ایسا ہی ہونا تھا۔۔۔
21 مارچ 2018

دیکھا جائے تو ڈاکٹر عامر لیاقت کی پی ٹی آئی میں شمولیت کوئی خبرہی نہیں۔ ایسا ہونا ہی تھا ۔ماضی کے آن لائن عالم پی ٹی آئی نہ جاتے تو کہاں خیمہ زن ہوتے۔خبر تو تب بنتی جب کوئی غیر متوقع فیصلہ کرتے۔پی ٹی آئی میں یہ آخری انٹری نہیں۔کمر باندھے چلنے کو کئی یار بیٹھے ہیں۔
ایک زمانہ تھا پی ٹی آئی کے پاس ساکھ تھی۔ البتہ پاپولرٹی اور قابل انتخاب شخصیات کی کمی تھی۔ اب پی ٹی آئی کے پاس مقبولیت بھی ہے۔انتخابات لڑنے کے خواہشمند قابل انتخاب شخصیات سیاسی خانوادوں کی قطار یں لگی ہوئی ہیں۔اورسب سے بڑھ کر اقتدار دینے والوں کی سر پرستی بھی۔لہٰذا اب کون ہو گا جو اقتدار سے چند قدم دور کھڑی پارٹی میں شامل نہ ہونا چاہے۔اقتدار ملتا ہے یا نہیں یہ الگ بحث ہے۔اقتدار اختیار کے فیصلے تو مالک کائنات ہی کرتے ہیں۔انسان تو بس جمع تفریق ہی کرتا ہے۔جس کا نتیجہ کبھی کبھار صفر ہی نکلتا ہے۔ایسے میں جب تمام حالات درست سمت میں جاتے نظر آتے ہوں۔بظاہر کوئی رکاوٹ باقی نہ ہو۔شمولیت کے خواہشمند وں کی لائنیں لگی ہوئی ہوں۔ایسے ہی جیسے نوکری کے متلاشی سرکاری دفتروں کے باہر سفارشی رقعہ ہاتھوں میں اٹھائے ایک دوسرے کو دھکے دیتے نظر آتے ہیں۔پاکستان میں ہردس سال بعد ایسا ہی ہوتا ہے۔کبھی مسلم لیگ (ن) کبھی مسلم لیگ (ق) اور اب تبدیلی پارٹی۔بس نام ہی کا فرق ہوتا ہے۔پیپلز پارٹی کو فی الحال یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا۔ اس نے جتنے الیکشن لڑے اس میں کھینچ تان کو ہی امیدوار پورے کیے۔سندھ کی صورت حال البتہ مختلف ہے۔سندھ میں پیپلز پارٹی کا ٹکٹ فتح کا پروانہ ہے۔اگلے عام انتخابات میں شنیدہے کہ اقتدار کے مالکوں سے ماضی کی اینٹی اسٹیبلشمنٹ پارٹی کی قر بتیں بڑھ رہی ہیں۔اب دیکھتے ہیں کہ کب ٹکٹ کے خواہشمند بلاول ہاؤس کی جانب دوڑتے ہیں یا نہیں۔کبھی کبھار تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں آخری تجزیہ میں
ہماری پیاری پیپلز پارٹی کے ساتھ ہاتھ ہی نہ ہو جائے۔کریم ساری پی ٹی آئی لے جائے اور پتلی چھاچھ سب سے بھاری کے حصہ میں آئے۔بہر حال کس کے ہاتھ میں کیا آتا ہے اس کیلئے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔کئی سال قبل ہر الیکشن میں نئی پارٹی کی جانب سے الیکشن لڑنے کے عادی سیاسی دوست نے کہا تھا کہ عمران خان ایسا اچھا انجن ہے جس کی بوگیاں موجود نہیں۔کمال یہ ہے کہ اب انجن بھی موجود ہے۔لیکن بوگیاں ایسی کہ ہر ایک پر الگ پارٹی کی مہر لگی ہوئی ہے۔ڈاکٹر عامر لیاقت نے سیاست میں قدم ایم کیو ایم کے ذریعے رکھا۔ 2002 ء میں کس کی مجال تھی ایم کیو ایم کا مقابلہ کرتا۔ڈاکٹر صاحب بھاری اکثریت سے جیتے۔اس زمانے میں کراچی کا مینڈیٹ ایم کیو ایم کی مٹھی میں بند رہتا تھا ۔اوپر سے بہادر کمانڈو جناب جنرل پرویز مشرف کی برادرانہ سر پرستی حاصل تھی۔عامر لیاقت کے والد محترم شیخ لیاقت حسین اور والدہ دونوں قومی اسمبلی کے ارکان رہ چکے تھے۔