”ہومیو پیتھی ادویات کی پوٹینسی ٹھیک ہو تو بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے“
21 مارچ 2018 (20:54)

این سلہری:خون کی بیماریوں میں مبتلا بچوں کے کامیاب علاج سے شہرت پانے والے ہومیو پیتھک ڈاکٹر غلام یٰسین کا تعلق شعبہ طب سے وابستہ گھرانے سے ہے اور انکا خاندان ایلوپیتھی شعبہ سے منسلک ہے جبکہ بڑے بھائی ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں۔ ڈاکٹر غلام یٰسین نے ابتدائی تعلیم ضلع جھنگ سے حاصل کی اور بعد ازاں ہومیو پیتھی کی تعلیم کیلئے لاہور کا رخ کیا اور پھر لاہور ہی کے ہو کر رہ گئے اور صوبائی دارالحکومت میں انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنا لیا۔ انہوں نے 1991ءمیں ہومیو پیتھی مکمل کی اور علاج معالجہ کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ڈاکٹر غلام یٰسین ہو میو پیتھک معالج کی حیثیت سے مختلف ملکوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کرتے رہے پھر لگ بھگ 10 سال تک شہر کے ایک ہومیو پیتھک کالج میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اس دوران ملک بھر میں ہومیو پیتھک ڈاکٹر کی تعلیمی استعداد بڑھانے کیلئے لیکچر بھی دیتے رہے۔پاکستان میں پہلی بار ڈاکٹرغلام یٰسین نے کینسر میں مبتلا مریضوں کے کامیاب علاج کے کیس ہومیو پیتھک کانفرنسوں میں پیش کئے اس ضمن میں انہوں نے علاج سے پہلے، علاج کے دوران اور علاج کے بعد کی مکمل ثبوت پر مشتمل مریضوں کی تمام رپورٹس ، تصاویر اور ویڈیوزپیش کیںجنہیں طب کی دنیا میں انقلاب کا درجہ دیا گیا اور اسکی زبردست پذیرائی کی گئی۔ڈاکٹر غلام یٰسین کا انسانیت کی خدمت کے حوالے سے اہم ترین کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے جنوری2010ءسے خون کی مختلف بیماریوں میں مبتلا بچوں کیلئے مفت علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس میں تھیلیسیمیا ، ہیموفیلیا وغیرہجیسی خطرناک بیماریاں شامل ہیں ۔


نئی بات: ایلوپیتھی اور ہومیو پیتھی میں بنیادی فرق کیا ہے ؟
ڈاکٹرغلام یٰسین: ایلوپیتھی میں مریض کا علاج اس وقت تک شروع نہیں کیا جاتا جب تک معالج کے پاس لیبارٹری کی رپورٹس نہ ہوں اور کوئی تشخیص نہ ہو ۔ مریض اس دوران چاہے تکلیف کی شدت سے تڑپتا رہے مگر ڈاکٹر ٹیسٹ اور رپورٹس کے انتظار میں رہتے ہیں۔ اکثر اوقات کچھ ایسے امراض بھی ہیں جن میں بھاری رقوم ٹیسٹ کروانے پر خرچ کرنے اور طویل انتظار کی زحمت اٹھانے پر آخر کار اس نتیجے پر پہنچا جاتا ہے کہ اس مرض کا تو علاج ہی ممکن نہیں۔ اکثر اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ لیبارٹری رپورٹ غلط ہونے پر سارا علاج ہی الٹا ہو جاتا ہے اور الٹا جان کے لالے پڑ جاتے ہیںاور یہ ایک عام سی بات ہے۔اکثر اوقات ایلوپیتھی میں مریض اپنی کیفیت ، اپنے جذبات، پسند نا پسند ، سونا جاگنا، ٹھنڈا گرم کی خواہش، موسم کی تبدیلی میں جذباتی کیفیات، خوابوں کی دنیااور محبت نفرت کا اظہار کرنا چاہتا ہے مگر ڈاکٹر صاحبان محض رپورٹس تک ہی محدود رہتے ہیںاور انہیں مریض کی صورتحال سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔


نئی بات: ہومیو پیتھی کو عمومی طور پر میٹھی گولیاں اور سست طریقہ علاج تصور کیا جاتا ہے اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
ڈاکٹرغلام یٰسین: جہاں تک بات میٹھی گولیوں کی ہے تو یہ بھی درست ہے کہ ہومیو پیتھی کو لوگوں میں مقبول کرنے اور دوا کھانے میں آسانی پیدا کرنے کی غرض سے گولیوں کو کلوکوز ملا کر میٹھا کیا جاتا ہے جن پر دوائی کے قطرے ڈالے جاتے ہیں تاکہ ہر عمر کے افراد با آسانی دوائی استعمال کر لیںیہی وجہ ہے کہ بچے بھی ہومیو پیتھی ادویات شوق سے استعمال کر لیتے ہیں۔جہاں تک بات ہے سست علاج کی تو یہ بات بالکل غلط اور بے تکی ہے۔ ہومیو پیتھی ادویات کی سلیکشن اگر درست ہو اور دوا کی پوٹینسی بھی ٹھیک ہو تو یہ ایلوپیتھی سے کئی گنا زود اثر ہے ، ادھر زبان پر قطرہ ڈالا اور ادھر تکلیف ختم۔ہومیو پیتھی کے خلاف پراپیگنڈہ بڑے منظم انداز میں کیا جاتا ہے۔ بلڈ پریشر ، شوگر یا کینسر کے شکار مریض کئی کئی ماہ بلکہ کئی کئی سال سے علاج کرا رہے ہوتے ہیں مگر جب ہومیو پیتھی کی طرف آتے ہیں تو انہیں کہا جاتا ہے کہ دو تین سال علاج کروا لیں تو انکا مرض ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ٹھیک ہو جائے گا تو اسے طویل عرصہ تصور کر لیا جاتا ہے حالانکہ وہ پہلے ہی کئی سال سے ادویات استعمال کر رہے ہیں مگر صحتیاب ہونے کیلئے انہیں ہمارا بتایا گیا دورانیہ طویل دکھائی دینے لگتا ہے لہذا آپ اس معاملے کا فیصلہ اب خود کر لیں۔


نئی بات: کیا ہومیو پیتھی میں کینسر ، تھیلیسیمیا، ہیموفیلیا اور دیگر امراض کا تسلی بخش علاج موجود ہے؟
ڈاکٹرغلام یٰسین: جی الحمد اللہ ! ہومیو پیتھی میں ان تمام امراض کا علاج ہے اور ہم پچھلے کئی سال سے علاج کر رہے ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ شفایاب ہو کر نارمل زندگی بسر کر رہے ہیںاور ان میں سے بہت سے کیس میڈکل کانفرنسوں میں پیش کئے جا چکے ہیں۔لیکن شرط یہ ہے کہ ایسے تمام مریضوں پر پوری توجہ دی جائے اور مستقل علاج کیا جائے۔ سحر ویلفیئر فاﺅنڈیشن کے پلیٹ فارم پر ہم وطن عزیز کے پھول جیسے بچوں کو اذیت ناک بیماریوں سے بچانے کیلئے دن رات محنت کر رہے ہیں اور انکی صحتیابی کیلئے کوشاں ہیں۔شروع میں ہم بھی یہی سمجھتے رہے کہ شاید یہ بیماریان لاعلاج ہیں مگر آخر کار مسلسل محنت کے نتیجے میں ہمیں مثبت نتائج حال ہونا شروع ہو گئے اور وہ بچے جو ایلوپیتھی کی طرف سے لاعلاج قرار دیئے گئے تھے اور انکے بارے میں کہا جا چکا تھا کہ اب دعا ہی کی جا سکتی ہے ایسے بچے اللہ کے فضل سے اب صحت مند اور کامیاب زندگی گزار رہے ہیں اور معاشرہ میں اپنا کردار بخوبی ادا کر رہے ہی۔ہمارا یقین ہے اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا کہ ©© اللہ نے جو بیماری اتاری اسکا علاج بھی اتاراہے۔ اسی بناءپر ہم مریض پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اور محنت کرتے ہیںاللہ انہیں شفا دیتا ہے۔ ہمارے ہاں مختلف کینسر اور خاص طور پر خون کے مختلف امراض میں مبتلا مریض آتے ہیں ان میں زیادہ تعداد ایسے افراد کی ہے جو اکثر مایوس اور آخری حد کو پہنچ چکے ہوتے ہیں اللہ کے فضل اور رحمت سے ہم انہیں موت کی وادی سے نکالنے میں کامیاب ہو رہے ہیں جو اب معاشرے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔سحر ویلفیئر فاﺅنڈیشن کے پلیٹ فارم پر اللہ کے فضل وکرم سے بڑی تعداد میں بچے صحتیاب ہو کر اب اپنے ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں معاشرے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔


