درندگی اور درد مندی!(دوسری قسط)
21 مارچ 2019 2019-03-21

نیوزی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردی پر لکھے جانے والے اپنے گزشتہ کالم میں، میں عرض کررہا تھا ” دوسال قبل سپین میں ہونے والی دہشت گردی کے مقام پر جب میں پہنچا میں نے ایک گوری کو وہاں زار وقطار روتے ہوئے دیکھا۔ میں نے اُس سے پوچھا “آپ کا کوئی عزیز اِس سانحے میں مارا گیا ہے؟۔ وہ بولی ”جتنے لوگ اِس دہشت گردی میں مارے گئے مجھے یقین ہے یہ سب میرے خونی رشتہ دار ہیں“ .... میں عرض کررہا تھا کوئی کالا ہو یا گورا، خون کا رنگ سب کا ایک جیسا ہوتا ہے ، سوائے اُن دہشت گردوں کے جو بے گناہ لوگوں کی جان لیتے ہیں، اُن کا خون سفید ہوتا ہے۔ خون کا رنگ تو جانوروں کا بھی انسانوں کے خون کے رنگ جیسا ہوتا ہے، شاید اِسی لیے گورے معاشرے میں جانوروں کی جان کی بھی اُتنی ہی اہمیت ہے جتنی انسانوں کی جان کی ہے، ایک بار میں نے ایک گورے سے کہا ” اصل مذہب ”انسانیت “ ہے، اُس نے کہا ”آپ ”حیوانیت“ کو بھی اِس میں شامل کرلیں کیونکہ میرے نزدیک انسان کو تنگ کرنا اور حیوان کو تنگ کرنا ایک جیسے عمل “۔ یہاں میں آپ کو ایک اور واقعہ سناتا ہوں، میں کینیڈا کے شہر وینکور میں ایک دوست سے ملنے گیا۔ اُس نے مجھے بتایا تھا”شام پانچ بجے اُس نے اپنے ایک دوست کی مدد کے لیے جانا ہے، میں نے اُس سے قبل اُس سے اجازت چاہی اُس نے بتایا دوست کی طرف جانے کا پروگرام ملتوی ہوگیا ہے، میں نے اُس سے کہا ”آپ نے یہ پروگرام کہیں میری وجہ سے تو ملتوی نہیں کردیا ؟ وہ بولا ”نہیں، اصل میں میرے اُس دوست نے گھر شفٹ کرنا تھا، میں نے اُس کے سامان کی منتقلی کے لیے اُس کی مدد کرنی تھی، مگر اُسے ایک محکمے کی طرف سے این او سی نہیں مِلا ۔ اِس لیے اُس کی شفٹنگ آج رُک گئی ہے“،....میں نے پوچھا ” یہاں گھر شفٹ کرنے کے لیے کسی محکمے سے این او سی لینا پڑتا ہے؟۔ اُس نے بتایا ” ہاں تین محکمے این او سی دیتے ہیں، اُس کے بعد ہی کوئی وہاں قیام کرسکتا ہے۔ جب تک پراپرٹی کا مالک اپنے کرایہ دار کو یہ تین این او سی نہیں دیتا، کرایہ دار کی پراپرٹی مالک سے ڈیل ممکن نہیں ہوتی، ایک این او سی محکمہ بلڈنگ کی طرف سے ہوتا ہے، محکمہ بلڈنگ کی ایک ٹیم آتی ہے، وہ گھر کی دیواریں اور چھتیں وغیرہ چیک کرتی ہے، اگر وہ ٹھیک ہوں وہ فوراً این او سی جاری کردیتے ہیں۔ وہ اصل میں یہ دیکھتے ہیں اِس گھر کی کوئی دیوار یا چھت کمزور تو نہیںجو اِس گھر میں نئے شفٹ ہونے والے کے لیے کسی نقصان کا باعث بن جائے۔ دوسرا این اوسی محکمہ صحت کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے۔ اُن کی ایک ٹیم آکر معلومات حاصل کرتی ہے کہ اِس گھر میں کوئی شخص کِسی ایسی بیماری میں تو مبتلا نہیں تھا جس کے جراثیم اِس گھر میں موجود ہوں جس سے نئے آنے والے اِس بیماری میں مبتلا ہوسکتے ہوں۔ ایسی صورت میں محکمہ صحت والے اُس گھر کو کلینیکلی واش کرتے ہیں۔ اُس کے بعد وہ این اوسی جاری کردیتے ہیں۔ اور تیسرا این او سی محکمہ ماحولیات کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے، اِس محکمے کی ٹیم آکر گھر کا سیوریج سسٹم چیک کرتی ہے، گھر میں اگر کوئی لان ہو اُس کی گھاس وغیرہ کاٹی جاتی ہے، درختوں کی کانٹ چھانٹ کی جاتی ہے۔ اُس گھر کی کھڑکیاں اور روشندان وغیرہ چیک کیے جاتے ہیں۔ اگر یہ سب درست ہوں این او سی جاری کردیا جاتا ہے“ ۔....میرے دوست نے بتایا کہ اُس کے دوست نے جس گھر میں شفٹ ہونا تھا اُس کے مالک نے اُسے بتایا ہے کہ محکمہ ماحولیات والوں نے اِس لیے فوری طورپر این اوسی جاری کرنے سے انکار کردیا ہے کہ اس گھر کے ایک کمرے کے ایک روشندان یا کھڑکی میں ایک چڑیا نے گھونسلہ بنایا ہوا ہے جِس میں چند گھنٹے پہلے اُس نے بچے دیئے ہیں محکمہ ماحولیات کا خیال تھا فوری طورپر یہ گھونسلہ کسی دوسری جگہ شفٹ کرنے سے چڑیا اور اُس کے بچوں کو تکلیف ہوسکتی ہے یا اُن کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے، لہٰذا اُنہوں نے فیصلہ کیا ایک ہفتے بعد اِس گھونسلے کو کہیں اور شفٹ کرنے کے بعد این او سی جاری کردیا جائے گا “۔ .... یقین کریں یہ واقعہ سن کر میری آنکھیں بھیگ گئیں، میں نے سوچا جس معاشرے میں چڑیا اور اُس کے بچوں کی جان کی اتنی قدر ہے وہاں انسان کی کتنی قدر ہوگی۔ اب انسان کی قدر کا ایک واقعہ بھی سُن لیں۔ پچھلے برس جولائی میں، میں امریکہ کے شہر سن فرانسسکو میں تھا، رات کو ایسے ہی آوارہ گردی کے لیے میں اکیلا ہی باہر نکل گیا، اپنے مخصوص پاکستانی طریقے کے ایسے ہی منہ چُک کر بغیر اِدھر اُدھر دیکھے ایک سڑک کے دوسری پار جاتے ہوئے میرے حواس اُس وقت گُم

