ہائے پانی ۔۔۔ ہائے کالا باغ ڈیم ۔۔۔!
21 جون 2018 2018-06-21

کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ پورے ملک میں پانی کی قلت کا سماں ہے اور اس شدید گرمی کے موسم میں لوگ پانی پانی پکار رہے ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہمارے ہاں زیرِ زمین پانی کی سطح دن بدن نیچے (گہرائی) میں جا رہی ہے اور ہمارے کنویں، ٹیوب ویل اور پانی مہیا اور ذخیرہ کرنے کے وسائل دن بدن خشک ہو رہے ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہم نے اپنے دریاؤں پر پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو ترقی نہیں دی ہے بلکہ اس ضمن میں مجرمانہ غفلت کامظاہرہ کیا ہے ۔ جبکہ ہمارے ہمسایہ ممالک بھارت اور چین اپنے پانی ذخیرہ کرنے کے وسائل کو بے پناہ ترقی دینے کی راہ پر گامزن ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہمارے ہاں برسات کے موسم میں یا پچھلے برسوں میں ہر دوسرے تیسرے سال کے بعد آنے والے سیلابوں کے دوران جب دریا اورندی نالے پانی سے بھرے ہوتے ہیں ہمارا لاکھوں ایکڑ فٹ پانی ہمارے بڑ ے دریا (دریائے سندھ) کے ذریعے سمندر کی نذر ہو جاتا ہے اور ہم اپنے اگلے موسم میں اپنی زراعت اور بجلی پیدا کرنے کے ہائیڈل منصوبوں کیلئے پانی کی بوند بوند کو ترستے رہتے ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے جہلم اور دریائے چناب کے پانیوں پر مکمل طور پر ہمارا حق تسلیم کیے جانے کے باوجود بھارت مقبوضہ کشمیر میں ان دریاؤں کے پانیوں کو غاصبانہ طور پر اپنے استعمال میں ہی نہیں لا رہا ہے بلکہ ان پر کشن گنگا ڈیم ، فرحا بیراج اور وولر بیراج اور کتنے ہی دوسرے ڈیم اور بیراج تعمیر کر چکا ہے اور عالمی بینک سمیت عالمی مصالحتی ادارے بھارت کو ان دریاؤں کے پانی کے استعمال سے روکنے کے ہمارے مؤقف کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہم گزشتہ صدی کی ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں دریائے جہلم پر منگلا ڈیم اور دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم تعمیر کرنے کے علاوہ کوئی اور ڈیم یا بیراج تعمیر نہیں کر سکے جس سے نہ تو ہمارے پانی ذخیرہ کرنے کے وسائل میں اضافہ ہوا ہے اور نہ ہی سستی بجلی پیدا کرنے کے ہم کوئی نئے ہائیڈل منصوبے مکمل کر سکے ہیں ۔کیا یہ افسوس ناک حقیقت نہیں ہے کہ خطے کے دیگر ممالک موسمیاتی تبدیلیوں جن میں درجہ حرارت میں اضافے اور اس کی وجہ سے پہاڑوں پر موجود برف اور گلیشئیرز کے پگھلنے سے پہاڑی ندی نالوں اور دریاؤں میں آنے والی طغیانی اور سیلاب سے نمٹنے اور زائد پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے آئے روز نئے ڈیم اور بیراج تعمیر کر چکے ہیں اور ہم اس طرف سے آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ چین نے اس وقت تک بائیس ہزار سے زائد اور بھارت نے پانچ ہزار سے زائد ڈیم تعمیر کر رکھے ہیں جبکہ ہمارے چھوٹے بڑے ڈیموں کو ملا کر کل تعداد تین سو سے بھی کم بنتی ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہمیں اپنے پانی کے وسائل کی قدر نہ کرنے اور اُن کا مناسب استعمال نہ کرنے اور انہیں صحیح طور پر ذخیرہ نہ کرنے کی سزا ملنا شروع ہو چکی ہے اور ملک میں زراعت اور پن بجلی کے منصوبوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پینے کے لیے بھی پانی کی قلت نہیں پیدا ہو چکی ہے اور آئندہ چند برسوں میں ملک میں پانی کی قلت اور آبی وسائل کے مناسب تعداد میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے قحط کی صورت پید ا ہونے کے شدید خطرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ کیا ان دنوں ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے کی طرف سے شہریوں کو ضرورت کے مطابق پانی مہیا نہ کر سکنے اورراولپنڈی چھاونی میں اس سے بھی بدتر پانی کی قلت اور شہریوں کے پانی کے لیے دربدر مارے پھرنے کی جو صورتحال ہے اس بات کی غماذی نہیں کرتی کہ آنے والے برسوں میں پانی کی قلت میں اور بھی اضافہ ہو جائے گا اور ہم انتہائی تکلیف دہ صورتحال سے دوچار ہو نگے۔
