امریکہ جا کر گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے
21 جون 2019 2019-06-21

پاکستان کرکٹ ٹیم کی ذلت آمیز شکست اور اس پر عوامی احتجاج کے پیچھے جو نقطہ کار فرما تھا وہ یہ تھا کہ انہوں نے عالمی سطح پر ہمارے قومی وقار کو مجروح کیا اور ہماری بے عزتی کروائی ہے۔ اسی طرح حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان نے کرغیزستان میں ہونے والے شنگھائی کو آپریشن آرگنائزیشن ( SCO ) کے سالانہ اجلاس میں جب عالمی پروٹوکول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے روسی صدر پیوٹن کی ایوان میں آمد پر اپنی نشست پر بیٹھے رہنے کا فیصلہ کیا تو قوم نے پھر شور مچا دیا کہ ہماری بے عزتی کروا دی ہے ۔ کرکٹ میچ ہار جانے یا پروٹوکول کی پابندی نہ کرنے سے وقتی طور پر شرمندگی ہوتی ہے لیکن یہ کوئی بہت بڑے غیر معمولی واقعات نہیں ہیں جن کی بناء پر پاکستان کو عالمی برادری سے نکالا جا سکے یا یہ کہا جا سکے کہ یہ پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے یا یہ عمل پاکستان سے غداری کے زمرے میں آتا ہے ایسا کچھ نہیں ہے۔ پاکستان کی بے تو قیری تب سمجھی جائے گی جب ایسا کرنے والا کوئی فرد یا ادارہ دانستہ اور ارادتاً ایسا سوچے گا اور پھر اس پر عمل در آمد بھی کرے گا۔ یہ مکروہ کام اگر کوئی غیر پاکستان کرے تو افسوسناک ہے مگر تصور کریں کہ اس طرح کی مذموم حرکت کرنے والے اگر ہماری اپنی صفوں میں ہی م وجود ہوں تو یہ کسی قدر بے حمیتی کا مقام ہے کہ یہ لوگ جس تھالی میں کھاتے ہیں اسی میں ہی سوراخ کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو سقوط ڈھاکہ کی وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہاں کی یونیورسٹیوں میں پڑھانے والے پروفیسرز کی اکثریت ہندو تھی جو بنگالیوں کی نئی نسل کو اسلام اور نظریہ پاکستان سے گمراہ کرنے کی خاطر دو دہائیوں سے زہر آلود پراپیگنڈا کرنے میں مصروف تھے۔

اس سارے پس منظر کا خلاصہ یہ ہے کہ آج کل پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں بشمول پنجاب ، سندھ اور بلوچستان پروفیسروں کا ایک وفد امریکہ کی یونیورسٹی آف نارتھ کیرو لینا کی دعوت پر ایک تعلیمی ورکشاپ بدعنوان Digital Humanities Workshop پارٹ ٹو میں شمولیت کے لیے امریکہ گیا ہوا ہے۔ اس تعلیمی و تحقیقی دورے کا اہتمام امریکن انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان سٹڈیز ( AIPS ) نے کیا تھا جو دونوں ممالک کے درمیان ایجوکیش اور ریسرچ ماہرین کے تبادلے اور تدریسی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے ۔ یہ غیر سرکاری تنظیم کونسل آف امریکن اوورسیز ریسرچ سنٹرز ( COARS ) کی چھتری تلے کام کرتی ہے جسے امریکی وزارت خارجہ اور وزارت تعلیم کی مالی سر پرستی حاصل ہے اس سنٹر کا برانچ آفس اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے ماتحت کام کرتا ہے۔

بات ہو رہی تھی ان پاکستان سکالرز کے گروپ کی جو اس وفد کا حصہ ہیں یہ سارے خواتین و حضرات مختلف سرکاری یونیورسٹیوں میں پڑھاتے ہیں۔ مجھے اپنے ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ امریکہ میںاپنے قیام کے دوران کچھ ممبران بالخصوص جام شورو سندھ کی ای یونیورسٹی کی خاتون پروفیسر نے امریکیوں کے ساتھ اپنے انٹرویو کے دوران پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی انتہائی حدیں پار کی ہیں اور پاکستان کی توہین کا کوئی موقع اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیا یہاں ان کا نام لکھنا مناسب نہیں لیکن ہمارے پاس باوثوق اطلاعات ہیں کہ محترم نے پاکستان میں انسانی حقوق کی کھلم کھلا پامالی، بچوں کے ساتھ جنسی جرائم کی بھر مار، عورتوں کے ساتھ غیر مساوی اور امتیازی سلوک ، پاکستان کے جمہوری نظام اور حکومت کے خلاف اپنے منفی جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم اپنے ملک میں ان مسائل سے نبرد آزما ہیں اور اپنی جدو جہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اپنے وطن سے باہر جا کر اپنے ملک کے نظام کے خلاف اس طرح کی بات کرنا ایک اعلیٰ درجے کی ناشکری اور اپنے ملک کے ساتھ غداری کے مترادف ہے۔ جب ملک کا پڑھا لکھا طبقہ اس طرح کی بات جا کر غیروں کے سامنے کرے گا تو پاکستان کی اس سے زیادہ بے عزتی اور رسوائی اور کیا ہو سکتی ہے۔ جس افسوسناک واقعہ کا ہم نے ذکر کیا ہے اس کے بعد وفد میں موجود محب وطن ممبران نے مذکورہ ممبر کو ایسا کرنے پر نا پسندیدگی کا اظہار کیا مگر محترمہ نے معذرت کرنے کی بجائے اپنے مٔوقف پر ڈٹے رہنے کی پالیسی اپنائی اور باقیوں کو بھی ترغیب دینے کی ناکام کوشش کی کہ وہ بھی پاکستان کے خلاف آواز اٹھائیں۔

