ووٹرز انتخابی مہم کے نسخوں کی زد میں
21 جون 2018 2018-06-21

دنیا کے اکثر ممالک میں اب جمہوریت ہے۔ خواہ کسی بھی معیار کی ہو۔لہٰذا انتخابات بھی ہوتے رہتے ہیں۔ دنیا کی بڑی جمہوریتوں امریکہ یورپ وغیرہ میں سیاسی نظام ترقی یافتہ ہے۔ وہاں دو بڑی جماعتیں ایک دوسرے کے مقابلے میں ہوتی ہیں۔بعض اوقات چھوٹی جماعتوں یا گروپوں سے اتحاد بنالیتی ہیں۔ لہٰذا انتخابات حکمران اور حزب اختلا ف کے درمیان ہوتے ہیں۔ جن ممالک میں باقاعدگی سے انتخابات ہوتے ہیں وہاں سے ڈیڑھ دو سال پہلے مقابلے میں آنے والی جماعتیں اپنی حکمت عملی بنا لیتی ہیں کہ کن ایشوز کو اٹھانا ہے اور کس طرح سے اٹھانا ہے؟ قابل غور امر ہے کہ انتخابات سے ڈیڑھ دو سال پہلے ایک ماحول بننا شروع ہوتا ہے۔ یہ غیر اعلانیہ انتخابی مہم کا آغاز ہوتا ہے۔ الیکشن کمیشن مختصر مدت دیتی ہے لیکن انتخابی مہم کوئی دو تین ماہ کا قصہ نہیں ہوتا، لہٰذا پہلے سے انتخابی مہم کی حکمت عملی بنانا ضروری ہے۔ بڑی سیاسی جماعتیں اس عرصے کے دوران مختلف منتخب فورم پر اشوز کو میچوئر کرتی رہتی ہیں۔
پاکستان ایک الگ مظہر ہے ۔ یہاں ہر پندرہ بیس سال کے بعد انتخابات کرانے کے لئے تحریک چلانی پڑی۔ ساٹھ کے عشرے میں جنرل ایوب خان کے خلاف عام بالغ دہی کی بنیاد پر انتخابات کرانے کی تحریک چلی، نتیجے میں انہیں استعفیٰ دینا پڑا۔ لیکن جاتے جاتے وہ اقتدار دوسرے جنرل یعنی یحییٰ خان کے حوالے کر گئے۔ تاہم انتخابات ہوئے۔ 80 کے عشرے میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف پیپلزپارٹی کی قیادت میں تحریک بحالی جمہوریت چلی۔ پھر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نواز لیگ اور پیپلزپارٹی نے تحریک چلائی۔ بالاآخر مشرف کو جانا پڑا۔ مارشل لاء کے علاوہ جب بھی ملک میں انتخابات ہوئے ان کے خلاف اعتراضات اور اختلافات سامنے آئے۔ 1977 میں بھٹو نے عام انتخابات کرائے ، اس کے خلاف پی این اے نے تحریک چلائی۔ نتیجے میں بھٹو کو برطرف کر کے جنرل ضیا الحق نے مارشل لاء نافذ کیا۔ 90 کے عشرے میں بینظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت کے بعد انتخابات ہوئے، جس کو بینظیر نے ان انتخابات کو انجنیئرڈ قرار دیا اور تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا، نتیجتاً نواز شریف کی حکومت کو آدھی مدت کے دوران ہی ہٹا دیا گیا۔ 2013 کے انتخابات سویلین سیٹ اپ کے تحت ہوئے۔ مسلم لیگ نواز جیت گئی۔ عمران خان نے منظم دھاندلی کا الزام عائد کر کے دھرنے شروع کئے۔ ان کی یہ مہم ان انتخابات کے روز اول سے جاری رہی۔ نواز شریف دھاندلی کے الزامات پر برطرف نہ ہو سکے ۔ بعد میں انہیں اقامہ کے کیس میں عہدے سے برطرف کردیا گیا۔ اور تیسرے جولائی میں ہونیوالے انتخابات ہیں جو تحریک کے تسلسل میں ہو رہے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں دو اہم انتخابات تحریک کے بعد منعقد ہوئے۔