وشوا ہندو پریشد، بی جے پی اور رام مندر
21 جون 2018 2018-06-21

گزشتہ ڈیڑھ عشرہ سے بھارت میں پاور پالیٹکس کو انتہا پسند ہندو سیاست اور قیادت نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ ہندو عوام کی اکثریت سیاسی طور پر بد راہ ہو چکی ہے بھارت کی انتہا پسندہندو تنظیم ویشوا ہندو پریشد انٹرنیشنل کے صدر اشوک سنگھل نے بی جے پی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کیلئے پارلیمنٹ میں قانون سازی ممکن نہیں تو حکومت کو چاہئے کہ وہ اس مسئلے کو ریفرنڈم کے ذریعے حل کرے۔ بھارتی انتہا پسند تنظیموں کے رہنما جانتے ہیں کہ بھارت میں اقلیتوں کو دہشت زدہ کر کے ان کی آواز کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے اور ایسے میں ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں جو انہیں بھارت کو ایک کٹر ہندو ریاست بنانے سے روک سکے۔یہ امر ان کی طمانیت کیلئے کافی تھا اور ہے کہ بھارت میں کانگریس ایسی قومی اورسیکولر جماعت کے سیاسی رول کے خاتمہ کیلئے انہیں عالمی طاقت کی آشیرباد حاصل ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ بھارت میں ہندو آبادی اکثریت میں ہے اور اگر ریفرنڈم ہوا تو رام مندرکی تعمیر کا’’جمہوری جواز‘‘ پیدا ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ اشوک سنگھل ایک مدت سے یہ مطالبہ کرتے چلے آ رہے
ہیں کہ مرکزی حکومت رام مندر کی تعمیر کیلئے پارلیمنٹ کا خاص اجلاس بلا کر قانون سازی کرے۔ ایسا کرتے ہوئے جانے اس قسم کے عناصر یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ عالمی سطح پر ان کے حکمران بھارت کو ایک سیکولر ریاست کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ کیا ایک سیکولر ریاست کے حکمران پارلیمنٹ میں کسی ایسے مسئلہ پر قانون سازی کر سکتے ہیں جو بھارت پچیس کروڑ مسلمانوں کی دلآزاری کا موجب بنے؟ اشوک سنگھل 2004ء میں یہ دھمکی بھی ایک تواتر اور تسلسل کے ساتھ دے رہے تھے کہ ویشوا ہندو پریشد رام مندر کی تعمیر کیلئے ملک گیر تحریک چلائے گی۔ بظاہر تو وہ یہ اعلان کر رہے تھے کہ’ یہ تحریک پرامن ہوگی لیکن عالمی مبصر جانتے ہیں کہ بھارت کی انتہا پسند جنونی مسلح دہشت گرد تنظیموں کی ’’پرامن تحریکیں‘‘ بھی کس قدر خونخوار اور خون آشام ہوا کرتی ہیں۔ اسی قسم کی ڈریکولائی تحریکیں ماضی میں بھارت کے مختلف مسلم اکثریتی قصبوں، شہروں اور دیہاتوں میں ہزاروں مسلمانوں کے خون سے اپنی پیاس بجھا چکی ہیں۔ بابری مسجد کا مسئلہ گزشتہ کئی صدیوں سے ایک طے شدہ اور حل شدہ معاملہ تھا۔ یہ ایک نان ایشو تھا جسے جنونی ہندوؤں نے مسلم بیزار رائے عامہ بیدار کرنے کیلئے ایشو بنایا۔
بھارت کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے2004ء کے عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے انتخابی مہم کے پہلے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ’’ بھارتیہ جنتا پارٹی انتخابات میں کامیابی کے فوری بعد رام مندر کی تعمیر کے منصوبے کو بام تکمیل تک پہنچائے گی، رام مندر کی تعمیرہماری حکومت کی اولین ترجیح ہوگی‘‘گذشتہ انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا انتخابی منشور سرتاپا پاکستان دشمنی کا مظہر تھا۔