”قرض اچھے ہوتے ہیں“
21 جون 2019 2019-06-21

جناب عمران خان نے گزشتہ دس برسوں میں لئے جانے والے قرضوں بارے تحقیقاتی کمیشن بنانے کا اعلان کر کے اپنے فالورز کو اپنے لئے تالیوں اور مخالفین کے لئے گالیوں پر لگا دیا ہے، اگرچہ خان صاحب نے تیس ہزارارب ڈالر کے اعداد و شمار بیان کئے جودرست نہیں، بظاہرانہوں نے اپنے لئے ہوئے آدھے قرضے بھی مخالفین کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی ۔ آئی ایم ایف کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق پیپلزپارٹی نے چھ ہزارارب کے پرانے قرضوں میں آٹھ ہزارارب اور مسلم لیگ نون نے نوہزار سے کچھ زائد اضافہ کیا۔ ہمارے پاس ایک سٹریو ٹائپ تھنکنگ موجود ہے کہ قرض بہت بری شے ہے لیکن کیا قرض واقعی اتنا ہی برا ہوتا ہے جتنا برا جناب عمران خان اور ان کے ساتھی بیان کر رہے ہیں تو یہ بتائیے کہ کیا چھری ایک بری اور خطرناک شے ہے؟

جی ہاں! سوال قرض کا نہیں، قرض کے اچھے اور برے استعمال کا ہے۔ ہمارے پاس مسلم لیگ نون کی طرف سے قرض کے استعمال کا جواب موجود ہے کہ ملک بھر میں ہزاروں کلومیٹر لمبی ہائی ویز اور موٹرویز کا جال بچھانا اور خاص طور پر گوادر کو قومی شاہراہوں سے منسلک کر کے وہاں تعمیر وترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کرنا، بجلی کے کارخانے لگانا تاکہ ملکی معیشت کے لئے توانائی کا بحران ختم ہو اور اس سے بھی بڑھ کے آپریشن ضرب عضب کے اخراجات، جو دہشت گردی کے خاتمے کی خاطر اہم اور مقدس ترین سمجھے جا سکتے ہیں۔ اسحا ق ڈار کا دعویٰ کہ دوبرس پہلے) تیس جون (2018 کو ملکی قرض 24 ہزارارب تھا جمع تقریق کے ساتھ درست لگتا ہے ۔سوال تو تحریک انصاف کے دور میں لئے گئے قرضوں کا ہے کہ جب نہ کوئی میگا پراجیکٹ ہے اور نہ ہی عوام کو کوئی ریلیف تو معلوم اعداد و شمار کے مطابق اس مارچ تک کل ملکی قرض 35 ہزارارب ڈالر تک کیسے پہنچ گیا، اصل حساب اس کا ہوناچاہئے۔

کیا قرض واقعی اتنے ہی برے ہوتے ہیں کہ انہیں الزام اور گالی کے طور پر استعمال کیا جائے تواس کا جواب ہے کہ اگر آپ نے کھا ، پی کے اڑا دینا ہے تو یہ اتنا ہی برا ہے جتنا حضرت غالب نے کہا ، ’ قرض کی پیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ ہاں، رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن،‘لیکن جنہوں نے اس کی شراب نہیں پینی ہوتی بلکہ منصوبوں میں لگا کے روزگار فراہم کرنا اور معاشی ترقی میں کردارادا کرنا ہے تو یہ ان کے لئے ایک نعمت ہے، جی ہاں، قرض ایک نعمت ہے اور اگر آپ کو یقین نہ آئے تو بنکوں میں چھوٹے ، بڑے کاروبار کے لئے قطاروں میں لگے ہووں سے پوچھ لیں، شاید،اب یہ قطاریں موجو د نہ رہی ہوں کہ پی ٹی آئی نے شرح سود ساڑھے پانچ فیصد سے بڑھا کے ساڑھے بارہ فیصد کر دی، اب قرض لے کر گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا؟

چلیں، بنیادی تصور کو درست کرتے ہیں کہ کیا قرض واقعی ملکوںکی ترقی کے لئے زہر قاتل ہے تو آپ دنیامیں سب سے زیادہ قرض لینے والے پچیس، تیس ممالک کے نام بالترتیب دیکھ لیجئے جو امیر ترین اور خوشحال ترین بھی ہیں، پہلے دس میں امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، نیدر لینڈ، لکسمبرگ، جاپان، اٹلی، سپین اور کینیڈا ہیں، اگلے دس میں چین، سوئٹزرلینڈ، آسٹریلیا، سنگاپور، بیلجئیم، ہانگ کانگ، سویڈن، آسٹریا، ناروے اور برازیل ہیں، ان کے بعد روس، انڈیا، ڈنمارک، فن لینڈ، گریس اور ترکی وغیرہ آتے ہیں۔دوسرے قرض کی مالیت نہیں بلکہ اس کا جی ڈی پی ( مجموعی قومی پیداوار) سے تناسب اہم ہوتا ہے جو قرضوں کی واپسی کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک رکشہ ڈرائیور کو بنک ایک لاکھ روپے بھی نہیں دے گا لیکن ایک فیکٹری کے مالک کو ایک کروڑ روپے بھی دے دے گا کہ وہ واپس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر قرض اتنے ہی برے ہوتے تو جاپان اپنی جی ڈی پی کے تناسب سے اس وقت 235 فیصد،امریکا 109فیصد، سنگا پور 108فیصد، کینیڈا 83فیصد اور انگلینڈ85 فیصد سے بھی زائد قرض نہ لے کر بیٹھا ہوتا۔ اگر کم قرض ہی بہتر انڈیکیٹر ہے تو افغانستان کا قرض اس کی جی ڈی پی کے صرف 6.32 فیصد ہے مگر وہاں بدترین معاشی حالت ہے۔

