سرخیاں ان کی
21 مارچ 2018



* ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو نگران وزیراعظم بنایا جائے۔ سراج الحق
AO امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ممتاAز ایٹمی سائنسدان جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایک غیرمتنازع شخصیت ہیں لہٰذا عام انتخابات سے قبل ان کو نگران وزیراعظم بنایا جائے۔ جبکہ پاکستان میں پرویز مشرف نے امریکہ کے دباؤ پر ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر پابندیاں لگوائی تھیں اب ان کے ساتھ کی گئی زیادتیوں کا مداوا کیا جائے۔ بلاشبہ محافظ پاکستان جناب ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے ہماری کایا ہی پلٹ دی۔ ان کی بدولت آج ہم ایسے مقام پہ کھڑے ہیں کہ اپنے ازلی دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکتے ہیں۔ وہ ہمارے قومی آسمان کا ستارہ ہیں ایسا ستارہ جو تاقیامت چمکتا رہے گا۔ آج 15 مارچ صبح 11بجکر 15منٹ پر جب میں نے انہیں فون کیا تو فون اٹینڈ نہ ہوا۔ مگر دومنٹ بعد یعنی 11بجکر 17منٹ پر میرے فون پر محسن پاکستان جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا فون آگیا۔ انہوں نے بتایا کہ سینے میں انفیکشن اور 90ESRہے پھر صحت سے ہٹ کر دیگر ملکی حالات اور موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ ان سے بات کرکے ان کی آواز سے یوں لگتا ہے کہ وہ آج
بھی وطن عزیز کی تقدیر بدل دینے کے لیے پرعزم اور پرامید ہیں اور قومی کردار میں ایک جوہری تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ وہ بولتے ہیں تو من کرتا ہے وہ بولتے ہی جائیں اور انہیں سننے والے سنتے ہی جائیں۔ وہ آج بھی شدید خواہش رکھتے ہیں کہ وہ ایک ایسے نظام کو وضع کرنا چاہتے ہیں جو تمام قومی طبقوں کو عدل وانصاف کے مساوی حقوق عطا کرسکے، ان کی جان ومال اور آبرو کی حفاظت کرسکے اور قوم کو سازشوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار میں بدل سکے۔ اس لیے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم کسی کی امداد کی بندش سے بھوکے نہیں مریں گے۔ بھٹو کے زمانے میں آٹھ نوسال ہماری امداد بند رہی لیکن ہم بھوکے تو نہیں مرے پھر 1991ء سے 2001ء تک ہمیں امداد نہیں ملی، تب بھی ہم بھوکے نہیں مرے اور نہ ہی ہم نے کسی سے خیرات مانگی۔ ہم نے صرف ایک نفسیاتی خوف طاری کرلیا ہے کہ امریکہ امداد دے گا تو کام چلے گا ورنہ نہیں۔ حالانکہ یہی وہ تاریکی غلطی ہے جس کی ہمیں اصلاح کی ضرورت ہے۔ پھرانہوں نے کچھ اپنوں سے گلے شکوے بھی کیے اور یہ بھی کہا کہ اس ملک میں ہرچیز اور ہرشخص بے مثال ہے اور باکمال ہے ایک مجھ کو چھوڑ کر ۔۔۔ اچانک میری کسی بات کے جواب میں سنجیدہ ہوگئے کچھ رنجیدہ بھی پھر فرمایا یہ میرا شعر ہے۔ سنبھال کے رکھا تھا آج آپ کو دے رہا ہوں ۔ دنیا سے جاؤں تو قبر کے کتبے پے لکھوا دینا۔ مگر میں رورہا تھا میری ہچکی بندھ چکی تھی۔ ایسی کیفیت میں ان کا شعر پیش خدمت ہے ۔
ہمارے ذکر سے خالی نہ ہوگی بزم کوئی
ہم اپنے کام کی شہرت وہ چھوڑے جاتے ہیں
*عوام کی دادرسی کرتے ہیں تو مداخلت سمجھی جاتی ہے۔ چیف جسٹس
