نیو زی لینڈ میں دہشتگر دی
21 مارچ 2019 2019-03-21

لکھنے یا دہر انے کی ضر و ر ت نہیں کہ نما ز ی نما ز کے دورا ن نہتے ہو تے ہیں۔ گو یا ان کے لیئے حملے کی صو ر ت میں اپنا دفاع تک کر نا مشکل ہو تاہے۔ ایسے میں اگر ان پہ قا تلا نہ حملہ کیا جا ئے تو اسے اگر دہشتگر دی نہ کہا جا ئے، تو پھر کیا مجھے سمجھائے گا کہ اس صو رت میں دہشتگر دی کس چڑ یا کا نا م ہے؟ یہ سب یہا ں لکھنے کی ضر ور ت اس لیئے پیش آ رہی ہے کہ نیو زی لینڈ کے شہر کر ائسٹ چر چ کی دو مسا جد میں پچا س نما ز یو ں پہ اند ھا دھند فا ئر نگ کے نتیجے میں شہا د ت کو مغر بی میڈ یا نے د ہشتگر دی کی بجا ئے ماس شو ٹنگ کا نا م دینے کی کو شش کی۔ بہر حا ل اب اس افسوسناک سانحہ میں شہید اور لاپتہ ہونے والوں کے بارے میں معلومات اکٹھی اور فہرست تیار کی جاچکی ہے۔ نیوزی لینڈ حکام نے کرائسٹ چرچ کی دہشت گردی میں 9پاکستانیوں کی شہادت کی تصدیق کردی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق شہید ہونے والوں میں ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے باپ بیٹا نعیم رشید اور ان کے صاحبزادے طلحہ نعیم، راولپنڈی کے رہائشی محمود ہارون اور کراچی کے رہائشی سہیل جاوید، سید جہانداد علی اور سید اریب احمد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ذیشان رضا، ان کے والد اور والدہ شامل ہیں۔ کرائسٹ چرچ کی مقامی پولیس کی جانب سے 74 گمشدہ افراد کی فہرست جاری کی گئی ہے۔ یہ فہرست اہلخانہ اور سفارتی مشنز کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے ہفتہ کو پاکستان اور ایران کے لیے تہران میں تعینات نیوزی لینڈ کے سفیرسے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ سیکرٹری خارجہ نے کرائسٹ چرچ دہشت گرد حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا اور حملے میں متاثرہ پاکستانیوں کے لواحقین کے لیے ہر ممکن تعاون کی درخواست کی۔سانحہ کرائسٹ چرچ کے بارے میں تحقیقات کا سلسلہ شروع ہے۔ اصل حقائق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی منظر عام پر آئیں گے کہ ان بے گناہ نمازیوں کو شہید کرنے والے آسٹریلیا کے شہری برینٹن ٹیرنٹ کے پیچھے کون سے عناصر اور مافیا کارفرما ہیں اور انہوں نے ایسی گھناؤنی کارروائی سے کیا مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ بادی النظر میں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس کارروائی کے پس منظر میں یورپ اور دیگر مغربی ملکوں میں رہائش پذیر مسلمانوں کو خوف زدہ کرنا اور انہیں وہاں سے نکالنا مقصود ہوسکتا ہے۔ برینٹن ٹیرنٹ سفید فام نسل پرستی کے نظریئے سے بھی متاثر ہے۔ یورپ کے ملکوں میں سفید فام نسل پرستی فروغ پارہی ہے۔ یہ لوگ فاشسٹ نظریات کے حامل ہیں جو رنگ دار نسل خصوصاً مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں۔ ان کا نظریہ یہ ہے کی یورپ اور وہ ممالک جہاں سفید فام اکثریت ہے، وہاں صرف سفید فام لوگوں کو ہی رہنے کا حق ہے۔ یہ لوگ یورپ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں تارکین وطن کے سخت خلاف ہیں۔نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں دہشت گردی کی جو واردات ہوئی ہے، اس نے سفید فام نظریات کی انتہا پسندی اور سفاکی کو طشت از بام کردیا ہے۔ اس سے پیشتر جب بھی یورپ یا امریکہ میں کوئی دہشت گردی کی کارروائی رونما ہوتی تو اسے فوراً اسلامی انتہا پسندی کا نام دے کر اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے۔ لیکن اب یورپ میں نسل