نئی بات: تھیلیسیمیا، ہیموفیلیا اور خون کے خطرناک امراض کا علاج تو بہت مہنگا ہے ، آپ کس طرح مفت علاج کر رہے ہیں؟
ڈاکٹرغلام یٰسین: یہ واقعی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں ان بیماریوں کو علاج بہت مہنگا ہے اور ڈاکٹروں کی فیسیں بھی بہت زیادہ ہیں مگر اللہ جن لوگوں سے کام لینا چاہتا ہے انہیں لوگوں کی خدمت کیلئے چن لیتا ہے اور انکے لئے آسانیاں پیدا فرما دیتا ہے۔ میری ذاتی پریکٹس بہت اچھی ہے اور کچھ درد دل رکھنے والے لوگ اپنی زکوٰة و عطیات سحر ویلفیئرفاﺅنڈیشن کو دیتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ سلسلہ بخوبی چل رہا ہے۔ زکوٰة محدود ہے جس کے باعث ہمیں خاصی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔


نئی بات: خون کی بیماریوں میں مبتلا بچوں کا علاج تو ہو رہا ہے کیا انکے والدین کا علاج بھی ممکن ہے؟
ڈاکٹرغلام یٰسین:: یہ نہایت مشکل کام ہے بلکہ اسے ناممکن ہی کہا جا سکتا ہے مگر اللہ نے ہر جگہ تحقیق کی گنجائش رکھی ہے اور اللہ کی رحمت سے ہم نے ایک تجربہ کیا ہے ۔ اوکاڑہ کی رہائشی خاتون کو دوران حمل ادویات دی گئی ہیں جس کے نتیجے میں اسکا بچہ تھیلیسیمیا کا شکار ہونے سے محفوظ رہا حالانکہ اسے بتایا گیا تھا کہ اسکا بچہ تھیلیسیمیا کا شکار ہو گا ۔ اس خاتون کے دو بچے صحت مند پیدا ہو چکے ہیںمگر یہ کام ہمارے لئے اس لئے مشکل ترین ہے کہ اس مقصد کیلئے ہمارے پاس ٹیسٹ کرنے کیلئے لیبارٹری موجود نہیں اگر لیبارٹری کی سہولت مل جائے تو ہم اللہ کے فضل سے بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں اور انشااللہ ایک وقت ضرور آئے گا کہ ہم اس قابل ہو جائیں گے کہ ان ماں باپ اور بچوں کو ان اذیت نام بیماریوں سے حمل کے دوران ہی محفوظ کر سکیں گے۔ انشاءاللہ


