ویل ڈن مسٹر زرداری!
21 مارچ 2018 2018-03-21

جناب آصف علی زرداری وطن عزیز کی تاریخ کا ایسا کردار ہیں کہ شاید دنیا میں کوئی ایسا دوسرا کردار دستیاب نہیں ہے ان کے کردار کا تجزیہ کرنے کے لیے ہیومن سائنٹسٹ، سائیکارٹسٹ ، تاریخ دان ، پولیس کے تفتیشی افسران(ٹی وی اینکرز) سائنس دان، ان کے اپنے گھر والے ، دوست ، بچپن کے دوست، آئی ایس آئی، ایم آئی، سی آئی اے، کے جی بی، را، ایس ایس آئی (آسٹریلیا)، ڈی جی بی ایس (فرانس)، ایف ایس بی ، کے جی بی (روس)، بی این ڈی (جرمنی) ، ایم ایس ایس (چائنہ)، ایم آئی 6 (انگلینڈ) ، موساد (اسرائیل) اور ایم آئی 4 مختلف ایجنسیوں کا اشتراک وغیرہ کی مشترکہ ٹیم بھی شاید ہاتھ کھڑے کر جائے۔ سیاست میں موصوف کی جو طاقت ہے اسی خاندان کے ساتھ موازنہ
ان کی کمزوری بھی ہے ۔ دوست نوازی ان کی پہچان اور طاقت ہے جو اُن پر ہر کرپشن کا الزام ثابت کرنے کے لیے معاون ثابت ہوتی ہے۔ یہ واحد ہستی ہے جس کے متعلق سب سے زیادہ منفی پروپیگنڈا کیا گیا۔ جِس کی بڑی وجہ بینظیر بھٹو کا شوہر ہونا تھی۔ حد یہ ہے کہ بغیر دلیل کے انہیں کرپٹ تسلیم کیا گیا ہے، بارہ سال جیل کاٹ کر ہر مقدمہ میں بے گناہ ہوئے مگر کوئی بے گناہ ماننے کو تیار نہیں اور اس حوالہ سے موصوف نے بھی کبھی اپنا perception درست کرنے کی کوشش نہیں کی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی سیاسی جدوجہد، ذہانت شجاعت، بردباری، غریب پروری، شعور، فصاحت و بلاغت اور تاریخی کردار کے سبھی معترف ہیں لیکن زرداری ایسی شخصیت کے ساتھ ان کا زندگی گزارنا ان کے مشرقی پن کی معراج ہے۔ وہ زبردست زیر ک و ذہین خاتون ہونے کے با جود زرداری صاحب کے متعلق الجھن کا اور دباؤ کا شکار رہیں۔ کبھی انہیں نیلسن منڈیلا قرار دیتی تھیں اور کبھی انہیں پارٹی سیاست سے باہر دیکھنا چاہتی تھیں مگر اس حوالہ سے وہ بے بس تھیں۔ کیونکہ بھٹو مخالف قوتیں جِس اخلاقیات کا مظاہرہ کرتیں جناب زرداری جیسا آہنی اعصاب کا مالک مخالف ہی اُن کے سامنے ٹک سکتا تھا۔ 2002ء کے انتخابات سے پہلے صحافیوں سے رابطے کے لیے بی بی نے ہی ان سے کہا تھا۔ چند دن میں ہر صحافی ان پر قلم اٹھا رہا تھا کہ مجھے زرداری کا فون آیا ہے مگر بی بی صاحبہ نے یا پھر سیاست کی اجازت دینے والوں نے ان کو سیاست سے باز رکھا۔ محترمہ بی بی شہید زرداری صاحب کے تدبر کی بھی قائل تھیں اور بہادری کی بھی۔ مگر بھٹو مخالف قوتوں کا پروپیگنڈا اتنا زوردار تھا کہ 2007ء میں بی بی بھی انہیں اپنی پارٹی کی ساکھ بحال رکھنے کے لیے شاید پارٹی سیاست سے دور رکھنا چاہتی تھیں ۔ زرداری صاحب کی وطن عزیز کی سیاسی تاریخ میں انٹری ان کی بی بی کے ساتھ منگنی سے شروع ہوتی ہے جس پر مخالفین پر تو آسمانی بجلی گری سو گری مگر اپنے بھی اپنی افسانوی شخصیت، دیو مالائی کہانیوں کی ہیروئن اور ان کے نزدیک مافوق الفطرت کردار کی مالکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ان کی تصویر دیکھ کر ورطہ حیرت میں چلے گئے۔ وقت گزرتا گیا بی بی پر تنقید جیالا سن نہ سکتا تھا۔ مخالفین نے زرداری کو کہنہ مشق بنایا جس پر جیالا خاموش بھی رہتا اور شاید خوش بھی ہوتا۔ پیپلز پارٹی کی پروپیگنڈا مہم کبھی بھی نہیں رہی نہ ہی مسلح گروپ اور وطن عزیز کے میڈیا میں سوائے دو ایک کے باقی سب دائیں بازو کے لوگ یا پھر بنیاد پرست بیٹھے ہیں جو فطری طور پر بھٹو مخالف رہے۔ اس پر نواز شریف کی نوازشات کی بارش اور نادیدہ قوتوں کی
