وزیراعلیٰ سندھ کا وفاق سے متعلق موقف
21 جون 2019 2019-06-21

سندھ بجٹ میں ایک بار پھر یہ بات سامنے آئی کہ وفاق نے سندھ کو این ایف سی ایواڈ میں دیئے گئے حصے سے کم رقم دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ وفاق سے کم رقم ملنے کی وجہ سے صوبے کو اپنا سالانہ ترقیاتی پروگرام سکیڑنا پڑا۔ سندھ کے تمام بڑے اخبارات نے اداریوں میں حکومت سندھ کے اس موقف کی حمایت کی ہے۔ ’’وزیراعلیٰ سندھ کا وفاق کے بارے میں موقف ‘‘ کے عنوان سے روزنامہ سندھ ایکسپریس لکھتا ہے کہ گزشتہ سال جب عمران خان اقتدار میں آئے تو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ عوام سے کئے گئے وعدہ وفا کریں گے۔ لیکن ایک ایک کر کے تحریک انصاف کی حکومت نے تمام وعدوں کے الٹ عمل کیا۔ صوبوں اور وفاق کے درمیان جاری کشمکش حساس اور اہم معاملہ ہے۔ خاص طور پر وزیراعظم عمران خان نے سندھ کے ساتھ جو رویہ رکھا ہے وہ کافی حد تک خراب ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے سندھ اور وفاق کے درمیان کشمکش بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔یہ وفاق کے بنیادی ذمہ داریوں میں شامل کہء کہ وہ اپنی تمام اکائیوں سے صحیح طریقے سے ڈیل کرے۔ سندھ کے ساتھ عمران خان کی ’’ مہربانیاں‘‘ اس وجہ سے بھی ہیں کہ یہاں پر پی ٹی آئی کی نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کی حکومت ہے۔ لہٰذا معاملات بہتر ہوتے نظر نہیں آتے۔

اس ضمن میں وزیراعلیٰ سندھ نے جو بیان دیا ہے وہ غور طلب ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبے مل کر وفاق بناتے ہیں۔ پاکستان صرف اسلام آباد نہیں، وفاق خود تو گر رہا ہے لیکن اپنے ساتھ صوبوں کو بھی گر ا رہا ہے۔ آئی ایم ایف نے وفاق سے کہا کہ سرپلس بجٹ دیں۔ ہمیں بھی کہا گیا کہ بچت والا بجٹ لے آئیں۔ ہم کوئی این آ ر او نہیں مانگ رہے، ہم سندھ کے حقوق مانگ رہے ہیں۔انہوں یہ بھی شکوہ کیا کہ وفاق آخری دنوں میں پیسے دیتا ہے ، ہم معمولی مدت میں پورا بجٹ کیسے خرچ کر سکیں گے؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیشنل اکنامک کونسل کے حالیہ اجلاس کے میرے موقف سے متعلق منٹس ہی غائب کردیئے گئے ہیں۔ میں نے سندھ کی حذف کئے گئے منصوبوں پر آواز اٹھائی تھی۔ پہلے اجلاس کا تین صوبوں نے بائیکاٹ کیا تھا۔چوتھے اجلاس میں وزیراعظم بغیر منظوری کے اٹھ کر چلے گئے۔