دنیا میں سے زیادہ قرض ( مالیت میں) رکھنے والا ملک امریکادنیا کی 24.2 فیصد اکانومی کا مالک بھی ہے، اس فہرست میں چین کے بعد جاپان آتا ہے جس کے قرضے جی ڈی پی شرح کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ ہیں مگر وہ دنیا کی معیشت میں6.13 فیصد کا حصے دار ہے۔ جرمنی کے بعد انڈیا ہے اور ورلڈ جی ڈی پی رینکنگ میں فرانس، یوکے، اٹلی، برازیل اور کینیڈا ہیں۔ جی ڈی پی یعنی کل قومی پیداوار امارت کی علامت ہوتی ہے اور اس میں اضافے کی شرح ترقی کی ، کیا آپ جانتے ہیں کہ انڈیا کا پروجیکٹڈگروتھ ریٹ 6.8 فیصد ہے، ہم سے الگ ہوجانے والے بنگلہ دیش کا 7.3 فیصد اور ہمارے ہمسائے چین کا6.3 فیصد۔ مطلب یہ کہ آپ کو قرض کے جس ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جا رہا ہے وہ آپ کو کہیں نہیں لے کر جائے گا، اصل ٹرک تو جی ڈی پی اور گروتھ ریٹ کا ہے۔ہمیں نریندر مودی پر تنقید ضرور کرنی چاہئے کہ وہ ایک انتہا پسند ہندو اورمسلمانوں کا مخالف ہے مگر ہم اپنی معیشت کا انڈیا کے ساتھ تقابل کر کے فخر کا اظہار نہیں کر سکتے۔ پاکستان کا کل قرض اس کی جی ڈی پی کے 67.44فیصد اور انڈیا کا 67.29 فیصد ہے یعنی برابر مگر معاشی ترقی کی رفتار میں بڑا فرق ہے ۔وہ دنیا کی پانچویںبڑی معاشی طاقت بننے جا رہا ہے، ہم 43 ویں نمبر پر ہیں اور ہماری معیشت مسلسل سکڑ رہی ہے۔

اگر ہم ترقی کریں گے تو قرض لے بھی سکیں گے اور واپس بھی کر سکیں گے یعنی اگر ہم سمجھ دار، ذمہ داراور ہوشیار ہیں تو ہمارے لئے قرض ایک نعمت ہے مگر دو، چار برس پہلے تک یہ بات درست تھی جب 2017 میں ہمارا گروتھ ریٹ 5.7 فیصد تھا، خیال تھا کہ اگر نواز شریف دور کی ترقی کی شرح برقرار رہی تو ہم اس مارچ میں چین کے ساتھ ساتھ 6.2 فیصدپر ہوں گے مگر ہم نے ریورس گئیر میں سفر کرنا شروع کر دیا ،2018 میں ہمارا گروتھ ریٹ 5.4 ہوا اور اس برس4.0 فیصد سے بھی نیچے جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک اور ایشئن ڈویلپمنٹ بینک کے منہ مں خاک کہ ان کے مطابق یہ تین اور پھر اڑھائی فیصد سے بھی کم پر چلا جائے گا۔ غصے کو تھوک دیجئے ، اپنے بلڈ پریشر کو قابو کیجئے،مان لیجئے کہ جدید ریاست ایک بڑے کارپوریٹ بزنس کی صورت اختیار کرچکی، جس میں منافع اور اعداد وشمار ہی اہم ہوتے ہیں اور یہی دونوں ترقی اور خوشھالی کے انڈیکیٹرزہیں۔ جدید ریاست کو چلانا اب کسی فوجی یا کھلاڑی کا کام ہی نہیں، ریاست بزنس کی طرح چلتی ہے، طبع نازک پر گراں گزرے تو معاف کیجئے گا کہ آپ نواز شریف کو مُرسی بنا سکتے ہیں مگراس کے ساتھ ملک بھی مصر بن جائے گا۔

اگر آپ اس تمام کے باوجود ملکی ترقی کی راہ میں قرضوں کو ہی سب سے اہم موضوع اوربڑی مشکل سمجھتے ہیں تو میں سوال آپ ہی کی فلسفے کی روشنی میں دہرا دیتا ہوں۔ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دس برسوں میں قرضوں کو چھ ، سات ارب سے چوبیس ارب پر لے گئے، پیپلزپارٹی کے دور کا حساب خود حفیظ شیخ صاحب کے پاس ہو گا، نواز لیگ نے پانچ برس میں نوارب سے کچھ زیادہ کے قرضوں کاحساب دے دیا۔ اب آپ بتا دیں کہ آپ نے محض نو ماہ میں قرضوں میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑادس ارب کا اضافہ کیا، وہ کہاں خرچ کیا؟


ای پیپر