خواہش انہیں صحافت کی دنیا میں معتبر اور امیر کبیر بنا گئی۔ اس سارے ماحول میں پیپلز پارٹی کا سیاست کرنا محال رہا ہے۔ وطن عزیز کا سرمایہ دار، مذہبی اجارہ دار، انڈر ورلڈ کا بھائی، متعصب دانشور، تاجر، صنعت کار، اہم ترین ادارے اور بیوروکریسی سبھی تو مخالف تھے جبکہ پیپلزپارٹی کے ساتھ تو صرف سفید پوش غریب، مسائل زدہ، بے کفن دفن ہونے والوں کے والدین، بھوک کے ہاتھوں خود کشیاں کرنے والے، مسکین ترین، کمزور ترین لوگ تھے اور ان کی تعداد شاید اسی فیصد سے بھی زیادہ ہو ۔ یہی حمایتی، یہی مقبولیت اور باطل سے ٹکرا جانے والا کردار پیپلز پارٹی کے راہنما خاندان کو جواں سالی میں ہی شہیدوں کے قبرستان میں بدل گیا۔ یہ کہانی ازبر بھی ہے اور ناقابل فراموش بھی، اس کہانی کو وطن عزیزمیں رہ کر کوئی نہیں لکھ سکتا۔ سب واقفان حال پیپلز پارٹی کو تباہ کرنے اور نواز گروپ کو پروموٹ کرنے کی ساری واردات سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کس طرح اربوں ڈالر خرچ کیے اور ملکی وسائل جھونک دیے گئے کہ بھٹو مخالف قوتوں کو سیاست میں پیپلز پارٹی پر سبقت دی جائے اور یہ سب بھٹو صاحب کو پھانسی دیے جانے کے بعد شدت اختیار کر گیا۔ اصل کہانی اور تاریخ شاید کوئی بھی لکھ نہ پائے۔
جس وطن عزیز کا چیئرمین سینیٹ کہے کہ ادارے ٹھیک نہیں چل رہے۔ میں سچ کہتا رہوں گا چاہے مسنگ پرسن ہو جاؤں وہاں کون کیا لکھ سکتا ہے بے نظیر بھٹو کو 1988 ء میں ہاتھ پاؤں باندھ کر پنجاب میں حکومت کے بغیر بلکہ مخالف حکومت کے ساتھ، صدر کے عہدہ اور سپہ سالار کی تقرری کے اختیارات کے بغیر اور کئی نو گو ایریا کے ساتھ اقتدار دیا گیا 20 ماہ کے اقتدار میں عدم اعتماد سمیت ہر حربہ استعمال کیا اور بالا آخر بقول منو بھائی (بہشتی) کے غلام اسحاق خان کی ضیاء الحقی نے کام دکھایا اور بے نظیر شہید کی حکومت ختم کر دی گئی۔ زرداری کو الزامات میں کفنا کر جیل میں اتار دیا گیا۔ ایجنسیوں کے فخر نواز شریف کو وزیر اعظم بنا دیا گیا۔ تین سال بھی نہ گزرنے پائے کہ نواز شریف بھی ان سے ٹکرا گئے اور حکومت گنوا بیٹھے۔ پھر بی بی صاحبہ کو موقع دیا گیا مگر پنجاب کے بغیر 13 سیٹوں والا اپنا آدمی وزیر اعلیٰ بنوایا گیا جس کی سیاسی آخری رسومات چوہدری الطاف حسین کے ہاتھوں ادا ہوئیں، وٹو کی سیاسی ارتھی انجام کو پہنچی۔ پی پی کی حکومت کو اس شخص نے ختم کیا جو ادنیٰ سرکاری ملازم سے صدر پاکستان بنایا گیا۔ شاید وفا کا اس طرف سے گزر نہیں ہوا جہاں وہ پروان چڑھا تھا پھر جناب زرداری کو گورنر ہاؤس سے اٹھوا کر جیل ڈال دیا گیا۔ بی بی ہفتے میں تین بڑی اور مختلف شہروں میں عدالتیں اور جیل میں زرداری کی ملاقاتیں اور سماعتیں بھگتتی رہیں۔بی بی کے بچے وطن عزیز کے کسی سکول نہ جا سکتے تھے بالآخر وہ عدالت سے اجازت لے کر باہر چلی گئیں اور زرداری کی زندگی جیل میں ساقط ہو گئی۔ یہیں سے زرداری سب پہ بھاری والا زرداری بنتا ہے۔ آزاد زرداری قیدی طبیعت ہو گیا۔ صبر ، استقامت اور خاموشی سے جبر سہنا اس کی فطرت بن گئی۔ جیل نے زرداری کو پاپولر تو نہ کیا مگر میاں صاحبان اسٹیبلشمنٹ اور مخالفین کے مقابلے میں صبر کا پہاڑ بنا دیا۔ بلاول دبئی میں دیواروں کے ساتھ اکیلا فٹ بال کھیلا کرتا تھا۔ وہ عام سیاستدان نہیں ہے جس نے نانا کی کہانی لوری میں سنی ہو۔ جو چندا ماموں کی المناک اموات کا صدمہ بھی لیے ہوئے ہو۔ جس کی ماں جلاوطن اور باپ جیل میں ہو، جس نے جوان ہوتے ہی شہید ماں کی میت لحد میں اتاری ہو، وہ عام سیاست دان نہیں ہے۔ عمران،میاں صاحبان، چوہدری برادران تو اس کے سامنے طفل مکتب بھی نہیں ہیں۔ یہ میرا تجزیہ ہی نہیں یقین اور دعویٰ ہے مخالف پروپیگنڈا کی بدولت جناب زرداری کی ’’بدنامی‘‘ کا بوجھ اٹھانا ایک الگ آزمائش ہے جس کا بلاول کو سامنا ہے۔ بی بی گوالمنڈی ، پنڈی وال، میا نوالی، اور بازاری بولی نہیں سمجھتی تھیں جبکہ جناب زرداری بخوبی واقف ہیں ۔ اسی طرح بلاول بھی ان کی باتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا مگر زرداری صاحب ان کے لیے میڈیسن ہے۔


ای پیپر