ایوب خان اور ضیاء الحق لہٰذا ان انتخابات میں تحریک کا ٹیمپو برقرار رہا ہے۔ 2008 کے انتخابات بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد ہوئے ۔ان انتخابات پر اس واقعہ کی چھاپ موجود رہی۔ بظاہر تحریکوں کے نتیجے میں ہونے والے انتخابات میں الگ سے انتخابی مہم چلانے کی زیادہ ضرورت نہیں تھی، لیکن انہی انتخابات کے لئے بڑی مہم چلی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ ملک کے سیاسی اور معاشی نظام کو ا دوسرے نظام میں جانا تھا۔ تاہم سیاسی پیغام وہی حاوی رہا جو ان تحریکوں کے دوران تھا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان تحریکوں کے نیتجے میں منعقد ہونے
والے انتخابات کے موقع پر حکومت وقت بطور مخالف یا فریق نہیں تھی ، سیاسی پارٹیاں آپس میں ہی تھی۔ سیاسی بیانیہ بنانا انتخابی مہم مرتب کرنا اس وقت مشکل ہوتا ہے جب سامنے غیرسیاسی قوتیں نہ ہوں ۔ ایک سویلین سے دوسرے سویلین کو اقتدار منتقل ہورہا ہو۔
ہمارے ہاں ابھی جمہوریت اور انتخابات اتنی بالغ نہیں ہوئے۔ لہٰذا انتخابی مہم میں بھی بالغ نظری کم نظر آتی ہے۔ انتخابات کے لئے سیاسی مہم مرتب کرنا اور چلانا مشکل کام ہے۔ اس ضمن میں ہمارے ہاں نہ کوئی تحقیق ہوئی، اورنہ سیاسی جماعتیں اس کی عادی ہیں۔ زیادہ تر یہ مہم غیر سائنسی انداز سے چلائی جاتی رہی ہے۔ بعض اوقات مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی نے غیر ملکی ماہرین سے مشاورت کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اب عمران خان نے بھی اس طرح کی مشاورت کی ہے۔
انتخابی مہم دراصل ووٹرز کی نفسیات اور جذبات سے کھیلنا ہے۔ ایک ایسا ماحول پیدا کیا جاتا ہے کہ ووٹر سیاسی پیغام سننے کے لئے تیار ہو، اور اس کو قبول کرنے کے لئے آمادہ بھی ہو۔ انتخابی مہم کی دوا قسام ہیں۔ ایک منفی دوسری مثبت۔ مخالف امیداور کی کارکردگی، پالیسی اور اس کے معیار پر تنقید یا حملے کے بغیر کوئی انتخابی مہم نہیں ۔ منفی مہم انتخابی مہم کا ایک بہت بڑا حصہ ہوتی ہے۔میڈیا پر خبروں میں اس کو اگرچہ بہت کوریج ملتی ہے لیکن سیاسی پنڈت، صحافی اور ووٹر منفی مہم کوپسند نہیں کرتے۔ گزشتہ چند دہائیوں سے منفی مہم نے کئی محققین کی توجہ اس طرف دلائی۔ مہم کے اشتہارات دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک موازنہ دوسرے حملہ کرنے والے۔ مثبت مہم وہ ہے جس میں ووٹ حاصل کر نے کے لئے امیدوار متعلقہ مسائل اور ایشوز پر فوکس کرتا ہے ، اپنے خیالات اور اپنا تجربہ بیان کرتا ہے، اور اس کی خوبیاں بیان کرتا ہے۔ یہ سب کچھ وہ اپنے مخالف پر حملہ کئے بغیر کرتا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں یہی ماڈل اپنایا جاتا ہے۔ وہاں کا سیاسی نظام بھی مضبوط ہے اور میڈیا اور عدالتیں بھی۔ انتخابی مہم مثبت ہو یا منفی، سیاسی اشتہارات سیاسی پیغام کا کام کرتے ہیں۔ حملے، دعوے تعریفیں، اور دفاع ، پالیسی اور شخصیت پر تبصرے بھی اس مہم کا حصہ ہوتے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران بعض انکشافات اور اسکینڈل بھی سامنے آتے ہیں۔ ریحام خان کی غیر مطبوع کتاب اسی وجہ سے عمران خان کے لئے ہڈی بنی ہوئی ہے۔ تحریک انصاف اس کتاب کو اپنے بڑے مخالف نواز شریف اور ان کی پارٹی سے جوڑ رہی ہے۔
