان ڈاکٹر انتھونی فائوزی کا کہنا ہے کہ دنیا میں اس سے پہلے پھیلنے والے مہلک وائرس SARsاور MERsپر جو تحقیقات کی گئی تھیں ان کی روشنی میں کرونا کی یہ ویکسین پر کام پہلی بیماریوں کی نسبت نہایت جلدی شروع ہواہے۔ یاد رہے کہ پہلے کئی کئی سال لگ جاتے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجربہ کامیاب ہوبھی گیا تو ویکسین کو مارکیٹ میں لانے کا عمل ایک سال سے پہلے شروع نہیں ہوسکے گا۔

اس تجربے کا آغاز امریکی شہر Seattle سے کیا گیا

ہے یہ وہ شہر ہے جہاں امریکہ میں کرونا کا پہلا مریض ملا تھا۔ دوا ساز کمپنی نے کہا ہے کہ یہ ہماری ریسرچ کا ایک سیمپل ہے اور ہمارے پاس اس طرح کے 9 مزید سیمپل موجود ہیں جو کہ سانس اور پھیپھڑوں کی بیماری لگانے والے وائرس کے علاج کے لیے بنائے گئے ہیں البتہ ان میں سے کوئی بھی ابھی تک پاس نہیں ہوا۔ یاد رہے کہ Moderna پہلی کمپنی ہے جن کا سیمپل تجرباتی حد عبور کر چکا ہے اس کے علاوہ دنیا بھر میں 36 سے زیادہ کمپنیاں اس کے علاج کی سر توڑ کوشش میں مصروف ہیں۔

ابتدائی طور پر 45صحتمند افراد کا انتخاب کیا گیا ہے جن کو 15، 15 لوگوں کے 3 گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے ان میں یہ دیکھا جائے گا کہ کیا یہ دوا محفوظ ہے یا انہیں نقصان پہنچا رہی ہے کیا ان کے جسم میں ایسے Antibodies پیدا ہو رہے ہیں جو وائرس کے آگے مدافعت کرنے اور جسم کے اندر وائرس کی افزائش کو روکتی ہے کہ نہیں۔ کمپنی کہتی ہے کہ جن کو انجکشن دیئے گئے ہیں حتمیٰ فیصلہ آنے میں ایک سال لگے گا مگر ان کے بارے میں سیفٹی ڈیٹا ہمیں چند ہفتوں میں دستیاب ہو گا جس کے بعد دوسرا مرحلہ آئے گا جس میں مزید گروپ شامل کیے جائیں گے تا کہ سیفٹی کے بعد اس کے بیماری پر اثرات یعنی دوا کے موثر قرار دیئے جانے کی تصدیق ہو سکے۔ کمپنی نے ان نتائج کا انتظار کیے بغیر ہی اس دوا کو وسیع پیمانے پر تیاری کے لیے مشینری اور پلانٹ کا بندوبست کرنا شروع کر دیا ہے یہ ایک طرح کا جواء ہے مگر کمپنی کا مؤقف ہے کہ انسانیت دم توڑ رہی ہے اور ایک ایک دن قیمتی ہے لہٰذا ہم یہ رسک لے رہے ہیں جو کہ وقت کا تقاضہ ہے۔ اس پیش رفت سے کمپنی کی پیشہ ورانہ ساکھ میں اضافہ ہوا ہے اور کمپنی کے حصص کی قیمتیں بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ کمپنی نے اس پراجیکٹ پر اپنے کام کا آغاز جنوری میں ہی شروع کر دیا تھا جب چائنا میں یہ وائرس دریافت ہوا تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی تحقیقات کے لیے کرونا وائرس کے نمونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہمارے پاس اس کا RNA ہے جو کافی ہے۔

اسی اثناء میں جرمنی سے خبریں آ رہی ہیں کہ وہاں کی ایک بائیو فارما کمپنیCurevac نے اپنے طور پر کرونا وائرس کے لیے ویکسین تیار کی ہے جرمن اخبارات کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے کمپنی کو پیشکش کی ہے کہ وہ اپنا نام امریکہ میں رجسٹر کروا کر اس دوا کی تیاری کے حقوق امریکہ کو دے دے تو اس کو منہ مانگا معاوضہ دیا جائے گا مگر کمپنی نے یہ پیش کش مسترد کر دی ہے ان کا کہنا ہے کہ ہم صرف امریکہ نہیں خود ہی پوری دنیا کو یہ دوا مہیا کریں گے۔

جرمنی کی کمپنی Curevac نے ابھی تک اس ویکسین کو انسانوں پر ٹیسٹ شروع نہیں کیا مگر ان کا دعویٰ ہے کہ یہ کرونا کے خلاف نہایت مؤثر ہے۔ جرمن دوا کی تفصیلات نہیں دی گئیں اطلاعات ہیں کہ جرمن حکومت نے مذکورہ کمپنی سے رابطہ کر کے اسے امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے سے روکا ہے۔

کرونا کے بارے میں ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ اس نے پوری دنیا کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ اتنا نقصان بیماری سے نہیں ہوا جتنا خوف سے ہو رہا ہے۔ دنیا بھر کی معیشت میں کھربوں ڈالر کا نقصان کرونا سے نہیں کرونا کے خوف سے ہوا ہے۔ جنگ خوف پر قابو پانے کا نام ہے اس میں دشمن سامنے ہو یا کرونا کی طرح چھپا ہوا ہو اگر آپ اپنے خوف پر قابو پا لیں گے تو آپ جیت جائیں گے۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ کرونا کی شرح اموات مجموعی مریضوں کا 2،3 فیصد ہے اور اس میں زیادہ تر 60 سال سے زائد عمر کے لوگ یا دیگر بیماریوں میں مبتلا لوگ ہیں جن کی قوت مدافعت کمزور ہو چکی ہوتی ہے۔

پاکستان کا ردعمل تاخیر سے شروع ہوا ہے اگر جو کچھ اب کیا جا رہا ہے اس کا 5 فیصد ہی بروقت کر لیا جاتا تو پاکستان آج کرونا فری ہو چکا ہوتا ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ ہماری قومی ایئر لائن اور تفتان بارڈر پر غیر تسلی بخش آپریشن کی وجہ سے پاکستان کرونا کا شکار ہوا ہے۔ اب بھی اگر ہم حفاظت خود اختیاری کے تحت اپنے آپ کو آئسولیٹ کر لیں تو چند ہفتوں میں اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس کے لیے متفقہ اور اجتماعی جدوجہد کرنا ہو گی۔ ورلڈ بینک ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے اب تک پاکستان کو 10 ارب روپے سے زیادہ کی امداد کی منظوری دی جا چکی ہے۔ اگر اس کو دانشمندی سے ریلیف پر خرچ کیا گیا تو کافی حد تک خطرات ٹل سکتے ہیں۔ عالمی حالات کے تناظر میں آئی ایم ایف کی طرف سے بھی پاکستان کے لیے رعایت ملنے کے امکانات ہیں پٹرول کی قیمتیں عالمی منڈی میں نصف سے کم ہو چکی ہیں اس قدرتی رعایت سے فائدہ اٹھا کر پاکستان میں توانائی کے بحران کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہیں۔ جیسا کہ ہم نے کالم کے شروع میں عرض کیا ہے کہ خبریں اچھی بھی ہوتی ہیں بشرطیکہ وہ بری خبروں کے نیچے نہ دب جائیں۔


ای پیپر