رائو انوار ڈرامائی انداز میں سپریم کورٹ پیش
21 مارچ 2018 (15:56) 2018-03-21

اسلام آباد: دو ماہ سے روپوش سابق ایس ایس پی ملیر رائو انوار ڈرامائی انداز میں سپریم کورٹ میں پیش ہوگئے‘ رائو انوار سفید رنگ کی گاڑی میں ماسک پہن کر احاطہ عدالت پہنچے‘ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری رائو انوار کے ہمراہ تھی‘ سپریم کورٹ پیشی پر احاطہ عدالت میں سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی اور غیر متعلقہ افراد کا احاطہ عدالت میں داخلہ روک دیا گیا۔

نقیب اﷲ محسود کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر رائو انوار سپریم کورٹ میں پیش ہوگئے۔ رائو انوار ماسک پہن کر گاڑی سے اترے رائو انوار کے بعد وہ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری رائو انوار کے ہمراہ تھے۔ رائو انوار سفید رنگ کی گاڑی میں سپریم کورٹ پہنچے۔ رائو انوار 19جنوری سے روپوش تھے۔ رائو انوار کی سپریم کورٹ کورٹ میں پیش پر احاطہ عدالت میں سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی اور غیر متعلقہ افراد کا سپریم کورٹ کے احاطے میں داخل روک دیا گیا۔ نقیب اﷲ محسود قتل کیس میں رائو انوار کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے رائو انوار سے استفسار کیا کہ آپ اتنے دلیر ہیں کہاں چھپے ہوئے تھے؟ لوگوں کو گرفتار کرتے رہے خود کیوں چھپے رہے؟ رائو انوار نے کہا کہ عدالت کے سامنے خود کو سرنڈر کرتا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سرنڈر کرکے عدالت پر احسان نہیں کیا۔ عدالت نے رائو انوار کو گرفتار کرنے کا حکم دیدیا۔ سپریم کورٹ نے رائو انوار کی حفاظتی درخواست مسترد کرتے ہوئے بینک اکائونٹس کھولنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے رائو انوار کی سکیورٹی یقینی بنانے کا بھی حکم دیدیا چیف جسٹس نے کہا کہ مفرور کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے نئی جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ تحقیقاتی کمیٹی میں حساس اداروں کے نمائندے شامل کرنے کی رائو انوار کی استدعا مسترد کردی۔ عدالت نے توہین عدالت کا نوٹس بھی واپس لے لیا۔

تحقیقاتی ٹیموں پر رائو انوار کے تمام اعتراضات بھی عدالت نے مسترد کردیئے۔ عدالت نے ایڈیشنل آئی جی سندھ آفتاب پٹھان کی سربراہی میں پانچ رکنی جے آئی ٹی بنا دی سابق ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان‘ ولی اﷲ‘ ذوالفقار لاڑک اور ڈی آئی جی آزاد احمد خان شامل ہیں۔ عدالت نے رائو انوار کا نام ای سی ایل میں رکھنے کا بھی حکم دیدیا۔


ای پیپر