زندگی اورموت کی ریس
21 مارچ 2018 2018-03-21

سفرجاری تھا، مجھے نیندکی آغوش میں اترے ابھی کچھ ہی لمحات گزرے تھے کہ چیخ وپکارسے میری آنکھ کھل گئی۔پیچھے دیکھاتوکچھ عورتیں،جن میں ایک ادھیڑ عمرعورت بھی شامل تھی، خوف کے مارے ڈرائیورپرچیختے ہوئے اسے گالیوں سے نوازرہی تھیں۔ اس وقت مجھے احساس ہواکہ بس کی سپیڈپہلے سے کافی بڑھ چکی ہے ۔ میں اسی کشمکش میں مبتلایہ اندازہ لگانے میں لگاہواتھاکہ یہ ماجراکیاہے؟اچانک کانوں کے پردے پھاڑدینے والی سنسناتی ہوئی آوازسنائی دی، پیچھے آنے والی بس کا ڈرائیورمسلسل ہارن پہ ہارن دیے جارہاتھا، وہ ہماری بس سے آگے نکلنے کی سرتوڑکوشش کررہاتھا،شدیدمزاحمت کے باوجودوہ کافی تگ دوکے بعدآگے نکلنے میں کامیاب ہوگیا،وہ بس ہمارے پاس سے یوں گزری جیسے کسی نے راکٹ یاپھرمیزائل چھوڑا ہو۔میں جس بس میں سوار تھا اس بس کاڈرائیوربھی ’’ہم بھی کسی سے کم نہیں‘‘ کے مصداق گزرجانے والی بس سے آگے نکلنے کی دھن میں ایکسیلیٹر پر دباؤ بڑھاتا چلا جا رہا تھا۔تمام مسافرہی چیخ چلا رہے تھے ، ادھیڑعمرعورت نے توروناشروع کر دیا مگر مجال ہے کہ ڈرائیورکے کان پرجوں تک رینگی ہو، ڈرائیور پر جنون سوارتھا، اسے تو’’ بس‘‘آگے نکل جانے والی بس ہی دکھائی دے رہی تھی ، آس پاس کیاہے ؟اس سے وہ بے خبرتھا۔اس نے دوسری بس کوکراس کرنے کے لئے تمام جتن کرڈالے اورپھراپنی کوشش میں کامیاب ہوا۔ اس کراسنگ اورریس کے دوران بھیانک حادثہ ہوتے ہوتے بچا، دونوں بسوں میں صرف ایک ہاتھ کاہی فاصلہ رہ گیاتھااگربس ذراسی بھی بے قابو ہوجاتی تودونوں بسوں کاحادثے سے دوچارہونایقینی تھا۔حادثے کے نتیجے میں جوہلاکتیں واقع ہوتیں ان کی تعداد یقیناًسینکڑوں میں ہوتی ۔

میری آنکھوں نے جب یہ منظردیکھاتوذہن کی سکرین پراخبارات میں چھپنے والے واقعات کی فلم سی چلنے لگی ۔اس فلم میں کئی مناظردکھائی دیے، کہیں گاڑی بے قابوہوکرگہری کھائی میں جاگری،کہیں گاڑی کسی چیزسے ٹکراکرپرزے پرزے ہوئی توکہیں گاڑی بری طرح جل کرخاکسترہوئی، کہیں اس بے قابوگاڑی نے کئی معصوم انسانوں کوکچل ڈالاتو کہیں دوگاڑیاں آپس میں ٹکراکراس طرح چپک گئیں کہ انہیں جداکرتے کرتے انسانوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہوئے۔ اس فلم کاThe End ہزاروں قیمتی جانوں اورکروڑوں کی ٹرانسپورٹ کے ضیاع کی صورت میں ہوا۔

