چوہدری نثار کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ پارٹی ہی کریگی :احسن اقبال
21 مارچ 2018 (16:18) 2018-03-21

اسلام آباد: چوہدری نثار کے بیانات نے ہمیشہ سے پارٹی کیلئے مشکلات کھڑی کیں ۔ پارٹی میں موجود لوگوں پر تنقید کرنے سے ن لیگ کے اکثر سینئر اور جونیئر چوہدری نثار کیخلاف نواز شریف سے شکایات کرتے رہے ،معاملہ ڈان لیکس کا ہو یا مریم نواز کا چوہدری نثار بھی ہمیشہ کھل کر ہی بات کرتے رہے شاید یہ ہی باتیں چوہدری نثار کو پارٹی سے دور دور رہنے کی اہم وجہ تھیں اور اب جبکہ الیکشن کی آمد آمد ہے چوہدری نثار کے حوالے سے مختلف باتیں سامنے آرہی ہیں ۔


وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ چوہدری نثار کے سیاسی مستقبل کے بارے میں فیصلہ پارٹی کرے گی۔ احسن اقبال نے کہا کہ پارٹی امور، پارٹی کے اندر حل کیے جاتے ہیں اور چوہدری نثار کے سیاسی مستقبل کے بارے میں فیصلہ پارٹی کرے گی۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ ای سی ایل میں شامل 600 افراد کے نام کابینہ کو بھجوادیئے ہیں، یہ نام اگست 2016 کے بعد سے ای سی ایل میں ڈالے گئے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ نگران حکومت کیلئے وزیراعظم نے مشاورت شروع کردی ہے، جمہوریت کے مفاد میں بہترین ناموں پراتفاق کرلیں گے، ایسے بہترین افراد کا انتخاب کرنا ہے جو شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنائیں، ایسے افراد نہ ہوں جن سے انتخابی عمل خرابی،عدم شفافیت یا التواءکا شکارہوں۔

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہاہے کہ دنیا کو پرامن بنانا اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہے ، دہشتگردی اور ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹا جاسکتا ہے ، پاکستان دہائیوں سے سیاسی تنازعات کا شکار رہا ہے تاہم اب گوادر خطے کا آبی تجارتی مرکز بن رہا ہے پاکستان کو منفرد جغرافیائی حیثیت حاصل ہے جس کی وجہ سے پاکستان تین خطوں کو آپس میں ملاتا ہے ۔

بدھ کے روز اسلام آباد میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کے مختلف حصوں میں صنعتی زون قائم کئے جارہے ہیں چین سے پاکستان کے راستے سامان دوسرے ملکوں تک پہنچے گا پاک چین اقتصادی راہداری سے خطے پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے سی پیک سے وسطی ایشیائی ممالک بھی ایک تجارتی پلیٹ فارم بنیں گے وسطی ایشیا سے لیکر روس تک کے ممالک سی پیک سے منسلک ہوں گے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک کی تاریخ اور ثقافت میں بہت مماثلت ہے ہماری ثقافت کی جڑیں وسطی ایشیائی ممالک تک پھیلی ہوئی ہیں اسی وجہ سے ان ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع ہیں دنیا کی گلوبل ویلج بنتی جارہی ہے اکیسویں صدی میں جنوبی ایشیا کے لوگ غربت سے چھٹکارا حاصل کررہے ہیں۔

ایشیا دنیا کے معاشی مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آرہا ہے خطے کے ممالک کو سیاسی معاملات سے نکل کر معیشت کی طرف گامزن ہونا ہوگا بیسویں صدی سیاست کی صدی تھی تاہم ابھی اکسویں صدی جدید ٹیکنالوجی اور معیشت کی صدی ہے آج ہر ملک اپنی معاشی ترقی پر نظر رکھے ہوئے ہیں وہی کامیاب ہے جو باہمی تعاون کے نظریے پر گامزن ہے چین پاکستان میںمختلف شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کررہا ہے وسطی ایشیائی ممالک سے کاسا جیسے منصوبوںپر کام جاری ہے وزیر داخلہ احسن اقبال نے مزید کہا کہ کاسا سے پاکستان ، افغانستان اور بھارت توانائی کے شعبے میں مستفید ہوسکیں گے تاپی منصوبہ بھی جلد از جلد مکمل کرلیا جائے گا۔


ای پیپر