عام انتخابات 2018ء اور میڈیا کا ضابطہ اخلاق
21 مارچ 2018 2018-03-21

اگلے عام انتخابات میں محض چندماہ باقی رہ گئے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم کی حکمت عملی، منصوبہ بندی اور طریق کار کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔ جب تک الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا ابھار نہیں آیا تھا تو سیاسی جماعتیں روایتی طریقوں سے ہی اپنا پیغام لوگوں تک پہنچاتی تھیں۔ اس وقت ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے سیاسی پیغام پہنچانا اور انتخابی مہم چلانا ممکن نہیں تھا کیونکہ دونوں پر سرکار کا مکمل کنٹرول تھا۔ اس وقت اخبارات ہی انتخابی مہم اور انتخابی پیغام کو پہچانے کا مؤثر ذریعہ تھے۔ اس کے علاوہ پوسٹرز، بینرز، لیف لٹس، ہینڈبل اور سٹیکرز کے ذریعے سیاسی جماعتیں اور امیدوار اپنا پیغام، منشور، پروگرام اور نعرے لوگوں تک پہنچاتی تھیں۔ اس دور میں رکشے اور تانگے بھی تشہیر کا اہم ذریعہ ہوتے تھے۔ گلیوں اور محلوں میں سیاسی کارکنوں میں جوڑ پڑتا تھا۔ سیاسی کارکن جماعتوں کی رونق اور جان ہوتے تھے۔ سیاسی جماعتیں مقامی سطح پر اپنے دفاتر رکھا کرتی تھیں۔ اور جیسے ہی انتخابات نزدیک آتے اور انتخابی مہم کا آغاز ہوتا تو انتخابی دفاتر سج جاتے۔ سیاسی کارکن اپنے گلی محلوں اور علاقوں میں اپنی جماعت اور امیدوار کا پیغام پہنچاتے۔ نعروں کے مقابلے ہوتے اور نت نئے نعرے تخلیق کیے جاتے جن میں سے کچھ تو قابل اشاعت ہوتے اور کچھ صرف مخالفین کی بھڑاس نکالنے کا ذریعہ ہوتے۔ ہوٹلوں، چائے خانوں اور تھڑوں پر بحث و مباحثہ چلتا، عوامی تجزیے اور جائزے پیش کیے جاتے۔ اس وقت سیاست میں نہ تو اتنے سرمایہ کار آئے تھے اور نہ ہی سیاست پر دولت اور سرمائے کا مکمل غلبہ ہوا تھا۔ سیاسی کارکن ابھی ناپید نہیں ہوئے تھے۔

21 ویں صدی میں بہت کچھ بدل گیا۔ سیاست کے طور طریقے اور چلن بدل گئے۔ اور یہاں تک کہ سیاسی جماعتیں بھی بدل گئیں۔ جو کام کبھی سیاسی کارکن رضا کارانہ طور پر کرتے تھے وہ زیادہ تراب پیسے کے ذریعے ہونے لگے ہیں۔ پہلے پوسٹرز، بینرز اور جھنڈے سیاسی کارکن لگاتے تھے اب یہ کام فلیکس بنانے والے اور دیگر لوگ کرنے لگے ہیں۔ ٹھیکے داری اور منڈی کے عہد میں ہر کام ٹھیکے پر ہوتا ہے۔ اب کسی کو سیاسی کارکن کے ناراض ہونے کی کیا پروا ہے۔ بلکہ اب تو ان کے ہونے یا نہ ہونے سے بھی بڑے لیڈروں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اب ہر کام پیسوں سے ہوتا ہے۔ جبکہ اس وقت یہ سب کام سیاسی لگن، نظریے اور جوش و خروش سے ہوتے تھے۔ بہرحال یہ سب کچھ اب نہیں رہا۔ کمرشل ازم، سرمائے کا غلبہ اور غیر سیاسی رجحانات بہت کچھ ختم کر گئے۔