پرستی کی جو متشدد اور انتقام پر مبنی نئی لہر اٹھی ہے جس میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، اس نئی لہر کو اسلامو فوبیا کا نام دیا جارہا ہے۔یہ ایک ایسی خطرناک صورت حال ہے جس پر جس قدر جلد قابو پالیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ مغربی ممالک کی حکومتیں اس عفریت پر قابو پانے کی کوشش تو کر رہی ہیں لیکن وہ نفرت پر مبنی نظریات کو روکنے پر فی الحال کوئی اقدام نہیں کر رہی ہیں۔ برینٹن ٹیرنٹ کا یہ گھناؤنا فعل یورپ میں مسلمانوں کے خلاف جذبات رکھنے والے نسل پرستوں کے کھیل کا ایک حصہ ہے، یہ ایک ایسے برفانی تودے کا بالائی سرا ہے جس کے نیچے ایک بہت بڑا پہاڑ موجود ہے۔ اگر اسلامو فوبیا کے اس طوفان پر قابو نہ پایا گیا تو ایسے بڑے انسانی المیے رونما ہوتے رہیں گے۔ کیونکہ یورپی ملکوں میں فاشسٹ نظریات بہت تیزی سے فروغ پارہے ہیں اور ایسے نظریات کی روک تھام انتہا ئی ضر و ر ی ہوچکی ہے۔ البتہ کرائسٹ چرچ کے سانحہ کے موقع پر نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کا انتہائی مشفقانہ، ہمدردانہ اور ذمہ دارانہ رویہ سامنے آیا ہے۔ انہوں نے اس سانحہ میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کے ساتھ جس ہمدردی کا اظہار کیا اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔ وہ یقیناًقابل ستائش ہے۔ اس موقع پر کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈر نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے تشدد اور دہشت گردی کے خلاف نیوزی لینڈ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عہد کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے عوام اور دنیا بھر کے مسلمان ہمارے دل میں ہیں اور اس مشکل گھڑی میں ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ جسٹن ٹروڈر نے آنے والے خطرات کو بھانپتے ہوئے نہایت اہم بات کی ہے کہ ہمیں اسلامو فوبیا پر قابو پانا ہوگا اور ایک ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں ہر مذہب، نسل اور رنگ کا انسان خود کو محفوظ تصور کرے۔ برینٹن ٹیرنٹ کے بارے میں اب تک ملنے والی معلومات کے مطابق وہ مسلمان مخالف اور انتہا پسند فاشسٹ گروہ کا کارندہ ہے جس نے ناروے کے دہشت گرد اینڈرز بریوک سے متاثر ہوکر دہشت گردی کی افسوسناک واردات سر انجام دی ۔ بریوک نے 2011ء میں ناروے میں فائرنگ کرکے 85 افراد کو ہلاک کیا تھا۔ کرائسٹ چرچ کے حملہ آور سے برآمد ہونے والے اسلحہ اور بلٹ پروف جیکٹوں کی تصاویر اسی انتہا پسند اور متشددانہ سوچ کی غماز ہیں۔ یورپ کے بعض حلقے برینٹن ٹیرنٹ کو ذہنی مریض قرار دے کر اس سانحہ کے پس پردہ حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اس قسم کی تاویلات سے سفید فام نسل پرستی کی ابھرتی ہوئی متشدد سوچ کو چھپایا نہیں جاسکتا اور نہ انسانیت پر ہونے والے اس حملے کی شدت کو کم کیا جاسکتا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف جو چند گروہ سرگرم ہیں یورپی ممالک کو ان کے خلاف بھرپور آپریشن کرنا ہوگا اور اسلامو فوبیا کی سوچ کو پروان چڑھانے والے افراد کو قانون کی گرفت میں لاکر نشان عبرت بنانا ہوگا۔ ادھر مسلم ملکوں کو بھی اس صورت حال پر بڑی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلم ملکوں میں سرگرم بعض گروہ اپنی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے مسلمانوں کا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ بہرحال مغربی ملکوں کی قیادت اور دانشور طبقے کا فرض ہے کہ وہ اپنے ملکوں میں بڑھتے ہوئے فاشزم کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ ۔


ای پیپر