اداکاری میں جان بھی جا سکتی ہے
21 جون 2018 2018-06-21

سوشل میڈیا بھی کیا قیامت خیزی ہے ۔ ہمارے ہاں فہم و فراست کے پیکر اور اقوال زریں کے انبار لگے پڑے ہیں۔ سستی کی وجہ سے اور احتساب سے بچنے کے لیے شیو نہ کرسکنے پر ڈاڑھی رکھ لینے والے بھی متقیوں کی صف میں شامل ہوئے پڑے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر ہر آسمانی چٹوں کی روشنی میں تجزیہ کرنے والے جنہوں نے بلاول کے والدہ کی یاد میں آنسوؤں، نواز شریف کے دل کے بائی پاس آپریشن، عمران خان کا جوتوں کے بغیر صاف ستھری جگہ پر جرابوں سمیت مدینے میں چند قدم چلنا او ر اب بیگم کلثوم نواز بیماری (وینٹی لیٹر) کو ڈرامہ بنا دیا۔ قرب قیامت کی علامت ہے کہ تجزیہ کار اور دانشور کہلاتے ہیں۔ ایک دن جناب ذوالفقار بھٹو صاحب کے ساتھ نیچے زرداری کی تصویر تھی اور قائد اعظم کے ساتھ نیچے میاں نواز شریف کی تصویر تھی اور سوال تھا کہ ہم کہاں آ گئے۔
نہ جانے میرے ذہن میں جسٹس محمد رستم خان کیانی کیوں آ گئے۔ جنہوں نے اپنے اعزاز میں ایک تقریب میں آواز پاکستان خطاب (ایوارڈ) ملنے پر کہا کہ یہ مجھے نشان پاکستان سے زیادہ عزیز ہے ۔ایوب کے دور میں اگر سپریم کورٹ کے جج چیف جسٹس ہوتے یا مولوی تمیز الدین کیس سنتے تو ملک کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔
دراصل دنیا کی معا شرت اپنی خوبیاں اور خامیاں رکھتی ہے ۔ ہماری معاشرت میں مذہب اور مذہبی احکامات زیر بحث رہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہناوے اور طعام میں پسندیدہ چیزوں کا کثرت سے ’’متقی‘‘ لوگ ذکر کرتے ہیں۔ میں نے کبھی کسی عالم کے منہ اور دراز ہونے کے باوجود زبان سے نہیں سنا کہ آقاؐ کے گھر کھانے کے لیے تواتر سے دودن جو کی روٹی نہ آتی تھی اور پیٹ مبارک پر باندھنے کے لیے پتھر کی دو سلیں مسلسل سرکار کے گھر پر موجود ہوا کرتی تھیں یہ محض خندق اور مسجد کی تعمیر کا واقعہ ہی نہ تھا بلکہ حیات طیبہ میں ان سلوں کا استعمال کھانے کی چیزوں سے کہیں زیادہ ہوا کرتا تھا۔ بات معاشرت کی ہو رہی تھی۔ وطن عزیز کی اکثریت میں اداکاری کا ٹیلنٹ موجود ہے ۔ ڈاکٹر منصف، وکیل دانشور، ملاں، سول سوسائٹی کا نمائندہ ترقی پسند، بنیاد پرست، دین دار، دنیا دار، دیانت دار سب کے سب اداکار ہی تو ہیں۔ کیا ہمارے تمام عدالتی، انتظامی، سیاسی، عسکری، مذہبی، معاشرتی، معاشی، سماجی فیصلوں کے درست یا غلط ہونے کے لیے چند عشرے گزرنے کا انتظار کرنا ہو گا۔ وہ واقعات تاریخ کا حصہ ہوں گے تو پھر ہم کہیں گے مولوی تمیز الدین کیس، ذوالفقار علی بھٹو کیس، نصرت بھٹو کیس، افتخار محمد چوہدری اور اس کے بعد حتیٰ کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے ہر نوع کے فیصلے کی پرکھ کو ہم مستقبل پر چھوڑتے ہوئے تاریخ کے اوراق میں تجزیہ کریں گے۔سیکڑوں چینلز ہیں مگر سچ کیا ہے لوگ ایک
