’’ سلطان بٹوا‘‘ کی یاد اور چوہدری غلام غوث سے ملاقات ۔۔۔؟‘

21 مارچ 2018

حافظ مظفرمحسن

مقدس فاروق اعوان صاحبہ جو دنیائے صحافت میں کم عمری میں ہی اپنے ’’ٹیلنٹ‘‘ کی وجہ سے نام بنا چکی ہیں فیس بک پر اُنھوں نے آج ایک کمال کی پوسٹ شےئر کی ہے جو مجھے 2018ء میں فیس بک کی سب سے اہم اور قابلِ توجہ پوسٹ لگتی ہے آپ بھی ملاحظہ کریں کہ اس ابھرتی ہوئی صحافی مقدس فاروق اعوان نے کیا کہا ۔۔۔ :’’نواز، زرداری اور عمران ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگا رہے ہیں، خوشی اس بات کی ہے کہ تینوں سچ بول رہے ہیں‘‘ ۔۔۔ (ہنسنا منع ہے؟) ۔۔۔
راولپنڈی میں ہم ’’جی راجہ‘‘ کے ہوٹل میں کھانا محض اس لیے کھایا کرتے تھے کہ کھانا کھاتے دوران ہم میں سے ایک ساتھی ’’ٹیبل‘‘ سے تھوڑا منہ نیچے کر کے اپنے موبائل فون سے ’’جی راجہ‘‘ کا نمبر ملاتا اور السلام علیکم کہتا ۔۔۔ ایک دفعہ تو ’’جی راجہ‘‘ محبت سے کہتے ’’وعلیکم السلام‘‘ ۔۔۔ ’’جی راجہ‘‘ ۔۔۔؟’’وعلیکم السلام ۔۔۔ جی راجہ‘‘ ۔۔۔؟جب دوسری بار ہمارا دوست پھر کہتا ’’السلام علیکم‘‘ ۔۔۔ ’’جی راجہ‘‘ ۔۔۔ تو پھر مت پوچھئے ’’جی راجہ‘‘ اپنی زبان سے کیسے کیسے عظیم کلمات بیان فرماتے کہ ہمیں عزت مآب خادم حسین رضوی یاد آ جاتے ۔ عزت مآب خادم حسین رضوی کے نام سے یاد آیا کہ اُن کو تو کسی پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے ’’اُن کے کسی عظیم کام کے بدلے میں فوری گرفتار کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے‘‘ ۔۔۔ ۔۔۔ اگر آپ کا موڈ کبھی خراب ہو اور آپ اپنی طبیعت کو ہشاش بشاش دیکھنا چاہتے ہوں تو کبھی مجھ سے ’’جی راجہ‘‘ کا نمبر لے لیں آپ کو ایک ’’اچھی تفریح‘‘ میسر آ جائے گی اور آپ جب بھی آپ کا رابطہ ’’جی راجہ‘‘ سے ہو گا ہمیں ’’دعائیں‘‘ ضرور دیں گے ۔۔۔ کم از کم ’’بد دعائیں‘‘ یا برا بھلا تو ضرور کہیں گے؟ ۔۔۔! ’’آزمائش شرط ہے؟‘‘ ۔۔۔
ہمیں ’’جی راجہ‘‘ اس شدت سے آج کیوں یاد آئے ۔۔۔ اس کی وجہ آل پاکستان رائیٹرز ایسوسی ایشن کی اٹھارہ مارچ کو ہونے والی لاہور میں ایک تقریب جس سے یہ سب کچھ یاد آیا جس میں تقریب کے اسٹیج سیکرٹری چوہدری غلام غوث کا تکیہ کلام ہمارے دل میں اتر گیا ۔۔۔ جب بھی چوہدری غلام غوث المعروف ’’بلاتاخیر‘‘ نئے مقرر کو بلاتے تو وہ تین چار بار کہتے ’’بلا تاخیر‘‘ میں نئے مقرر کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دیتا ہوں اور اُن سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ’’ہمیں اپنے ملفوظات سے مستفید فرمائیں‘‘ ۔۔۔ اور پھر مت پوچھئے ’’بلا تاخیر‘‘ ہماری ہنسی چھوٹ جاتی اور ہمیں ہنس ہنس کے پیٹ میں بل پڑ جاتے ۔۔۔ حالانکہ اسٹیج پر مقرر بن کر جب آپ بیٹھے ہوں تو ہنسنی روکنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے؟ ۔۔۔اتنی ہنسی تو ہمیں کل اُس وقت بھی نہیں آئی جب ’’ہمارے ہر دلعزیز‘‘ عمران خان اپنی پارٹی میں نئے شامل ہونے والے ایک ’’عوامی اینکر‘‘ ڈاکٹر عامر لیاقت کو ویلکم کر رہے تھے ۔
