بھارتی ڈیموں میں قید ہمارے دریا
21 جون 2018 2018-06-21

تشنہ لبی کی بے بسی کبھی ایسی تو نہ تھی، ان کی آنکھوں میں اتری رت جگوں کی زردی اور پیاس سے نڈھال لبوں کی خشکی کو دیکھ کر وحشت سی ہوتی ہے،ان کی بے چہرگی کو دیکھ کر خوف سا آنے لگا ہے۔ ان کے طول و عرض میں پانی کی جگہ اڑتی ریت کو دیکھ کر کلیجے میں ہوک سی اٹھتی ہے، چناب کی مسکان چھین لی گئی۔ راوی کی آنکھوں سے آنسوؤں کے سوتے تک خشک کر دیے گئے۔ ستلج کی برباد ہوتی شان کو دیکھ کر ضبط کے بندھن ٹوٹ ٹوٹ جاتے ہیں۔ دریائے جہلم کا پانی روکنے کی وجہ سے 92 تا 98 فیصد حصہ خشک ہو چکا۔ بھارت دریائے جہلم کا پانی روک کر کشن گنگا بجلی گھر کی جھیل کو زیادہ سے زیادہ گنجائش تک بھرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں دریائے جہلم پر 330 میگاواٹ کے کشن گنگا بجلی گھر سے 110 میگاواٹ
کی پیداوار جاری کر رکھی ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے مطابق بھارت دریائے چناب میں 55 ہزار کیوسک پانی چھوڑنے کا پابند ہے مگر اب صرف 5 ہزار 461 کیوسک پانی کی آمد ریکارڈ پر موجود ہے۔ نہر اپر چناب میں 18 ہزار کیوسک پانی کے بجائے صرف 4182 کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ 1970ء کے انٹرنیشنل واٹر کنونشن رولز کے مطابق کوئی بھی ملک دریاؤں کو مکمل طور پر بند نہیں کر سکتا مگر بھارت ہمارے دریاؤں پر یہ ظلم کرتا چلا جا رہا ہے۔ پانی کے انتہائی اہم اور حساس مسئلے کے متعلق ہمارا یہ انداز تغافل ہمیں تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ زندگی کیلئے جزولاینفک پانی کے بارے میں ہماری یہ تساہل پرستی ہمیں بربادیوں کے دہانے پر لاکھڑا کرے گی۔ اس دنیا میں حیات کے سارے لمحات کا دارومدار پانی اور ہوا کے گرد گھومتا ہے۔ جب دریاؤں کے سینوں پر پانی کے بجائے ریت اڑے گی تو پھر یہ ریت ہماری تمام تر خواہشات اور آسودگیوں کو بھی اڑا لے جائے گی۔ زمینیں بنجر ہو جائیں تو فصلوں کے منظر ہولناک ہو جایا کرتے ہیں اور فصلیں اجڑ جائیں تو پھر قحط بن بلائے آدھمکتا ہے۔
ہماری سیاست کے سارے کردار ہمارے خشک ہوتے دریاؤں کے لب و رخسار سے بالکل ہی بے پروائی برت رہے ہیں۔ دریائے چناب میں پانی کی کمی کی وجہ سے پنجاب کی لاکھوں ایکڑ فصلوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ کرسی کی ہوس اور اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنے کی حرص نے ہمارے شعور کا اس حد تک خون کر ڈالا ہے کہ پانی کی کمی کے شکار 15 ممالک میں پاکستان بھی شامل ہو چکا ہے۔ ہمارے کھیت ویران، ہماری صنعتیں سنسان اور ہمارا کسان شدید پریشان ہو نقوں کی طرح فضاؤں میں گھور رہا ہے اور ہمارا نوجوان بے روز گاری کے طوفان میں اپنی جان کب تک بچا پائے گا۔ اگر دریاؤں کے لبوں کی خشکی سے نمٹنے کے لئے اقدامات نہ کئے گئے تو یہ خشکی صرف دریاؤں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ 22 کروڑ پاکستانیوں کے لہو کو خشک کر ڈالے گی۔ پاکستان کونسل برائے تحقیق آبی ذخائر کے مطابق 1990ء میں پاکستان ان ممالک کی صف میں شامل ہو گیا تھا جہاں آبادی کے مقابلے میں آبی ذخائر کم ہو گئے تھے۔ پاکستان کے قیام کے وقت ہر شہری کیلئے 5 ہزار 6 سو کیوبک میٹر پانی تھا جو اب کم ہو کر صرف ایک ہزار کیوسک میٹر رہ گیا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں خبردار کر چکا ہے کہ پاکستان میں پانی کی کمی بجلی کی قلت سے بھی بڑا مسئلہ ہے، حکومت کو اسی پر توجہ دینا ہو گی۔
