بھارت میں رائج ظالمانہ قوانین
21 جون 2018 2018-06-21

عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں سیاسی مخالفین کو کچلنے اور دبانے کیلئے مودی سرکار بدنام زمانہ پرانے قوانین کا استعمال کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق حکومت پر تنقید کرنے والوں اور سرکاری اقدامات کے خلاف سراپا احتجاج بننے والوں کو خاموش کرانے کیلئے ملک دشمنی یا غداری کے انسداد کا قانون اور ہتک عزت کے ضابطہ کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ بھارت میں رائج ظالمانہ قوانین جبر کا شکار بھارتی معاشرے کا ’’طرہ امتیاز‘‘ بن گئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارتی سرکاری این آئی اے ایجنسی اپنے مخالفین کو دبانے کیلئے استعمال کرتی ہے۔ بہت سے واقعات میں ثابت ہوا ہے کہ مذکورہ ایجنسی نے اپوزیشن پارٹیوں اور ان کے اہم رہنماؤں کو گرفتار کیا اور ان کے خلاف کرپشن، بدعنوانی اور دیگر مقدمات کی تفتیش شروع کی۔ حکومتی مفاد میں بیان دینے یا حکومت کی مخالفت ترک کرنے پر انہیں چھوڑ دیا گیا۔ ان پر کسی قسم کا کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا جاتا۔ جو لوگ حکومت کی بات نہ مانیں انہیں بدترین مقدمات میں پھنسا دیا جاتا ہے۔ جب تک کہ وہ حکومتی دائرہ میں نہ آجائیں۔ اس کے علاوہ بھارتی سرکاری مقبوضہ کشمیر سمیت دیگر شورش زدہ علاقوں میں عوامی لیڈران کو رام کرنے کیلئے بھی این آئی اے ایجنسی کا استعمال کرتی ہے۔
اب تک جو لوگ بھی مودی کے خلاف گئے ہیں وہ کسی نہ کسی سبب کنارے لگ گئے ہیں۔ گجرات سے لے کر دلی تک ان کے لئے خطرہ بننے والے کسی نہ کسی سبب حاشئے پر چلے گئے اور مودی کا راستہ صاف ہوگیا۔ ہمیں یہ پتہ نہیں کہ یہ مودی کی حکمت علمی کا حصہ ہے یا محض اتفاق کہ جہاں گجرات میں ان کے لئے خطرہ بننے والے آرایس ایس کے سنجے جوشی کا کریئر ختم ہوگیا، ہرین پانڈیا کا قتل ہوگیا، وہیں وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھنے والے بی جے پی کے بانی لیڈر اور مودی کے محسن لعل کرشن اڈوانی کا بوریہ بستر بندھ گیا اور ان کا خواب ہمیشہ کے لئے چکناچور ہوگیا۔کیا یہ بھی اتفاق ہے کی اس وقت بی جے پی کے اندر جو لوگ بھی تنازعات میں گھرے ہوئے ہیں ،وہ سب کہیں نہ کہیں مودی کے لئے خطرہ تھے اور ان کا اپنا وجود ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چےئرمیں سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارتی حکمران تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں اور وہ اس کے ذریعے کشمیر کی تحریکِ آزادی کو کمزور کرانا چاہتے ہیں۔ بھارتی حکمران جموں وکشمیر کی مسلمہ قیادت کو ہراساں اور بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس سلسلے میں تحریک حریت کو خاص طور پر ہدف بنایا گیا ہے اور اس کے رہنماؤں کے خلاف باضابطہ مہم شروع کی گئی ہے۔
تحقیقاتی ایجنسی این ائی اے (NIA)کی طرف سے بعض’’ آزادی پسند ‘‘لیڈروں اور کئی دوسرے لوگوں کے گھروں پر چھاپے ڈالنے کی کارروائی پر سخت ردّعمل ظاہر کرتے ہوئے بزرگ لیڈر سید علی شاہ گیلانی،یٰسین ملک اور مولوی عمر فاروق نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے’’ کشمیری قوم کے اتحادواتفاق اور جبری قبضے کے خلاف واضح اعلانِ برات نے دلی کے پالیسی سازوں کو بوکھلاہٹ کا شکار بنادیا ہے اور اب انہوں نے آزادی پسند لیڈروں کے خلاف سازشوں کا ایک جال تیار کیا ہے، جس کے تحت انہیں تنگ اور ہراساں کرنے اور ان پر جھوٹے الزامات دھرنے کی کوششیں رو بہ عمل لائی جارہی ہیں‘‘۔