ان حادثات کے ذمہ دارایسے ہی ڈرائیورہوتے ہیں جواپنی اناکی تسکین اورایک دوسرے کونیچادکھانے کی شوخی اورضدبازی میں گاڑی میں بیٹھے اس باپ کوبھول جاتے ہیں کہ جس کے بچے اس انتظارمیں ہیں کہ ابوجان کئی دنوں ،ہفتوں یاپھرمہینوں بعدہمارے لئے پیسے ، کھانے پینے کی اشیاء اورکھلونے لئے لوٹ رہے ہیں مگرباپ بچوں تک پہنچنے سے پہلے ہی رب کے ہاں جاپہنچتاہے ، دیدکے پیاسے بچے باپ کاآخری دیدارکرتے ہیں اورپھرہمیشہ کے لئے باپ کونظروں سے دورکردیتے ہیں ، باپ کفن لپیٹے مٹی میں دفن ہوکربچوں کویتیمی اوربھوک وافلاس کاکفن پہناجاتاہے۔بے رحم ڈرائیورگاڑی میں بیٹھے اس بیٹے کوفراموش کردیتے ہیں جس کی ماں مامتابھرے جذبات لئے اپنے بیٹے کوسینے سے لگانے کی چاہ اورسرشاری میں بے تاب دہلیزپہ کھڑی اس کی راہ تک رہی ہے کہ کب میرالعل سفرسے لوٹے گااورکب وہ اس کاماتھاچومے گی ۔ماں کو دروازے پرجب بیٹے کی مسخ شدہ لاش موصول ہوتی ہے تو بیٹے کاچہرہ پہچاننے سے اس کے دل کی آنکھیں بھی قاصررہتی ہیں ، ماں بیٹے کوآخری بوسہ اورتھپکی دے کراپنے ہی ہاتھوں زمین کی گودمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سلادیتی ہے ۔بے حس ڈرائیوراس ماں کونظراندازکردیتے ہیں جواپنے سینے سے معصوم کلی کولگائے دنیاومافیھاسے بے خبراپنے لخت جگرکے مستقبل کے خواب بُن رہی ہوتی ہے مگر چندہی ثانیے بعدتمام خواب بکھرجاتے ہیں، معصوم اپنی ماں کی لاش سے لپٹے ماں کومستقبل سے حال میں لانے کی کوشش میں روروکراپنابراحال کرلیتاہے ، وہ غم کے آنسوؤں سے اپنے مستقبل کے نقوش مٹادیتاہے ۔پتھردل ڈرائیورگاڑی میں سفرکرتے اس بھائی کوبھول جاتے ہیں جس کے بہن بھائی اس شوق میں ہیں کہ کب بھائی گھرمیں قدم رکھے اورکب وہ اس کی شادی کی خوشیاں دیکھیں ، مگرجب بھائی کی کٹی پھٹی آدھی لاش گھرپہنچتی ہے توگھرمیں کہرام مچ جاتا ہے،شادیانوں کی آوازگم اورصف ماتم بچھ جاتی ہے ، بارات کی جگہ جنازہ نکلتاہے ، بہن بھائی حجلہ عروسی سجانے کی بجائے اس کی قبرپرپھول چڑھاتے ہیں ۔ڈرائیورگاڑی تلے کچلے جانے والے اس راہ گیرکوبھول جاتے ہیں جوگھرسے سوادسلف لینے نکلا، جس کے اہل وعیال اس کے منتظرہیں کہ ہمارا پیارا گھر آئے گا مگر گھر والوں کواس کے جسم کابکھرا ہواشیرازہ ملتاہے ، اہل وعیال کواپنے واحدکفیل کودفنانے کی فکرپڑجاتی ہے۔یہ بات ایک کی نہیں کئی ایک کی ہے ۔روزنجانے کتنے ہی لوگ زندگی اورموت کی ان خوفناک ریسوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں ۔

مجھے یادہے ، میں دوست کے ساتھ محوسفرتھا، وہ اپنی خرمستیوں میں گاڑی کوٹریفک کے اژدہام میں بھی دوڑائے جارہاتھا، کئی مرتبہ خوفناک تصادم سے بچے۔میں نے زچ ہوکراسے کہا’’اس طرح توہم منزل پرپہنچنے کی بجائے سیدھے قبرستان جاپہنچیں گے ‘‘۔مجھے یہ بھی یادہے کہ اس نے مجھے بزدلی کاطعنہ دیاتھا، وہ طعنہ دیتے ہوئے یہ بھول گیاکہ بات ڈرکی نہیں احتیاط کی ہوتی ہے۔ ہاں میرے دل میں ڈربھی پناہ گزیں تھاکہ میرے والدین ، بہن بھائی، عزیزواقارب اوردوست احباب مجھ سے محبت کرتے ہیں ، وہ مجھ سے نجانے کیا کیا امیدیں لگائے بیٹھے ہیں ، اگرمیں یہاں بے موت مارا گیا تووہ جیتے جی مارے جائیں گے ۔ہمیں اگراپنی جان کی فکرنہیں توکم ازکم ان لوگوں کی توپرواہ کریں جو ہماری زندگی اورسلامتی کی دعائیں مانگتے ہیں ،جوکسی کے مرجانے پرلمحہ بہ لمحہ مرتے ہیں ، جن کی سانسیں کسی کی سانسیں رک جانے پررک رک کرچلتی ہیں۔

اگرہمیں اپنی زندگی عزیزنہیں توان لوگوں کی جان توقیمتی سمجھیں جوابھی جیناچاہتے ہیں ، جن کے جینے سے دوسروں کی زندگیاں وابستہ ہیں ، جن کی زندگی دوسروں کے لئے جینے کاسہارااوراستعارہ ہے۔ کہیں ایسانہ ہوکہ ان ڈرائیوروں کی وجہ سے گھرسے نکلنے والے مسافر اپنوں کوجی بھرکے دیکھنے کے بعدیہ کہہ کرنکلیں :

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہوجائے


ای پیپر