یہ آہ و بکا کیوں؟
21 مارچ 2018



ذرا سی ٹھیس کیا پہنچی کہ میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز دونوں باآواز بلند اپنی بپتا سنانے چل پڑے ہیں۔ اگرچہ عام انتخابات بھی سر پر ہیں جس کے لیے ضروری ہے کہ عوام کے روبرو پیش ہوا جائے مگر جس انداز اور تیزی سے وہ جلسہ گاہوں میں جا رہے ہیں اور دہائی دے رہے ہیں وہ یقیناًمعاملہ دوسرا ہے؟
وہ جو سیانے کہتے ہیں کہ جس کسی کے ساتھ بیتتی ہے وہی بہتر طور سے جانتا ہے دوسرے کسی کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔۔۔ میاں نواز شریف تاج و تخت سے محروم ہوئے ہیں تو اس کا صدمہ جو انہیں پہنچا وہ، وہی جانتے ہیں، عوام کو اس سے ملنے والی ذہنی اذیت کا علم نہیں اور نہ ہی وہ محسوس کر سکتے ہیں۔۔۔ اس طرح طویل عرصے سے کمزور اور بے بس لوگوں نے جو دکھ اٹھائے ہیں انہیں وہی جانتے ہیں میاں نواز شریف نہیں اور وہ دکھ بے شمار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ (نواز شریف) اپنی بات کر رہے ہیں کہ انہیں اقتدار سے کیوں الگ کیا گیا۔۔۔ ان سے کیوں اختیارات واپس لیے گئے۔۔۔؟
عرض ہے کہ وہ جتنا بھی شور مچائیں اور واویلا کریں اس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ارتقاء کے سفر میں کبھی بھی نہیں دیکھا گیا کہ راستے ایک جیسے ہوں، فضا اور ماحول خوشگوار ہو ۔ ان میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ اب چونکہ تبدیلی کا عمل شروع ہو چکا ہے لہٰذا بہت کچھ بدلنے جا رہا ہے، سو فیصد نہ سہی پچاس ساٹھ فیصد ہی سہی، ضرور بدلے گا کیونکہ اب تک عوام کو کنٹرول کرنے اور ان کے ذہنوں کو تسخیر کرنے سے متعلق قریباً سبھی حربے آزمائے جا چکے ہیں۔ اے کاش عوام کو اعتماد میں لیا ہوتا، انہیں مشکلات وسائل سے چھٹکارا دلایا ہوتا تو کچھ عرصہ مزید ’’حالت موجود‘‘ قائم رہتی مگر ایسا نہیں کیا گیا لہٰذا پیمانۂ صبر لبریز ہو چکا۔۔۔ شعوری بگولوں نے انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا لہٰذو ہ مطالبہ کرتے ہیں۔۔۔ کہ انہیں ان کے حقوق دیئے جائیں، انصاف عام کیا جائے اور جوان کے حصے کا سرمایہ جس کسی نے بھی ہڑپ کیا۔۔۔ اُگلا جائے مگر عجیب بات ہے کہ ان باتوں کو قابل توجہ نہیں سمجھا جا رہا اور اپنی ذات کو سامنے رکھا جا رہا ہے۔۔۔ کیا ایسا
کرنے سے منزل مل سکے گی۔۔۔ جواب نفی میں ہو گا۔۔۔ میں اپنے پچھلے کالم میں یہ کہہ چکا ہوں کہ اب خلیل خان کے فاختہ اڑانے کے دن گئے۔۔۔ ان لوگوں کی کوئی خواہش نہیں جو دن رات اپنا پسینہ بہاتے ہیں، خون جلاتے ہیں، محنت مزدوری کرتے ہیں کہ وہ سکون و آرام کی زندگی بسر کریں۔ ان کے بچے اچھے اچھے کپڑے پہنیں اور ملک کے اعلیٰ عہدوں پر متمکن ہوں۔۔۔ انہیں آج تک نفرت آمیز نگاہوں سے دیکھا گیا ہے، ان کے حقوق چھینے گئے ہیں، ان کو زندگی کی خوش نمائیوں اور سہولتوں سے دور لے جایا گیا ہے۔۔۔ ان پر حکمرانی کی گئی ہے ، سینہ زوری سے دھوکا دہی سے۔۔۔ انہیں جمہوریت کے نام پر بیوقوف بنایا گیا ہے کیا جمہوریت یہی ہے کہ وہ اقتدار و اختیار کے مالک بن جائیں مگر غریب عوام محکوم بن کر رہ جائیں ۔ ان میں سے کبھی بھی کوئی وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور گورنر نہ بن سکے۔ یہ ایک کھیل تماشا ہے جو برسوں سے جاری ہے۔ اب بھی ایک کھیل ہی کھیلا جا رہا ہے مگر فرق صرف یہ ہے کہ اب کی بار لوگوں کو بخوبی علم ہے اس ادراک و فہم کی بنا پر ہی انہیں کچھ حقوق میسر آئیں گے وگرنہ تو ایک سیدھ میں ہی چلا جا رہا تھا۔۔۔؟ بہرحال آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ پہلے احتساب ہو پھر انتخابات ہوں۔۔۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ طویل مدت تک انتخابات ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔۔۔ بظاہر نظر یہی آتا ہے مگر جب صورت حال کابغور جائزہ لیتے ہیں تو یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ انتخابات ہوں گے کیونکہ اگر وہ نہ ہونے ہوتے تو حالات مختلف ہوتے۔۔۔ احتساب ہی کی گرج چمک ہوتی یعنی احتساب کا دائرۂ کار وسیع تر ہو جاتا۔ تمام بڑے بڑے جن پر الزامات عائد ہوئے ہیں۔۔۔ پکڑ دھکڑ سے دو چار ہو رہے ہوتے مگر اس وقت چند لوگ ہی قانون کی زد میں ہیں باقی انتظار میں ہیں۔۔۔ پھر یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ بڑی طاقتیں اس بات میں ہی دلچسپی رکھتی ہیں کہ جمہوری عمل آگے بڑھے کہ انتخابات وقت پر ہوں اور عوام کے منتخب نمائندے ایوانوں میں جائیں۔۔۔ مگر وہ یہ نہیں سوچتیں کہ جب تک حقیقی نمائندے منتخب نہیں ہوں گے عوام خوشحال نہیں ہوں گے اور نہ وہ چین و آرام پائیں گے۔۔۔ شاید انہیں اس سے کوئی سرو کار نہیں وہ اپنے مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں لہٰذا اپنے ہم خیال حکمرانوں کو مسند اقتدار پر براجمان دیکھنا چاہتی ہیں اور جب وہ کسی ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہوتی ہیں تو وہ ان کی حمایت میں آن سامنے کھڑی ہوتی ہیں مگر شاید وہ صورت حال کو سائنسی اصولوں کے تحت دیکھنے سے عاری ہیں جو بتا رہے ہیں کہ اب قیادتیں بدلیں گی عوام کے دن پھریں گے۔۔۔ اجالے ہر سمت پھیلیں گے اور کمزوروں کو انصاف ملے گا۔۔۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انتخابات ہوں گے مگر پہلے کی طرح نہیں کہ ایک ہی سیاسی جماعت اقتدار میں آجائے گی اور عوام سے کیے گئے نعروں اور وعدوں کو یکسر فراموش کر دے گی۔۔۔ اب مل کر حکومت بنے گی جو ظاہر ہے کچھ نہ کچھ عوام کی خدمت کرے گی۔ کسی کو کھل کھیلنے کی آزادی نہیں ہو گی۔۔۔ اب تک جس کسی نے جو بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے تھے دھو لئے۔۔۔ آئندہ بڑی حد تک سیاسی و سماجی منظر مختلف ہو گا۔ اس کی ایک وجہ بین الاقوامی تبدیلیاں بھی ہیں جو اس امر کی اجازت نہیں دیتیں کہ عوام مخالف پالیسیاں وضع کی جائیں اور طاقت کے ذریعے ان کو دبایا جائے کیونکہ ایسا کرنے سے عوامی ردعمل شدید تر بھی ہو سکتا ہے جو معیشتوں کے استحکام کے لیے غیر سود
مند ہو گا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ عوامی امنگوں اور ضروریات کو پیش نظر رکھا جائے مگر ہمارے سیاسی لوگ (زیادہ تر) اس پہلو کی جانب نہیں دیکھ رہے اور روایتی طریق کار کو ایک بار پھر بروئے کار لانے کے خواہاں ہیں جو ناممکن ہے۔۔۔ اس کے باوجود بیانات جاری کیے جا رہے ہیں کہ ہم جیتیں گے ہم آئیں گے اور سبق دکھائیں گے۔۔۔؟ ریت مٹھی سے سرک کر ڈھیر ہو جائے تو وہ دوبارہ اس میں نہیں آتی، پانی پلوں کے نیچے سے بہہ جائے تو واپس نہیں پلٹتا اور گیا وقت ہاتھ آتا نہیں لہٰذا جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔۔۔ میاں صاحب کے آگے بیٹھے لوگ پورے پاکستان کے لوگ نہیں ہوتے یہ ایک شہر یا قصبے کے ہوتے ہیں۔۔۔ لہٰذا وہ یہ نہ کہیں کہ عوا م نے فیصلہ سنا دیا۔۔۔ عوام نے ابھی اپنا فیصلہ سنانا ہے جو اگلے عام انتخابات کے موقع پر سنایا جائے گا۔۔۔ لگتا ہے اپنے خلاف کوئی فیصلہ آنے کے پیش نظر ’’حفظ ماتقدم‘‘ کے طور پر مسلم لیگ (ن) نے دو ہزار اٹھارہ میں منعقد ہونے والے انتخابات کو ’’مشکوک‘‘ کہنا شروع کر دیا ہے۔ آصف علی زرداری اور عمران خان کے مابین سکڑتے فاصلے کو بھی وہ ترچھی نظر سے دیکھ رہی ہے مگر اپنی کامیابی کا بھی ببانگ دہل اعلان کر رہی ہے۔۔۔ جبکہ عوام جانتے ہیں کہ اب وہ اقتدار میں نہیں آ سکے گی البتہ ایوانوں میں موجود ہو گی۔۔۔!
بہر کیف وطن عزیز کسی کی بھی ذاتی ملکیت نہیں اس پر سب کا حق ہے اور برابر کا ہے مگر اشرافیہ خود کو ہی اس کا مالک سمجھتی ہے اسی لیے ہی وہ محنت کشوں، مزدوروں، ہاریوں اور لکھاریوں سے چشم پوشی کرتی ہے۔ ان کے بنیادی حقوق غصب کرتی ہے اور جب اس کو اقتدار کے اہل نہیں سمجھا جاتا تو وہ چلا اٹھتی ہے اور یہ کبھی نہیں سوچتی کہ جن کا مدتوں سے استحصال کیا جا رہا ہے اور زندگی کی آسائشوں کے قابل نہیں سمجھا جاتا ان پر کیا گزرتی ہو گی۔۔۔؟
مکافات عمل ہے یہ سب، کوئی کتنا ہی طاقتور ہو کتنا ہی زیرک ہو اور کتنا ہی شاطر ہو اسے حساب دینا ہی پڑتا ہے۔ قانون قدرت کی گرفت میںآنا ہی پڑتا ہے لہٰذا یہ آہ و بکا کیوں؟


ای پیپر