تذکرہ ایک معیاری درسگاہ کا…!
21 مارچ 2020 2020-03-21

یہ رب کریم کی خصوصی عنایت ہے کہ پچھلی صدی کی 60کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں تعلیم و تدریس کے شعبے سے جو وابستگی قائم ہوئی ، تقریباً 6عشرے گزرنے کے باوجود اب بھی کسی نہ کسی صورت میں قائم دائم ہے۔ میں یقینا اسے رب کریم کا خصوصی کرم ، اس کے حبیب کبریاؐ کا صدقہ اور اپنے مرحوم والدین کی دعائوں کا صلہ سمجھتا ہوں کہ پرائمری سکول کے معلم کی حیثیت سے سرکاری ملازمت کا جو آغاز ہوا تقریباً چالیس برس بعد وہ سیکنڈری سطح کے ایک انگلش میڈیم ادارے کے پرنسپل کی حیثیت سے ریٹائرہونے کے بعد بھی ابتک کسی نہ کسی شکل میں قائم ہے۔ میں یہاں اپنے موجودہ تعلیمی ادارے عمالہ فاونڈیشن سکول و کالج (مصریال روڈ راولپنڈی) جس سے میں پچھلے تقریبا ً ایک عشرے سے زائد عرصے سے وابستہ چلا آرہا ہوں کا بطور سپاس تشکر تذکرہ کرنا چاہوں گا کہ اس کے کار پرداذان نے میر ی قدر افزائی اور حوصلہ افزائی میں کبھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ۔ یہ سب کچھ میرے لیے انتہائی خوشی اور فخر کا باعث ہے۔ اور اس کے لیے میں رب کریم کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔ لیکن کبھی کبھی یہ خیال مجھے ضرور ستاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ صلاحیتوںاور شعبہ تعلیم میں ابتک سرانجام دینے والی خدمات میں سے کاش کچھ نہ کچھ میں اپنے علاقے ، اپنے گائوں اپنی جنم بھومی سے متعلقہ لوگوں کی بہبود کے لیے صرف کرتا تو میرے لیے زیادہ فخر کا باعث ہوتا۔ لیکن ایسا بوجوہ نہ ہو سکا ۔ اس کے لیے گائوں میں مستقل رہائش اختیار کرنا ضروری تھا لیکن کسب حلال کمانے کے تقاضے ، بچوں کی تعلیم اور دیگر ضروریا ت پورا کرنے اور گھرانے کے کچھ معاملات و مسائل اتنے حاوی رہے کہ گائوں میں مستقل رہائش اخیتار کرکے وہاں کسی دیر پا سرگرمی یا مصروفیت کا حصہ بننا میرے لیے اگر ناممکن نہیں تھا تو اتنا آسان بھی نہیں تھا۔ تاہم میرے لیے یہ امر ہمیشہ سے باعث اطمینان رہا ہے کہ اپنی مٹی ، اپنی جنم بھومی اپنے گائوں اور اپنے لوگوں اور عزیز و اقارب سے چھوٹا موٹا ربط ضبط اور تقریبا ً ہر ہفتے گائوں آنا جانا عرصے سے میرا معمول اور لازمہ حیات کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس کے باوجود گائوں اور علاقے کی تعلیمی ضروریات میں حصہ ڈالنے سے اپنی محرومی کا قلق شاید ہمیشہ ستاتا رہے گا۔

اس طویل تمہید کا مقصد ہر گز خود نمائی نہیں اور نہ ہی یہ

ظاہر کرنا ہے کہ میں کوئی بڑا ماہر تعلیم ہوں۔ میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ وہ لوگ میرے مقابلے میں زیادہ اچھے اور قابل قدر ہیں جو ضلع راولپنڈی کے تھانہ چونترہ جیسے انتہائی پسماندہ اور معیاری تعلیم سے محروم علاقے بالخصوص چونترہ ، ادھوال اورنواحی مواضعات میں معیاری تعلیم کی ضروریات ہی پورا نہیں کر رہے ہیں بلکہ نئی پود کی درست سمت میں تربیت اور اس میں قومی سوچ کو پروان چڑھانے کا اہم فریضہ بھی سر انجام دے رہے ہیں۔ اس ضمن میں میں جناب محمدیعقوب صاحب اور ان کی ٹیم کا ذکر کرنا چاہوں گا جو سرسید ماڈل سکول چونترہ ، ادھوال کے پلیٹ فارم سے چونترہ ، ادھوال اور نواحی دیہات میں معیاری اور بامقصد تعلیم کے مشن کو پورا کرنے کے لیے اپنی صلاحیتیں وقف کیے ہوئے ہیں۔

