بچپن کی عیدیں۔۔۔
21 جون 2018 2018-06-21



دوستو،مثل مشہور ہے کہ عید تو بچوں کی ہوتی ہے،آج اگر کسی بزرگ نما جوان یا پھر فورٹی پلس کی عمرکے لوگوں سے پوچھیں کہ عید کیسی گزری؟ تو ایک ہی جواب سننے کو ملے گا، جناب عید تو بچوں کی ہوتی ہے، اب وہ بچپن کی عیدیں کہاں؟؟۔سچ بھی یہی ہے، پہلے عید منائی جاتی تھی، اب عیدگزاری جاتی ہے۔اس بار بھی عید تو گزرچکی۔ عید کی تعطیلات کے باعث آپ ہمارا یہ کالم کچھ تاخیر سے پڑھیں گے لیکن ہماری کوشش ہوگی کہ آج آپ سے بچپن کی عیدوں کی کچھ یادیں تازہ کریں۔
بچپن میں سب سے بڑا تھرل عید کے چاند کا ہوتا تھا۔ انتیس روزوں کے بعد بڑی خواہش یہ ہوتی تھی کہ بس اب چاند نظر آجائے تو مزہ آئے۔ عید والے دن نئے کپڑے پہن کر ابو کے ساتھ عید کی نماز پرجانے کی خواہش تو چھپائے نہ چھپتی تھی۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ ہم بچپن میں عبادت سے شغف رکھنے والے تھے۔ بلکہ اصل وجہ عید کے بعد ابو سے عید ملنے والوں کی طرف اس امید پر مسکراہٹوں کے پھول نچھاور کرنا کہ شاید اب یہ جیب میں ہاتھ ڈالیں اور ہمیں عیدی مل جائے۔ اور جو ہمیں صرف سر پر پیار کرکے آگے چل دیتا وہ تو ہمیں ولن ہی لگتا تھا۔ ۔ہمیں یاد ہے عید کے تینوں دن بڑی مشکل سے جو عیدی اکٹھی ہوتی تھی وہ بمشکل دس روپے سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔اسے بھی ہر دوگھنٹے بعد گنتے تھے کہیں ختم تو نہیں ہوگئی۔ پھر گلی میں ہمسائیوں کا لڑکا جوٹھیلے پرچھولے لگا کر بیچا کرتا اس سے چھولے لے کر کھاتے۔ روڈ پر جھولے والا آتا اس کو بھی حصہ پہنچاتے۔ اس وقت ’’واٹر بال‘‘ کا بھی بڑا رواج تھا وہ بھی لینا ہوتا تھا۔عید کی سب سے بڑی عیاشی ٹھنڈی بوتل پینا اور آٹھ آنے کا میٹھا پان کھانا بھی ہوتھا تھا۔ بہت سی چیزیں تو اب یاد ہی نہیں رہیں لیکن بہرحال عموما پہلے دن ہم اپنی اچھی خاصی عیدی خرچ کرڈالتے تھے۔ محلے کی کوئی آنٹی ہمیں عیدی دیتیں تو پہلی کوشش یہ ہوتی تھی کہ امی کو کسی طور پتہ نہ لگنے پائے۔ لیکن امی پھر بھی ہم سے اگلوا ہی لیتی تھیں کہ کہاں سے کتنی عیدی ملی ہے۔ اور پھر وہ تمام عیدی بحق قواعد و ضوابط برائے عیدی ضبط ہوجانا طبعی امر تھا۔ امی کی منطق یہ ہوتی تھی کہ اب اس میں اتنے ہی پیسے اور ملا کر ان آنٹی کے بچوں کو بھی عیدی دینی ہے۔ اور ہم یہ سوچا کرتے تھے کہ پھر ہمیں تو مفت میں ہی قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے جبکہ اصل میں تو یہ عیدی بڑوں کا کھیل ہے کہ جس نے پہلے دے دی اب ضروری ہے کہ اس کے بچوں کو ڈبل ہوکرواپس ملے۔ ۔عید کے روز نئے کپڑے اور پرانی جوتی پہن کر عیدگاہ جانا، واپس آکر نیارنگین شیشے والا چشمہ پہننااور اس پر سے اسٹیکر نہ ہٹانا۔تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ چشمہ بالکل نیا لیا ہے۔کھوئے والی قلفی، گول گپے،بندرکا تماشا۔اب یہ سب تو بس یادیں بن کر رہ گئی ہیں۔
