بحریہ ٹاﺅن کے رہائشیوں کیلئے بڑی خوشخبری
21 مارچ 2019 (21:34) 2019-03-21

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بحریہ ٹان کی 460 ارب روپے کی پیشکش قبول کرتے ہوئے اسے کراچی میں کام کرنے کی اجازت دے دی۔

سپریم کورٹ میں بحریہ ٹان عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت عظمی نے بحریہ ٹان کی جانب سے 460 ارب روپے جمع کروانے کی پیشکش قبول کرتے ہوئے بحریہ ٹان کراچی کو کام کرنے کی اجازت دے دی۔سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورونیب کو بحریہ ٹان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے سے روکتے ہوئے فیصلہ دیا کہ بحریہ ٹان اپنے پلاٹس فروخت کر سکتا ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ بحریہ ٹان 460 ارب روپے کی رقم 7 سال میں ادا کرے گا، اقساط میں تاخیر پر بحریہ ٹان 4 فیصد سود ادا کرنے کا پابند ہوگا.

رقم سپریم کورٹ میں جمع کروائی جائیگی۔فیصلے کے مطابق نیب کو سندھ حکومت یا بحریہ ٹان کے خلاف آئندہ کوئی بھی کیس دائر کرنے سے قبل پہلے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرکے اجازت لینی ہوگی۔دوران سماعت جسٹس عظمت سعید نے بحریہ ٹان کے وکیل علی ظفر سے پوچھا کہ ڈان پیمنٹ 20 ارب ادا کرنی ہے یا 25 ارب؟۔ علی ظفر نے کہا کہ 25 ارب روپے ہی کردیں۔ اس پر عدالت نے 27 اگست تک ڈان پیمنٹ 25 ارب روپے جمع کرانے کا حکم دیا۔ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے درخواست کی کہ جب تک یہ عمل چلے گا نیب کارروائی روکی جائے۔

جسٹس عظمت سعید نے نیب کو اپنی کارروائی روکنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ نیب کی جانب سے کوئی ریفرنس دائر نہیں ہوگا، کوئی مسئلہ ہوتوعدالت موجود ہے، رقم نہیں آئے گی تو پھردیکھیں گے، نیب ریفرنس دائر کرنے سے پہلے عدالت سے اجازت لے، نیب اگر کسی اور کیخلاف ریفرنس دائر کرنا چاہتا ہے تو درخواست دے۔ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ یہ رقم سندھ حکومت کو دی جائے۔ اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ پہلے پیسے آنے دیں جھگڑا نہ ڈالیں۔ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ پتہ ہے سندھ حکومت کتنے پرراضی ہوئی۔


ای پیپر