22 مارچ: ورلڈ واٹر ڈے ۔۔۔ پانی بچائیں ملک بچائیں
21 مارچ 2018 2018-03-21

پانی انسانی زندگی کا سب سے بڑا استعارہ ہے۔ جب زمین پر زندگی کا وجود نہ تھا تو یہ کائنات اس وقت بھی یعنی زمین کے وجود میں آنے سے پہلے بھی سب پانی ہی پانی پر محیط تھی۔ دنیائے عالم کا یہ عجیب مخمصہ ہے کہ دنیا کا 70 فیصد رقبہ آج بھی پانی پر مشتمل ہے۔ کرۂ ارض کو چھوڑیں آپ Human Anatomy کی بات کریں تو انسانی جسم کا 60 فیصد پانی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پانی کی اتنی وافر مقدار کے ہوتے ہوئے ہمیں پانی بچانے یا Water Conservation کی ضرورت کیا ہے۔ سوال اپنی جگہ اہم سہی مگر اس کا جواب اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ دنیا بھر میں پائے جانے والے مجموعی پانی کا صرف ایک فیصد حصہ انسان کے لئے قابل استعمال ہے۔
قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے لہٰذا پانی کا دانشمندانہ استعمال اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ پانی بچائیں ملک بچائیں ہمارا سب سے بڑا نعرہ ہونا چاہئے کیوں پانی بچانا انسانی زندگیوں کو بچانے کے مترادف ہے۔ نبی کریمؐ کا فرمان ہے کہ اگر آپ ندی کے کنارے پر بھی بیٹھے ہوں تو پھر بھی پانی ضائع کرنے سے گریز کریں۔
یہ ایک تشویشناک حقیقت ہے کہ پانی کے بارے میں عالمی اعداد و شمار خطرے کی بہت بڑی گھنٹی ہیں۔ دنیا بھر میں پائے جانے والے پانی کے ذخائرکا 97 فیصد حصہ انسانی زندگیوں کے لئے ناقابل استعمال ہے کیونکہ اس میں نمکیات کی مقدار مضر صحت حد تک زیادہ ہے۔ عالمی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں 2 بلین افراد آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں جبکہ 783 ملین آبادی کو پانی میسر نہیں ہے۔ انگریزی کا پرانا محاورا ہے کہ water is life یعنی پانی ہی زندگی ہے مگر پانی کے بارے میں عالمی حقائق بڑے تشویشناک اور تکلیف دہ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق بین الاقوامی طور پر دنیا کے پانی کا 46 فیصد حصہ کی دریائی حدود مختلف ممالک کے درمیان مشترکہ ہونے کی بنا پر مختلف تنازعات کی وجہ سے آنے والے وقت میں جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان پائے جانے والے آبی تنازعات اس کی بڑی مثال ہے۔ دنیا میں ہر دو منٹ بعد ایک بچہ پانی سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ گزشتہ 40 سالوں میں دنیا کی مجموعی آبادی میں دوگنا اضافہ ہوا ہے مگر پانی کے استعمال میں اضافہ کی شرح 4 گنا ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ دنیا کا 80 فیصد پانی Re-Use کئے بغیر واپس سمندروں میں جاگرتا ہے جو کہ وسائل کا ضیاع ہے۔
ان خیالات کا اظہار قومی واٹر ایکسپرٹ اور ایم ڈی واسا لاہور جناب سید زاہد عزیز نے روزنامہ نئی بات کے ساتھ اپنے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ سید زاہد عزیز پاکستان واٹر آپریٹرز نیٹ ورک (PWON) کے چیئرمین ہیں جو بین الاقوامی پارٹنرز کے اشتراک عمل سے پاکستان میں پانی کے معاملات پر Advocacy اور عوامی آگہی کے لئے مصروف عمل ہے۔ سید زاہد عزیز ورلڈ واٹر ڈے 2018ء کے حوالے سے اس سالانہ عالمی دن کی اہمیت پر گفتگو کر رہے تھے جو اقوام متحدہ کی طرف سے دنیا کے 193 ممبر ممالک میں ہر سال22 مارچ کو