نئی بات: پاکستان میں ہومیوپیتھی کس مقام پر ہے ؟
ڈاکٹرغلام یٰسین: گزار ش ہے کہ پوری دنیا میں اس وقت ہومیوپیتھی ایلوپیتھی کے مقابلے میں زیادہ پسند کی جا رہی ہے ۔ اور سالانہ لاکھوں لوگ ہومیوپیتھی کے گرویدہ ہو رہے ہیں۔ اور گورنمنٹ ہسپتالوں میں ایلوپیتھی کی طرح اس کی سیٹیں مقرر ہیں۔ مگر بد قسمتی سے وطن عزیز میں اب بھی ہومیوپیتھی کے خلاف بہت بڑا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے ۔ جس کی وجہ گورنمنٹ کے اداروں میں ہومیوپیتھی کو اہمیت نہ دینا اور ہسپتالوں میںہومیوپیتھک ڈاکٹرز لوگوں کی خدمت کے لئے موقع نہ دینا۔ اس وجہ سے لوگ سرکاری اداروںمیں انہی لوگوں سے علاج کروانا چاہتے ہیں۔ جو وہاں موجود ہیں۔ مگر اس کے باوجود پچھلے دس سال میں ہومیوپیتھی نے اپنی مدد آپ کے تحت عوام میں بہت مقبولیت حاصل کر لی ہے۔ اس کی ایک وجہ ہومیوپیتھک ڈاکٹرز کی قابلیت جس میں اکثر اوقات وہ کینسرز کااور اُن بیماریوں کا جن کو ایلوپیتھی لا علاج قرار دیتی ہے، کا مکمل علاج کر لیتے ہیں۔ اور لوگ کئی سال تک صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔ جس کی وجہ سے دوسرے لوگ بھی ہومیوپیتھی سے علاج کروانا پسند کر رہے ہیں۔ انشاءاللہ امید ہے کہ آئندہ آنے والے برسوں میں ہومیوپیتھی عوام میں مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دے گی۔


نئی بات: حکومت تھلیسیما جیسے مرض کے خلاف کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کی بہت حوصلہ افزائی کرتی ہے ، اس حوالے سے آپ سے کوئی رابطہ کیا گیا۔
ڈاکٹرغلام یٰسین: جی نہیں! آٹھ سال گزرنے اور انتھک کوشش کے باوجود بھی آواز سرکاری ایوانوںمیں نہیں پہنچ سکی۔ شائد اُس کی وجہ ایلوپیتھی لابی ہے۔ جو اپنے علاوہ کسی بھی طریقہ علاج کو پاکستان میں مقبول نہیں ہونے دیتی۔میں اپنے تجربے کے حساب سے پورے وثوق سے یہ بات کہتا ہوں کہ اگر حکومت ان تمام امراض میں ہمیں ہومیوپیتھی کو علاج کرنے کی سہولت دی جائے تواربوں روپے کے بجٹ جو ان بیماریوں کے لئے مختص کیا جاتا ہے کو بہت حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ نتائج اس سے کہیں زیادہ بہتر حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ اور لوگوں کی زندگیاں ان اذیت ناک بیماریوں سے بچا کر اس معاشر ے میں صحت مند زندگی گزارنے کا سبب بنا جا سکتا ہے۔ اور معاشرے کے صحت مندحسن کو چار چاند لگائے جا سکتے ہیں۔ اور مزید کوشش کرکے آنے والی نسل کو بھی ان موذی مرض سے چھٹکارا دلایا جا سکتا ہے۔ میں امید کرتا ہوںکہ ہماری یہ بات آپ کے توسط سے ایوان اقتدار تک ضرور پہنچے گی اور لوگوں کی صحت کو بہتر بنانے کےلئے حکومت ہماری خدمات سے ضرور فائدہ حاصل کرے گی۔ ہماری دعا ہے کہ پاکستانی معاشرہ صحت اور تندرستی میں پوری دنیا میں ایک مثال بنے۔


نئی بات: ادارے میں کون کون سی بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے ؟
ڈاکٹرغلام یٰسین: ہمارے ہاں تھیلیسمیا، ہیموفیلیا کے علاوہ بلڈ کینسر میں مبتلا بچوں کو ان کی ضرورت کے مطابق بلڈ مہیا کیاجاتا ہے،اور ان کا علاج کیا جاتا ہے ۔


نئی بات: سحر ویلفیئر فاﺅنڈیشن کی کتنی برانچیں ہیں اور کتنے بچے رجسٹرڈ ہیں؟
ڈاکٹرغلام یٰسین: جنوری 2010ءمیں لاہور میں ہم نے اس کا سنگ بنیاد رکھا۔ ہم نے دیکھا کہ یہاں تھیلسمیا اور ہیمو فیلیا کے بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ جبکہ ہمارے پاس پورے پاکستان سے 850سے زائد بچے رجسٹرڈ ہیں۔


