وہی باغبان ہو گا وہی بلبلیں ہوں گی؟
21 مارچ 2019 2019-03-21

حکومت کی زیادہ تر توجہ نواز شریف پر مرکوز ہے اس کے عہد یداران اکثر ان سے متعلق ہی بات کرتے نظر آتے ہیں جبکہ انہیں عوامی مسائل کے بارے میں سوچنا اور بولنا چاہیے۔ ریاستی ادارے جب اپنا کام احسن طریقے سے کر رہے ہیں تو انہیں کیا مسئلہ ہے کہ وہ اس نان ایشو کو ایشو بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ اور جب نواز شریف کے ساتھی حکومت پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ان کو انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے تو وہ کہتی ہے کہ نہیں ایسا بالکل نہیں؟

نواز شریف کو سزا ہو چکی اب اگر وہ ضمانت پر رہا ہوتے ہیں تو اس میں کوئی تشویش نہیں ہونی چاہیے اور وہ نہیں بھی ہوتے تو بھی حکومت کے ’’ بیاناتی پہلوانوں‘‘ کو کچھ کہنے سے احتیاط برتنا چاہیے کیونکہ یہ ان کے شایان شان نہیں کہ ایک سیاستدان پابند سلاسل ہے اور اپنی قید کاٹ رہا ہے اس کو مزید دباؤ میں لایاجائے یہ انسانی اقدار کے خلاف ہے۔ حکومت کے کرنے کو بہت کچھ ہے اس کے لیے وہ غور و فکر کرے۔ ملکی معیشت کو کیسے بہتر بنانا ہے ۔ لوگوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی کس طرح کی جا سکتی ہے۔ اور انہیں خوشحالی سے کن منصوبوں پر عمل در آمد کر کے ہمکنار کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے وہ اقدامات کرے مگر شاید ابھی وہ یہ نہیں سمجھ پا رہی کہ اس میں شامل وزیر مشیر کیا سوچ رہے ہیں ۔ اسی لیے ہی اس کی کارکردگی متاثر کن نہیں۔ اگر اس کی یہی طرز حکمرانی آ گے بڑھتی ہے تو پھر کہا جا سکتا ہے کہ عوام کو اس سحر کا نظا رہ کرنے کو نہیں ملے گا جس کا انہیں انتظار تھا۔؟

ابھی تو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا مسئلہ حل نہیں ہو پا رہا کہ وہ بعض حلقوں کو قابل قبول نہیں ان کی انتظامی گرفت نحیف نزار دکھائی دیتی ہے یعنی انتظامیہ سے وہ حکماً کام نہیں لے پا رہے یا پھر جیسا کہ کچھ عوامی و دانشور حلقے کہتے ہیں کہ انہیں ابھی ہاتھ ہولا رکھنا ہے کیونک ہو سکتا ہے وہ بھی نمک کی کان میں نمک بننے کا ارادہ رکھتے ہوں ؟ ایک ہلکا سا ایسا تاثر بھی ابھر رہا ہے اور ان کے حالیہ ’’ کارنامے‘‘ کہ انہوں نے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے لیے قومی خزانے کا درواکر دیا مگر عوام کو بھول گئے کہ وہ بھی آس لگائے ہوئے ہیں۔؟

ان کی اس ہوشیاری پر وزیر اعظم عمران خان نے اپنی پریشانی و خفگی کا اظہار کر دیا ہے کہ وہ کیسے متزلزل عوامی سرمایے کو ذاتیات پر صرف کرنے کے لیے تیار ہو گئے بتایا گیا ہے عمران خان بزدار وزیر اعلیٰ پنجاب پر خاصے برہم ہیں اور ممکن ہے کہ وہ تبدیلی پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے انہیں تبدیل کر دیں؟ انہیں ایسا کرنا ہی

ہو گا کیونکہ اب عام آدمی بھی ان سے نا خوش ہے اس کا کہنا ہے کہ وہ اس کی داد رسی نہیں کر سکے ظالم آزاد ہیں سینہ زوروں کا ہر طرف راج ہے غنڈے بدمعاش دندناتے پھرتے ہیں۔ محکمہ پولیس کا بھی وہی چلن ہے جو سات ماہ پہلے تھا لہٰذا ضروری ہے کہ عثمان بزدار کی جگہ کوئی دوسرا وزیر اعلیٰ لایا جائے جو پی ٹی آئی کی حقیقی ترجمانی کرتا ہو ۔ ان کے اپنے علاقے کے لوگوں میں بھی اضطراب پایا جاتا ہے کیونکہ مبینہ طور سے ان کے عزیز و اقارب نے اپنی محرومیاں ختم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور وہ تیزی سے بلندیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سے (مشرقی و وسطی) پنجاب کو لوگ اس لیے بھی خفا ہیں کہ وہ انہیں ملاقات کا وقت نہیں دیتے ساری ترجیحات جنوبی پنجاب کے لیے مختص کر رکھی ہیں۔؟