O۔۔۔چیف جسٹس پاکستان جناب ثاقب نثار نے کہا ہے کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر عدلیہ ہرصورت عوام کی دادرسی کرے گی۔ مگر سوال یہ ہے کہ بنیادی حقوق تو مہذب اور تعلیم یافتہ قوموں کے ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں شرح خواندگی شرمناک حدتک کم ہے ایسے میں کیسے بنیادی حقوق کیسی خلاف ورزی اور کونسی ترقی ہے ۔۔۔ جبکہ علم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ اس لیے المناک بات یہ ہے کہ ہمارا نظام سیاست، تعلیم یا علم برداشت نہیں کرسکتا اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انہیں اپنے جلسے جلوسوں کی رونق بڑھانے، اپنی بہودہ باتیں سنانے، اپنی ناقص پالیسیوں کے قہقہے دہرانے کے لیے سرکاری اور غیرسرکاری ضبط شدہ ٹرانسپورٹ کے ذریعے ایسے افراد درکار ہوتے ہیں جو جاننے والے نہیں، صرف ماننے والے ہوں۔ وہ میلے ٹھیلے دیکھنے کے بھی شوقین ہوں۔ وہ خودساختہ لیڈروں کی تقریریں سن کر کوئی سوال جواب کرنے کی اہلیت بھی نہ رکھتے ہوں حالانکہ ایسے جلسے جلوسوں کا ملک وقوم کو رتی بھر فائدہ بھی نہیں ہوتا۔ نہ جانے کیوں لکھتے لکھتے مجھے کارل مارکس یاد آگئے کہ انسانی رشتے ضرورتوں احتیاجوں اور مفادات سے ہی وابستہ ہیں اور سب سے اچھا تعلق وہ ہے جو باہمی مفاد پر استوار ہو۔ چنانچہ جونہی کوئی انسان مکمل غیر مفید ہوجائے یعنی سانس لینا بند کردے تو اسے دفن کردیا جاتا ہے یا آگ میں جلا کر راکھ کردیا جاتا ہے ۔ مگر ہمارا نظام سیاست واحد نظام سیاست ہے جو غیرمفید ہونے کے باوجود قابل دفن ہے نہ آگ میں جلاکر راکھ کیا جاسکتا ہے۔ کسی شاعر نے کہا تھا:
بوڑھوں کے ساتھ لوگ کہاں تک وفا کریں
لیکن نہ آئے موت تو بوڑھے بھی کیا کریں
*۔۔۔سپریم کورٹ، اشرافیہ، اور جرنیل پاکستان پر رحم کریں ۔شہباز شریف
O۔۔۔ہمارے کئی المیے ہیں یہ بھی المناک ہے کہ بحرانوں کی زد میں ہمارے ذہن ماؤف ہوجاتے ہیں حالانکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ہمت اور دانش بروئے کار لائی جاتی ہے تو راستہ اور کامیابی قوموں کا مقدر ٹھہرتی ہے جبکہ محض ہا ہا کار مچانے اور خوفزدہ ذہنوں کے ساتھ سوچنے والی قوموں کی قیادتیں اپنے آپشن ضائع کربیٹھتی ہیں۔ سربلندی ، صرف اعلان کرنے سے حاصل نہیں ہوتی جبکہ پستی کے لیے بھی برباد ہونا پڑتا ہے۔ اس لیے بڑی بڑی باتیں چھوڑیں کہ آپ نے کہا ہے کہ "Judiciary , aristocracy, politicians and the pak. armny to Jointly work for the welfare of the people and the prosperity of the country".
یہ سب کب ممکن ہوگا؟ یا نہیں ہوگا۔ یہ الگ بحث ہے کیونکہ یہ بڑے بڑے لوگوں کی بڑی بڑی باتیں ہیں۔ صرف یہ بتادیا جائے کہ پاکستان ایک مسلمان ملک ہے مگر Rape cases in Pakistan شرمندگی کی حدوں کو کیوں چھورہے ہیں ؟ کیا ہماری "Humanity doomed"انسانیت بھی ڈوب چکی ہے۔ ہماری معیشت اور ہماری اخلاقیات کی طرح ۔ خدارا رحم کریں۔
*۔۔۔عدلیہ، فوج سے لڑائی نہ لڑنے میں ہی نواز شریف کی بھلائی ہے۔ چوہدری نثار
O۔۔۔مجھے اچھی طرح یقین ہے کہ جس طرح جنگ اور امن اور ترقی و خوشحالی سب کے سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اسی طرح عدلیہ اور فوج کے نسبتاً کم پرکشش حصے اور ان کی نئی دولت نے ان کے نقطہ نظر کو تبدیل کردیا ہے۔ اب ایک طرف دولت ہے دوسری طرف محض جمہوریت ہے۔ اب عمر کے اس حصے میں انہیں دولت دیکھ کر زیادہ سرور ملتا ہے۔ چنانچہ اب وہ زیادہ حساب کتاب کے چکر میں وقت ضائع نہیں کرسکتے۔ لہٰذا چودھری نثار کے لیے بہتر ہے کہ وہ Relief to pml-N will only come from SCوالا قیمتی مشورہ اپنے پاس ہی رکھیں کہ اب صرف :
بلدا سورج کہندا سی
ہے کوئی میرے ورگا
نکا جیا ایک دِیوا بولیا
شام پئی تے ویکھاں گے


ای پیپر