2002 ء کا الیکشن لڑنے سے قبل نجی ٹی وی چینل کے ذریعے شہرت حاصل کر چکے تھے۔خواتین کی دینی مسائل پر رہنمائی عامر لیاقت کی وجہ شہرت تھی۔بہر حال عامر لیاقت نے الیکشن جیتا او ر وزیر مملکت برائے مذہبی امور بن گئے۔سندھ کے وزیر اعلیٰ علی محمد مہر سے ان کی گاڑھی چھنتی تھی۔ڈاکٹر عامر لیاقت حسین شہرت کی مزید بلندیا ں چڑھتے گئے۔عامر لیاقت حسین کو متبادل بشارت کے طور پر گردانہ گیا۔پاکستان میں قیادت پر فائز فرد کسی کو اپنے متبادل کے طور پر پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتا۔عامر لیاقت نے گھیرا تنگ ہوتے دیکھا تو باقاعدہ درخواست دے کر سیاست سے کنارہ کشی اور جان بخشی کرائی۔اس دوران انہوں نے ٹی وی چینل کی مذہبی نشریات کے ذریعے دولت اور شہرت کمائی۔عزت میں اضافہ ہوا یا کمی یہ فیصلہ ہر شخص کا اپنا اپنا ہے۔کیونکہ عزت کے معاملے پر سب کے الگ الگ معیارات ہیں۔عامر لیاقت حسین مشکل حالات سے گزرے ہیں۔لیکن اپنی لچکیلی طبع کی وجہ سے مشکلات سے نکل گئے۔بیروزگاری کبھی ان پر نہیں آئی۔ایک کے بعد دوسرا،تیسرا چینل ان کیلئے دروازے کھلتے رہتے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کا رشتہ ضرورت اور سہولت کا ہے۔عامر لیاقت کا کمال یہ ہے کہ وہ ڈیوٹی نہایت دل جمعی سے ادا کرتے ہیں۔اپنی زبان جس کو بھی رینٹ پر دیں،اس کا حق ادا کرتے ہیں۔ مخالفت کو چپ کرانے کیلئے دلیل اور گالی کا ہتھیار بلا دریغ استعمال کرتے ہیں۔لہٰذاآجراور اجیرکا رشتہ قائم رہتا ہے۔پاکستان تحریک انصاف میں آنے جانے والوں کی بھی تاریخ ہے۔معراج محمد خان،جاوید ہاشمی، تسنیم نورانی،جسٹس(ر) وجیہہ الدین اور ایسے ہی انگنت نامور جیدافراد پی ٹی آئی میں آئے تو ان کی آنکھوں میں کئی خواب تھے۔وہ یقینی طور پر تبدیلی اور نیا پاکستان کے نعرے سے متاثر تھے۔لیکن ایک ایک کر کے یہ سب افراد منظر عام سے ہٹتے گئے۔اکبر ایس بابر جن کا اوڑھنا بچھونا پی ٹی آئی تھی۔سیف اللہ نیازی پی ٹی آئی کا دوسرا نام تھا اب وہ کہاں ہیں کوئی نہیں جانتا۔اسی طرح پی ٹی آئی میں آنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔پی ٹی آئی نے بلا شبہ ہر پارٹی کی وکٹیں گرائی ہیں۔اس حوالے سے کسی کونہیں بخشا۔پیپلز پارٹی،مسلم لیگ (ن)،اے این پی،ایم کیو ایم،مسلم لیگ (ق) سب کو اکٹھا کر دیا جائے تو ان کا ملغوبہ پی ٹی آئی ہے۔کمال یہ ہے کہ ہر وہ شخص جس نے پی ٹی آئی اور عمران خان کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔آخر کار وہ شخص پی ٹی آئی میں شامل ہوا۔شیخ رشید کو چپراسی کے برابر قرار دیا۔اب وہ نگران وزارت عظمیٰ کا اہل ہے۔ بابر اعوان نے بنی گالہ کی پراپرٹی کا معاملہ بے نقاب کیا،اب وہ مشیرخاص ہے۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، فواد چوہدری صاحب جس نے بھی کپتان کو لتاڑا وہ فیض یاب ہو ا۔اور اب ڈاکٹر صاحب۔نقادخواہ مخواہ طنز کے تیر برسارہے ہیں۔کیا معلوم عمران خان اس معاملے میں بالکل بے قصور ہوں۔ہوسکتا ہے انہوں نے محض حکم کی تعمیل کی ہو۔


ای پیپر