بنگلہ دیش سے روہنگیا مسلم لڑکیوں کی سمگلنگ کا انکشاف

21 مارچ 2018 (21:59)

لندن: بنگلہ دیش کے روہنگیا پناہ گزین کیمپوں سے نوجوان لڑکیوں کو جسم فروشی کیلئے سمگل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔


برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بنگلہ دیش کے روہنگیا پناہ گزین کیمپوں سے نوجوان لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے سمگل کیا جا رہا ہے۔غیر ملکی کے افراد کو یہ نو عمر جوان لڑکیاں بہ آسانی دستیاب ہیں جو کہ میانمار (برما) میں جاری تصادم کے نتیجے میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئی ہیں اور اب ان کے سامنے ایک نیا خطرہ ہے۔14 سالہ انورا (بدلا ہوا نام) اپنے اہل خانہ کے قتل کے بعد امداد کے لیے بنگلہ دیش جانے والی سڑک پر آ گئیں۔'بہت سی خواتین ایک وین میں آئیں اور پوچھا کہ کیا میں ان کے ساتھ جانا چاہوں گی۔'امداد کے لیے حامی بھرنے کے بعد انورا کو ایک نئی زندگی کے وعدے کے ساتھ ایک کار میں گٹھری بنا کر ڈال دیا گیا۔ لیکن اسے نزدیک ترین شہر کو کس بازار لے جایا گیاااس کے بعد وہ دو لڑکے میرے پاس لائے۔ انھوں نے مجھے چاقو دکھائے اور میرے پیٹ میں گھونسے مارے کیونکہ میں ان کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ پھر دونوں لڑکوں نے میرا ریپ کیا۔


سمگلنگ کی کہانی پناہ گزین کیمپ میں چاروں جانب بکھری پڑی ہیں۔ خواتین اور بچے ان کے زیادہ شکار ہیں جنھیں لالچ دے کر کیمپ سے باہر لے جایا جاتا ہے اور محنت مزدوری یا پھر جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔بچوں کے استحصال کے خلاف بیداری پیدا کرنے والے ادارے فانڈیشن سینٹینل کے ساتھ بی بی سی کی ٹیم نے اس کاروبار کے پس پشت کام کرنے والے نیٹ ورک کے بارے میں تفتیش شروع کی کیونکہ انھوں نے اس بابت بہت سن رکھا تھا۔بچوں اور ان کے والدین نے بتایا کہ انھیں بیرون ملک اور دارالحکومت ڈھاکہ میں گھریلو ملازمت، ہوٹل اور کچن میں کام کی پیشکش کی گئی۔ کیمپ میں موجود افراتفری بچوں کو جنسی صنعت میں دھکیلنے کے بڑے مواقع فراہم کرتی ہے۔


14 سالہ مسعودا (بدلا ہوا نام) نے بتایا کہ انھیں کیسے وہاں پہنچایا گیا۔ اب ایک خیراتی تنظیم ان کی مدد کر رہی ہے۔انھوں نے کہا: مجھے معلوم تھا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ جس عورت نے مجھے کام کی پیشکش کی اس کے بارے میں سب جانتے تھے کہ وہ جسم فروشی کرواتی ہے۔ وہ روہنگیا ہے جو یہاں ایک عرصے سے مقیم ہے اور سب اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ لیکن میرے پاس کوئی آپشن نہیں تھا۔ میرے لیے یہاں کچھ تھا ہی نہیں۔میرے گھر کے افراد غائب ہیں۔ میرے پاس پیسہ نہیں ہے۔ میانمار میں میرا ریپ ہوا تھا۔ میں اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ جنگل میں کھیلا کرتی تھی۔ اب مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ کیسے کھیلا جاتا ہے۔بعض والدین اپنے بچوں کے کبھی نہ ملنے کے خوف میں رو پڑے۔ جبکہ دوسرے بہتر زندگی کی امید پر مسکرا دیے حالانکہ انھیں اپنے پیاروں کی ایک عرصے سے کوئی خبر نہیں۔


ایک ماں نے کہا: 'کیمپ سے باہر کوئی بھی جگہ بہتر ہے۔' لیکن ان بچوں کو کون اور کہاں لے جایا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک لڑکی نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا جبکہ دوسری جس نے اپنی عمر 15 سال بتائی وہ سماجی دیکھ بھال میں جانے کے لیے تیار ہو گئی۔یہ لڑکیاں غربت اور جسم فروشی کے درمیان پھنسی نظر آئیں۔ انھوں نے کہا کہ جسم فروشی کے علاوہ ان کے پاس اپنے اور گھر والوں کو کھلانے کا دوسرا راستہ نہیں ہے۔روہنگیا بحران نے بنگلہ دیش میں جسم فروشی کی صنعت کو پیدا نہیں کیا ہے لیکن عورتوں اور بچوں کی فراہمی میں اضافہ کیا ہے۔

مزیدخبریں