حکمران وقت کی تضاد بیانی
21 مارچ 2019 2019-03-21

منصف اعلیٰ جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک مقدمے کا تفصلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عدالتی نظام کوسچ سے انحراف کا بہت نقصان ہوا ہے تھوڑے جھوٹ پر بھی ساری گواہی مسترد سمجھی جائے گی اور گواہ کوہر جگہ جھوٹا سمجھاجائے گا۔ فیصلے میں یہ بھی درج ہے کہ جھوٹی گواہی نا انصافی کو جنم دیتی ہے،انصاف کا خون کرتی ہے۔

یہ عوام کے تحفظ اوراور سیکورٹی کے لیے بھی خطرہ ہے۔۔فیصلے میں بتا دیا گیا ہے کہ سچ کی طرف سفر شروع کر دیا گیا ہے۔ ہمارے ریاستی ڈھانچے کے ستون کا فیصلہ آچکا یہ صادق اور امیں کا سوال صرف فوج داری مقدمات میں ہی نہیں بلکہ جھوٹ کو ہر جگہ مسترد ہونا چاہیے صادق اور امین کے حوالے سے،جناب جسٹس ثاقب نثار کے دور منضفی کو عدالتی اور سیاسی تاریخ کس طرح یاد رکھے گی۔مگر یہ حقیقت ہے ،عدالتوں میں سیاسی مقدمات کامعیار انصاف کافی کمزور نظر آتاہے۔آج تک بھٹو کے مقدمے کو بنیاد بنا کر جو مثالیں دی جاتی ہیں ان کو دنیا بھر میں کہیں بھی مثال کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا۔اپوزیشن کی بڑی جماعتیں سابق چیف جسٹس کے فیصلوں سے آج بڑی مشکل میں آئی ہیں۔ زندگی بھر کے لیے نااہل کیا گیا۔جے آئی ٹی کی تحقیقات پر کافی سوالیہ نشان ہیں۔ سوال اٹھتے رہے ہیں اور اٹھتے رہیں گے۔ ۔ جیسے ہمارے انصاف کے راستے میں سب سے اہم سوال جھوٹی گواہی کا آیا ہے۔ اس موقع پر دو مقدمات کا حوالہ ضرور دوں گا۔یہ 1972 کا زمانہ تھا سندھ کے ضلع دادو سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے جن ارکان نے بھٹو کی غیر جمہوری حکمرانی کو چیلنج کیا ان میں دادو سے تعق رکھنے والے ممبر قومی اسمبلی عبدالحمید جتوئی بھی تھے۔ بھٹو کی حکمرانی اس حواے سے غیر قانونی تھی کہ وہ ووٹ لینے کے باوجود صدر پاکستان اور چیف مارشل لاء ایڈ منسٹٹر بھی بن گئے تھے۔ سوال تھا ان کو یہ عہدے کس نے عنائت کئے اور ایک جمہوری اور عوام کے ووٹوں سے آنے والی حکومت کو اس کی کیا ضرورت تھی ۔یہ سوال پوچھنے والوں میں مختار رانا،احمد رضا قصوری۔اوکاڑہ سے راو خورشید،مولا بخش سومرو بھی شامل تھے۔ان کے خلاف انتقامی کاروائی بھی کی گئی حمید جتوئی کمال کا سچا سیاست دان ان کے خلاف جھوٹے مقدمات کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ نہ ختم ہونے والا تھا۔عورت کے اغوا میں معاون ملزم سے لے کر لاڈکانہ میں ملنے والی لاوارث لاش کا مقدمہ بنا یا گیا۔ ، جیل بھیجا ان کی تذلیل کی مگر بھٹو کو سکون نہ آیا۔ایسا ہی معاملہ اپوزیشن لیڈر ولی خان کے ساتھ بھٹو دور میں پیش آیا۔ جب بھٹو پارٹی کے باغیوں سے نمٹ چکے ،آئین بنانے میں اپوزیشن سے مدد لے چکے توولی خان کو سبق سکھانے کا مسئلہ تھا۔ جنرل غلام جیلانی نے سارے ثبوت عدالت میں پیش کر دہے سرکاری گوا ہ پیش ہوکر اور آگے