بہر حال پی ٹی آئی کی حکومت منصوبہ بندی ، حکمت عملی اور انتظامی پہلوؤں کے حوالے سے کمزور نظر آتی ہے شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خود کو عقل کل تصور کرتی ہے اس کی قیادت عوامی مسائل کو گہری نگاہ سے دیکھنے سے قاصر ہے بلاشبہ مالی مجبوریاں بھی ہیں مگر وہ کب حالات کو بہتر بنانے کے لیے ملکی تھنک ٹینک کا تعاون حاصل کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ میڈیا کو وہ خاطر میں نہیں لا رہی، ٹریڈ یونین کے نمائندوں سے ملاقات کرنا وہ توہین سمجھتی ہے حزب اختلاف کو ابھی تک رگید رہی ہے۔ بد عنوانی کو وہ ختم کرنے کا ببانگ دہل کہتی ہے مگر معذرت کے ساتھ نوے فیصد اس کے با اختیار عہدیداران مبینہ طور سے اپنی تجوریاں بھرنے کی ’’ مہم ‘‘ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ رشوت اور سفارش بھی عام ہے؟ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اب روایتی انداز سیاست و حکمرانی ہی عوام پر مسلط رہے گا ۔ جبکہ ضرورت تھی اور ہے ایک نئے نظام کی۔ اصلاحات کرنے کی مگر لگ رہا ہے کہ ہنوز دلی دور است؟

چند روز پہلے ایک مقامی ہوٹل میں ’’ قلم دوست‘‘ کے زیر اہتمام ایک نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں اصلاحات وقت کا اہم تقاضا کے عنوان سے گفتگو کی گئی اس میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ یہ اوپر سے ہونی چاہئیں یا نیچے سے۔ زیادہ تر اس سے متفق تھے کہ اوپر سے ہونی چاہئیں مگر اگر اہل اقتدار اس کے لیے آمادہ و تیار ہوں گے تب؟

بہر کیف بھول بھلیاں میں چکر لگاتی حکومت کی سانسیں پھول رہی ہیں مگر وہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر رہی اور وہ رٹی رٹائی بات کر رہی ہے کہ بد عنوانی نے ملک کو نقصان پہنچایا۔ اس سے پوچھا جا سکتا ہے کہ وہ یہ نہیں جانتی کہ اس ملک کو سب سے زیادہ نقصان تو جاگیر داریت نے پہنچایا اس سوچ نے عام لوگوں کو دبا کر رکھا ان کو پولیس کے ذریعے ہراساں کیے رکھا۔ علم کی روشنی کو پھیلنے سے روکا گیا لوگوں کے ذہنوں میں یہ ڈال دیا یا کہ وہ حکمرانی کے لائق نہیں یہ کام اشرافیہ کا ہے اور قانون و آئین میں ایسی ترامیم کی گئیں کہ جو انہیں آ گے بڑھنے میں مدد دیتی ہوں ۔ اس جانب وزیر اعظم آتے ہیں نہ ہی ان کے رفقا کار جبکہ یہ آج کا بہت بڑا مسئلہ ہے اس طرح سرکاری اداروں کو عوامی خدمت کے لیے مجبور کرنا ہے تاکہ بھاری رقوم عدم دستیابی کے با وجود بھی کچھ مسائل کا خاتمہ ہو سکے مگر توجہ صرف نواز شریف پر مرکوز ہے اس طرح عوام کو دبی زبان میں کہا جا رہا ہے کہ یہ بھی بہت بڑا مسئلہ ہے لہٰذا اسے پہلے حل ہونا چاہیے عوام اب خوب جانتے ہیں کہ حکومت چونکہ فی الحال کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں لہٰذا وہ ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے اور چاہتی ہے کہ کسی طرح اسے چند ماہ اور مل جائیں جن میں وہ عوام کو تھوڑا بہت ریلیف دے سکے مگر عرض ہے کہ اگر وہ عثمان بزدار ایسے لوگوں کے ساتھ لیکر آگے بڑھنا چاہتی ہے تو پھر باغوں میں بہار کا امکان کم ہے کیونکہ انہیں پہلے اپنا خیال رکھنا ہے لہٰذا یہ پھول پتے سب ’’ بھرو‘‘ لیں گے تو پھر بہار کہاں ہو گی؟

عرض کرنے کا مقصد اب جو ہونا تھا ہو گیا حکومت اپنے کام سمجھتے ہوئے مصروف عمل ہو جائے جس جس کو بدلنا ہے اسے تبدیل کر دے مزید وقت دینا اور یہ توقع رکھنا کہ وہ عوامیت کے جذبے سے سرشار ہو جائے گا سادگی ہے وارث شاہ نہ عادتاں جاندیاں نیں ۔ بھانویں کٹیے پوریاں پوریاں جی ۔

پی ٹی آئی میں ان لوگوں کی اکثریت ہے جو سٹیٹس کو کے پر جوش حامی ہیں لہٰذا وہ عوام کے لیے عوامی جذبہ بھی نہیں رکھتے اور اپنے مسائل حل کرنے چل پڑے ہیں۔ بد عنوانی کا رولا اوپر ہی سے ڈال رہے ہیں اور پھر بد عنوانی اس نظام میں ختم ہو ہی نہیں سکتی لہٰذا عوام کو اندھیرے میں نہ رکھا جائے وہ پہلے ہی نڈھال ہیں۔ ان کی جمع پونجی پھر اس نظام کی نذر ہو رہی ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت نے تو انہیں ہر نوع کے تحفظ کا یقین دلایا تھا لہٰذا اب جب وہ بر سر اقتدار ہے تو اسے اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے مگر جاوید خیالوی کہتا ہے کہ وہ کبھی بھی ایسا نہیں کرے گی کیونک وہ روایتی طرز عمل اختیار کر چکی ہے اسے گھیرا گروپ نے اپنے مطابق چلانے پر تیار کر لیا ہے۔ یہ گروپ باقاعدہ کپتان کے گرد اکٹھا ہوا تاکہ اسے اپنی مرضی نہ کرنے دی جائے سو وہ اس میں کامیاب ہو گیا اب وہی بلبلیں ہوں گی وہی باغبان ہو گا ۔!


ای پیپر