انگریزی کا قدیم محاورہ ہے کہ ’’A fish starts rotting from the head down ‘‘ یعنی مچھلی کے اندر گلنے سڑنے کا عمل سب سے پہلے اس کے دماغ سے شروع ہوتا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی بھی شعبے میں خرابی کا آغاز اس کی لیڈر شپ سے ہوتا ہے۔ اساتذہ کرام ہمارے معاشرے کے اصل Architect ہیں جو کہ آنے والی نسلوں کو تیار کرتے ہیں اگران کے نظریات اس طرح زہر آلود ہوں گے تو وہ نئی نسل کے خون میں پاکستان سے نفرت کا ایسا زہر بھر دیں گے جس کا تریاق نا ممکن ہے۔ جو محترمہ پاکستان سے باہر جا کر اپنے وطن عزیز کا اتنا تاریک امیج پیش کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتیں ان کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ وہ سندھ کی نئی نسل کو کس طرح کی تعلیم دے رہی ہیں۔

پاکستان کی وزارت خارجہ اور وزارت تعلیم کو اس طرح کے واقعات کا نوٹس لینا چاہیے کہ ہمارے اپنے ملک کے شہری جو حکومت پاکستان سے بھاری تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں وہ باہر جا کر اسی حکومت اور ریاست کو چند ڈالروں کی خاطر برا بھلا کہتے ہیں تاکہ امریکہ والے انہیں عزت دیں انہیں فری سکالر شپ دیں اور پاکستان میں ان کے فرضی پراجیکٹس کو امریکہ سے فنانسنگ ملے۔ یہ پاکستان کے وقار اور وسیع تر قومی مفاد کو بیچنے کے مترادف ہے۔

جو خواتین و حضرات اس طرح کے دوروں پر امریکہ جاتے ہیں اس میں متعلقہ سرکاری اداروں کی طرف سے انہیں بتایا جاتا ہے کہ آپ وہاں پاکستان کے غیر سرکاری سفیر کے طور پر جا رہے ہیں اور آپ کا اخلاقی و قومی فرض ہے کہ اپنے ملک کی دیانت داری اور وفاداری کے ساتھ صحیح نمائندگی اور ترجمانی کریں۔ لیکن میرے خیال میں یہ کافی نہیں ہے۔ آئندہ حکومتی اداروں کو چاہیے کہ ایسے نام نہاد سکالرز اور پروفیسرز کی نامزدگی سے پہلے ان کی بھر پور سکروٹنی کی جائے ان کے انٹرویو کیے جائیں اور ان کے بارے میں محکمانہ رپورٹس حاصل کی جائیں باالفاظ دیگر ان کی ذہنی سکریننگ ضروری ہے کہ پتہ چلایا جا سکے کہ یہ ملک کے وفادار بھی ہیں یا نہیں۔

کالم کے شروع میں میں نے سقوط ڈھاکہ میں یونیورسٹی پروفیسروں کے کردار پر بات کی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں بھرتی کیے جانے والے اساتذہ کرام کی حب الوطنی ہر طرح کے شک و شبے سے بالا تر ہونی چاہیے کیونکہ ایک گمراہ پروفیسر پوری قوم کو گمراہ کر سکتا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ محکمہ تعلیم کے اہل بسط و کشاد سنٹرل یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا جانے والے وفد کی مذکورہ پروفیسر صاحبہ سے اینٹی پاکستان رویے پر ان سے ضرور باز پرس کریں گے وفد میں شامل دیگر معزز پروفیسر صاحبان سے اس امر کی تصدیق کی جا سکتی ہے کہ وہاں کس طرح کی پاکستان کے امیج کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔ ایک پروفیسر کو اپنے منصب کے منافی طرز عمل زیب نہیں دیتا کہ وہ جس کشتی کا مسافر ہے اس میں سوراخ کر کے اسے ڈبونے کی سازش میں شراکت داری کرے۔وطن پرستی اور وطن فروشی میں امتیاز کریں اور حق کا راستہ اپنائیں۔ آپ کو وطن کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے وہاں بھیجا گیا تھا اور آپ غیروں کی خوشنودی کی خاطر ان سے مل گئے۔ یہ تو گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے والی بات ہے۔


ای پیپر