منفی مہم میں سیاسی بحث اور سیاسی پیغام میں مخالف امیدوار کے کردار کی خامیوں یا کمزوریوں پر حملہ کیا جاتا ہے۔ منفی مہم چلانے کے لئے متعدد تیکنیک استعمال کی جاتی ہیں۔ مخالف کی شخصیت، ریکارڈ ، کارکردگی یا خیالات پر حملے کے اشتہارات سب سے موثر سمجھے جاتے ہیں۔ سیاستدان منفی مہم کو یقینی جیت کی حکمت عملی سمجھتے ہیں کیونکہ یہ ووٹرز کے جذبات سے کھیلتی ہے۔ مہم میں مسالہ اور بھانت بھانت کی معلومات ووٹنگ کے رویے میں موثر رول ادا کرتا ہے۔ سیاست دانوں کا ماننا ہے کہ یہ آگہی دینے کی حکمت عملی ہے۔ ووٹرز سمجھتے ہیں کہ یہ جذبات سے کھیلنے کی بات ہے۔ کرپشن کے بیانیے نے ملک میں بے چینی کی فضا پیدا کی ہوئی ہے۔ اس کے مخالفت میں نواز شریف کا بیانیہ ہے کہ دراصل سویلین ی بالادستی اور جمہوری اداروں کے اختیارات کا معاملہ ہے۔ سماج کے ایک حصے میں کرپشن کے بیانیے کی وجہ سے بے چینی ہے۔ اس بیانیے کو عدلیہ اور تحقیقاتی ادارے بھی معاونت کر رہے ہیں۔ یوں عام لوگوں میں اس بیانیہ کا تاثر بھرپور انداز میں بٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سماج کا دوسرا حصہ اس وجہ سے بے چینی محسوس کرتا ہے کہ جمہوریت اور سویلین اختیار خطرے میں ہے۔
ووٹرز کی عمومی طور تین قسام ہیں ۔ ایک وہ جو حامی ہیں، دوسری مخالفین، یہ دونوں اقسام سرگرم ووٹر کے زمرے میں آتی ہیں۔یہ دونوں پہلے سے فیصلہ کئے ہوئے ہوتی ہیں۔ تیسرے قسم وہ ہے وہ جو بیچ پر کھڑے ہیں۔ پاکستان میں ان کی بہت بڑی تعداد ہے،کیونکہ یہاں پر سیاسی جماعتیں اپنی تنظیمی شکل میں اور جمہوری انداز سے موجود نہیں۔
امیدوار جو چاہتا ہے کہ انتخابی مہم میں دلچسپی پیدا ہو، منفی مہم پر جائے گا۔وہ ووٹر کو انتخابات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال سے ڈرائے گا اور بے چینی پیدا کرے گا۔ منفی مہم کی وجہ سے ٹرن آؤٹ بڑھ جاتا ہے۔ مثبت اشتہارات اثر نہیں دکھا سکے۔ اس کے نتیجے میں وہ ووٹر پولنگ اسٹیشن تک جائے گا جو بصورت دیگر سیاست و غیرہ میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ بڑی یا منفی انتخابی مہم ان لوگوں کومتوجہ کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ یہی ووٹر فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اس ووٹر کو پولنگ تک لے جا تی ہے جو غیر جانبدار ہے؟ یا نواز لیگ اپنے دفاع میں ان تمام ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن پر لائن میں کھڑا کر سکتی ہے جو سویلین کی بالادستی کے حق میں ہے؟ یا پیپلزپارٹی رومانویت یا حالات کو جوں کا توں رکھنے کا آسرا دے کر اپنی طرف لے جاتی ہے۔


ای پیپر