پولیس کا ہے فرض....
21 جون 2019 2019-06-21

ہڈیارہ کے اقبال درزی کی خبر شائع ہوئی، پریس کلب کے باہر وہ پولیس کے خلاف احتجاج کررہا تھا اور درخت پر چڑھ کر پولیس کے خلاف نعرے بازی کررہا تھا۔ اس سے کپڑے سلواکر پولیس والے سلائی کی اجرت نہیں دے رہے۔ یہ اس کا اہم مسئلہ تھا جس کے لیے وہ درخت پر چڑھا ہوا تھا۔ خبر کے آخر میں یہ بھی تحریر تھا کہ متعلقہ پولیس نے اس قسم کے کسی واقعے کی تردید کی ہے ۔“

پولیس کے خلاف اس قسم کی شکایت پر مشتمل خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ ایسی ہی ایک کہانی ہری پورسے جمیل حسین شاہ صاحب نے بیان کی کہ جب وہ پنڈی سے سفر کرتے ہوئے وزیرآباد پل چناب کے ناکے سے گزرتے ہیں تو پولیس سے بھی پالا پڑتا ہے ۔ اس بار اچانک سڑک پر ایک شخص ان کی گاڑی کے آگے آگیا بمشکل بریک لگائی۔ اپنے حلیے سے وہ پولیس افسر نہیں لگ رہا تھا کہ اس نے پینٹ کے اوپر صرف ایک بنیان پہن رکھی تھی۔ سر پر ٹوپی تھی کوئی بیلٹ (پیٹی) نہ تھی، نہ ہی سینے پر نام کا سٹکر تھا۔ قمیض ہوتی تو شولڈر بھی ہوتے اس طرح رینک کا پتہ بھی چلتا ....ہم نے سمجھا کوئی چوکیدار نما مخلوق میں سے ہے اور لفٹ کے لیے اچانک کار کے آگے آگیا ہے ۔

مگر کرخت لہجے میں بولا:کون ہو اور کہاں سے آکر کہاں جارہے ہو؟ ہم نے اپنا تعارف کرایا کہ ہم بھی آپ کے ”پیٹی بھرا“ رہے ہیں تو جانے دیا۔ اس سے پچھلے برس بھی اسی جگہ ایک مضحکہ خیز منظر دیکھا کہ ایک باوردی جوان بڑے غیر شائستہ انداز میں تربوز کھانے میں مصروف تھا تربوز کا پیالہ منہ سے لگنے سے اس کی مونچھیں بھی ”رس بھری“ ہورہی تھیں۔ اپنے پولیس کے چھوٹے سے خیمے کے باہر کرسی پر تربوز سے ” منہ صاف کرتے“ ہوئے وہ گاڑیوں کو چیک کرنے والے کانسٹیبل کو ہدایات بھی دیئے جارہا تھا۔ اسی کے ساتھ ایک سول لباس میں ”ملازم“ بھی تھا جو پولیس کے سپاہی زیادہ رعب ڈالنے کی کوشش کررہا تھا۔ پوچھ گچھ کے علاوہ کاغذات بھی چیک کیے جارہے تھے۔ اگر سب کچھ ”اوکے“ ہوتا تووہ گاڑی کی لائٹس اور ٹائر بھی چیک کررہا تھا اور بڑ بڑ بھی کررہا تھا۔ جب سب کچھ چیک کرنے پر بھی اس کے ہاتھ کچھ نہ آیا تو پوچھا کہاں جارہے ہو۔ ہم نے بتایا کہ اپنے مرشد کے عرس پر جارہے ہیں تو نرمی سے مسکرا کر بولا :تو پھر اپنے مرشد کی ”نیاز“ ہی دیتے جاﺅ ہم چائے پی لیں گے“۔ ہم نے ہنستے ہوئے اسے ”نیاز پیش کی اور آگے چل دیئے۔“