منایا جاتا ہے۔ اس عالمی دن کا آغاز 1993ء سے ہوا تھا اور پاکستان میں بھی ہر سال اس کی مناسبت سے واک ، سیمینار اور ورکشاپس کا انعقاد کیا جاتا ہے تا کہ اس سلسلے میں عوامی شعور پیدا کیا جا سکے۔ ورلڈ واٹر ڈے کا 2018 ء کا Themeیا مرکزی خیال ’’Nature for water ‘‘ ہے جو اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پانی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے 21 ویں صدی میں ہمیں پرانے اور قدرتی ذرائع کی طرف لوٹنا ہو گا۔
سید زاہد عزیز کا کہنا ہے کہ اس دن کا مقصد گھر گھر یہ پیغام پہنچانا ہے کہ کس طرح دنیا بھر کے انسانوں کی صاف پانی تک رسائی، نکاسی آب اور انسانی صحت Sanitation & Hygiene،water جسے عرف عام میں Wash کہا جاتا ہے اس پر کیسے فوکس کیا جا سکتا ہے۔
25-27 ستمبر 2015ء کو دنیا بھر کے 193 ممالک کے سربراہان اور نمائندے UN کے نیو یارک ہیڈ کوارٹرز میں جمع ہوئے اور تاریخی دستاویز بہ عنوان Sustainable development Goals یا SDG کا اعلان کیا یہ عالمی ترقی خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں رہنے والے افراد کے لئے 18 نکاتی ایجنڈا ہے جسے تمام ممبر ممالک بشمول پاکستان 2030ء تک مکمل کرنا ہے۔ پانی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس 18 نکاتی ایجنڈے میں پانی کا معاملہ چھٹے نمبر پر ہے جس کے مطابق2030ء تک اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ہر شہری کے لئے پینے کے پانی کی فراہمی اور نکاسئ آب کا پائیدار نظام تشکیل دیا جا سکے۔ اقوام متحدہ کا پانی سے متعلق ایجنڈا دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ 2030ء تک بیماریوں سے پاک پینے کے صاف پانی کی مساوی اور منصفانہ فراہمی جو ہر شہری کے لئے Affordable بھی ہو کو یقینی بنایا جائے۔ پروگرام کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ مساوی بنیادوں پر ہر شہری کے لئے Sanitation & Hygiene کی فراہمی کا بندوبست کیا جائے جس میں خواتین کی ضروریات کا خصوصی خیال رکھا جائے۔
سید زاہد عزیز کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے ممبر کی حیثیت سے ہم پر یہ عالمی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم 2030ء تک پاکستان میں ان بنیادی سہولیات کی فراہمی کی ضمانت دے سکیں۔ اس کے لئے ہم واسا اور PWON کے پلیٹ فارم سے ان کے دائرۂ کار کے اندر بہتر نتائج کے حصول کے لئے مصروف عمل ہیں جس میں ہمیں عالمی اداروں بشمول ورلڈ بینک گروپ ، یونیسیف ، واٹر ایڈ ، UN-Habitat، حکومت جاپان کے ادارے JAICA ، حکومت ڈنمارک اور دیگر اداروں کا اشتراک حاصل ہے۔
سید زاہد عزیر نے کہا کہ ہم نے پاکستان واٹر آپریٹرز نیٹ ورک کو ملک کی تمام یوٹیلٹیز کے ساتھ منسلک کیا ہے جس میں واسا کے لاہور، فیصل آباد ، گوجرانوالہ ، ملتان ، راولپنڈی ، پشاور ، مردان ، ایبٹ آباد ، کوہاٹ اور حیدر آباد شامل ہیں۔ ایم ڈی واسا کا کہنا تھا کہ ہم نے PWON کے پلیٹ فارم سے عوامی آگاہی مہم شروع کر رکھی ہے۔ جس میں نوجوان نسل خصوصاً سکول کے بچوں کو ٹارگٹ کیا جائے گا کہ وہ پانی کے معاملے پر کس طرح ذمہ دار شہری بن کر ملک و قوم کی خدمت کر سکتے ہیں۔