اب ہم 24 گھنٹے کے نیوز چینلز اور سوشل میڈیا کے عہد میں رہتے ہیں۔ ہماری سیاست نیوز سٹوڈیوز اور بڑے لیڈروں کے بڑے گھروں کے عالی شان ڈرائنگ روموں میں مقید ہو گئی ہے۔ 21 ویں صدی کی سیاست میں میڈیا کا بہت عمل دخل ہے۔ اس میں میں سٹریم اور سوشل میڈیا دونوں شامل ہیں۔ اب سیاسی جماعتیں اپنی آدھی سیاسی جنگ میڈیا کے ذریعے لڑتی ہیں۔ اس صورت حال میں میڈیا کا کردار بہت بڑھ گیا ہے۔ پہلے سیاسی جماعتوں کے سیاسی کارکن اور متحرک ونگز ہوتے تھے۔ آج کے عہد میں سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہوتے ہیں۔ اور اب تو مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف سوشل میڈیا کنونشن بھی منعقد کر رہی ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ عام انتخابات کی کوریج کے حوالے سے میڈیا کا ضابطہ اخلاق مرتب کیا جائے تا کہ میڈیا کی کوریج کے حوالے سے نہ تو کسی مخصوص سیاسی جماعت کو زیادہ فائدہ پہنچے اور نہ ہی کسی کو نقصان ہو۔ میڈیا کا ضابطہ اخلاق اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ میڈیا ہی وہ ذریعہ ہے جو لوگوں کو معلومات اور تجزیے پہنچاتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے حوالے سے اپنی رائے دیکھنے، سننے اور پڑھنے والوں تک پہنچاتا ہے۔ عام لوگ میڈیا کے ذریعے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر ووٹ ڈالنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ میڈیا کی رائے لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس لیے میڈیا کوریج سے نہ تو کسی سیاسی جماعت اور لیڈر کو بے جا فائدہ پہنچنا چاہیے اور نہ ہی کسی کو نظر انداز کر کے سیاسی نقصان پہنچنا چاہیے۔ عام انتخابات کے حوالے سے زیادہ تر الیکشن کمیشن، سیاسی جماعتوں اور حکومتی مداخلت کے حوالے سے بحث و مباحثہ ہوتا ہے مگر اس حوالے سے میڈیا کے کردار پر بہت کم بات ہوتی ہے۔

حالانکہ 2013ء کے عام انتخابات کی کوریج کو سامنے رکھ کر اگلے عام انتخابات کی کوریج کے حوالے سے ضابطہ اخلاق بننا چاہیے۔ اس حوالے سے میڈیا ماہرین، سیاسی جماعتوں اور انتخابی ماہرین کی مدد سے ایک جامع ضابطہ اخلاق اور لائحہ عمل بننا چاہیے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں میڈیاسے زیادہ تر کوریج اور پرائم ٹائم تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کو دیا تھا۔ میڈیا کوریج میں چھوٹی اور علاقائی جماعتوں کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ میڈیا کی توجہ کا مرکز زیادہ تروہی سیاسی جماعتیں رہی تھیں جنہوں نے کئی ہفتوں تک مہنگے اشتہارات چلائے تھے۔ 2013ء کے انتخابات کی کوریج کو دیکھا جائے تو تحریک انصاف کو بہت زیادہ وقت دیا گیا تھا حالانکہ اس وقت تحریک انصاف پارلیمنٹ میں بھی موجود نہیں تھی۔ بڑے نیوز چینلز نے تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کو زیادہ تر وقت دیا تھا۔ میڈیا کوریج سے لگتا تھا کہ جیسے انہی دونوں جماعتوں کے درمیان مقابلہ ہے۔ میدیا بلوچستان، اندرون سندھ اور KPK کی علاقائی جماعتوں کو بھی نظر انداز کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چھوٹے صوبوں کے مسائل اور مشکلات پاکستان کے سیاسی بیانیے کا حصہ نہیں بن پاتے۔