وزیراعلیٰ سندھ کی ان باتوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ملک کی وحدتیں جب مضبوط ہونگے تو وفاق بھی مضبوط ہوگا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس گلزاراحمد نے جمعرات کے روز کراچی میں دو مقدمات کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں پولیس کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ پولیس اہلکار دن میں ڈیوٹی دیتے ہیں اور رات کو ڈاکے ڈالتے ہیں۔پورے ملک میں پولیس کا نظام خراب ہے۔ پولیس نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ پولیس نے آخر ایسا کیا کیا ہے کہ اس کی تنخواہیں بڑھائی جارہی ہیں۔بڑی تنخواہیں لیکر بھی دو نمبری کی جاتی ہے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ کے جج نے طرز حکمرانی، کرپشن اور پولیس کارکردگی پرسخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پورا سندھ کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے۔ بجٹ کا ایک پیسہ بھی صوبے پر خرچ نہیں کیا جارہا ہے۔ یہ ریمارکس ایسے موقع پر آئے ہیں جب سندھ اسمبلی میں بجٹ پر بحث ہورہی ہے اور حکمراں جماعت اپنی کارکردگی کے گیت گا رہی ہے۔ اپوزیشن حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے ہے ۔ جسٹس گلزار احمد نے سکھر شہر میں کثیر منزلہ عمارت کی تعمیر کی جازات دینے پر بھی برہمی کا اظپار کیا، کہ جس شہر میں درجہ حرارت پچاس ڈگری تک جاتا ہو، دنیا میں کہیں بھی اتنی بڑی عمارتوں کی تعمیر کی اجازت نہیں دی جاتی۔

’’روزنامہ کاوش‘‘ اور ’’ روزنامہ پنہنجی اخبار‘‘ نے ایک ایسے ہی معاملے پر اداریے لکھے ہیں جس کا ذکر جسٹس گلزار احمد نے کیا ہے۔ روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ مختلف واقعات بتاتے ہیں کہ قانون جرائم پیشہ افراد اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کا غلام بناہوا ہے۔ پولیس بطور ادارے کے نہ سہی، مجرموں کی سہولتکاری اور جرائم کے لئے سازگار ماحول بنا کر دینے کے کام میں مصروف ہے۔ وقتا فوقتا ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں کہ جس میں پولیس کے مجرموں کے ساتھ روابط کی تصدیق ہوتی ہے، ایسی ہی ایک مثال شکارپور پولیس کے آپریشنل انچارج اور ڈاکو منیر مصرانی کے درمیان بات چیت کی ریکارڈنگ وائرل ہوئی ہے۔ جس میں پولیس افسر ڈکیت منیر مصرانی سے شہید ہونے والے دو پولیس اہلکاروں کے ملزمان کی گرفتاری میں مدد کرنے کے لئے عرض کر رہا ہے۔ جواباً ڈکیت منیر مصرانی پولیس افسر کو گھر جلانے اور خواتین کی گرفتاری سے متعلق دھمکی دے رہا ہے کہ کچے میں ڈاکوئوں کے پاس خطرناک اسلحہ موجود ہے ۔ چندر وز قبل شکارپور ضلع کے تھانہ بچل بھیو کی حد میں مجرموں کی گرفتاری کے لئے اے ایس پی سٹی کی سربراہی میں اے پی سیز اور موبائلوں کے کارواں پر گھات لگا کر بیٹھے ہوئے ڈاکوئوں نے حملہ کر کے دو پولیس افسران شہید کردیئے تھے۔ بعد کے واقعات سے بتا چلا کہ ڈاکوئوں کو پہلے سے اطلاع تھی اور انہیں یہ بھی پتہ تھا کہ پولیس کے پاس کیا اسلح ہے اور پولیس کی اے پی سیز کتنی کمزور ہیں۔

لگتا ہے کہ امن و امان حکمرانوں کے ایجنڈا کا حصہ ہی نہیں۔ حکمرانوں کی دعوئوں سے لگتا ہے کہ شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ سے پانی پی رہے ہیں۔ لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں، حقیقی سندھ کا عکس اخبارات میں نظر آتا ہے جو کرائم ڈائری بنی ہوئی ہیں۔ سندھ کو اس بدترین صورتحال پر پہنچانے کی ذمہ دار بھی منتظمین ہیں۔ جو سیاسی بھوتاروں کی فرمائش پر ان کے جاہ و جلال ، رعب اور بادشاہی برقرار رکھنے کے لئے ان کی فرمائش پر تقرر اور تبادلے کرتے ہیں۔جب آڈیو ریکارڈنگ سامنے آگئی ہے تو دیر کس بات کی ہے؟ متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ اور اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہوگیا ہے کہ فرمائش پر پولیس اہلکاروں کے تقرر اور تبادلے کا سلسلہ بند کیا جائے۔


ای پیپر