ناکوں پر عموماً بہت کم گاڑیوں کو روکا جاتا ہے ۔ یہاں لاہور میں کئی جگہ صرف پولیس کی رکاوٹیں (بیرئرز) ہوتے ہیں۔اور خلق خدا بڑی تنگ ہوکر رینگتی گاڑیوں کے ساتھ گزرتی ہے ۔ پولیس والا کوئی موجودنہیں مگر آدھی سڑک پر وہ رکاوٹیں ٹریفک میں مسلسل خلل ڈالتی ہیں۔ یہی حال ان پولیس ناکوں کا بھی ہے جہاں ایک دوسپاہی خلق خدا کو اذیت سے گزرتا دیکھتے ہیں اور ٹس سے مس نہیں ہوتے کہ ٹریفک جام ہوچکا ہے یا گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں کم ازکم ان لمحات میں تو رکاوٹ ہٹا کر ٹریفک کی روانی بحال کریں لیکن سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی ان ڈیوٹی دینے والوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ بعض اوقات پولیس نے ایک دوموٹرسائیکل والوں یا بڑے ٹرک کو روک کر ”لمبی پوچھ گچھ“ کا سلسلہ شروع کیا ہوتا ہے اور ٹریفک جام ہوجاتا ہے ۔ گویا خود ان پولیس والوں کی وجہ سے بھی گاڑیاں لمبی قطاروں میں رینگتی نظر آتی ہیں۔

ایک دوبارتو ہائی وے پر کئی بسیں لٹیروں نے لوٹیں ایک دو صاحبان نے قریبی تھانے میں جاکر اطلاع دی تو ان لٹیروں میں سے ایک دو وردی تبدیل کررہے تھے۔ کہتے ہیں تحریک انصاف کی حکومت نے صوبہ خیبر کی پولیس بہتر کردی ہے کاش کبھی پنجاب پولیس بھی اپنے رویے سے بہتر دکھائی دے۔

ایک ناکے پر اسی طرح کی پوچھ گچھ جاری تھی کچھ لوگ شاید بری امام کے میلے سے واپس آرہے تھے۔ پوچھا گیا تم کون ہو ؟؟ ایک نے بتایا میں فلاں گدی کا مرید ہوں۔ پولیس والے نے کوئی توجہ نہ دی اور اسے بٹھا لیا اور لگاطرح طرح کی باتیں پیروں فقیروں کے خلاف کرنے.... پھر دوسرے کی باری آئی اس نے کسی اور بڑی گدی والے بزرگوں کا نام لیا کہ میں فلاں کا مرید ہوں۔ مگر پولیس کی رعونت میں کوئی فرق نہ آیا تیسرے نے سوچا یہ تو پیر فقیر کا مان ہی نہیں رہا.... اسے بھی پوچھا گیا کہ تم بتاﺅ کیا تم بھی مرید ہو؟ تو وہ ہاتھ باندھ کر بولا !

”صاحب بہادر ! مےں”رن مرید“ ہوں۔ صاحب بہادر کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور ماتحتوں سے فرمایا اوئے اسے جانے دو یہ تواپنا پیر بھائی ہے بلکہ اس کے صدقے ان دونوں کو بھی آزاد کردو۔“

خیر یہ تو ایک لطیف بات تھی۔ پولیس کو وردی تبدیل کرنے سے فرق نہیں پڑے گا ان کا رویہ تبدیل ہونے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں تعلیم یافتہ افراد کو پولیس میں شامل کیا جائے، دوسرا یہ توندوں والے پولیس افسروں کو چست اور چاک وچوبند رکھنے کی بھرپور کوشش کی جائے۔ تھانوں کا ماحول بہتر بنایا جائے۔ پولیس میں اصلاحات کی سخت ضرورت ہے ۔ پولیس کو غیرسیاسی بنانے کے ساتھ ساتھ یہاں میرٹ نافذ کیا جائے۔ سفارش اور رشوت کلچر کا خاتمہ ہونا بھی ضروری ہے ۔ ”ایک جگہ پولیس کی بھرتی ہورہی تھی تو قطار میں ایک نابینا نوجوان بھی موجود تھا۔ اپنی باری پر جب اس سے پوچھا گیا بھئی تم تو اندھے ہو۔ تمہیں دکھائی نہیں دیتا تو پولیس کی ملازمت میں کیسے آنا چاہتے ہو تو وہ برجستہ بولا :

”صاحب ! آپ مجھے اندھا دھند فائرنگ کے لیے بھرتی کرلیں۔ “ لگتا ہے بہت سے بدمعاش بھی اس محکمے میں محض اندھا دھند فائرنگ کے لیے موجود ہیں۔


ای پیپر