پیپلز پارٹی کی جانب سے طاقت کا مظاہرہ
21 مارچ 2019 2019-03-21

پیپلزپارٹی پہلے ہی تحریک چلانے اور احتجاج کے موڈ میں تھی اور اس طرح کی وارننگ دے چکی تھی۔ تحریک انصاف کی حکومت نے منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاؤنٹس کے مقدمات کراچی سے راولپنڈی منتقل کر کے آ بیل مجھے مار کی طرح پیپلزپارٹی کو دعوت دی کہ وہ پاور سینٹر میں آکر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے۔

پنڈی اور پیپلزپارٹی کا رشتہ اور جھگڑا پرانا ہے۔اس شہر سے پارٹی کی کئی تلخ و شیریں یادیں وابستہ ہیں۔ اسی پنڈی شہر میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ اس شہر کے پارک میں محترمہ بینظیر بھٹو کو قتل کیا گیا۔ساٹھ کے عشرے کے آخر میں ایوب خان کے خلاف اسی شہر کے گورڈن کالج سے طلباء کی تحریک اٹھی تھی جس نے بعد میں بھٹو کی حمایت کی تھی۔ اس شہر میں محترمہ بھی کوشش کرتی رہیں کہ اسلام آباد کے قریب اپنی سرگرمی اور طاقت کا مظاہرہ کریں۔ وہ بھی پنڈی پر اثرانداز ہونے کے لئے تھا۔ جلسے کے بعد اسی باغ میں ایک دہشتگرد حملے میں شہید ہوگئیں۔

بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو نے سیاسی طور پر ہمیشہ پنجاب کو اہمیت دی ہے۔کیونکہ اقتدار کا حصول پنجاب کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔ لہٰذا محترمہ کی کوشش رہی کہ پنجاب میں ایکٹوازم کی جائے۔ وہ اس کوشش میں کامیاب بھی رہیں۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد آصف علی زرداری کی زیرقیادت چلنے والی پیپلزپارٹی نے کئی بار کوشش کی اور کئی نسخے آزمائے کہ پنجاب کو سرگرم کیا جائے۔ پارٹی کے لئے ملک کے اس بڑے اور فیصلہ کن صوبے سے حمایت حاصل کی جائے۔ اس مقصد کے لئے مختلف وقتوں میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے خاصا وقت اور توانائی خرچ کی ۔ لاہور میں بلاول ہاؤس اسی مقصد کے لئے بنایا گیا۔ پنجاب پیپلز پارٹی صوبے میں نواز لیگ کو اپنا سب سے بڑا حریف سمجھتی رہی۔ بلاول بھٹو نے اعتزا زاحسن کے نسخے پر کام کیا۔ یہ نسخہ نواز لیگ کی مخالفت کا تھا۔ لیکن اس میں بھی بڑی کامیابی نہیں ہوئی۔ جب تحریک انصاف تیسری پارٹی کے طور پر ابھری تو نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کو احساس ہوا کہ وہ ایک دوسرے کی حریف نہیں حلیف بھی بن سکتی ہیں۔

مقدمات کی راولپنڈی منتقلی کے بعداب بلاول بھٹو کو موقعہ فراہم کیا گیا ہے کہ پنجاب میں ایکٹوازم دکھائے۔بدھ کے روز پنڈی میں نیب کے سامنے پیشی کے موقع پر پیپلزپارٹی نے طاقت کا اچھا مظاہرہ کیا۔ اسلام آباد کی وجہ سے پنڈی اور پنجاب کے علاوہ پارٹی

پشاور سے بھی آسانی سے کارکنوں کو لانے میں کامیاب ہوئی۔پیپلزپارٹی کے حامیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی۔سڑکیں بلاک کردی گئی۔ پارٹی نے کارکنوں کو وفاقی دارلحکومت پہنچ کر پارٹی کی قیادت سے یکجہتی کا اظہار کرنے کی ہدایت کی تھی۔