اس منشور میں واشگاف الفاظ میں متعصب ہندو رائے دہندگان کو یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اکھنڈ بھارت کی بحالی اور قیام کیلئے مقامی و بین الاقوامی سطح پرہمہ جہتی مساعی بروئے کار لانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرے گی ،نیز یہ کہ خطے میں رام راج کا غلبہ ہمارا خواب ہے ۔ اس سے پہلے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی میں پاکستان دشمنی کارڈ نے کلیدی کردار ادا کیا۔2004 ء کے متوقع انتخابات میں یہ بنیادپرست جماعت تیسری بارپاکستان دشمنی اور مسلم بیزاری کا ایجنڈا لیکرسیاسی میدان میں موجود تھی ۔
بھارت کے ایک سابق نائب وزیراعظم ایل کے ایڈوانی ان لوگوں میں پیش پیش تھے جو بابری مسجد شہید کرنے کی مہم کو لیکر بھارت کے طول و عرض میں دیوانہ وار پھرے اور ہندو عوام کو اکساتے رہے۔ اب بھی بھارتی مسلمان ایل کے ایڈوانی کی رتھ یاترا کی مہم کے چرکوں کو اپنے دل کی اتھاہ گہرائیوں میں محسوس کرتے ہیں۔ دنیا اور حقائق کی آنکھوں میں دھول جھونکنا بھارت کے چانکیائی ہندو رہنماؤں کا شیوہ و شعار رہا ہے۔ بھارت کے تمام تر ریاستی ادارے بھی ہندو شاؤن ازم کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ عدالتیں تک بھی اس شاؤن ازم کے منفی اثرات سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں رکھ سکیں۔ بھارت کا قومی اور بین الاقوامی پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا ایل کے ایڈوانی کی رتھ یاترا کے ایک ایک لمحے کو اپنے سینے میں محفوظ کئے ہوئے ہے۔ اس کے باوجود رائے بریلی کی ایک خصوصی عدالت نے 2004ء میں ایل کے ایڈوانی کو اس الزام سے بری کر دیا کہ انہوں نے بابری مسجد کی شہادت میں کوئی کردار ادا کیا تھا۔ بھارت کے مسلم پرسنل لاء بورڈ اور سی بی آئی نے عدالت کے ایل کے ایڈوانی کو بری کرنے کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ادھر راشٹریہ سیوک سنگھ کے رہنما کھلے بندوں کہتے پھر رہے ہیں کہ صرف ایڈوانی ہی بری نہیں ہوگا بلکہ اس کے باقی ساتھی بھی بری ہوں گے۔
یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ بھارت کے 56ویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی تقریب میں مسٹر اٹل بہاری واجپائی نے بلٹ پروف کیبن سے خطاب کیا تھا۔ اس خطاب کے دوران بھی کشمیر ان کے اعصاب پر بری طرح سوار رہا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے بھاشن کے دوران کہا تھا کہ ’’مقبوضہ کشمیر میں حق خودارادیت کی وکالت کرنے والے بھارت کو دوسری مرتبہ مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے درپے ہیں، ایسے لوگوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘‘ بھارتی وزیراعظم یہ الفاظ ادا کرنے ہوئے شاید یہ بھول گئے کہ بھارت کی تقسیم در تقسیم کا عمل ہندو مسلم بنیاد پر صدیوں جاری رہے گا۔ قیام پاکستان بھارت کی تقسیم کا نقطہ آغاز ہے۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے لیکن گزشتہ7عشروں سے بھارت کے ہریوم آزادی کے موقع پر آزاد و مقبوضہ کشمیر کے شہری اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔ اس روز مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال ہو تی ہے۔ سڑکیں اور بازار سنسان ہوتے ہیں اور وادی کے بڑے شہروں میں کرفیو کا نفاذ کیاجاتا ہے۔


ای پیپر