لاہور میں جس تقریب میں ہماری ملاقات عزت مآب چوہدری غلام غوث سے ہوئی اُس تقریب میں ہمارے پیارے نجم ولی خان بھی تشریف لائے ’’وعدوں سے تکمیل‘‘ نامی کتاب کی یہ تقریب رونمائی دراصل گیارہ بجے ہونا قرار پائی تھی لیکن میں اور نجم ولی خان، سید بدر سعید کی موجودگی میں ڈیڑھ گھنٹہ تک محترمہ ناہید نیازی کالم نگار کے سامنے بیٹھے گپے ہانکتے رہے اور ہر ’’دلعزیز عوامی لیڈر‘‘ خادم حسین رضوی کی جدت پسندی اور ایسے ہی ’’گرم‘‘ موضوعات پر گفتگو کرتے رہے جو باتیں ہم تینوں نے اسٹیج پر آ کر بطورِ مقرر کرنا تھیں وہ ہم تینوں نے تقریب سے پہلے ہی اُسی پر جوش انداز میں کر ڈالیں جس کا مظاہرہ ہم تینوں نے علیحدہ علیحدہ اُس وقت کرنا تھا جب ہمیں اپنی باری پر اسٹیج پر آنا تھا کیونکہ جو اشتہارات فیس بک پر لگائے گئے تھے جو دعوت نامہ اخبارات میں چھپا تھا اُس میں بار بار تاکید کی گئی تھی کہ گیارہ بجے ضرور تشریف لے آئیں (اس سخت انداز میں کی گئی تنبیہہ سے ایسے لگتا تھا جیسے اگر ہم لیٹ پہنچے تو انتظامیہ ہمیں ہماری سبز عینک سے پکڑ کر باہر نکال دے گئی) ۔۔۔ دعوتی کارڈ ساتھ لانے کا حکم نامہ اس تنبیہہ کے علاوہ تھا ۔۔۔
اُس وقت جب سوا بارہ ہو گئے اور محترم نجم ولی خان کو گھر سے بار بار فون آنے لگا (شاید اُنھوں نے ہماری بھابھی صاحبہ سے وعدہ کر رکھا تھا کہ میں سوا بارہ تقریب سے واپس آ کر جو کپڑے رہ گئے ہیں وہ دھو ڈالوں گا ۔۔۔ کیونکہ ہمارے پیارے دوست مدثر بھٹی تو ہر اتوار کو صبح دس بجے سے پہلے پہلے برتن دھونے کے بعد ہفتہ بھر کے اکٹھے کئے ہوئے سارے کپڑے واشنگ مشین میں ڈال کر اپنی ڈیوٹی سے سبکدوش ہو جاتے ہیں) ۔۔۔ اس کے علاوہ میں داد دیتا ہوں طاہر تبسم درانی کو کہ اُنھوں نے تقریب کا آغاز پونے ایک بجے کر ڈالا اور جو پونے دو گھنٹے بیٹھنے سے ہمیں بوریت محسوس ہوئی اُس کا ازالہ اُنھوں نے اسٹیج پر محترم چوہدری غلام غوث کو بطورِ اسٹیج سیکرٹری بلا کر کیا اور ’’بلا تاخیر‘‘ یہ عظیم الشان تقریب شروع کروا دی ۔۔۔ ویسے میں نے اب خود سے عہد کر لیا ہے کہ آئندہ ادبی تقریبات میں گھنٹہ دو گھنٹہ لیٹ ہی جایا کروں گا کیونکہ ایسی جلد بازی اچھی نہیں ہوتی؟ ۔۔۔!
اس تقریب میں سب سے اہم بات محترمہ صبا صادق صاحبہ کی تشریف آوری تھی جن کی خدمات کا میں ہمیشہ سے معترف ہوں کیونکہ اُنھوں نے ’’چائلڈ پروٹیکشن بیورو‘‘ کو ایک فعال ادارہ بنا کر ایک اہم قومی فریضہ سر انجام دیا یہ وہ خاتون لیڈر ہیں جو طویل عرصہ سے ہمارے پیارے شہباز شریف کے اُن Active ساتھیوں میں سے ہیں جن کا کام کرنے کا انداز بھی محترم شہباز شریف جیسا ہی ہے ۔۔۔ تاریخ ایسے لوگوں کو یاد رکھتی ہے ۔۔۔؟!۔۔۔اس تقریب میں سب سے اہم خطاب محترم نوید چوہدری ، ایڈیٹر روز نامہ ’’C42‘‘ کا تھا جنہوں نے پاکستان اور عالمی سیاسی تبدیلیوں کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا اور طاہر تبسم درانی کو ایسی اہم دستاویز کتابی صورت میں پیش کرنے پر مبارکباد پیش کی ۔۔۔ نوید چوہدری ایک زیرک صحافی ہیں، اُنھوں نے سیاسی قیادت کو مخاطب کیا ۔۔۔ کہ آپ لوگ اپنے اخلاقیات بالائے طاق رکھ کے متحد ہو کر پاکستان کے مخالفوں کا ہر میدان میں مقابلہ کریں ۔۔۔
