’’ٹھاہ …ٹھاہ‘‘…ٹھُس ٹھُس اور شیدا مخولیا …؟
21 جون 2019 2019-06-21

وہ بڑی مناسب شخصیت کا مالک تھا اور بڑے پر سکون انداز میں بیٹھا تھا … مگر نہ جانے کیوں اس کی اکثر باتوں پر مجھے اپنی ہنسی پر کنٹرول کرنا خاصہ مشکل لگ رہا تھا … ستر سال کی عمر میں اس قدر چاک و چوبند شخص، قابل رشک صحت تھی اس کی …

ہم کھانے کی میز پر بیٹھے تھے اور ابھی میں نے دو لقمے ہی لئے تھے کہ درختوں کے پاس سر سراہٹ سی محسوس ہوئی … وہ اٹھا اور پرانی طرز کے جاسوس کے انداز میں دبے پائوں ہاتھ میں پستول لئے اس طرف بڑھنے لگا جدھر سے آواز آئی تھی … کھسر پھسر کرتے ہوئے … شاید وہ خود کلامی کر رہا تھا …؟

’’دھڑام‘‘ کی آواز اور اس نے ہوا میں اپنے پستول سے فائر کر دیا۔ میری ہنسی نکل گئی … وہ بھی شرمندہ شرمندہ سر جھکائے کھانے کی میز کی طرف بڑھ رہا تھا … ایک سفید رنگ کی بلی درخت میں سے ہوتی ہوتی ہمارے سامنے آ گئی … میں نے غور سے دیکھا تو مجھے محسوس ہوا کہ بلی بھی ہنس رہی تھی بلکہ ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی … کاش بلی بول سکتی اور وہ میرے ساتھ کچھ باتیں شیئر کرتی اور اسی بہانے ہم دوست بن جاتے مگر ہمارا ہمیشہ بے زبانوں سے ہی پالا پڑا ہے … اسی لئے دوستی کا فقدان ہی رہا … یعنی ہمیں زیادہ بولنے کی عادت ہے دوستوں کی عنائت ہے کہ ہمیں برداشت کر لیتے ہیں … اکثر محفلوں میں، میں بولتا ہوں دوست صرف سنتے ہیں …؟ ہے ناں بُری بات …؟

پھر سے کھانا شروع ہوا … اس نے ایک بوٹی منہ میں ڈالی … کبھی دائیں کبھی بائیں … عجیب طرح کی آوازیں نکل رہی تھیں … شاید اس کے منہ سے نکلنے والی آوازیں یا کچی بوٹیوں کی خوشبو تھی … کہ بلی پھر سے اچھلی … وہی منظر پھر سے دہرایا گیا … جاسوس کے سے انداز میں دبے پائوں پستول پکڑ کر اس کا جانا … یہ منظر شاید میں اچھی طرح بیان نہیں کر پا رہا لیکن دیکھتے میں تو بڑا ہی مزیدار تھا …

اس نے منہ سے آدھ پکی بوٹی جس کی وہ جگالی کر رہا تھا … جب حلق سے نیچے نہ اتر سکی تو اس نے دور پھینکی … بلی لپکی … مگر مایوسی کے عالم میں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی دور جا کر بیٹھ گئی … میں نے ارد گرد اونچی اونچی دیواروں کو دیکھا تو دل اداس ہو گیا … ’’بے چاری بلی‘‘ … کیونکہ یہ وہ علاقہ تھا جہاں چار چار کنال کے بڑے بڑے گھر ہیں جن میں نہ پکانے والے ہیں نہ کھانے والے ہیں یعنی انسان کم پودے، چارپائیاں، جانور زیادہ … کھانا فریجوں میں پڑا جب بدبو دینے لگتا ہے تو ’’سخی لوگ‘‘ ان بے چاری بلیوں کے آگے ڈال دیتے ہیں … اور بے چاری بلیاں سونگھ کر پرے بیٹھ جاتی ہیں اور بھوکی اپنے نصیبوں کو کوستی ہوئی سو جاتی ہیں … نیند نہ آئے تو رو دیتی ہیں کہ بلیوں کا رونا دھونا … گھر کے مکینوں کی بھی نیند خراب کرنے کا باعث بنتا ہے … اور نحوست کی علامت سمجھا جاتا ہے ویسے تو آج کی ’’بہو‘‘ ساس کو منحوس سمجھتی ہے جبکہ ساس صدیوں سے ’’بہو‘‘ کو نحوست کی علامت خیال کرتی ہے…؟