پاکستانی نیوز چینلز، اخبارات، ایف ایم ریڈیوز اور نیوز ویب سائٹس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ واشتہارات اور الیکشن کوریج کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ بزنس حاصل کریں۔ سیاسی پیغامات، انتخابی مٹیریل اور دیگر مواد نشرکریں اور پیسے کمائیں مگر یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس سارے معاملے میں پیسے کمانا ہی واحد مقصد نہیں ہونا چاہیے۔ میڈیا پیسے ضرور کمائے مگر پیسے کے زور پر انتخابی کوریج کی روایت نہ تو صحت مند ہے اور نہ ہی جمہوری ہے۔

دیگر ممالک کی طرح یہ ضروری ہے کہ انتخابی مہم کا آغاز ہوتے ہی الیکشن کمیشن کوریج کے حوالے سے ضابطہ اخلاق بنائے۔ اس حوالے سے یہ ضروری ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں جو سرمائے کی کمی کی وجہ سے میڈیا پر وقت حاصل نہیں کر سکتیں اور نہ ہی بڑے اشتہارات دے سکتی ہیں انہیں الیکشن کمیشن وقت خرید دے تاکہ وہ میڈیا کے ذریعے اپنا پیغام عوام تک پہنچا سکیں۔ اسی طرح انتخابات کے حوالے سے بھی میڈیا کو پابند بنایا جائے کہ وہ چھوٹی جماعتوں کے نمائندوں کو بھی موقع دیں تا کہ وہ اپنی جماعتوں کا نقطہ نظر پیش کر سکیں۔ میڈیا کوریج میں سب سے زیادہ نا انصافی بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ جن کا کوئی ذکر ہی نہیں کرتا۔

عوامی ورکرز پارٹی بائیں بازو کی نمایاں جماعت ہے اور ہر انتخابات میں اپنے امیدوار پورے ملک سے کھڑے کرتی ہے مگر اسے کسی بھی حوالے سے کوریج نہیں ملتی۔

میڈیا کوریج میں تینوں بڑی جماعتوں کو مکمل غلبہ اور تسلط حاصل ہے۔ عام دنوں میں بھی یہ روش قابل تحسین نہیں ہے مگر انتخابی مہم کے دوران تو یہ صورت حال بالکل بھی قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔ میڈیا جتنے چاہے پیسے کمائے مگر اسے پابند بنایا جائے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران ایک مخصوص وقت دیگر جماعتوں کے لیے بھی مختص کرے تا کہ اس نا انصافی کا خاتمہ ہو۔

یہ درست ہے کہ ایڈیٹوریل پالیسی بنانا کسی بھی میڈیا ہاؤس کا حق ہے اور اس پر کوئی قدغن نہیں ہونی چاہیے مگر اس پالیسی کے ذریعے کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونی چاہیے۔ انتخابی مہم کے حوالے سے ایک یکساں لائحہ عمل اور پالیسی بننی چاہیے تاکہ اس کے ساتھ یکساں اور برابری کا سلوک ہو۔ جو غلطیاں، خامیاں اور کمزوریاں اس حوالے سے 2013ء میں سامنے آئی تھیں ان کو سامنے رکھتے ہوئے ایک جامع پالیسی بننی چاہیے تا کہ تمام سیاسی جماعتیں جو کہ متحرک اور فعال ہیں اور قومی سطح پر اپنا وجود رکھتی ہیں اپنا پیغام اور نقطۂ نظر عوام تک پہنچا سکیں۔ اس سارے عمل کو صاف اور شفاف ہونا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کے منشور اور پروگرام کو عوام تک پہنچانے کے لیے میڈیا کا اہم کردار ہے مگر یہ صرف ان جماعتوں کا ہی حق نہیں ہے جو بڑی مقدار میں سرمایہ خرچ کر سکتی ہیں بلکہ ان جماعتوں کا بھی حق ہے جو محنت کش طبقے اور غریب عوام سے تعلق رکھتی ہیں۔ سیاست اور انتخابات صرف پیسے والوں کا ہی حق نہیں ہے بلکہ مظلوم و محکوم طبقات کو بھی اس کا حق ہے۔


ای پیپر