معلوم نہیں کب، کیوں اور کیسے یہ مفروضہ حقیقت مان لیا کہ ’’اب وہ عید نہیں رہی‘‘ شاید اس لیے کہ یہ فلسفہ آدم بیزار مفکرین کے ہاں رائج تھا اور اپنی سنگت بھی ایسی ہی ہے ۔ سو آنکھ بند کی اور مان لیا عظیم دانشوروں کی اس دانشوری کو۔ کبھی آنکھ کھول کے اردگرد دیہ دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ واقعی کیا اب وہ عید نہیں رہی؟مگر یہ سوال تو اپنی جگہ موجود ہے کہ’’اِس عید‘‘ میں کیا تبدیل ہو گیا ؟۔ حالانکہ نہ انسانی فطرت میں کوئی انقلابی تبدیلی رونما ہوئی ہے ،نہ خواہشوں نے کسی ولی کی بیعت کی ہے اور نہ فرمائشیں ’’تصوف‘‘ کی چادر پہن کر تارک الدنیا ہوئی ہیں، پھر کیوں وہ عید نہیں رہی؟
آج بھی مہندی لگتی ہے اوراس کا رنگ بھی نہیں بدلا۔ چوڑیاں آج بھی کلائیوں میں ویسے ہی کھنکتی ہیں۔ ویسے ہی ماں باپ کی انگلی تھامے بچے بازاروں میں عید کی خوشیاں خریدنے گھوم رہے ہوتے ہیں۔ ویسے ہی کسی دکان پر من پسند جوتے دیکھ کر انگلی اٹھتی ہے ، ویسے ہی کسی اسٹال کے قریب رْکے، اکڑے بچے کا بچپنا اور ماں باپ کی معاشی استطاعت ٹکراتی ہے۔ کبھی بازار کے کسی کونے میں کسی بچے کی ضد جیت جاتی ہے اورکہیں خواہش ہار جاتی ہے۔ویسے ہی بچے جوتے نکال نکال کر دیکھتے ہیں، کپڑوں کو تکتے ہیں اور بالکل اْسی معصومیت کے ساتھ جو ’’اْس‘‘ عید پر ہوتی تھی۔آج بھی شوخ کپڑے اور میچنگ لوازمات دیکھ کر معصوم بچیوں کی آنکھوں میں وہی چمک پیدا ہو جاتی ہے جو ‘‘اْس’’ عید پر ہوتی تھی۔ آج بھی انھیں اس بات کا پتا ہوتا ہے کہ کس نے کس سوٹ کے ساتھ کیسا دوپٹہ پہنا تھا، جوتے کیسے تھے۔ ویسے ہی خواتین کے دوپٹوں کی رنگائی ہوتی ہے، وہی گوٹا کناری ،پیکوکے رولے ، وہی میچنگ تلاش کرنے کی مصیبت۔بہنیں اور بیٹیاں آج بھی عید پر بابل کے گھر کا ’’طواف‘‘ اسی عقیدت اور چاہت کے ساتھ کرتی ہیں۔میٹھی عید کی میٹھائیاں بھی وہی ہیں اور ان کا ذائقہ بھی وہی ہے، بس اگر کچھ بدلا ہے تو وہ ہماری زبان کی حس ہے جو حالات اورحقائق کی تلخیوں کی وجہ سے عیدکی حلاوت محسوس نہیں کرتی۔کل ہم نئے ’’کڑکتے‘‘ ہوئے نوٹوں کی تلاش میں ہوتے تھے اور عیدی کے نام پر بٹورتے تھے،آج بھی کڑکتے نوٹوں کی تلاش جاری ہے عیدی لینے کے لیے نہ سہی دینے کے لیے۔
کسی زمانے میں دل کی بات کہنے کے لیے عید کارڈز سے اچھا ذریعہ اور کوئی نہیں تھا، لیکن جب لوگوں کے ہاتھوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ آیا تو ساری مشکل ہی آسان ہوگئی، اِدھر سے میسج گیا اور اْدھر سے جواب آیا۔ نہ ڈاک کا خرچ نہ ڈاکیے کا انتظار۔ ۔ لوگوں نے مبارک باد کے لیے ،سوشل میڈیا،ای کارڈ، انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس کا سہارا لے لیا۔ عید کارڈ کے ذریعے مبارک باد کی روایت معدوم ہونے لگی، 11 برس قبل تک عید کے موقع پر عید کارڈ ہی اپنے پیاروں کو عید کی مبارک باد دینے کا اہم ذریعہ ہوتا تھا۔سوشل میڈیا،انٹرنیٹ اور موبائل فون عام ہونے سے عید کارڈز کی فروخت سال بہ سال کم ہو رہی ہے۔فیس بک ،وائبر،ٹوئٹراور واٹس اپ سمیت سماجی رابطے کی دیگر ویب سائٹس نے اس روایت کو تقریباً ختم ہی کر دیا ہے۔عید کارڈ پر ایک مختلف انداز میں شعر لکھے جاتے تھے جن میں سے چندجوہمیں آج تک یاد ہیں۔
سویاں پکی ہیں سب نے چکھی ہیں،آپ کیوں رو رہے ہیں آپ کے لئے بھی رکھی ہیں۔چاول چْنتے چْنتے نیند آ گئی،صبح اٹھ کر دیکھا تو عید آ گئی۔عید آئی ہے زمانے میں، بھیا گر پڑے غسل خانے میں۔۔۔ ڈبے میں ڈبہ ، ڈبے میں کیک،میرا دوست لاکھوں میں ایک۔گرم گرم روٹی توڑی نہیں جاتی،آپ سے دوستی چھوڑی نہیں جاتی۔عید آئی ہے اٹک اٹک کے ،آپ چل رہے ہیں مٹک مٹک کے۔
بچپن میں ہمیں عید پر کوئی ایک روپے کی بھی عیدی دے دیتا تھا تو ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا تھا، اب کسی بچے کو سوروپے بھی دے دیں تو اسے خوشی نہیں ہوتی۔اس کی نظرمیں عیدی کے پیسوں کی وہ اہمیت نہیں ہوتی ، کیونکہ آج کل کے بچوں کو جیب خرچ کے لئے ہی اتنے پیسے مل جاتے ہیں ۔اس کے علاوہ پہلے محلے گلیوں میں عید کے دن بچوں کے جھولے والے جابجا نظر آتے تھے، بچے عیدی کے پیسے لے کربھاگتے ہوئے جاتے اور ان جھولوں پر بیٹھ کر اپنی عید کی خوشیاں دوبالا کرتے تھے، اب تو بچے موبائل پکڑ کراس میں گیمز کھیلنے میں ہی مصروف نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ پہلے لوگ خاندان کے بزرگوں کو سلام کرنے چلے جاتے تھے اور ان کے ساتھ ہی عید کی نماز ادا کرتے تھے، لیکن اب لوگ خود ہی نماز کے لئے نکل جاتے ہیں ، عید کی نماز سے قبل یابعد میں خاندان کے بزرگوں کو جاکر سلام کرنے اور عیدملنے کی روایت بھی آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہے، جس کا یقیناً افسوس ہے، یہ خوبصورت روایات ہی گھر کے بچوں کو یہ بات سکھاتی ہے کہ بڑے بزرگ گھر کی جان ہوتے ہیں اور ان کے دم سے ہی عید کی خوشیاں دوبالا اور گھر میں رونق ہوتی ہے۔
اور اب چلتے چلتے عید کے حوالے سے ہی آخری بات۔اب اگر کسی سے پوچھا جائے کہ وہ ’’عید کے دن کیا کرتے ہیں ؟ ‘‘ تو عموماً یہی جواب ملتاہے کہ ’’عید کے دن ہم سوکر ہی گزارتے ہیں ، اپنی نیند پوری کرتے ہیں۔‘‘ جبھی احساس ہوتاہے کہ وہ عید کارڈز اور وہ بچپن کی عیدیں بہت قیمتی تھیں ، اگر ہم چاہیں تو اب بھی کئی روایات کو ختم ہونے سے بچاسکتے ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کو ہم عید کا اصل مطلب یعنی خوشیاں بانٹنا، بزرگوں کی دعائیں لینا، تحفے دینا، عیدی دینا، بذات خود دوسروں کے گھروں میں جانا اور ان کو اپنی عید کی خوشیوں میں شامل کرناوغیرہ کے بارے میں سمجھائیں اور نسل در نسل عید سے جڑی روایات کو منتقل کریں۔


ای پیپر