کھیل سیاست کا شکار کھلاڑی حماقت کا شکار تماشائی فراغت کا شکار
21 جون 2019 2019-06-21

پچھلے ایک ہفتے سے کرکٹ ورلڈ کپ میں پاک بھارت کرکٹ میچ کا شور مچا ہوا تھا۔ ہر کوئی اسی موضوع پربات کر رہا تھا مجھے ذاتی طور پر تو کرکٹ سے کبھی دلچسپی نہیں رہی لیکن میری ایک دوست کے بھائی کو باقی قوم کی طرح دیوانگی کی حد تک عشق تھا ۔وہ آج مجھے ملی تو بتا رہی تھی کہ جس دن پاک بھارت کرکٹ میچ ہونا تھا اس دن صبح ہی سے وہ ذہنی الجھن کا شکار تھا۔بار بار چینلز بدل کر مختلف تجزیہ نگاروں کی گفتگو سنتا کبھی فیس بک پر کوئی سٹیٹس ڈال دیتا ۔مجھے اس تمام صورتحا ل سے شدید ذہنی کوفت ہو رہی تھی۔ میچ شروع ہوا تو گویا پوری زندگی کا مرکز یہی ایک چیز تھی نہ نماز کی ہوش نہ ارد گرد کی خبر۔ میچ میں بارش اور پھر اس کے بعد لمحہ لمحہ صورتحال پاکستان کی شکست کو قریب تر کر رہی تھی اور بھائی کا بلڈ پریشر بڑھتا جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ پاکستان میچ ہار گیا اور پھر اس نے اپنا موبائیل اٹھا کر ٹی وی پر دے مارا۔ جس پر امی ابو نے اسے خوب لتاڑا۔وہ بتا رہی تھی کہ میچ کے بعد ہمارے گھر میں دو روز تک سوگ کا سماں رہا۔ یہی نہیں میں نے اپنے ارد گرد کئی لوگوں کو دیکھا ہے جو کرکٹ میچ کی خاطر سارا سارا دن ٹی وی کے آگے بیٹھے رہتے ہیں اس دوران انہیں اپنی نمازوں،کاروبار یا تعلیم کی کوئی فکر نہیں ہوتی ہے۔

آخر یہ کیسا کھیل ہے ؟جو وقت کے ضیاع اور اذیت کے علاوہ کچھ نہیں دے رہا میرا دماغ بڑی الجھن کا شکار تھا۔ میں اپنی سوچوں میں گم استاد جی کے گھر چلی گئی۔ ان کے گھر معمول کے مطابق ٹی وی بند تھا ان کی بیٹی قرآن پڑھ رہی تھی اور استانی جی کھانا بنانے میں مشغول تھیں۔ استاد جی صحن میں پودوں کو پانی دے رہے تھے۔میں نے انہیں سلام کیا اور چارپائی پر بیٹھ گئی۔استاد جی نے پوچھا کیا بات ہے؟

بچہ جی کیا الجھن ہے جو تجھے یہاں لے کر آئی ہے؟

میں نے بغیر تہمید باندھے پوچھا آخر اس کھیل کا فائدہ جس کا ماحاصل صرف ذہنی اذیت، وقت کا ضیاع اور دین سے دوری ہو؟

استاد جی مسکرائے اور کہنے لگے بچہ جی!

جب کھیل کا نشہ سر چڑھ کر بولنے لگے تو وہ پستی کا شکار ہوجاتا ہے۔

جب کھیل سیاست کا شکار ہو جائے تو پھراس سے وقت کے ضیاع کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

اتنا کہہ کر وہ پھر سے اپنے کام میںمصروف ہوگئے اور میں نے غور کیا تو واقعی یہ کھیل اب پستی کا شکار ہو چکا ہے کیونکہ ہم نے اسے نشے کی طرح اپنا لیا ہے۔

جب کھیل کو کھیل تک دیکھا جائے تو ٹھیک ہے۔

جب کھیل کو کاروباریا جوا بنا دیا جائے یا پھر کھیل میں اقربا پروری کی جائے اورنظم وضبط کی کوئی پرواہ نہ کرے،میرٹ کی دھجیاں اڑا دی جائیں،بلاوجہ حکومتی مداخلت اور ذاتی پسند نا پسند شامل ہو جائے تو پھر وہ کھیل نہیں رہتا وہ معاشرے کے لیے ایک ناسور بن جاتا ہے۔

بس ہماری خامی یہی ہے کہ ہم نے کھیل کو بھی سیاست بنا دیا ہے اس لیے اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پارہے۔

باقی رہی سہی کسر ملٹی نیشنل اشتہاری کمپنیوں نے پوری کردی ہے جوکھیل کواتنا اہم بنا کر پیش کرتے ہیں گویا سب سے اہم قومی مسئلہ یہی ہے اس قوم کا جینا مرنا یہی کھیل ہے؟