6.5ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے ، 3500میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والا یادش بخیر کالا باغ ڈیم جس کی فیزیبلٹی رپورٹ بھی مکمل تھی جس کے لیے ضروری انفراسٹریکچر بھی تیار تھا ، جس کی تعمیر پر سب سے کم لاگت آنی تھی اور جسے چار سال کی انتہائی کم مدت میں مکمل کیا جاسکتا تھا اُسے اسی کی دہائی میں تعمیر کیا جاناتھا لیکن تعمیر نہ ہو سکا۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟ یہ ایک لمبی اور دلخراش داستان ہے قصہ مختصر یہ کہ خیبر پختونخواہ میں یہ شوشہ چھوڑا گیا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے نوشہرہ اور اس سے ملحقہ علاقے زیرِ آب آ جائیں گے ۔ سندھ میں یہ منفی پراپیگنڈہ کیا گیا کہ کالا باغ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی وجہ سے دریائے سندھ خشک ہو جائے گا، سمندر کا پانی اُوپر کوٹڑی تک آ جائے گا نیز سندھ کے حصے کے پانی پر پنجاب قبضہ جما لے گا۔ اس منفی پراپیگنڈے اور بے بنیاد شوشوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ کالا باغ ڈیم جسے اسی کی دہائی میں تعمیر کر دیا جانا چاہیے تھا اُس کی تعمیر کو ایسا متنازعہ بنا دیا گیا کہ اے این پی کی طرف سے دھمکیاں دی گئیں کہ اگر اسے تعمیر کیا گیا تو اسے بموں سے اُڑاد یا جائے گا۔ سندھ کے علیحدگی پسندوں اور قوم پرستوں نے اس سے بڑھ کر کالا باغ ڈیم کی مخالفت میں بیانات دیے۔ سندھ اسمبلی میں اس کی تعمیر کے خلاف قرارداد منظور کی گئی ۔ مخالفین کی طرف سے ریلیاں نکالی گئیں ، یہاں تک محترمہ بینظیر بھٹو شہید جیسی قومی رہنما نے بھی سندھیوں کو خوش کرنے کے لیے اس کی تعمیر کی مخالفت میں بیانات دئیے۔
کالا باغ ڈیم تعمیر تو نہ ہو سکا اور نہ ہی اس کے تعمیر ہونے کی کوئی سبیل آسانی سے بن سکتی ہے لیکن ہمیں سوچنا ہو گا کہ آخر ہم اپنے دریاؤں کے زائد پانی کو جو ہمارے لیے قدرت کی بے پایاں نعمت ہے سمندر بُرد ہونے کی اجازت کیوں دے رہے ہیں۔ کیا ہمارے حکمرانوں ، ریاست کے دائمی اداروں، مقتدر حلقوں ، سیاسی جماعتوں، سیاست دانوں، دانشوروں، پڑھے لکھے طبقات اور محب وطن عناصر اور عام شہریوں کا یہ فرض نہیں بنتا کہ وہ کالا باغ ڈیم جیسے قومی مفاد کے منصوبے کے لیے قومی اتفاقِ رائے کے حصول کی کوئی سبیل نکالیں۔ کیا شمس الملک جیسے واپڈا کے سابقہ چیئرمین جن کا تعلق نوشہرہ سے وہ دہائیاں دے کر یہ نہیں کہہ چکے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر انتہائی قومی مفاد میں ہے اور اس سے نوشہرہ کے ڈوبنے کا کوئی خطرہ نہیں ۔ کیا محترم ظفر محمود جیسے واپڈا کے سابقہ چیئرمین اپنے تحقیقی مضامین میں پاکستان کو درپیش پانی کی قلت کے مسائل سے عہدہ برآ ہونے کے لیے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کو ضروری نہیں قرار دے چکے ہیں اور وہ اعداد وشمار اور بر سرِ زمین حقائق کی مدد سے یہ حقیقت سامنے نہیں لا چکے ہیں کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے نے نہ تو خیبر پختونخواہ کے قوم پرست حلقوں بالخصوص اے این پی کے سیاست دانوں کے خدشات درست ہیں نہ ہی سندھ کے قوم پرست حلقوں کی طرف سے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کا کوئی جواز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کیلئے قومی سطح پر سنجیدہ کوششیں کرنی ہونگی۔ اس کے لیے قومی سطح پر اتفاقِ رائے کے حصول کے لیے پورے آپشنز کو بروئے کار لانا ہو گا اور خیبر پختونخواہ اور سندھ کے اُن عناصر جو کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے مخالف ہیں اُن کے پاؤں پکڑ کر اُن سے عاجزانہ درخواست کرنی ہو گی کہ وہ قومی مفاد کے اس منصوبے کو فنی ، تکنیکی اور اعدادو شمار کی روشنی میں پرکھیں اور اس کی تعمیر کے حق میں یا مخالفت میں فیصلہ کریں خدا کے لیے اسے سیاسی ایشو نہ بنائیں۔


ای پیپر