آگے بڑھ کر گواہیاں دے رہے تھے۔ نتیجہ کیا نکلا ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگ گئی۔ولی خان اور پارٹی کے لیڈر غدار بن گئے۔جب ضیا الحق کا زمانہ آیا سارے افسر ولی خان کے خلاف دی گئی گواہی سے منحرف ہو گئے اور سارے لیڈر آزاد ہو گئے۔ بے نظیر کو وزیر اعظم بنانے میں ولی خان پیش پیش تھے۔نواز شریف کو طیارہ کیس میں سزا ہوئی۔ مشرف کا دور جاتے ہی سارا قصہ کہانی ثابت ہوا۔ سیاسی مقدمات میں بھی جھوٹ اور سچ کا کوئی معاملہ آنا چاہیے۔ شہباز شریف کے خلاف ریفرنس میں جو سامنے آرہا ہے وہ تو جھوٹ پر مبنی نظر آرہا ہے۔اصل سوال تو یہ ہے جمہورت بھی تو جھوٹ سے پاک ہونی چاہیے اگر ایسا نہ ہواتو اچھی حکمرانی کیسے آگے بڑھے گی۔ بلاول بھٹو زرداری کے بارے میں شیخ رشید نے کسی کے پیچھے چھپ کر دھمکیاں دی ہیں ۔ شیخ رشید کو بلاول سے اس وقت سے تکلیف ہے جب سے انہوں نے عمران خان کے تین وزیروں کا نام لیا ہے کہ ان کے کالعدم تنظیموں سے تعلقات ہیں۔ان میں شیخ رشید کا نام بھی تھا جس کے بعد شیخ رشید نے دھمکی آمیز گفتگو کی ۔جہاں تک بلاول کا معاملہ تھا شیخ رشید کو ان سے اس وقت سے خطرہ تھا جب بلاول بینظیر بھٹو کی گود میں تھا معاملہ یہ ہوا تھابے نظیر بلاول کو گود میں اٹھائے قومی اسمبلی کے اجلاس میں لے آئیں اپوزیشن کے ارکان بھی بلاول کو پیار کر رہے تھے کہ شیخ رشید کو خاصی تکلیف ہوئی انہوں نے گود میں بیٹھے بلاول کے بارے میں شور مچادیا کہ ایوان میں اجنبی آگیا ہے۔جس کے بعد بلاول کو مہمانوں کی گیلری میں بھیجا گیا۔شیخ رشید کو کیا پتہ تھا کہ ایک دن وہ بلاول بھی اس اسمبلی میں ہو گا جہاں وہ وزیر تھا۔ اب حکومت جو اپنی طرف سے مسلم لیگ کی حکومت ختم کر چکی ان کو بلاول کی للکار بری لگتی ہے۔ یہ للکاروزیر اعظم عمران خان ہی کو نہیں بلکہ وزیر خزانہ کو بھی پریشان کرتی ہے ۔ شیخ رشید کا ہر وزیر اعظم کے ساتھ رویہ یہی رہا ہے۔نواز شریف کے وفادار بنے تو خوب جب جمالی وزیر اعظم بنا تو ان جیسا شریف آدمی ان کی نظر میں کوئی نہیں تھا۔ایوبی آمریت میں لڑنے والا آخر ضیا کے آگے کیوں ڈھیر ہوگیا،پھر مشرف جیسا عظیم لیڈر پاکستان کی تاریخ میں نہیں آیا۔ وہ ہمایوں اختر کا راستہ روک کر چودھری شجاعت کا بھی وزیر بن گیا۔ پھر لگائی ایک اور قلابازی آصف زرداری کی مدد لینے ایوان صدر گئے مگر ہار پھر بھی مقدر بنی۔اب وزیر اعظم کی محبت میں آصف زرداری کے سارے احسان بھول گیا۔ اب بلاول سے خوف زدہ لوگ ان کو نااہل کرنا چاہتے ہو۔ بلاول کا ٹویٹ پریشان کر رہا تھا کہ حکومت جو پارلیمنٹ کو گرانے کے لیے ریڈ زون گئی تھی۔پھر پاکستان کو بند کرنے کی للکار تو ابھی تک گونج رہی ہے۔ جن سے نہ پاکستان چل رہا ہے منصوبوں کا قبرستان سے قبرستان بن رہا ہے ،پشاور میں گھوسٹ سکولوں کی آوازیں آرہی ہیں۔ کوئی ہے جو ان کو سنے۔جعلی اکاؤنٹس کیس میں بلاول بھٹو، آصف زرداری نیب عدالت میں پیش ہوگئے جن سے نیب کے 10 ممبران پر مشتمل ٹیموں نے ایک گھنٹے تک سوالات کئے اور انہیں سوال نامہ بھی دیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہم ان نوٹسز سے نہیں ڈرتے اور کالعدم تنظیموں کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے اور ان تمام اراکینِ پارلیمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں جو کالعدم تنظیموں کی حمایت کرتے ہیں۔ نیب کی عدالت میں پیشی کے وقت چند سو افراد کا مظاہرہ بھی حکومت سے برداشت نہ ہوایہ فر ق ایک سیاسی اور بلاول کے مطابق سلیکٹ حکومت کا ہوتا ہے جو کام مارشل لاء کی حکومتوں میں ہوتا تھا وہی تحریک انصاف کی حکومت میں ہوا پورے دو سو سیاسی کارکن پکڑ کر تھانوں میں بند کر دہے گئے یہ نواز شریف کا حوصلہ تھا ۔وہ جہاں چاہتے تھے سڑکین بند کردیتے ۔ ۔ نیب نے ایک طرفہ ٹریفک چلارکھی ہے اس کے افسروں کو عمران خان کی حکومت کی طرف سے نوازنے کے بعد سوال اٹھتا ہے کہ کیا اب بھی جمہوریت میں ایسے گسٹاپو ادارے کی ضرورت ہے جہاں اتنا تنگ کیا جائے کہ ان کے ہتھے چڑھنے والا خود کشی کا آپشن قبول کرے۔ نیب کی جابرانہ کارگزاریوں کا اصل چہرہ دیکھنا ہو تو سابق جنرل اور نیب کے سابق چیرمین کی کتاب ’’یہ خاموشی کب تک‘‘ پڑھیں اور ضرور پڑھیں۔ اس کے باوجود اس ادارے کے افسروں کے بے پنا ہ الاو نس اور ر تنخواہیں بڑھنا رشوت کے علاوہ اس کو کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا۔؟


ای پیپر