اس تقریب کی صدارت جناب چوہدری شفیق نے فرمائی جو رحیم یار خان سے MPA بنے اور مختلف وزارتوں پر فائز رہے اس تقریب میں چوہدری شفیق صاحب نے ہمیں بتایا کہ کیسے اُنھوں نے اس دور افتادہ علاقے میں وڈیروں اور روایتی جاگیرداروں کو ہرایا اور جہاں کوئی سکول کالج بننے نہیں دیا جاتا تھا وہاں 54 سکولوں اور کالجوں کو چوہدری شفیق کی عوامی خدمات کے بدلے میں اپ گریڈ کیا گیا اس بات کا اعتراف ہمارے پیارے ’’بلا تاخیر‘‘ ۔۔۔ جنابِ چوہدری غلام غوث نے بھی اپنے نہایت جذباتی خطاب میں کیا جس سے عوام بہت محظوظ ہوئے ۔۔۔ صاحبِ کتاب کے حوالے سے اپنے نہایت پر جوش اور جذباتی خطاب میں اُنھوں نے جہاں بار بار تالیاں بجوا کر کتاب اور صاحب کتاب سے اپنی محبت کا اظہار بھی کیا وہیں اُنھوں نے ’’موقع‘‘ پر اپنے لکھے ہوئے دو چار قطعات بھی سنا ڈالے ۔۔۔ آپ ذرا تصور کریں کہ ایک تقریب میں بندہ مختلف مقررین کو بلاتے ہوئے جذباتی گفتگو بھی کرئے بار بار تالیاں بھی بجوائے اور پھر اسی دوران اسٹیج پر کھڑے کھڑے قطعات بھی لکھ ڈالے اور پھر جب وہ قطعات پیش کیے جائیں ’’تو میرے سمیت عوام کی ہنسی نکلے‘‘ ۔۔۔ کیا منظر ہو گا؟ یہ آپ آنکھیں بند کر کے تصور کر سکتے ہیں ۔۔۔ اس موقع پر بنائے ہوئے قطعات کو سن کر ہمیں لاہور کے قادرالکلام شاعر اور ہمارے پیارے دوست اقبال احمد راہی یاد آ گئے جو ایسی تقریبات میں ۔۔۔ ’’بلا تاخیر‘‘ چوہدری غلام غوث کی طرح ایمرجنسی میں قطعات لکھ ڈالتے ہیں جن کو سن کر عوام ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور ’’انجوائے‘‘ بھی کرتے ہیں ۔۔۔ فیس بک پر ’’دانشور‘‘ ایسے لوگوں کی شاعری میں غلطیاں نکالتے ہیں، تنقید بھی کرتے ہیں جو مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگتا ۔۔۔؟
اس دوران جب میں یہ لذیذ تحریر آپ کے لیے لکھ رہا ہوں تو اس میں مجھے چند سال پہلے آفتاب احمد جو ہمارے دوست لاہور GPO میں کسی اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں اُن کے حوالے سے وابستہ ایک سچی کہانی یاد آ گئی ۔۔۔ کئی سال پہلے اُنھوں نے لاہور کی P&T کالونی میں بلوایا جہاں قوی خان(اداکار) نے خطاب کرنا تھا یہ اُس دور کی بات ہے جب قوی خان نے لاہور سے الیکشن لڑا تھا اُس تقریب میں ’’ سلطان بٹوا ‘‘ نے شاعری پیش کی جب وہ نہایت جذباتی انداز میں بار بار قوی خان کو دیکھتے ہوئے قطعات سنا رہے تھے جن میں قوی خان کے لیے نام لے لے کرتعریفیں بیان تھیں تو ہمیں اُس سے ایک رات پہلے کی تقریب یاد آ گئی جو اُسی علاقے میں ایک اور سیاسی شخصیت کے حوالے سے تھی ۔۔۔ اُس تقریب میں بھی ’’ سلطان بٹوا ‘‘ نے یہی شاعری پیش کی تھی۔ صرف اُنھوں نے نام بدلا تھا یہ تو ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ ’’ سلطان بٹوا ‘‘ اب تک ایسی بیسیوں تقریبات میں اپنے یہ قطعات پیش کر چکے ہیں عوام کی فلاح و بہبود اور تفنن طبع کے لیے اس کے علاوہ اس بات کا جب ہمیں علم ہوا پھر یہ قطعات / شاعری بھی ’’ سلطان بٹوا ‘‘ کی اپنی نہیں ہے۔ یہ شاعری بھی اُنھوں نے فیصل آباد کے کسی معروف شاعر عادل گلزار کی چرائی ہے جو اُنھوں نے شاید فیصل آباد جلسوں میں (سیاسی) پڑھنے کے لیے لکھی تھی یا شاید کہیں سے ادھار لی تھی ۔۔۔ آپ کو موسمی بیٹرے یاد آنے لگے ہوں گے؟ جو عام طور پر الیکشن کے دنوں میں ایسے عوامی سیاسی جلوسوں میں نظر آتے ہیں ۔۔۔ ہر پارٹی، ہر امیدوار کی تعریف کرتے ہیں، زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں اور من کی ’’مرادیں‘‘ بھی پاتے ہیں ۔۔۔

مزیدخبریں