جنونی جنتا
21 مارچ 2019 2019-03-21

قارئین کرام بھارتی وزیراعظم مودی کا نفسیاتی اور جائزہ اجمالی لینے سے پہلے کافروں کی ذہنیت، سرشت اور فطرت پہ بھی غور کرنا چاہیے، لمحہ موجود کے کافر اور قبل ازمسیح اور دورمحمد مصطفیٰ ﷺ کے کافروں میں سرِ مُوفرق نہیں ہے، تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بت پرست کافروں، اور عیسائیوں میں شیروشکر ہونے کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما تھے، اور کون سی مصلحتیں اور مفادات تھے کہ جس کی بناءپر وہ ایک دوسرے کے اتنے قریب آگئے کہ ایک دوسرے کے ”اٹوٹ انگ“ بن گئے ، اب آپ آئیے میرے ساتھ چھٹی صدی میں ہندو مذہب کا جائزہ لیتے ہیں، اس زمانے میں انہوں نے جو خودساختہ صنم اپنے ہاتھوں سے گھڑ لیے تھے، ان کی تعداد 33کروڑ تھی، اور ہر ہیبت ناک ، یا نفع پہنچانے والی چیز ان کا معبود بن گئی تھی بت تراشی اور مجسمہ سازی کا فن بھی نقطہِ عروج پہ تھا۔

قارئین ہم چھٹی صدی عیسوی کا رونا رورہے ہیں، کلمہ طیبہ کے نام پہ اللہ سے ملک لینے کے بعد کروڑوں مسلمانوں نے اللہ اور اس کے حبیبﷺ کے احکامات اسلامی اور اتباع شریعت کے وعدے وعید اور اکابرین نے حلف تک اُٹھا لیے تھے۔ مگر کیا قارئین ہمارے ملک میں ”مجسمہ سازی“ یونیورسٹیوں میں نہیں سکھائی جاتی؟ یہاں بھی کافروں والے اعمال کی نہ صرف پذیرائی کی جاتی ہے، بلکہ لاکھوں مسلمانوں کی دل آزاری بھی اُن کی نمائشیں کرکے نہایت ڈھٹائی سے کی جاتی ہے، نیشنل کالج آف آرٹس، اور اولڈ پنجاب یونیورسٹی میں مجسمہ سازی کی کلاسیں ہوتی ہیں، یونیورسٹی کے سامنے مال روڈ پہ بالمقابل عجائب گھر دیوقامت مجسمے، اور ایک ایسا ہیبت ناک شکل کا مجسمہ نصب ہے ، جس کے خلاف پچھلے دنوں ایک صاحب نے عدالت سے بھی رجوع کیا تھا، کہ مکتب میں جاتے ہوئے بچے، اس ڈراﺅنے مجسمے کو دیکھ کر ٹھٹک جاتے، اور ڈرجاتے ہیں، لہٰذا اسے اس جگہ سے فوراً ہٹایا جائے۔

بہرحال میں ذکر کررہا تھا ہندو اور عیسائیوں کے تعلقات کا جس میں بنیادی کردار ہی (Sculptor)کا ہے، ایک عیسائی مو¿رخ اپنی کتاب History of Chrisianity in thelight of Modern Knowledgeمیں لکھتے ہیں کہ بت پرستی ختم تو ہوئی، مگر تباہ نہیں ہوئی، بلکہ جذب کرلی گئی۔ بلکہ سب کچھ جو بت پرستی میں تھا، عیسائیت کے نام پہ چلتا رہا۔ جن لوگوں کو دیوتاﺅں اور مشاہیر سے ہاتھ دھونے پڑے، انہوں نے غیرشعوری طورپر بہت آسانی سے کسی پرانے دیوتا کے اوصاف سے متصف کرکے کسی مقامی مجسمہ کو اس کا نام دے دیا، اور اس طرح سے کافرانہ مسلک اور دیومالا ان مقامی شہداءکے نام پہ منتقل ہوگئی ۔ بت پرستانہ تہوار قبول کرکے ان کے نام بدل دیئے گئے، یہاں تک 400ءتک پہنچتے پہنچتے سورج دیوتا کے قدیم تہوار نے مسیح کے یوم پیدائش کی شکل اختیار کرلی۔

ایک حیران کن بات یہ ہے کہ صدیوں پہلے شام اور عراق، اور مصر کے عیسائیوں کے درمیان جنگ بڑے زورشور سے شروع ہوگئی تھی۔ دراصل یہ جنگ ایک ایسے موضوع پہ ہورہی تھی ، کہ جس کا کوئی تُک نہیں بنتا تھا۔ ہلاکو خان نے جب بغداد کو تاراج کیا، تو اس وقت بھی علماءبغداد بڑی شدومد کے ساتھ اس بات پہ مناظرے کررہے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ماہیت اور حقیقت کے بارے میں مشغول ومتحارب تھے، حتیٰ کہ اس موضوع پہ اتنے دلبرداشتہ تھے کہ آپس میں خون کے پیاسے ہوگئے تھے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ دومخالفت قوموں کی جنگ ہے۔

قارئین اب اتنی تفصیل کے بعد آپ کو سمجھ آرہی ہوگی، کہ بت تراشی، اور مجسمہ سازی ایک ہی کام ہے، ہندوستان پوری دنیا میں واحد ملک ہے، کہ جو بظاہر تو دنیا کو دکھانے کے لیے ”سیکولر“ ملک ہے، مگر وہاں ذات پات اور چھوت چھات کی تقسیم برہمن، شودر، ویش اور کھتری دلت میں بری طرح بٹ چکی ہے، بڑی ذات والا ہندوکم تر ہندو ذات کے مال اسباب حتیٰ کہ ان کی عصمتوں کا بھی مالک بن بیٹھا ہے، ہندوستان میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت میں ہیں حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ ان کی آبادی موجودہ پاکستان کی آبادی سے بھی قدرے زیادہ ہے، اگر وہ مطالبہ وطن شروع کردیں، تو ہندوستان کے اندر ایک دوسرا پاکستان باآسانی سے وقوع پذیر ہوسکتا ہے۔

”کافرستان “ کی پوری آبادی پرلے درجے کی متعصب ،کینہ پرور اور انتہائی ظالم ہے، ہندوستان کی ” جنتا “ یعنی عوام اقلیتوں اور خصوصاً مسلمانوں کے بارے میں قانون فوراً اپنے ہاتھ لے لیتے ہیں ، گائے کو ذبح کرنے پر، گائے کا گوشت پکانے کے شک پر ،گائے کی خریدوفروخت، حتیٰ کہ ناپاک زبان سے گائے کانام لینے پر مسلمانوں کو موقعے پر ہی ماردیا جاتا ہے، اور جنونی جنتا کے دائرہ اختیار میں ہے، کہ وہ کسی بھی مسلمان کا مکان جلا دے کاروبار کو تباہ کردے، یا خاندان کے کسی بھی فرد کو گولی ماردے، نہ تو اس پہ مقدمہ چلتا ہے، اور پرچہ درج ہوتا ہے، اور یہ اختیار جنونی جنتا کو مودی نے دیا ہے، جس کی پوری کی پوری سیاست مسلمان دشمنی میں مضمر ہے، مودی کی ”شیطانی“ سوچ کے بارے میں علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں :

یہ عناصر کا پرانا کھیل یہ دُنیائے دوں

ساکنانِ عرش اعظم کی تمناﺅں کا خوں

کون کرسکتا ہے اس کی آتشِ سوزاںکو سرد

جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سُوزِ دروں

(جاری ہے)


ای پیپر