بھارت ایک موثر جمہوریت نہیں۔ اس حوالے سے ہیومن رائٹس واچ جنوبی ایشیا کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے کہاکہ مخالفین اور ناقدین کو مختلف مقدمات بناکر جیلوں میں ڈالنا بھارت کو آزادی اظہار اور قانون کی حکمرانی کا علمبردار ملک بناکر پیش کرنے کی حکومتی کوششوں کو دھکا لگا دیتا ہے۔ یہ مخالفین بھارت کے سست ترین عدالتی نظام کے تحت اپنا قانونی دفاع کرتے ہیں۔ انکے مقدمات کے فیصلے ہوتے ہوئے بعض اوقات کئی مہینے اور کئی سال بھی لگ جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں انسداد غداری قانون کے تحت حکومت یا اسکے اقدامات کیخلاف تنقید کرنا یا نفرت پھیلانا ممنوع ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنیوالوں کو کئی ماہ اور بعض اوقات کئی سالوں تک عمر قید کاٹنی پڑ جاتی ہے۔ یہ قانون بھی انگریز دور میں محکوم اقوام کو کچلنے کیلئے بنایا گیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مودی سرکار پر ملک میں عدم برداشت کو ہوا دینے مخالفین کی غیرقانونی گرفتاریوں نسلی امتیازی سلوک ماورائے عدالت قتل اور آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے پر کڑی تنقید کی ہے۔انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے ادارے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے زیرسایہ قائم ہندو قوم پرست حکومت ملک بھر میں مسلمان اور دیگر اقلیتوں کیخلاف برپا فرقہ واریت کے سیکڑوں واقعات کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے قانون ساز اور سیاستدان نہ صرف اپنی تقریروں میں مذہبی جذبات کو بھڑکاتے ہیں بلکہ اس کے نتیجے میں ہونے والے فسادات کو جواز بھی مہیا کرتے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ مودی سرکار سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے گروپوں کو بھی ہراساں کرتی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مزید کہا ہے کہ انتہاپسند مودی سرکار انسداد دہشت گردی قوانین کا غلط استعمال کرتے ہوئے حکومت کیخلاف مظاہرہ کرنے والے افراد کو گرفتار کر لیتی ہے اور جنوری سے اب تک 3200 افراد کو غیرقانونی حراست میں لے رکھا ہے جن پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔
جب سے نریندر مودی کے زیرسایہ ہندو انتہا پسند حکومت میں آئے ہیں تب سے نہ صرف ہندوستان بلکہ خطے کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ ہندو قوم پرستوں کی انتہاپسند حکومت کیخلاف درجنوں بھارتی ادیب سائنسدان تاریخ دان اور فلم انڈسٹری سے وابستہ بڑے نام اپنے قومی ایوارڈ بطور احتجاج حکومت کو واپس کر چکے ہیں۔
بھارتی فوج جموں کشمیر میں جن سنگین قسم کے جنگی جرائم کا ارتکاب کررہی ہے۔ ان کا ایک عکس سوشل میڈیا اور دوسرے ذرائع سے دنیا تک پہنچنا شروع ہوگیا ہے اور نہتے شہری کو جیپ سے باندھ کر انسانی ڈھال کے طور استعمال کرنے اور نوجوانوں کو حراستی تشدد کا نشانہ بنانے کے ویڈیوز عام ہونے سے کشمیر کی سنگین صورتحال سے متعلق ایک بیانیہ زیرِ بحث آنے لگا ہے۔کشمیر سے متعلق اس بیانیہ کو تبدیل کرانے کے لیے اب( بھارت نے) ایک نیا محاذ کھولاہے اور وہ اپنی فوج کے جنگی جرائم کو چھپانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے آزمانے پر آگیا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے (NIA)کے چھاپے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور اس کے ذریعے سے آزادی پسند لیڈرشپ کی کردار کشی کرنے اور اس کو خوف زدہ اور مرعوب کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، تاکہ وہ اپنی مبنی بر حق جدوجہد سے دستبردار ہوجائے اور جبروزیادتیوں کے خلاف آواز اٹھانا بند کرے۔


ای پیپر