ستر سال کی عمر میں ویسے ہی نیند کم آتی ہے، آ جائے تو بندہ ابھی ایک چوتھائی حصہ خواب ہی دیکھ پاتا ہے کہ اندر کا کوئی خوف اسے جگا دیتا ہے اور کبھی رلا دیتا ہے۔ ہم سبز چائے پی رہے تھے کہ وہ سینہ پھلا کر بولا … ’’مظفر میں نے فیصلہ کیا ہے عنقریب … میں یہ تیرا ملک چھوڑ کر چلا جائوں گا‘‘ … گویا آپ آپ نے ’’اوپر جانے کی پوری تیاری کر لی ہے …؟‘‘ وہ تھوڑا سا مسکرایا … میں نے پھر کہا … ’’اپنے یہ دو سو جوتوں کے جوڑے اور یہ پستول بھی ساتھ ہی لے کر جائیں گے یا …؟‘‘

وہ ہنس پڑا … ’’مظفر یار تم وقت نکال کر آ جایا کرو … کبھی کبھی اچھی گفتگو کر لیتے ہو …؟ جب سے ’’ شیدا مخولیا‘‘ فوت ہوا ہے تم واحد شخص ہو جو مجھے ہنسانے میں کامیاب ہو جاتے ہو‘‘ …؟

’’سر یہ ’’کبھی کبھی‘‘ سے کیا مطلب … کیا باقی گفتگو سب فضول ہے …؟‘‘

میرے سوال پر وہ چپ رہا اور پھر بولا … ’’تمہیں تو پتہ ہے میرے دو بیٹے امریکہ میں ہیں ان کے بچے بھی جوان ہیں … بیوی انگلینڈ میں ہے اور بڑے بیٹے کے ساتھ رہتی ہے … بیٹی سعودیہ میں ہے … آٹھ سال پہلے آئی تھی … بنکوں سے اپنا حساب بے باک کرنے …‘‘

’’سر ایک زمانے میں آپ اکثر بنکوں میں آتے جاتے نظر آتے تھے …؟‘‘

’’ہاں ہاں‘‘ … وہ بولا … ’’میں نے کبھی ایک روپیہ بھی ادھر اُدھر نہیں رکھا … جو پیسہ آیا … وہ فکس ڈیپازٹ میں جمع کروا دیا … منافع ہی منافع‘‘ …

’’یہ منافع ہے یا …؟‘‘ وہ میری بات سمجھ گیا۔ اسے ایسی باتوں سے شاید نفرت تھی … کہ وہ میرا فقرہ مکمل ہونے سے پہلے ہی بھانپ جاتا … اور بات کا رخ موڑ دیتا … مگر تھوڑی ہی دیر میں پھر گرفت میں آ جاتا … مگر تھا ذہین آدمی …؟

اب رات کے بارہ بج چکے تھے … میں نے رخصت ہونے کا ارادہ کر لیا … کہ نیند کا غلبہ ہو رہا تھا … اور ایسی حالت میں میں کسی ذہین آدمی کے ساتھ گفتگو نہیں کر سکتا …؟

ذہین آدمی کے ساتھ گفتگو اس وقت کریں جب وہ سونے کی تیاری میں ہو … ورنہ … شرمندہ ہونے کے لئے تیار رہیں … وہ ’’ ٹھاہ‘‘ ’’ ٹھاہ‘‘ مارتا ہے اور ’’ ٹھاہ‘‘ ’’ ٹھاہ‘‘ کا جواب ’’ٹھس‘‘ ’’ٹھس‘‘ تو نہیں ہونا چاہیے ناں …؟