چیئرمین PWON سید زاہد عزیز نے کہا کہ ہم گزشتہ کئی سال سے اس دن کی اہمیت کے پیش نظر ریلیاں اور واک کا اہتمام کرتے ہیں جس میں عوام کی بڑی تعداد سول سوسائٹی اور این جی او سیکٹر کے لوگ حصہ لیتے ہیں۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا دین ہمیں اسراف سے بچنے کی تلقین کرتا ہے ۔ آنحضرت محمدؐ کا ارشاد ہے کہ پانی کو ضائع مت کرو خواہ تم بہتی ندی کے کنارے پر بیٹھے ہو۔ یہ حدیث آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیاسے شخص کے لئے پانی کا ایک قطرہ سونے سے بھرے بیگ سے زیادہ قیمتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے ملک میں زراعت و خوراک زوال پذیر ہو رہی ہے جس کے لئے ہمیں پانی کے دانشمندانہ استعمال کے اصول پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آیئے ہم عہد کریں کہ ہم پانی کے محتاط استعمال کا آغاز کریں گے اور اس نعمت کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ پانی کا تحفظ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ یہ رحمت رب جلیل ہے اسے ضائع مت کریں۔ کیا ہم پانی کی قدر کرنا تب سیکھیں گے جب پانی کے کنویں خشک ہو جائیں گے۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کی خاطر اور ان کے مستقبل کی خاطر حالات کی نزاکت کو سمجھنا ہو گا۔ ایک مغربی محاورہ ہے کہ انسان محبت کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے مگر پانی کے بغیر زندگی کا تصور محال ہے۔
بطور چیئرمین PWON انہوں نے اپنے نیٹ ورک کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ شہری آبادیوں میں پانی اور سیوریج کے نظام کو موثر بنانے کے لئے قائم کیا گیا تھا تا کہ عوام خصوصاً غریب آبادیوں کو اعلیٰ درجے کی سہولیات دی جائیں۔ یہ اقوام متحدہ کے اعلان کردہ ملینیم ڈیویلپمنٹ گولز MDGs کے ایجنڈے کی روشنی میں بنایا گیا تھا۔ یہ سول سوسائٹی، گورنمنٹ ، واسا ، یوٹیلٹیز، اہل دانش اور کمیونٹی جیسے مکاتب فکر کو ایک جگہ اکٹھا کر کے اجتماعی شعور بیدار کرنے اور Advocacy اور آگاہی جیسے اہم ایشوز پر مقامی قومی اور بین الاقوامی سپورٹ اور پارٹنر شپ فراہم کرتا ہے۔ ہم نے کراچی کے KW&SB ، واسا کوئٹہ اور WSSC پشاور، مردان ، کوہاٹ ، ایبٹ آباد کے علاوہ فیصل آباد ،لاہور، پنڈی، گوجرانوالہ ، ملتان ، حیدر آباد ، اسلام آباد سب کے پانی اور سیوریج ایجنسیوں کو ایک پلیٹ فارم میسر کیا ہے اور ان سب کو ایک قومی سطح پر نیٹ ورک کی شکل دی ہے۔ ان تمام اداروں میں یکساں سٹینڈرڈ SOPs اور کوڈز کے متعارف کرانے سے سروسز میں بہتری کا گراف واضح ہے۔ ہم ایک دوسرے کے تجربات اور مہارت اور ٹریننگ سے استفادہ کر رہے ہیں۔
ہم اس تسلیم شدہ پلیٹ فارم کو عوامی آگہی میں تیزی لانے اور عوامی رابطوں میں اضافے کا ذریعہ بنانے کے لئے اس کو مزید موثر بنائیں گے تا کہ Conservation یا پانی کے استعمال میں فضول خرچی کا خاتمہ کیا جائے اور محدود مسائل کے دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے لئے ہمیں عوام کے تعاون کی ضرورت ہے ہم عوامی سپورٹ کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل سکتے۔ ہم پاکستان کو صحت مند صاف ستھرا پانی اور آلودگی سے پاک ماحولیات Environment) (کا تہیہ کئے ہوئے ہیں جس کے لئے ہمیں عوام کا ساتھ چاہئے۔ اگر پاکستان میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسا سنگ میل عبور کر لیا جائے تو پبلک ہیلتھ پر اربوں روپے کے بجٹ میں کٹوتی ہو سکتی ہے۔


ای پیپر