بلاول بھٹو اور مریم نواز کی ملاقات دو جنریشن کا سیاسی میلاپ ہے ۔نواز شریف پہلے سے قید ہیں، اب اگر آصف زرداری گر فتار ہو جاتے ہیں اور ایسے میں مریم اور بلاول بھٹو کا ملنا ایک معنی رکھتا ہے۔بڑوں کی غیر موجودگی میں پیپلزپارٹی میں بلاول بھٹو کو اور نواز لیگ میں مریم نواز کو ہی سیاست کرنی ہے۔اس ملاقات کی وجہ سے دونوں بڑی پارٹیوں کے درمیان یہ دونوں احتجاج کی سیاست کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ اس پر سوال کیا جاسکتا ہے کہ احتجاج کی علامت بننا انہوں نے خود منتخب کیا ہے یا پارٹی نے انہیں یہ رول دیا ہے؟ آصف علی زرداری مفاہمت کی سیاست کے ذریعے پارٹی کے لئے جگہ بناتے رہے۔ تقریباً اسی طرح جس طرح میاں شہباز شریف نواز لیگ میں کرتے رہے۔ مسلم لیگ نواز کے پاس ایک ہارڈفیس نواز شریف اور مریم نواز کی شکل میں ہے۔ پیپلزپارٹی نے بھی بلاول بھٹو کی شکل میں ایک ہارڈ اوفیس اور آصف علی زرداری کی شکل میں ایک سافٹ رکھا ہے۔

پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کی قیادت نیب کے رول کو سیاسی قرار دے چکی تھی اور نیب قوانین میں تبدیلی پر زور دے رہی تھیں۔ریٹائرڈ برگیڈ یئر اسد منیر کی موت کے بعد نیب کے رول پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اب جب آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے تفتیش نیب کر رہی ہے وہ بھی پنڈی میں، اس سے نیب کا رول سیاسی قرار دینے میں اپوزیشن کی جماعتوں کو آسانی ہو گئی ہے۔

راولپنڈی میں پیپلزپارٹی کی جانب سے طاقت کا مظاہرہ کرنے کے بعد نیب اور حکومت کے لئے مشکل ہو گیا ہے کہ وہ باقی تفتیشی کارروائی راولپنڈی میں کرے۔اسلام آباد اور پنڈی میں یہ عمل جاری رکھنے کا تجربہ تلخ ثابت ہوا۔لیکن یہ کارروائی آسانی سے واپس کراچی بھی نہیں لائی جاسکتی۔ ممکن ہے کہ سندھ ہائی کورٹ میں تفتیشی کارروائی راولپنڈی منتقل کرنے کے خلاف آصف زرداری کی دائر کردہ درخواست یہ کارروائی کراچی لے آنے میں مددگار ثابت ہو۔ حکومت کا خیال تھا کہ کراچی میں تفتیش کا عمل جاری رکھنے کی صورت میں پیپلزپارٹی طاقت کا مظاہرہ آسانی سے کر سکتی ہے۔ کیونکہ سندھ میں پارٹی کی حکومت ہے اور یہ پارٹی کا بیس ہے۔خیال ہے کہ آصف زرداری کے دورہ سندھ اور بعد میں بلاول بھٹو کی کراچی میں موجودگی اور پارٹی اجلاس میں شرکت کے موقعہ پر حکمت عملی بنالی گئی تھی اور ہوم ورک کرلیا گیا تھا۔ لیکن حکومت کی یہ حکمت عملی اتنی کامیاب نہ رہی۔احتجاج راولپنڈی میں بھی ہوا۔ اب نیب اگر پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف تفتیش کا عمل راولپنڈی میں جاری رکھتا ہے تو پیپلزپارٹی دوبارہ بھی احتجاج کرے گی۔ اسلام آباد میں جا کر احتجاج کرنے اور تحریک چلانے کی روایت بھی موجودہ حکمران جماعت نے ڈالی تھی۔

وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بدھ کے واقعہ پر جو ردعمل دیاہے اس سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ پیپلزپارٹی اور وفاقی حکومت یا تحریک انصاف اب آمنے سامنے آگئی ہیں۔یہ ٹکراؤ بھی وفاقی دارلحکومت یا راولپنڈی میں ہو رہا ہے۔اس مقام کے احتجاج میں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ ایک دوسری کی آسانی سے مدد بھی کر سکتے ہیں۔ جس سے صرف قیادت کی سطح پر ہی نہیں بلکہ کارکنوں کی سطح پر بھی قربت پیدا ہوگی۔ یہ عمل مجموعی طور پر جمہوری تحریک کو مضبوط کرے گا۔


ای پیپر