جمہوریت کا حسن یا بدصورتی!
21 جون 2018 2018-06-21

جمہوریت ! ایک ایسا طرزِ حکومت جس کے بارے میں عالمی سطح پر ایک متفقہ بیانیہ طے پاتا ہے کہ یہ ایسا طرزِ حکومت ہے جس میں ’’لوگوں‘‘ کی خدمات کے لیے ’’ لوگ‘‘ سامنے آتے ہیں اور ’’ لوگوں‘‘ کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں ۔ جمہوریت کی معروف تعریف امریکی صد ر ابراہم لنکن (1809-1865) سے منسوب ہے جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ ’’ہمارا بھرپور عزم ہے کہ جان قربان کرنے والوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی ، ہم خدا کے زیرِ سایہ ایک ایسی قوم ہیں جو کبھی فنا نہیں ہوگی جس کا مقدر ایک نئی آزادی اور نئی حکومت ہوگی جو لوگوں کی ، لوگوں کے لیے اور لوگوں کے ذریعے ہو گی ‘‘۔ ۱۹ نومبر ۱۸۶۳ کو ابراہم لنکن نے یہ الفاظ Gettysburg کے اختتامی خطاب میں کہے تھے۔ جس کے بعد سے ان الفاظ کو ابراہم لنکن سے منسوب کیا جاتاہے اور خاص کر ابراہم کے اختتامی الفاظ کو جمہوریت بطورِ نظام کے متفقہ تعریف سمجھ لیا گیا۔تاہم147government of the people, by the people, for the people148 کے الفاظ ۱۸۵۰ میں Theodore Parker(جو ایک معروف امریکی مبلغ تھے 1810-1860) سے بھی منسوب ہیں ۔July 4, 1858 کو ایک خطبے میں پارکر نے کہا تھا ’’147Democracy is direct self-government over all the people, for all the people, by all the people.148 ‘‘۔ یعنی جمہوریت لوگوں پر ، لوگوں کے لیے اور لوگوں کی براہِ راست اپنی حکومت ہے۔ مذکورہ بالا دونوں تعریفوں کی روشنی میں جمہوریت کی ثنویت آمریت اور جبر و استبداد سے بنتی ہے۔البتہ اطلاقی معنوں میں اگر اس کا تجزیہ کیا جائے تو چند ایک نہایت اہم چیزیں سامنے آتی ہیں ۔ پہلی چیز یہ کہ جمہوریت لوگوں کی حکومت ہے ، جو لوگوں کے لیے لوگوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ’’ لوگ‘‘ سے کیا مراد ہے؟لغت میں لوگ سے مراد کسی ملک کے وہ افراد جن کے پاس طاقت یا اختیار نہ ہو۔گویا لوگوں سے مراد وہ محروم
طبقہ جن کے پاس کسی قسم کی مراعات نہیں وہ واضح اکثریت میں ہوں ۔اصولی طور پر اشرافیہ یا اعلیٰ ترین اشرافیہ جس کایوں بھی ریاست کے سیاسی سماجی تحرک میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ، اسے طاقت کے حصول کے عمل میں شامل نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن عملی طور پر دنیا کے کسی خطے میں ایسا نہیں ہورہا۔ پاکستان کے معروضی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو محروم طبقے سے مراد غریب طبقہ لیا جاتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غریب طبقہ محروم طبقے میں شمار ہوتا ہے لیکن پاکستانی سیاست میں محرومی کو سمجھنا اور طاقت کی dynamics کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ سفید پوش طبقہ اور کئی ایک جگہ تو معاشی طور پر ارفع طبقات بھی سماجی دائرے میں محروم رہتے ہیں یعنی طاقت کا اختیار ان کے ہاتھ نہیں آتا ۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں جمہوریت کو بطور دوسرا مہابیانیہ سمجھا جاتا ہے اور جمہوریت کو ہی عوام کے دکھ ، آلام ، مصائب اور محرومیوں کے ازالے کی کلید سمجھا جاتا ہے۔لیکن جمہوریت بطورِ اصطلاح اور بطورِ عملی نظام ایک ناکام نظام ہے۔ جمہوریت کسی بھی خطے میں عوام کو کسی ایک مرکزی نکتے پر متفق ہونے نہیں دیتی۔ خاص کر پاکستان میں جہاں ہر جماعت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ اقتدار میں آکر عوام کی خدمت کرے گی ۔ سوال یہ ہے کہ عوام کی خدمت کے لیے اقتدار کا در کھٹکھٹانا کتنا درست ہے ؟۔ اگر تمام جماعتوں کے دلوں میں واقعتا عوام کیلیے درد ٹھاٹھیں مارتا ہے تو تمام جماعتیں مل کر متفقہ طور پر ایک حکومت بنائیں جس میں سب کے نمائندگان شامل ہوں اور تمام جماعتیں مل کراپنے منشوروں کی بہترین چیزیں اختیار کرکے مل کر لوگوں کی خدمت کریں۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ کیونکہ مقصد عوام کی خدمت نہیں ہے۔ اس جمہوری نظام کے تحت عوام لخت لخت ہوجاتے ہیں فاتح جماعت پانچ برس اپنے تئیں ایسے فیصلے کرتی ہے جس سے مخصوص طبقے کی خوش حالی مقصود ہوتی ہے ، دیگرجماعتیں اس تمام سیاسی عمل میں بطور تماش بین اپنا غیر حقیقی کرادر ادا کرتی ہیں بلکہ اکثراپنی تمام تر توانائیاں حکومت کے خلاف صرف کردیتی ہیں ۔ ملک میں نفرت کا ایک ایسا ماحول متشکل ہوتا ہے جو لوگوں کو یکجان نہیں ہونے دیتا۔ ایک ریاست میں کئی ایک ریاستیں بن جاتی ہیں۔لہٰذا طے ہوا کہ جمہوریت کی تعریف میں جو لفظ ’’ لوگ‘‘ ہے وہ دراصل ’’ مخصوص لوگ‘‘ ہے ۔ اس لحاظ سے جمہوریت کی نئی تعریف کچھ یوں ہوگی ’’ جمہوریت سے مراد ’’ مخصوص لوگوں‘‘ کی ’’ مخصوص لوگوں‘‘ کے ذریعے ’’ تمام لوگوں ‘‘ پر حکومت۔ فرض کریں کہ پاکستان کے معاصر معروضی تناظر میں اگر یہ بیانیہ تشکیل دیا جائے کہ قوم کا وقت اور پیسہ ضائع کرنے کی بجائے تمام جماعتوں کے بہترین لوگوں کو اتفاقِ رائے سے ایک مرکز پر اکٹھا کیا جائے اور ایک ’’ قومی حکومت‘‘ بنائی جائے جس کو کڑے احتساب کا سامنا کرنا ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان کی سیاسی ، سماج اور معاشی حالات بہتر نہ ہوں۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ وہ جماعتیں بھی اس مغربی جمہوریت کوراہِ نجات سمجھتی ہیں جو اس ملک میں اسلام کا نفاذ چاہتی ہیں ۔ اسلام کے نفاذ کے لیے طاقت یا جبر کی نہیں رویے اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ مذہبی جماعتیں دیگر سیاسی جماعتوں کو قائل کریں اور کوئی متفقہ لائحہ ء عمل تشکیل دیں تو مجھے نہیں لگتا کہ کسی بھی جماعت کو اسلام کے نفاذ سے کوئی مسئلہ ہوگا۔ ترقی یافتہ ممالک میں جمہوری نظام کی کامیابی کی مثالیں دینے والوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ نظام کی نسبت کردار کی اہم ہوتا ہے۔ جب تک بہترین کردار ی امثال آپ کے سامنے نہ ہوں گی نظام کو یہی رہنما اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہیں گے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس تحریر سے یہ تاثر کشید کیا جائے گا کہ جمہوریت کے مقابلے میں آمریت کو ترجیح دی گئی ہے یا بادشاہت کو ، ایسا کوئی تاثر کشید کرنا غلط تفہیم شمار ہوگا۔ آمریت کھلی دہشت گردی ہے ، جبر بنیادی طور پر خوف ہے تاہم جمہوریت کے مروج اور روائتی معنوں سے احتراز برتننے کی ضرورت ہے ، جسے ہم لوگ جمہوریت کا حسن کہتے ہیں درحقیقت وہ جمہوریت کی بدصورتی ہے جو قوم کو لخت لخت کرتی ہے اور لوگوں میں نفرت کا بیج بوتی ہے۔ اگر سیاست دان واقعی قوم کا درد رکھتے ہیں تو مل کر اس قوم کا مستقبل سنواریں، نہ کہ اس کی جڑیں کمزور کریں ، کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔


ای پیپر