وہ آپ بتا رہے تھے کہ آپ نے ’’اوپر جانے کی پوری تیاری کر لی ہے …؟‘‘

میرے سوال پر اس نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا … ’’میاں صاحبزادے چکر یہ ہے کہ اس چار کنال کی کوٹھی میں میں اکیلا ہوں۔ ساری رات یہ پستول ہاتھ میں ہوتا ہے … جہاں سر سراہٹ محسوس ہوئی میں ادھر کو دبے پائوں چل پڑتا ہوں … کبھی ادھر کبھی اُدھر … ایسے ہی رات کٹ جاتی ہے … صبح ہو جاتی ہے اور میں سو جاتا ہوں … پھر ملازمہ ہی آ کر دس گیارہ بجے مجھے جگاتی ہے۔ کھانا بناتی ہے ‘‘ … ’’آپ چوکیدار رکھ لیں‘‘…

’’میاں کہاں رات ایک بجے فضول باتیں کر رہے ہو ۔ مجھے تم نے اس قدر فضول خرچ آدمی سمجھ رکھا ہے؟ اور پھر وہ تین گلیاں پیچھے تم نے سنا ہو گا … بیس سال پہلے ایک چوکیدار نے اپنے مالک کو قتل کر دیا اور ایبٹ آباد بھاگ نکلا … جب پکڑا گیا تو اس نے پولیس کو بتایا کہ ’’میرے خیال میں مالک کروڑ پتی تھا۔ میں نے بے ہوش کر کے گھر کا صفایا کرنا چاہا تو چار گھنٹے کی کوشش کے بعد گھر سے صرف تین ہزار روپے، ایک سونے کی چین اور ایک چاندی کا سیٹ نکلا۔ میں نے غصے میں مالک کا گلا دبا دیا ؟‘‘

’’سر آپ بد روح تو نہیں …؟‘‘

’’کیا مطلب …؟‘‘

میرے سوال پر وہ چونکا … ’’یہ جو آپ نے چوکیدار کے ہاتھوں کنجوس مالک کے قتل کا قصہ سنایا … وہ آپ کی اپنی کہانی لگتی ہے … آپ کا یہ دوسرا جنم تو نہیں …؟‘‘

وہ سنجیدہ ہو گیا … اس نے پستول اٹھایا … میں ڈر گیا … گھبرا گیا … میری ٹانگیں تھر تھر کانپنے لگیں … مگر یہ دیکھ کر میری جان میں جان آئی … کہ مین گیٹ کے پاس اونچی بے ہودہ انداز میں بڑھی ہوئی گھاس میں سر سراہٹ سی محسوس ہوئی اور وہ اپنے پستول کے ’’سہارے‘‘ دبے پائوں مین گیٹ کی جانب بڑھنے لگا …

میں امریکہ چلا گیا … کئی سال بعد میں واپس پاکستان آیا … تو پہلے ہی دن شام ڈھلے میں اس کے گھر بڑے اشتیاق سے گیا مزیدار گفتگو سننے کے ارادے سے … دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک پنتالیس سالہ عورت آئی … میں نے پوچھا … تو وہ بولی …

’’جی … ڈیڑھ سال پہلے میں گائوں گئی ہوئی تھی … جب واپس آئی تو پتہ چلا کہ خان صاحب کو اس چوکیدار نے قتل کر دیا جو انہوں نے اپنی حفاظت کے لئے پندرہ دن پہلے رکھا تھا … وہ خان صاحب کو قتل کر گیا … حالانکہ انہوں نے گھر میں چھپا کر رکھے لاکھوں روپے کے پرائز بانڈز خود ہی چوکیدار کے حوالے کر دئیے تھے … چوکیدار پکڑا گیا تھا … سنا ہے عنقریب اسے سزائے موت ہونے والی ہے …؟‘‘

’’آپ کون ہیں …؟‘‘

’’جی میں ان کی ملازمہ ہوں … کیونکہ نہ خان صاحب کے بیٹے امریکہ سے آئے … نہ ان کی بیوی اور بیٹی وغیرہ … تب سے میں ہی یہاں قیام پذیر ہوں…‘‘

’’ اور کوئی حکم‘‘ …؟ اُس نے ادب سے پوچھا…

’’اللہ آپ کو یہ گھر مبارک کرئے‘‘ … میں نے آہستہ سے کہا …

مگر وہ اُس وقت تک بڑا گیٹ بند کر کے جا چکی تھی …!!!!


ای پیپر