مجھے معلوم ہے کہ جب میں کہوں گی کہ لگاتار آٹھ گھنٹے تک کرکٹ دیکھنا صرف اور صرف وقت کاضیاع ہے تو کئی لوگوں کو میری بات اچھی نہیں لگے گی کیونکہ ہماری آدھی سے زائد قوم اس وقت کرکٹ جنون میں مبتلا ہے۔ جب میں کرکٹ میچ کے دوران نوجوان نسل کو ٹیلی ویژن کے سامنے دنیا سے بے خبرفراغت سے بیٹھے سکرین پر نظریں جمائے دیکھتی ہوں تو مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ یہ کتنا قیمتی وقت کتنے بے مقصد کام میں ضائع کر رہے ہیں۔

علامہ اقبال کا ایک شعر ہے۔

تیرے صوفے ہیں افرنگی تیرے قالیں ہیں ایرانی

لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی

اب میری اس بات کا ہرگزیہ مطلب نہ لیجیے گا کہ کھیل دیکھنا یا کھیلنا سرے سے ہی فضول کام ہے۔ کھیل کود بلاشبہ انسانی نشوونما کے لیے بے حد ضروری ہے بلکہ کھیل کود تو اللہ کے نبی ؐ بھی پسند فرمایا کرتے تھے، کھیل کود جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے انتہائی ضروری ہے۔لیکن مجھے اس بات پر اعتراض ہے کہ قوم کرکٹ میچ کے بخار میں مبتلا ہو کر اپنی زندگی کے بہترین لمحات کو یوں ضائع کرتی ہے جیسے یہ وقت نہیں،کوئی فضول چیز ہے جو بھی چیز ہماری اس قیمتی متاع کو ضائع کرنے کا باعث ہو، ہم اسے کیسے ایک اچھا عمل یا ایک اچھی سر گرمی کہہ سکتے ہیں؟حالیہ ورلڈکپ میں پاکستانی کھلاڑیوں نے جس طرح بھارت سے شکست کھائی اورجس طرح اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے والے نوجوانوں کے دل ٹوٹے اس کے بعد ان کو چاہیے کہ اس کی جگہ ہاکی، فٹ بال اور باسکٹ بال جیسے کم وقتی کھیلوں کو اہمیّت دیں۔یقین مانیں اگر چین،جاپان، فرانس، جرمنی، روس اوراس طرح کے کئی دیگر ممالک بغیر کرکٹ ٹیم کے رہ سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟ میچ ہارنے کا غم تازہ ہی تھا کہ سوشل میڈیا پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی میچ سے سات گھنٹے پہلے رات دو بجے ثانیہ مرزا کی دعوت کی تصاویر منظر عام پر آگئیں جن میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ جب پاکستانی قوم بھارت کو ہرانے کے لیے پرعزم تھی اس وقت پاکستان کی آدھی ٹیم کیسینو میں تھی۔ ان کی شیشہ سموکنگ کی تصاویر وائرل ہوئیں تو قوم کے غم وغصہ میں مزید اضافہ ہوگیا۔

قوم کو یہ غم کھاگیا کہ ٹیم کی توجہ میچ سے زیادہ آوارہ گردی، عیاشیاں کرنے اورکیفے میں شیشہ پینے پر تھی اور تو اور میچ کے دوران کپتان سرفراز دن بھر جمائیاں لیتے رہے اور پاکستانی عوم پیچ و تاب کھاتی رہی۔

سچ بتائیں کیا ایسے ہوتی ہیں تیاریاں ایک اہم ترین میچ کی؟کیا اس شرمناک شکست اورکروڑوں پاکستانیوں کے دل توڑنے پر پوری ٹیم، کوچ، چیف سلیکٹر کو فارغ اور کرکٹ بورڈ کو تحلیل نہیں کردینا چاہیئے؟ خصوصاً ایسے مقام پر جب موجودہ کرکٹ ٹیم اب پاکستانی قوم کیلئے وقت اور سرمایہ کا ضیاع بن رہی ہے،ایسے کھیل کا کیا فائدہ؟ بلکہ یہ تو کروڑوں لوگوں کے کروڑوں گھنٹے اور اربوں روپے کا نقصان ہے۔یاد رکھیں وہی قومیں دنیا میں ترقی کرتی ہیں جو وقت کی قدر کرنا جانتی ہیں۔پاکستانی قوم کا تین ارب سالانہ اس کرکٹ جیسی بے مقصد تفریح پر ضائع کر دیا جاتا ہے جو تعلیم صحت یا کسی اور سہولت پر بھی خرچ کیا جا سکتا ہے جس کا عوام کا کوئی فائدہ تو ہو۔

باقی کرکٹ کی گیم مہارت،جذبہ،محنت اورمنصوبہ بندی مانگتی ہے ہم اسے خواہشوں، فیس بک اسٹیٹس اور اشہارات سے جیت نہیں سکتے۔

نیتوں میں فتور آئے تو …معجزے پھر ہوا نہیں کرتے … اسلیے میچ ہارتے ہیں ہم … کیونکہ رب سے دعا نہیں کرتے … ٹیم گر قوم سے ہو مخلص تو… ایسے لمحے دغا نہیں کرتے … آزمایا ہے بار بار انہیں … وقت پر یہ وفا نہیں کرتے

اس لیے کھیل کو بس ایک کھیل کی حد تک دیکھیں اور ان کی خاطر اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کریں جو آپ کے قیمتی جذبات کی قدر کرنے کی بجائے اسے دھوئیں میں اڑا دیتے ہیں۔


ای پیپر