دوسرے سے پوچھتے پھرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں کرپشن کے خلاف ایسا نعرہ چلا کہ کرپشن کی وجہ سے جن کی سابقہ سیاسی پارٹیوں کا بیڑہ غرق ہوا ان کی اکثریت نئی سیاسی جماعت میں شامل ہو گئی اور کچھ آزاد امیدوار ہوئے۔معاشرے اور فضا میں ایسا کونسا بھوت ہے جو ان کو اقتدار کی آمد کی خبر دے دیتا ہے کہ اقتدار اب کس کے پاس آئے گا۔ جیسے زلزلے کی آمد کا پتا پرندوں اور جانوروں کی حسیات پہلے بھانپ لیتی ہیں، اسی طرح دنیا ڈھونڈنے والے اور در در حیران پھرنے والے آگاہ ہو جاتے ہیں کونسا در کھلنے کو ہے ۔
یہ سلسلہ کل بھی جاری تھا، آج بھی جاری رہے گا اور کل بھی رہے گا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے قوم آزاد کروائی ، آزاد وطن دیا مگر آج شاید سیکڑوں قائداعظم مل کر بھی تہ در تہ پر پیچ نظام سے قوم کو آزادی نہ دلوا سکیں ۔ یہی سچ ہے اور اس قدر تلخ کہ جو جتنا آگاہ ہے ، اتنا ہی پریشان ہے ۔ انحطاط کا یہ عالم ہے کہ آپ کو ئی درگاہ لے لیں۔ صوفیوں کے مطمع نظر اور موجودہ گدی نشین، سیاسی جماعت کے بانی کو دیکھ لیں اور اس کے موجودہ قیادت،کسی خاندان کے بنیادی سربراہ کو دیکھ لیں اور موجود نمائندے کو آپ کو قائد اعظم اور نواز شریف، ذوالفقار علی بھٹو سے زرداری، جسٹس رستم خان کیانی سے موجودہ صورت حال کا ہی سامنا کرنا ہو گا مگر اس ساری صورت حال میں ایک بات طے ہے کہ جو کوئی جس جگہ پر بھی جیسا کردار ادا کر رہا ہے ۔ انوپم کھیر، نصیرالدین شاہ، دلیپ کمار، نانا پاٹیکر کو پیچھے چھوڑے چلا جا رہا ہے ۔ مجھے یاد ہے کہ 1988ء میں جناب پرویز صالح پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہوئے،جیت کی رات ایک قد آور آدمی پیپلزپارٹی کی جیکٹ پہنے آیا۔ سنجیدہ سا آدمی تھا ۔ میں نے دیکھا کہ یہ تو دیکھی بھالی شکل ہے ۔ انہوں نے جناب پرویز صالح کا پوچھا اور مبارکباد دینے والوں کے سلسلہ میں آنے والوں میں سے ایک مبارکباد دینے والے تھے۔ جناب پرویز صالح کے سیکرٹری ایوب نے رجسٹر آگے رکھا اور انہوں نے اپنا نام شفقت محمود لکھا۔جو ضیاء الحق کے دور میں سابق ڈی سی گوجرانوالہ تھے۔ مبارکباد دینے پرویز صالح کے گھر آئے۔ اب خیر سے پی ٹی آئی کے ٹکٹوں کے تقسیم کرنے والوں میں شامل ہیں۔ فکری اعتبار سے نجم سیٹھی جیسے ہیں۔ مجیب الرحمن نے اپنی ڈائری پر لکھا تھا سیاست اقتدار کا زینہ ہے لہٰذا سچ ہی کہا تھا۔ میں سوچتا ہوں کہ پیپلزپارٹی کے ایم پی اے کو مبارکباد دینے والوں میں اپنا نام لکھنے والا آج پی ٹی آئی کی ٹکٹیں تقسیم کر رہا ہے ۔ تبدیلی تو آ گئی۔