جناب محمد یعقوب کا تعلق میرے آبائی گائوں چونترہ سے ہے۔ ان کا پڑھا لکھا گھرانا بلا شبہ انتہائی مثبت سوچ اور فکر کا حامل رہا ہے۔ ان کے والد گرامی حوالدار غلام محمد مرحوم جو کسی دوسرے علاقے سے ہمارے گائوں میں آکر آباد ہوئے تھے ایک نیک طینت شخصیت تھے۔ ان کی والدہ مرحومہ محترمہ اصغری آپا بہت مہربان اور نیک سیرت خاتون تھیں جو اپنے گھر میں گائوں کی بچیوں کو ناظرہ قرآن پاک کی تعلیم دیا کرتی تھیں ۔ حوالدار غلام محمد مرحوم کا میں اپنے اوپر احسان سمجھتا ہوں کہ ان کے نام پر مسلح افواج کا مجلہ "ہلال" (جو اس وقت سہ روزہ اخبار کی صورت میں چھپتا تھا ) آیا کر تا تھا ۔ میں حوالدار غلام محمد مرحوم کی دکان پر چلا جاتا اور سہہ روزہ ہلا ل کا مطالعہ کرکے اپنے مطالعے کی لگن کو پورا کر لیا کرتا۔ اس طرح محترم محمد یعقوب کے گھرانے کے بارے میں میرے دل میں ہمیشہ شکر گزاری کے جذبات رہے ہیں۔ اس سیاق و سباق اور پس منظر و پیش منظر میں پچھلے دنوں جناب محمد یعقوب نے اپنے تعلیمی ادارے سر سید ماڈل سیکنڈری سکول چونترہ ، ادھوال کے سالانہ جلسہ تقسیم انعامات کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی تو میں اپنی کچھ ضروری مصروفیات کے باوجود اس میں شرکت سے انکار نہ کر سکا۔ پچھلے سال بھی چونتر ہ میں منعقدہ اسی طرح کی تقریب میں ، میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوا تھا۔ بدقسمتی کی بات یہ تھی کہ سارا دن شدید بارش ہوتی رہی جس سے پروگرام خاصہ متاثر ہوا۔ اس بار موسم صاف تھا اور جلسہ تقسیم انعامات کے مختلف پروگراموں کا مرکز و محور اور خاصہ ماں کی مقدس اور محترم ہستی سے منسوب ـ"ماں تجھے سلام" کا لوگو تھا۔ اس لوگو کے تحت بچوں نے بہت ہی خوب صورت ، دلچسپ اور اعلیٰ معیار کے پروگرام جن میں ٹیبلو، گیت ، نغمے ، خاکے ، مختصر ڈرامے اور سکٹس شامل تھے پیش کیے۔ حاضرین اور مہمانوں جن میں اکثریت خواتین کی تھی نے ننھے منے بچوں کی شاندار کارکردگی کی کھل کر داد دی اور پنڈال جو حاضرین سے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا ہر پروگرام (آئٹم) کے اختتام پر تالیوں سے گونجتا رہا۔

جناب یعقوب صاحب اور ان کی ٹیم کی میں تحسین کرونگاکہ انھوں نے انتہائی پسماندہ علاقے کی تعلیمی ضرویات کو پورا کرنے کے لیے ایک شاندار تعلیمی ادارہ ہی قائم نہیں کر رکھا ہے بلکہ اعلیٰ تعلیمی معیار اور بامقصد تعلیم کے فروغ کی شاندار روایات کوبھی آگے بڑھا رہے ہیں۔ جلسہ تقسیم انعامات کے سارے پروگرام اور سالانہ امتحان میں سٹوڈنٹس کی اعلیٰ کارکردگی اس کا بین ثبوت تھے ۔ جناب یعقوب صاحب نے یقینا اپنے وسیع تجربے اور بلند ویثرن کو بروئے کار لاتے ہوئے سرسید ماڈل سکول چونترہ ادھوال کو ایک حقیقی ماڈل سکول کا روپ دینے میں کوئی کمی نہیں رہنے دی ہے۔ جلسہ تقسیم انعامات کی تقریب کے مہمانان ِ خصوصی میں میرے سمیتNA-63 سے ممبر قومی اسمبلی جناب منصور حیات خان ،الپیال ویلفیر ٹرسٹ کے صدر برگیڈیر جاوید خان (ریٹائرڈ) ، سیکرٹری جنرل چوہدری ظفر اور قومی اسمبلی کے حلقہ NA-57سے سابقہ اُمیدوار کرنل اجمل صابر (ریٹائرڈ) نے بھی خطاب کیا ۔ میں نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی سوچ اور فکر کو مضبوط بنانے اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ان میں مطالعے کی عادت کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ میں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معیاری تعلیم کے ساتھ سٹوڈنٹس کی شخصیت نگاری اور کردار سازی کو بھی یکساں اہمیت دی جانی چاہیے۔ محترم یعقوب صاحب بلاشبہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں اپنے گھرانے کے انتہائی پڑھے لکھے افراد کی معاونت ہی حاصل نہیں ہے بلکہ ایک انتہائی محنتی ، پرجوش اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ٹیم کا تعاون بھی حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرسید ماڈل سکول کے اعلیٰ تعلیمی معیار کا ہر کوئی معترف ہے ۔ میرے ہی گائوں سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ کے انتہائی سینئر اور قابل ایڈوکیٹ جناب شفقت منیر ملک کا بطوریکے از مہمان خصوصی اس موقع پر خطاب بھی خاصے کی چیز تھی ۔انھوں نے بھی اپنے خطاب میں یعقوب صاحب اور ان کے ٹیم کو کھل کر خراج تحسین پیش کیا ۔


ای پیپر