پاناما جمع اقامہ فیصلہ۔۔۔ سپریم کورٹ کے جج کے چشم کشا ریمارکس
21 مارچ 2018



عدالت عظمیٰ میں شیخ رشید احمد کی اثاثے چھپانے کے الزام میں ان کے انتخابی حریف شکیل اعوان کی جانب سے دائر کردہ نا اہلی کی درخواست پر سماعت کے دوران بنچ کے فاضل رکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایسے ریمارکس دیئے ہیں جو نہ صرف ٹیلی ویژن اور اخبارات پر شہ سرخیوں کا باعث بنے ہیں بلکہ ان میں پاناما جمع اقامہ فیصلے کے تحت بطور وزیراعظم نواز شریف کی نا اہلی کے بارے میں ایسا اور بنیادی سوال اٹھایا گیا ہے جو اس مقدمے اور نا اہلی کے فیصلے کی نوعیت کو بدل سکتا ہے۔۔۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پاناما مقدمہ اور اس پر صادر کیے جانے والے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے اس میں فلیٹس کی بجائے اقامہ پر فیصلہ دے کر طے کر دیا گیا ہے کہ غلطی کی سزا نا اہلی ہو گی۔۔۔ اور یہ کہ کچھ مقدمات سخت نوعیت کے ہوتے ہیں اور کچھ نہیں، مقدمات میں بھی نیت دیکھی جاتی ہے۔ اس دوران بنچ کے سربراہ جسٹس عظمت سعید نے جو پاناما والے بنچ کے رکن بھی تھے کہا دیکھنا یہ ہو گا غلطی جان بوجھ کر کی گئی ہے یا غیر ارادی طور پر ہوئی ہے۔۔۔ جسٹس عظمت نے یہ بھی کہا آپ کیوں سوچ رہے ہیں ہمیں کیس کی سمجھ نہیں آئی۔۔۔ کیا پاناما کیس میں غلطی تسلیم کی گئی ہے جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کیا غلطی تسلیم کرنے یا نہ کرنے پر سپریم کورٹ نے کوئی فیصلہ دیا ہے؟ کچھ مقدمات سخت نوعیت کے ہوتے ہیں کچھ نہیں ۔۔۔ ایک غلطی ایسی بھی ہوتی ہے جس میں فائدہ بھی دیا جاتا ہے کیا پاناما کیس میں سخت لائبلٹی کا اصول طے کر دیا گیا ہے۔ کیا اس کیس میں وضع کردہ اصولوں کا سب پر یکساں اطلاق نہیں ہو گا۔۔۔ اگر شیخ رشید قصوروار ثابت ہوئے تو نااہل ہو جائیں گے۔۔۔ پاناما کیس میں معاملہ لندن فلیٹ کا تھا لیکن نا اہل اقامہ پر کیا گیا۔۔۔ ایک انگلی اگر کسی پر اٹھاتے ہیں تو چار انگلیاں اپنی طرف بھی اٹھتی انہوں نے مزید کہا بات پاناما کے فیصلے پر نہیں رکے گی کیونکہ ایک اصول کے دو معیار نہیں ہو سکتے۔۔۔ اگر غلطی ہے تو نااہلی ہو گی۔۔۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا زیر غور (شیخ رشید) کیس میں غلطی تسلیم کی گئی ہے دیکھنا یہ ہو گا غلطی جان بوجھ کر کی گئی ہے یا غیر ارادی طور پر ہوئی ہے۔۔۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا پاناما لیکس کے فیصلے نے طے کر دیا ہے جب کوئی امیدوار غلطی کرے گا تو وہ الیکشن سے باہر ہے۔۔۔ انہوں نے کہا امریکی صدر تو کہتا ہے کہ وہ فلاں ٹیکس ریٹرنز ظاہر نہیں کریں گے جبکہ پاکستان میں غلطی کرنے پر نا اہلی ہو جاتی ہے۔
اس میں شک نہیں پاناما جمع اقامہ مقدمے کا فیصلہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں منفرد نوعیت کا ہے۔۔۔ شاید کوئی فیصلہ ایسا ہو جس کے اجراء یا صدور کے معاً بعد جید ماہرین آئین و قانون کی جانب سے اس کے کمزور یا ناقص پہلوؤں کی اس فوری طریقے سے نشاندہی کی گئی ہو جتنی اس فیصلے کی۔۔۔ لیکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے جو ریمارکس سامنے آئے ہیں ان کی اہمیت غیر معمولی ہے۔۔۔ اس لیے کہ یہ ناقدانہ خیالات سپریم کورٹ کے ایک فاضل جج کی زبان سے سپریم کورٹ ہی کے ایک فیصلے پر ادا ہوئے ہیں۔۔۔ جس میں پاناما فیصلے کی کمزور یا ناقص بنیادوں کی جانب واضح طریقے سے نشاندہی کی گئی ہے۔۔۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے بیان سے پہلا سوال یہ سامنے آتا ہے۔۔۔ پاناما لیکس کے حوالے سے مقدمہ خاص الزام یعنی لندن فلیٹس کی ملکیت پر تھا۔۔۔ لیکن اس پر فیصلہ صادر کرتے وقت اقامہ کا سہارا لیا گیا۔۔۔ ظاہر ہے اس پر قانون کا بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ مقدمے کی سماعت مختلف الزام پر کی جا رہی ہے۔۔۔ فیصلہ بالکل نئے قصور پر دے دیا جاتا ہے جس کا فریق مخالف کی عرضداشت میں ذکر یا حوالہ تک نہیں۔۔۔ اس کی پاداش میں ملزم کو الیکشن لڑنے کے لیے نااہل بھی قرار
دیا جاتا ہے جسٹس فائز عیسیٰ نے یہ الفاظ تو نہیں کہے لیکن ان کے ریمارکس پڑھ کر لامحالہ سوال پیدا ہوتا ہے کیا اس سے انصاف کے فطری تقاضے پورے ہوتے ہیں۔۔۔ اسی سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید شیخ نے (جو پاناما بنچ کے رکن تھے) غالباً فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کیا پاناما کیس میں غلطی تسلیم کی گئی ہے۔۔۔ جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کیا غلطی تسلیم کرنے یا نہ کرنے پر سپریم کورٹ نے کوئی فیصلہ دیا ہے۔۔۔ دوسرے الفاظ میں ان کا مدعا یہ تھا اس بارے میں عدالت عظمیٰ نے باقاعدہ لکیر نہیں کھینچ دی اگر غلطی تسلیم کر لی جائے تو معاف کر دیا جائے گا بصورت دگر مستوجب سزا ہو گا۔۔۔ غلطی ہو گی تو نااہلی کی سزا بھی قبول کرنا پڑے گی۔۔۔ آپ اس کا اعتراف کریں یا نہ کریں۔۔۔ انہوں نے مزید کہا بعض فیصلوں میں سختی کی جاتی ہے بعض میں نہیں۔۔۔ اس سے ان کی شاید یہ مراد تھی پاناما مقدمے میں اقامہ کے الزام پر وزیراعظم کو نا اہل قرار دے کر سختی سے کام لیا گیا حالانکہ نرمی بھی برتی جا سکتی تھی۔۔۔ اس سے دہرے معیارات سامنے آتے ہیں۔۔۔ ان کا مزید کہنا تھا غلطی ایسی بھی ہوتی ہے جس میں فائدہ بھی دیا جاتا ہے یہ بات کہہ کر جسٹس فائز عیسیٰ نے انصاف کے ایسے اصول کی جانب توجہ دلائی ہے جس سے قانون کا معمولی طالبعلم کیا ہر باشعور شخص واقف ہے کہ ملزم کو Benefit of doubt دیا جاتا ہے لیکن پاناما مقدمے میں اصل الزام پر کوئی فیصلہ صادر نہ ہوا دوسرے اور اصل مقدمے سے غیرمتعلق جس الزام کی آڑ میں تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کو بیک گونی دوگوش نکال باہر کیا گیا اس پر اسے شک کے فائدے کی رعایت دی جا سکتی تھی جس سے عملاً انکار کر دیا گیا۔۔۔ انہوں نے یہ آبزرویشن بھی دی کہ کیس میں سخت لائبلٹی کا اصول طے کر دیا گیا ہے لہٰذا جب کوئی امیدوار غلطی کرے گا تو وہ الیکشن سے باہر ہے۔۔۔ بات پاناما فیصلے پر نہیں رکے گی کیونکہ ایک اصول کے دو معیار نہیں ہو سکتے اگر غلطی ہے تو نااہلی ہو گی۔۔۔ شیخ رشید پر بھی فیصلے کا اطلاق اسی اصول کے تحت ہونا چاہیے۔۔۔ یہ نتیجہ اخذ کر کے سپریم کورٹ کے فاضل جج کی حیثیت سے جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنی ہی عدالت کے فیصلے کے سخت ترین پہلو کو اس طرح واشگاف کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے والے کسی شخص کی بشری غلطی کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔۔۔ جو ایک دفعہ سرزدہو گئی وہ ہمیشہ کے لیے اس کے دامن پر داغ بن کر چمٹ جائے گی۔۔۔ معافی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔۔۔ کیا اس سے انصاف کے کم از کم تقاضے پورے ہوں گے اور آئندہ کوئی امیدوار اہلیت کے اس سخت ترین معیار پر پورا اتر پائے گا۔۔۔ اقامہ کے حوالے سے برطرف شدہ وزیراعظم کا قصور یہ تھا انہوں نے بیٹے کی کمپنی میں اپنے نام درج کردہ تنخواہ (جسے انہوں نے کبھی وصول نہیں کیا) اپنے اثاثوں میں ظاہر نہیں کی لہٰذا ہمیشہ کے لیے نااہل ٹھہرا دیئے گئے۔۔۔ اسی تناظر میں جسٹس فائز عیسیٰ نے امریکی صدر کے ایک حالیہ بیان کا حوالہ دیا کہ وہ فلاں ٹیکس ریٹرنز ظاہر نہیں کریں گے جبکہ پاکستان میں اس پر نااہلی مسلط کر دی جاتی ہے۔
جسٹس فائز عیسیٰ کے یہ ریمارکس مزید کسی تبصرے کے محتاج نہیں۔۔۔ چونکہ یہ سپریم کورٹ کے حاضر جج کے خیالات ہیں لہٰذا پاناما فیصلے پر تنقید کرنے والے عام ماہرین آئین و قانون کی آراء کے مقابلے میں سند کا درجہ رکھتے ہیں۔۔۔ انہوں نے شیخ رشید کے خلاف ملتے جلتے مقدمے کی سماعت کے دوران ان خیالات کا اظہار کر کے پاناما فیصلے کی اصولی اور قانونی بنیادوں کے کھوکھلے پن کو کھول کر بیان کر دیا ہے۔۔۔ چونکہ اس فیصلے نے محض ایک شخص کو آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل نہیں قرار دیا بلکہ اس کے اندر پائی جانے والی سختی نے پاکستانی عوام کے ہاتھوں تیسری مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کو اس کے منصب سے فارغ کر کے ملک کی تاریخ اور جاری سیاسی صورت حال پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔۔۔ ایسی نظیر قائم کر دی ہے کہ آسمان سے کوئی فرشتہ آ کر ہی سخت ترین معیارات پر پورا اتر سکتا ہے۔۔۔ صرف اتنا نہیں ہوا بلکہ اس فیصلے کے اطلاق کے بعد پاکستان انتہا درجے کی غیریقینی صورت حال سے دوچار ہو گیا ہے۔۔۔ فیصلہ اور اس کے تحت ہونے والی برطرفی عوام کے اندر نوازشریف کی مقبولیت کو کم نہیں کر سکی۔۔۔ بلکہ جیسا کہ عوامی جلسوں اور پے در پے ضمنی انتخابات میں اس کے امیدواروں کی کامیابی سے ثابت ہوا ہے اس میں قدرے اضافہ ہوا ہے۔۔۔ گویا نہ صرف فیصلے میں قانونی اور اصولی سقم پائے جاتے ہیں بلکہ ملک کے عوام کی بھاری اکثریت نے بھی اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔۔۔ لہٰذا انصاف اور ملک کے بہترین مفاد دونوں کا تقاضا ہے کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے کا ازسرنو جائزہ لے۔۔۔ اس کے لیے کیا بہتر نہیں ہو گا کہ عدالت عظمیٰ کا فل بنچ جس میں عدالت عظمیٰ کے تمام جج شامل ہوں اس کے جملہ پہلوؤں اور مثبت و منفی اطلاقات کی پوری معروضیت اور جامعیت کے ساتھ جانچ پرکھ کرے۔۔۔ دوران سماعت فیصلے کے آئینی اور قانونی پہلوؤں پر چوٹی کے ماہرین آئین و قانون کی آراء بھی حاصل کی جائیں۔۔۔ پھر ایک نتیجے تک پہنچا جائے تاکہ انصاف کے حقیقی تقاضے پورے ہو سکیں۔۔۔ اور ایک ایسا فیصلہ نظیر بن کر پاکستان کے سیاسی اور جمہوری عمل کو مخدوش کر کے نہ رکھ دے جس کے اندر کئی سقم پائے جاتے ہیں۔


ای پیپر