نئی بات: لاہور میں تو پہلے بھی بہت سی این جی اوز تھیلسمیا اور ہیمو فیلیا کے بچوں کے لئے کما کر رہی ہیں۔آپ نے سحر ویلفیئر فاﺅنڈیشن کا سنگ بنیاد رکھنے کی ضرورت کیوں محسوس کی ہے ؟
ڈاکٹرغلام یٰسین: جی بالکل آپ درست کہہ رہے کہ یہاں پہلے بھی بہت سی این جی اوز کام کر رہی ہیں۔لیکن وہ سب این جی اوز بلڈ ٹرانسفیوژن کرتی ہیں۔ کوئی مستقل اور پائیدار علاج نہیں ہے۔


نئی بات: یہ بیماری دنیا میں سب سے پہلے کہاں تھی؟
ڈاکٹرغلام یٰسین: ملک سائپرس سے یہ بیماری چلی اور پوری دنیا کے ممالک میں پھیل گئی لیکن آج بہتر منصوبہ بندی اور قانون پر عملدرآمد کے باعث سائپرس میں اس کا ایک بھی مریض نہیں ہے۔ وہاں صرف حکومتی اقدامات کے مطابق شادی سے قبل صرف نکاح خواں ایچ بی الیکٹو فورسز بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹ دیکھ کر نکاح پڑھاتے ہیں۔ جس کی بدولت آج وہاں ایک بھی تھلسیمیا اور ہیمو فیلیا کا مریض نہیں ہے۔


نئی بات: کیا آپ کو حکومت کی طرف سے مالی تعاون بھی میسر ہے؟
ڈاکٹرغلام یٰسین: جی نہیں یہ ادارہ گزشتہ آٹھ سالوں صرف درد دل رکھنے والے مخیر حضرات کے تعاون سے چل رہاہے۔ ہمیں ان بچوں کے لئے ماہانہ لاکھوں روپے درکار ہوتے ہیں۔ ہمارے زیادہ اخراجات مریضوں کو ادویات دینے پر ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس تمام مریضوں کے ایڈریس بھی محفوظ ہیں۔ اور ان کا پورا ڈیٹا سنبھال کے رکھا جاتا ہے۔


نئی بات: کیا آپ کو مریضوں کے لئے عطیات اکٹھا کرنے میں بھی مشکلات درپیش آئیں؟
ڈاکٹرغلام یٰسین: جی ہاں بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن بطور انسان انکی تکلیف دیکھی نہیں جاتی ہے۔ اپنی مشکلات بھلا کر ان کے لئے ہر کام کرنے لئے سال کے 12مہینے اور دن کے 24گھنٹے تیار رہتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ سحر فاﺅنڈیشن دکھی مریضوں کی خدمت کا ایک عظیم الشان منصوبہ ہے۔ جس سے سینکڑوں مریض فیض یاب اور صحت یاب ہو رہے ہیں۔ انسانیت کی خدمت کے اس مشن میں تعاون کرنے والے لوگ بلا شبہ دنیا و آخرت میں انعام و اکرام کے مستحق ہیں۔ یہ بیماریاں عمر بھر ساتھ نہیں چھوڑتی، جب کہ مریض کے ساتھ اُس کے گھر والے بھی اذیت میں زندگی گزارتے ہیں۔ سحر فاﺅنڈیشن گزشتہ آٹھ سالوں سے بلا تعطل ایسے لاچار و بے بس مریضوں کو مفت علاج و معالجہ کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔ جس سے اس ادارہ کی خدمات کا بخوبی اندازا لگایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس ادارے کو ملک بھر میں پھیلانا چاہتے ہیں۔ اور چاہتے ہیں کہ ایک ایسا ماڈل ہسپتال بنایاجائے۔ جہاں ایسے مریضوں کی مکمل دیکھ بھال کی جائے اور مستقل بنیادوں پر اچھے طریقہ سے علاج کی سہولت دی جائے۔


ای پیپر