ہوگئے جب مجھے لگا غلط طریقے سے سڑک پار کرنے کی وجہ سے دو تین گاڑیاں مجھ سے ٹکرانے لگی ہیں، جس کے نتیجے میں میرا ابھی کچومر نکلنے لگا ہے، .... میں بڑی مشکل سے بچا۔ چند سیکنڈ بعد میرے حواس ذرا بحال ہوئے میں نے دیکھا پولیس کی دو تین گاڑیاں ہوٹر بجاتے ہوئے میرے قریب آکر رُک گئیں، مجھے یقین تھا غلط طریقے سے سڑک پار کرنے کے جُرم میں پولیس ابھی مجھے گرفتار کرلے گی، میرے پاس اُس وقت پاسپورٹ بھی نہیں تھا جس پر میرا ویزہ لگا ہوا تھا۔ ان حالات میں، میں خود کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھ رہا تھا، اِس دوران پولیس کی کچھ خواتین اور مرد گاڑی سے اُتر کر میرے قریب آگئے، میں نے سوچا سب سے پہلے یہ مجھ سے میرا پاسپورٹ مانگیں گے، یہ چیک کریں گے امریکہ میں میرا قیام غیر قانونی تو نہیں ہے ؟ مگر اُنہوں نے سب سے پہلے یہ پوچھا ”تم ٹھیک ہو ؟ تمہیں کوئی چوٹ تو نہیں لگی؟ میں نے کہا ”ہاں میں ٹھیک ہوں“۔ اُس کے بعد بجائے میرے یقین اور جُرم کے مطابق وہ مجھ سے میرا پاسپورٹ طلب کرتے اور ہتھکڑیاں وغیرہ لگا کر مجھے پولیس سٹیشن لے جاتے، یا میری چھان بین کرتے، وہ مجھے اپنے حفاظتی حصار میں سڑک کے ایک جانب لے گئے۔ وہاں لے جاکر اُنہوں نے جان کی اہمیت پر مجھے لمبا چوڑا لیکچر دیا، اُنہوں نے مجھے احساس دلایا کہ اِس غلطی کے نتیجے میں تمہاری جان جاسکتی تھی، اُنہوں نے مجھ سے وعدہ لیا آئندہ تم ایسی غلطی نہیں کرو گے، یہ وعدہ اُنہوں نے اتنا زور دے کر لیا جیسے وہ میری نہیں اپنی جان کی فکر میں مبتلا ہوں، ....اِن سب واقعات کے اظہار یا تحریر کا مقصد گوروں کی وکالت کرنا نہیں ہے۔ اخلاقی لحاظ سے اُن میں یقیناً بہت سی خرابیاں ہوں گی، وہ ہم نام نہاد مسلمانوں میں بھی بہت ہیں، مگر یہ طے ہے وہ جھوٹ ہم سے زیادہ نہیں بولتے، وہ منافقت ہم سے زیادہ نہیں کرتے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انسانیت کا جتنا درد اُن کے دِلوں میں ہے، اصل میں اُتنا درد ہم ”مسلمانوں“ کے دِلوں میں ہونا چاہیے جن کے دین کا بنیادی تصور ہی انسانیت کی خدمت سے جُڑا ہوا ہے، جہاں تک نیوزی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردی کا تعلق ہے اِس سانحے پر جتنے رنج والم کا اظہار بلکہ عملی اظہار غیرمسلموں نے کیا اُس پر ہم نام نہاد مسلمانوں کے لیے شرمندگی کی اچھی خاصی گنجائش موجود ہے کہ جنہوں نے اپنے مسلمان بھائیوں کی شہادت کے زیادہ تر دُکھ کا اظہار صرف سوشل میڈیا پر ہی کیا، انسانیت کی عظمت کا پرچار کرنے والی نام نہاد مسلمان تنظیمیں اور این جی اوز تو سوشل میڈیا پر بھی کہیں دکھائی نہیں دیں۔ (جاری ہے)


ای پیپر