سندھ طاس معاہدہ یہ تھا کہ پاکستان اور بھارت کو تین تین دریاؤں کا پانی دیا جائے گا، جناب ضیاشاہد نے اس پر تحقیق کی اور اس تاثر کو غلط ثابت کیا کہ ہم نے اپنے تین دریاؤں کا پانی بیچ دیا تھا ۔ حقائق یہ ہیں کہ سندھ طاس معاہدہ صرف زرعی پانی کا معاہد ہ تھا مگر اس معاہد ہ میں طے ہونے والی شقوں کو چھپایا جارہا ہے ۔ بھارت اب اس نیچ حرکت پر ا تر آیا ہے کہ صنعتی علاقوں کا گندہ اور کیمیکل زدہ زہریلا پانی پاکستان میں چھوڑ رہا ہے اس زہریلے پانی کی وجہ سے لوگ جگر ، گردہ اور کینسر
جیسے مہلک امراض میں مبتلا ہورہے ہیں ۔ پانی کی سطح میں کمی کی وجہ سے آرسینک زہر کی مقدار بھی بڑھ رہی ہے یہی نہیں بلکہ بھارت ہمیں ایک ایک بوند روکنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ اگر سندھ کا پانی بھی بھارت روک لیتا ہے تو پاکستان کیلئے تباہی کسی بھی بھیانک جنگ سے بھی زیادہ برآمد ہو گی۔ مجھے کہنے دیجئے کہ بھارتی محبت کی تپش اور حدت سے ہمارے دریاؤں کا پانی بخارات بنایا جا رہاہے۔ پانی کیلئے خلاؤں میں گھورتے ہمارے دریا ہمارے تباہ کن مستقبل کا واضح اور شفاف ثبوت ہیں اور نجانے ہم اس سے کیوں گریزاں ہیں؟آبلہ پائی کے امکان کے باوجود ضیا شاہد واحد ایسے صحافی ہیں جو آگہی کے اس سفر میں نکل کھڑے ہوئے ہیں اگرچہ سفر دشوار ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ منزلوں کی طرف جستجواور راستوں میں پیچ وخم بھی بہت زیادہ ہیں ۔ مگر ضیا شاہد نے توانا عزم وہمم کے ساتھ رخت سفر باندھ لیا ہے۔
عجب شخص گزرا ہے اس راستے سے
سحر جیسی گرد سفر دیکھتا ہوں
یہ سفر محض قلم و قرطاس تک محدود نہیں بلکہ عملی طور پر ضیا شاہد ستلج کی خشک ریت پر کھڑے ہوکر بڑی درد مندی کے ساتھ حکمرانوں کو خواب غفلت سے بیدار کررہا ہے اب ہمارا فرض یہ ہے کہ ضیا شاہد کو اس سفر میں تنہا نہ رہنے دیا جائے بلکہ تمام صحافی مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور بھارت کی دریائی دہشت گردی کے سامنے بند باندھنے کے لیے ضیا شاہد کے ہمرکاب ہوں۔
آپ کسی بھی دریا کے کنارے پر چلے جائیں، دریاؤں کی اداسی اور پیاسی ریتلی زمین دیکھی نہیں جائے گی، تشنگی سے نڈھال ستلج کی سسکیاں آپ کی آنکھوں کو اشکوں سے لاد دیں گی۔ تپتی ریت سے جھلستے دریاؤں کے پیٹ آپ کو اشک بار کر جائیں گے۔ پانی کی طلب میں محو انتظار خشک دریاؤں کی پتھرائی آنکھیں دیکھ کر آپ کی آنکھیں بھیگ جائیں گی۔ بھارت کے مسلط کردہ عذابوں میں گھرے دریائے سندھ اور اذیتوں میں مبتلا چناب کا بھیانک منظر دیکھ کر دل تڑپ کر رہ جائے گا۔ ہماری نسبتیں دریاؤں سے ہوا کرتی تھیں۔ ہمارے صوبوں کے نام دریاؤں سے موسوم ہیں۔ آج انہی دریاؤں میں اتنا پانی بھی نہیں کہ ہم کاغذ کی کوئی کشتی تک چلا کر اپنے دکھی من کو سکون دے سکیں۔ سنو! اے بے خبر حکمرانو! ہمارے دریا آج بھارتی ڈیموں کی قید میں ہیں، ہمارے حصے کا پانی بھارتی جیلوں میں مقید ہے، کیا ہم آنے والی نسلوں کو پانی کا بحران دینا چاہتے ہیں؟ سرتاج عزیز کہہ چکا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کو اعلان جنگ سمجھا جائے گا، مگر بھارت اس معاہدے سے انحراف کرتا چلا جا رہا ہے۔ ہمارے آسودگیوں کے ضامن دریا آج درد کے صحرا بنتے جا رہے ہیں۔ نجانے ہم بے حسی کی بیماری سے کب نجات پائیں، خبر نہیں ہمارے احساس اور ادراک کے گرد اڑتی ریت کب چھٹے گی۔
ریت اڑتی ہے بہت ساحل احساس کے پاس
سوکھتا جاتا ہے، شاید کوئی دریا مجھ میں


ای پیپر