مگر بعض اوقات اداکاروں کی اداکاری مہنگی پڑتی ہے اور بعض اوقات کچھ ثابت کرنے کے لیے مرنا پڑتا ہے جس طرح بیوٹی پارلروں اور درزیوں کے بنائے ہوئے دیدہ زیب لوگ ہیں۔ اسی طرح سیاست دان بنائے گئے ہیں۔ اب تو کالم نگاری، شاعری بھی چند ہزار روپے ماہانہ پر ملتی ہے ۔ اپنے نام سے کالم اور شاعری چھپوا لیں۔ بحرحال سیاست دان ہونے کے لیے اداکاری خود کرنا پڑتی ہے ۔ اداکاری میں ایک بار سٹنٹ مین کی جگہ امیتابھ بچن خود چھلانگ لگا بیٹھے تو جان سے چلے تھے۔ ہندوستان کی ایک فلم تھی میں آزاد ہوں۔ اس میں امیتابھ ایک بے روز گار اور خالی پیٹ بے روزگار ہوتا ہے مگر اوور کوٹ پہنے ہوتا ہے ۔ ظاہراً ایک بارعب آدمی دکھائی دیتا ہے ۔ بس سٹاپ پر کھڑا ہوتا ہے کہ سامنے سڑک پر گرا ہوا سیب ہوتا ہے ۔ بھوک کے مارے وہ اس سیب کو دیکھتا ہے اور پھر کھسیانا سا ہو کر اردگرد دیکھتے ہوئے اس سیب کو پکڑ لیتا ہے ۔ پاس ہی ایک اخبار کی رپورٹر کھڑی اس کو دیکھ لیتی ہے اُن دنوں اخبار میں ایک خط چھپتا ہے جس میں ایک بندہ جس نے اپنا نام آزاد رکھا ہے مشہور ٹاور سے مخصوص دن وقت اور تاریخ کو کود کر جان دینے کی دھمکی دیتا ہے ۔ وہ رپورٹر اس کو قائل کر کے اپنی خبر بیچنے کی خاطر کہتی ہے کہ تم وہ آزاد بن جاؤ تمہیں روٹی روزی مل جائے گی۔ وہ اقرار کرتا ہے تو ٹی وی ، اخبار اور دیگرخبروں پر عوامی حقوق کی خاطر جان دینے والے کو پالنے کی خبر سپر ہٹ ہو جاتی ہے ۔ اس آزاد کو سیاسی پارٹیاں اپنا لیڈر بناتی ہیں وہ اسمبلی میں جاتا ہے ، عوام میں اس کی پذیرائی ہوتی ہے ۔ عوام میں عزت اس کے اندر کے انسان کو عزت دار اور نظریاتی بنا دیتی ہے ۔ اس کے پروڈیوسر اس سے ناجائز کام کہتے ہیں وہ انکار کرتا ہے ۔
اس تکرار میں وہ اس سے کہتے ہیں کہ تم وہ آزاد نہیں ہو ا جو تم بن رہے ہو وہ کہتا ہے تم بھی وہ نہیں ہو جو تم بن رہے ہو۔ تم قوم کی نمائندہ محب وطن جماعت نہیں اور شخصیات نہیں ہو آزاد کو آزاد بنانے والوں کے مطالبے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور آزاد جو کہ ایک فرضی خط ہوتا ہے کے دعویدار امتیابھ بچن کی دی ہوئی تاریخ اور دن نزدیک آتے چلے جاتے ہیں۔ بالآخر اس بے نام، بے نظریہ، بے توقیر، بے مثال شخص کے لیے مقام ، دن، تاریخ آجاتا ہے ۔ جب اس نے ٹاور سے کود نا ہوتا ہے اس بے نام کو آزاد اور میں آزاد ہوں ثابت کرنے کے لیے جان کی بازی لگانا پڑتی ہے اور وہ ٹاور سے کود جاتا ہے یہ کہتے ہوئے کہ میں آزاد ہوں۔ میں سوچتا ہوں کہ اس اداکاروں سے بھرپور معاشرے میں کبھی کبھار اداکاروں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ مشرف جو ڈرتے ورتے نہیں تھے، آج کل ملتے جلتے نہیں ہیں۔ کہتے ہیں میں بزدل نہیں ہوں تو شرطیہ مٹھے ڈرامہ میں اندھے کا کردار ادا کرنے والے ببو برال کی بات یاد آتی ہے ۔ کون کہتا ہے ہم اندھے ہیں ہمیں ویسے نظر ہی نہیں آتا۔ الطاف حسین، جو موت کا سوداگر تھا آج بازی گر بھی نہیں رہا، نواز شریف جو کبھی نظریاتی نہ تھے کہیں ٹاور سے ہی نہ کود جائیں کہ میں نظریاتی ہوں کیونکہ جینوئن ہونے کے لیے جناب بھٹو کا بنچ مارک خوف ہے ۔ لہٰذا اداکار کبھی کبھار جان کی بازی بھی ہار سکتے ہیں۔


ای پیپر